ULAMA AUR KITABOUN KA DAURAH
*علم سے لطف اندوز ہونے والے ایسے علماء، جنہوں نے مخصوص کتابوں کو سیکڑوں/ بیسیوں مرتبہ دہرایا!*💚👇
*ابن ہشام* نے «ألفية ابن مالك» کو ایک ہزار (1000) مرتبہ دہرایا!
*غالب بن عطیہ المحاربی* نے «صحيح البخاري» کو سات سو (700) مرتبہ دہرایا۔
*ابو بکر الأبہری (وفات 375ھ)* نے «مختصر ابن عبد الحكم» کو پانچ سو (500) مرتبہ دہرایا۔❤️
*امام نووی* نے غزالی کی کتاب «الوسيط» کو چار سو (400) مرتبہ دہرایا۔
*ابو سعید البردعی* نے محمد بن الحسن کی «الجامع الكبير» کو چار سو (400) مرتبہ دہرایا۔
*سلیمان العلوی الیمنی* نے «صحيح البخاري» کو دو سو اسی (280) مرتبہ دہرایا۔💚
*ابن البطی البغدادی* نے «جزء البانياسي» کو دو سو (200) مرتبہ دہرایا۔
*نفیس الدین العلوی (وفات 825ھ)* نے «صحيح البخاري» کو ایک سو پچاس (150) مرتبہ دہرایا۔
*المسند مساعد بشیر* نے «صحيح البخاري» کو ایک سو تئیس (130) مرتبہ دہرایا۔
*اصیل الدین الہروی* نے «صحيح البخاري» کو ایک سو بیس (120) مرتبہ دہرایا۔
*احمد العلاونہ* نے زرکلی کی «الأعلام» کو سو (100) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد اللہ بن عقیل* نے «تفسير الإيجي» کو سو (100) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ حماد الانصاری* نے ذہبی کی «ميزان الاعتدال» کو سو (100) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ ابو اسحاق الحوینی* نے ابن ابی حاتم کی «العلل» کو سو (100) مرتبہ دہرایا۔
*محمد بن مقبل التاجر* نے «صحيح البخاري» کو پچانوے (95) مرتبہ دہرایا۔✅
*شیخ ابو اسحاق الحوینی* نے اکتوبر کی جنگ پر لکھی گئی کتاب «مذكرات الشاذلي في حرب أكتوبر» (جنرل شاذلی کی یادداشتیں) کو نوے (90) مرتبہ دہرایا۔
*ابن عطیف (وفات 886ھ)* نے صردفی کی «الكافي» کو اسی (80) مرتبہ دہرایا۔
*علی الکریدی (وفات 886ھ)* نے صروفی کی «الكافي» کو اسی (80) مرتبہ دہرایا۔
*ایک بزرگ* نے «الأَسَديَّة» کو پچہتر (75) مرتبہ دہرایا۔
*المزنی* نے امام شافعی کی «الرسالة» کو ستر (70) مرتبہ دہرایا۔
*ابن محرز الابناسی* نے «التوضيح» کو ستر (70) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ ابو اسحاق الحوینی* نے معلمی کی «التنكيل» کو ستر (70) مرتبہ دہرایا، اور اسے اپنے ہاتھ سے نقل (قلمبند) بھی کیا!
*الحجار ابن الشحنہ* نے «صحيح البخاري» کو ستر (70) مرتبہ دہرایا۔
*ابن الرفاء الشافعی* نے «جزء ابن عرفة» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*محمد الجمنی (وفات 1170ھ)* نے «مختصر خلیل» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*ابو سعید الحلی* نے «مقامات الحريري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*برہان الدین الحلبی* نے «صحيح البخاري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*ابن الکلوتاتی (وفات 835ھ)* نے «صحيح البخاري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*الکرمانی* نے «صحيح البخاري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*سبط ابن العجمی* نے «صحيح البخاري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*موسیٰ بن سعادہ (وفات 514ھ)* نے «صحيح البخاري» کو ساٹھ (60) مرتبہ دہرایا۔
*عبد الغنی عبد الخالق* نے امام شافعی کی «الرسالة» کو پچاس (50) مرتبہ دہرایا۔
*علی بن عبد الرحمن الحسینی* نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» کو پچاس (50) مرتبہ دہرایا۔
*عبد اللہ اللغبی العبدلی* نے «تہذيب سيرة ابن ہشام» کو پچاس (50) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ ولید السعیدان* نے «الرَّوض المربع» کو انچاس (49) مرتبہ دہرایا۔
*ابن عساکر القوصی* نے غزالی کی «الوسيط» کو اڑتالیس (48) مرتبہ دہرایا۔
*ابو بکر الأبہری* نے امام مالک کی «الموطأ» کو پینتالیس (45) مرتبہ دہرایا۔
*عبد الرحمن العیدروس (وفات 923ھ)* نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» کو چالیس (40) مرتبہ دہرایا۔🩷
*علی السالم آل جلیدان* نے «الرَّوض المربع» کو چالیس (40) مرتبہ دہرایا۔
*ابن السراج السجلماسی (وفات 1057ھ)* نے «تفسير الكشاف» کو تیس (30) مرتبہ دہرایا۔
*ادیب علی الطنطاوی* نے «الفرج بعد الشدة» کو تیس (30) مرتبہ دہرایا۔
*ادیب علی الطنطاوی* نے منفلوطی کی «النظرات» کو تیس (30) مرتبہ دہرایا۔
*الربیع بن سلیمان* نے امام شافعی کی «الرسالة» کو تیس سے کچھ زائد (30+) مرتبہ دہرایا۔
*عبد الرحمن بن علی الحسینی* نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» کو پچیس (25) مرتبہ دہرایا۔
*ابن العجمی الکلبی* نے شیرازی کی «المهذب» کو پچیس (25) مرتبہ دہرایا۔
*ابن عیسیٰ الاندلسی*م* نے «كتاب سيبويه» کو چوبیس (24) مرتبہ دہرایا۔✅
*شیخ ابو اسحاق الحوینی* نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» کو چوبیس (24) مرتبہ دہرایا۔
*فقہِ عراق کے ماہر الزَّرِيرانی* نے ابن قدامہ کی «المغني» کو تیئس (23) مرتبہ دہرایا، اور وہ ان میں سے ہر ایک نسخے پر حاشیہ (شرح) لکھتے تھے!❤️
*شیخ حماد الانصاری** نے ابن حجر کی «فتح الباري» کو بیس (20) مرتبہ دہرایا۔
*المرغینانی (وفات 593ھ)* نے «الهداية» کو اٹھارہ (18) مرتبہ دہرایا۔
*احمد معبد* نے ابن حجر کی «فتح الباري» کو اٹھارہ (18) مرتبہ دہرایا۔
*احمد بن محمد الہادی (وفات 1045ھ)* نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» کو چودہ (14) مرتبہ دہرایا۔💚
*شیخ عبد العزیز بن مقیرن* نے «تفسير ابن كثير» کو دس (10) مرتبہ دہرایا۔
*محمد الغیثی التباعی* نے شیرازی کی «المهذب» کو نو (9) مرتبہ دہرایا۔
*احمد حطیبہ* نے ابن قدامہ کی «المغني» کو آٹھ (8) مرتبہ دہرایا۔
*معالی الشيخ صالح اللحیدان* نے اصفہانی کی «الأغاني» کو سات (7) مرتبہ دہرایا۔❤️
*شیخ عبد السلام ہارون* نے جاحظ کی «الحيوان» کو سات (7) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد اللہ بن سعدان* نے ابن کثیر کی «البداية والنهاية» کو سات (7) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد الکریم الخضیر* نے احمد امین کی «حياتي» کو چھ (6) مرتبہ دہرایا۔
*امیر شکیب ارسلان* نے اصفہانی کی «الأغاني» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ بکر ابو زید* نے «آثار البشير الإبراهيمي» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔✅
*شیخ بکر ابو زید* نے زرکلی کی «الإعلام» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد الکریم الخضیر* نے طہ حسین کی «الأيام» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔
*ڈاکٹر عبد الرحمن بن معاضہ الشہری* نے «تفسير القرطبي» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد العزیز العوید* نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» کو پانچ (5) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ بکر ابو زید* نے حموی کی «معجم البلدان» کو چار (4) مرتبہ دہرایا۔
*ادیب علی الطنطاوی* نے اصفہانی کی «الأغاني» کو تین (3) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عبد العزیز العوید* نے بسام کی «علماء نجد» کو تین (3) مرتبہ دہرایا۔💚
*شیخ محمد الغلاوی* نے ابن حجر کی «فتح الباري» کو تین (3) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ محمود شاکر* نے «لسان العرب» کو تین (3) مرتبہ دہرایا۔
*شیخ عابد السندی* ہر مہینے کتبِ ستہ (حدیث کی چھ بنیادی کتابوں) کا ایک بار ختم کرتے تھے۔
*ابو عبد اللہ الیونینی (وفات 701ھ)* ہر مہینے «صحيح البخاري» کی ایک تلاوت/قراءت مکمل کرتے تھے۔
ممتاز اور مایہ ناز کتابوں کے لیے صرف ایک بار کی قراءت کافی نہیں ہوتی، لہذا (علم کو ذہن میں) پختہ کرنے کے لیے بار بار دہرائیے۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ:
"میں پڑھتا تو ہوں لیکن میرے ذہن میں کچھ محفوظ نہیں رہتا"، تو اس سے کہا جائے گا: 👇
"تم بھی اسی طرح دہرایا کرو جیسے انہوں نے دہرایا تھا"۔
*[ کتاب: المتلذِّذون بالعلم، صفحات: 416 - 422 ]*
Comments
Post a Comment