At Tawassul wal Istegaasa
🕋*صحابہ/اہلبیت کا بعد از وفات "یا محمدﷺ" اور "یا رسول اللہﷺ" کے الفاظ سے نبی کریم ﷺ کو پکارنا، وسیلہ بنانا اور مدد طلب کرنا*📚
صحابیِ رسول کا بعد از وفات 18 ہجری میں رسول اللہ ﷺ سے استغاثہ ۔۔ اور ۔۔ ابن عمر کا 100 بار یارسول اللہ، یا ابوبکر، یا عمر پکارنا
اس سلسلہ کی قسط اول میں ہم نے صرف دو احادیث پیش کرنے پر اکتفاء کیا تھا، جو دونوں احادیث حضرت عثمان بن حنیف سے مروی تھیں۔ اب قسط دوم کے آغاز میں ہم ایک اصولی بحث کے بعد آج بھی ہم فقط دو احادیث ہی پیش کریں گے ۔ ان کا ترجمہ کریں گے، حوالہ جات پیش کریں گے اور ان پر شارحین کے اقوال پیش کریں گے۔۔ان شاء اللہ ۔۔ شارحین کے اقوال اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔ ان اقوال میں سے ہم موضوع سے related انتہائی اہم اقوال کا انتخاب کرتے ہیں تا کہ حدیث سے اخذ کردہ مفہوم زیادہ قابلِ قبول ہو سکے ۔۔ ویسے بھی عام شخص کا کسی آیت یا حدیث سے مفہوم اخذ کر کے تھوپنے کی کوشش کرنا ایک جاہلانہ روش سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ مفہوم وہی قابلِ قبول ہوتا ہے جو ایک تو علم کی بلندیوں پر فائز صالحیت و تقوی کی زندگی گزارنے والے اہل علم کا ہو اور دوسرے اہل علم کی اکثریت اس مفہوم کی تائید و توثیق کرتی ہو۔ فیس بکی بزعمِ خود "دانشوروں" کو اپنی روش سے توبہ کرنی چاہیے جو فقط اپنے ذہن کا استعمال کرتے ہیں، بغیر علم کے قرآن و حدیث کے مفاہیم کو اخذ کرنے کے درپے رہتے ہیں اور اسلاف اہل علم کی روش سے کورے اور ناواقف ہیں۔۔ جو بغیر علم کے ایک نفسانی و شیطانی خمار میں رہتے ہیں کہ ہماری سمجھ اب انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہم حتمی علم تک پہنچ چکے ہیں۔
حدیث کا ضعیف/موضوع ہونا، اس میں بیان کئے گئے عقیدہ/مسئلہ کے غلط ہونے کو مستلزم نہیں:
حدیث کا ضعیف یا موضوع قرار پانا، فی نفسہٖ اس میں بیان کردہ عقیدہ، مسئلہ یا حکم کے باطل ہونے کو مستلزم نہیں ہوتا۔
"جرحِ سند اور جرحِ مضمون دو الگ چیزیں ہیں"
محدثین جب کسی روایت کو ضعیف کہتے ہیں تو وہ دراصل اس کی سند پر کلام کرتے ہیں، نہ کہ لازماً اس کے مضمون اور مفہوم پر۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے علاوہ تقریباً تمام حدیثی مجموعوں میں ضعیف روایات موجود ہیں، بلکہ خود امام بخاریؒ نے اپنی کتاب "الادب المفرد" اور دیگر تصانیف میں ایسی روایات نقل کی ہیں جنہیں وہ اپنی شرطِ صحت کے مطابق نہیں سمجھتے تھے۔ اگر ضعیف روایت کا وجود ہی ناقابلِ برداشت ہوتا تو ائمہ حدیث انہیں اپنی کتب میں ہرگز درج نہ کرتے۔ مزید یہ کہ ذخیرۂ حدیث میں وہ روایات جو محدثین کے نزدیک اعلیٰ ترین درجۂ صحت پر فائز ہیں، تعداد میں محدود ہیں، ایک ریسرچ کے مطابق صحیح متون حدیث کی زیادہ سے زیادہ تعداد 8000 تا 10000 ہے، جبکہ امت کے علمی ورثے میں لاکھوں اسانید و روایات، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین، سیرت، مغازی، فضائل، مناقب، خطبات، تاریخ، انساب، آداب اور دیگر علوم کی بے شمار روایات موجود ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد سندی اعتبار سے ضعیف شمار ہوتی ہے، (روایات کے مطابق صرف امام احمد بن حنبل کو 7 تا 10 لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں)، لیکن امت نے ان سے علمی و عملی استفادہ جاری رکھا ہے۔
صرف فقہ حنفی نے عبادات و معاملات کے 82 لاکھ مسائل اخذ کیے۔ جو معاشرتی زندگی چلانے کیلیے ضروری قوانین پر مشتمل ہیں۔ اب مسائل کا اتنا عظیم الشان ذخیرہ صرف 10 ہزار احادیث سے اخذ کرنا تو ممکن ہی نہیں۔
جمہور محدثین و فقہاء کے نزدیک عقائد کے بنیادی اصول اور فرائض و واجبات کے اثبات میں اگرچہ صحیح و ثابت دلائل مطلوب ہیں، تاہم فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، مناقب، آداب، سیرت اور بعض فروعی مسائل میں ضعیف روایت سے استئناس و استدلال کی ایک معروف علمی روایت موجود رہی ہے۔ فقہاء نے یہ اصول بھی بیان کیا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں قوی تر دلیل موجود نہ ہو اور ضعیف روایت امت کے تعامل، آثارِ صحابہ یا دیگر شواہد سے تقویت پا رہی ہو تو اس سے استنباط کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر سونے کے نصابِ زکوٰۃ کے متعلق فقہی مباحث میں جن روایات سے بھی استدلال کیا گیا ہے ان پر محدثین نے کلام کیا ہے، اور وہ ضعیف ہیں، لیکن صدیوں تک امت کا فقہی عمل ان پر قائم رہا۔ اسی طرح بعض فقہی ابواب میں تلقینِ میت، فضائلِ سور، فضائلِ اعمال اور متعدد مستحبات کے دلائل ضعیف روایات پر مشتمل ہونے کے باوجود فقہاء کے ہاں زیرِ بحث رہے ہیں۔
اسی طرح "موضوع" حدیث بھی ہمیشہ ایک ہی معنی میں نہیں ہوتی۔ ایک موضوع روایت وہ ہے جو جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ باندھنے کے لیے گھڑی گئی ہو؛ ایسی روایت بالاتفاق مردود اور ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن بعض اوقات کوئی مقولہ، حکمت بھرا جملہ، صحابی یا تابعی کا قول، یا کسی صالح شخصیت کی بات غلطی سے حدیثِ نبوی سمجھ کر روایت ہو جاتی ہے، چنانچہ محدثین سندی اعتبار سے اسے "موضوع" قرار دیتے ہیں، مگر اس سے لازم نہیں آتا کہ اس کا مضمون بھی باطل ہو۔ مشہور جملہ "لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ" محدثین کے نزدیک حدیث کے طور پر ثابت نہیں، لیکن ابن تیمیہ سمیت متعدد علماء نے اس کے مفہوم کو دیگر شرعی دلائل کی روشنی میں قابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اسی طرح "اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ کان بِالصِّينِ" ( علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے) کو اگرچہ محدثین نے ضعیف یا موضوع کہا ہے، لیکن علم حاصل کرنے کی ترغیب کا مضمون قرآن و سنت کی بے شمار صحیح نصوص سے ثابت ہے۔ "الْمُؤْمِنُ فِي الْمَسْجِدِ كَالسَّمَكِ فِي الْمَاءِ" (مومن مسجد میں ایسے ہوتا ہے گویا مچھلی پانی میں) اور اس قسم کی دیگر روایات کے بارے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے کہ روایت کا سندی درجہ اور اس کے مضمون کی صحت دو الگ بحثیں ہیں۔ لہٰذا جب کسی عقیدہ، مسئلہ یا عمل کے ثبوت میں کوئی ضعیف روایت پیش کی جائے تو محض اس روایت کو ضعیف یا موضوع قرار دینا اس عقیدہ یا مسئلے کے بطلان کی دلیل نہیں بنتا، جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ خود وہ عقیدہ یا مسئلہ قرآن، سنتِ صحیحہ، اجماعِ امت یا ائمۂ دین کے نزدیک خلافِ شریعت، بدعت، گمراہی یا شرک ہے۔ اور اس حدیث کی شرح میں اسلاف شارحینِ کا ایسا قول نہ لایا جائے۔۔
اس لیے علمی منہج یہ ہے کہ روایت کی سند پر بحث کے ساتھ ساتھ اس کے مضمون، شواہد، متابعات، تعاملِ امت اور فقہاء و محدثین کی مجموعی آراء کو بھی دیکھا جائے۔
افسوس کہ بعض حلقوں میں یہ رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ کسی مسئلے کے دلائل میں پیش کی جانے والی روایت کو ضعیف ثابت کر دینا ہی گویا اس مسئلے کا رد سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ خود محدثین اور فقہاء کے ہاں یہ دونوں بحثیں ہمیشہ الگ الگ سمجھی گئی ہیں۔
جن لوگوں کو ہماری پیش کی گئی احادیث پر اعتراض ہو، ان کیلیے واضح لائحہ عمل ہے کہ آپ نے حدیث/روایت کو ضعیف/موضوع قرار دینے پر زور نہیں لگانا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، آپ نے مضمونِ حدیث کو اقوالِ مفسرین، محدثین، فقہاء و علماء کی روشنی میں ثابت یا رد کرنا ہے۔ رہا آیات پیش کرنا اور ان سے اپنا ذہنی مفہوم اخذ کرنا تو آپ کے اخذ کردہ مفہوم کی ہمارے نزدیک کوئی وقعت نہیں جب تک اپنے مفہوم پر اسلاف مفسرین کا قول نہیں لاتے۔
صحابہ کا بعد از وفات رسول اللہ سے استغاثہ:
1۔ صحابیِ رسول بلال بن حارث مزنی کا استغاثہ:
عَنْ مَالِكِ الدَّارِ ، وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ - قَالَ:
أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَانِ عُمَرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ لِأُمَّتِكَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا. فَأُتِيَ الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَقِيلَ لَهُ: ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يُسْقَوْنَ، وَقُلْ لَهُ: عَلَيْكَ الْكَيْسَ الْكَيْسَ.
فَأَتَى الرَّجُلُ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَبَكَى عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ:
يَا رَبِّ، لَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ.
المصنف ابن ابی شیبہ: رقم 32538؛ دلائل النبوۃ للبہیقی ج7، ص47)
ترجمہ:
مالک الدار (جو حضرت عمرؓ کے خازن تھے) بیان کرتے ہیں:
"حضرت عمرؓ کے زمانے میں شدید قحط پڑ گیا۔ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی قبر انور پر حاضر ہوا اور عرض کیا:
'یا رسول اللہ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا فرمائیے، کیونکہ وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔'
پھر اس شخص کو خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی اور فرمایا گیا:
'عمر کے پاس جاؤ، انہیں میرا سلام کہو، اور انہیں خبر دو کہ بارش ہوگی، اور ان سے کہو کہ دانائی اور حسنِ تدبیر سے کام لیں۔'
وہ شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور خواب سنایا تو حضرت عمرؓ رو پڑے اور فرمایا:
'اے میرے رب! میں اپنی استطاعت بھر کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔'"
ابن جریر اور ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ 17 ھجری یا 18 ھجری کا ہے۔ جبکہ ابن خلدون نے اسے 18 ھجری کا کہا ہے۔۔ یعنی نبی کریم کی وفات سے 8 سال بعد کا۔۔
ابن کثیر کی تصحیح:
ابن کثیر نے اس روایت کو امام بیہقی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد کہا:
وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ
"اور یہ سند صحیح ہے
(البدایۃ و النہایۃ: ج7، ص 105)
ابن حجر عسقلانی کی تصحیح:
امام ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا:
رَوَى ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ مَالِكِ الدَّارِ...
(فتح الباری: ج2، ص495)
ترجمہ
"ابن ابی شیبہ نے ابو صالح السمان کے طریق سے مالک الدار سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
دیوبندی عالم شیخ سرفراز خان صفدر کی تصحیح:
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور حافظ ابن کثیر، حافظ ابن حجر اور علامہ سمہودی وغیرہ اس روایت کو صحیح کہتے ہیں۔ یہ معاملہ نرے خواب کا نہیں بلکہ اس سچے خواب کو خلیفہ راشد حضرت عمر کی تائید و تصویب حاصل ہے۔ اور اس کا حکم "علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین" کی حدیث کے تحت "سنت" کا ہو گا، ورنہ استحباب اور جواز سے کیا کم ہو گا۔
(تسکین الصدور: ص 352-349)
اس حدیث کو اہلحدیث کی اکثریت اور اہل دیوبند کے تمام علماء نے صحیح قرار دیا ہے۔
قبرِ انور پر حاضر ہونے والے شخص کی تعیین:
ابن حجر لکھتے ہیں:
وَقَدْ رَوَى سَيْفٌ فِي الْفُتُوحِ أَنَّ الَّذِي رَأَى الْمَنَامَ هُوَ بِلَالُ بْنُ الْحَارِثِ الْمُزَنِيُّ أَحَدُ الصَّحَابَةِ
ترجمہ
"سیف بن عمر التمیمی (متوفی 180ھ) نے "کتاب الفتوح و الردۃ" میں روایت کیا ہے کہ خواب دیکھنے والے اور قبرِ نبوی پر حاضر ہونے والے شخص صحابی رسول بلال بن حارث مزنی تھے۔"
[بلال بن حارث مزنی کا تعلق قبیلہ مزینہ سے تھا۔ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ ان کا شمار معروف صحابہ میں ہوتا ہے۔ ان کے فرزند اور پوتے بھی محدث تھے۔]
اب اس حدیث کی روشنی میں کیا چیز باقی رہ گئی؟ کیا صحابہ کرام کا عقیدہ توحید بھی درست نہ تھا؟ حضرت بلال بن حارث مزنی نے بعد از وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیوں ڈائریکٹ بارش کیلیے استغاثہ کیا؟ آپ نے کہیں باذن اللہ بھی نہیں فرمایا۔ پھر حضرت عمر نے بھی ان کے قول پر کوئی گرفت نہیں فرمائی۔ بلکہ ان کے قول اور خواب دونوں کا سچ سمجھا اور قبول کر لیا۔۔ اس سے ہمیں صحابہ کے مجموعی عقیدہ کا پتا چل گیا کہ ان کے نزدیک بعد از وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو "یارسول اللہ" کہہ کر استغاثہ کرنا عین توحید تھا۔۔ موجودہ "ماڈرن توحید" بالکل نئی نئی تراشیدہ ہے، صحابہ کا تصورِ توحید بالکل مختلف تھا۔
امام سبکی (771ھ) کا قول:
فِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ التَّوَسُّلِ وَالِاسْتِغَاثَةِ بِالنَّبِيِّ ﷺ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
ترجمہ:
"اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ کے ذریعے توسل اور استغاثہ کے جواز پر دلیل موجود ہے۔"
(شفاء السقام: ص 130-128)
امام قسطلانی (923ھ) کا قول:
وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ التَّوَسُّلَ بِهِ ﷺ بَعْدَ انْتِقَالِهِ كَمَا كَانَ فِي حَيَاتِهِ.
ترجمہ:
"اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے بعد بھی آپ کے ساتھ توسل اسی طرح جائز ہے جیسے آپ کی ظاہری حیات میں تھا۔"
(المواھب للدنیہ)
امام سمہودی (911ھ) کا قول:
وَفِي هَذِهِ الْقِصَّةِ مَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ التَّشَفُّعِ وَالتَّوَسُّلِ بِهِ ﷺ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
ترجمہ:
"اس واقعہ میں آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ سے شفاعت طلب کرنے اور توسل کے جواز پر دلالت ہے۔"
(وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى)
2- حضرت عبداللہ بن عمر کا 100 بار "یا رسول اللہ" کہنا:
عَنْ نَافِعٍ قَالَ:
كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى قَبْرَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتَاهُ.
(المصنف ابن ابی شیبہ: الرقم 12091؛ السنن الکبریٰ : ج5، ص245)
ترجمہ:
نافع کہتے ہیں:
"جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ سفر سے واپس آتے تو نبی کریم ﷺ کی قبر انور پر حاضر ہوتے اور عرض کرتے:
السلام علیک یا رسول اللہ
السلام علیک یا ابابکر
السلام علیک یا ابتاہ"
(اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو۔ اے ابوبکر! آپ پر سلام ہو۔ اے میرے والد! آپ پر سلام ہو۔)
امام ابن عساکر اور دیگر محدثین نے انہیں حضرت نافع سے مزید روایت کیا ہے:
رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ يَأْتِي الْقَبْرَ
ترجمہ:
"میں نے ابن عمر کو سو مرتبہ سے زیادہ قبر نبوی پر آتے دیکھا۔"
پھر وہ مذکورہ سلام عرض کرتے تھے۔
(ابن عساکر: تاریخ دمشق)
امام ابن حجر، امام نووی، امام بیہقی وغیرہ نے اس قسم کی آثارِ زیارت کو قبول کیا ہے۔
زیارتِ قبر نبوی اور سلام کے باب میں یہ آثار مشہور و معروف ہیں۔
امام سمہودی کا قول:
امام سمہودی وفاء الوفا میں فرماتے ہیں:
فِي هَذِهِ الْآثَارِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ ﷺ يُخَاطَبُ بَعْدَ وَفَاتِهِ كَمَا يُخَاطَبُ فِي حَيَاتِهِ.
ترجمہ:
"ان آثار میں اس بات کی دلالت ہے کہ وصال کے بعد بھی آپ ﷺ کو اسی طرح خطاب کیا جاتا ہے جیسے حیاتِ ظاہری میں کیا جاتا تھا۔"
امام نووی کا قول:
امام النووي کتاب: المجموع میں لکھتے ہیں:
ثُمَّ يَقِفُ مُسْتَقْبِلًا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَيَقُولُ:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ .
(المجموع ج 8 ص 274)
ترجمہ:
"پھر وہ نبی کریم ﷺ کے چہرۂ اقدس کی سمت رخ کر کے کھڑا ہو اور عرض کرے: 'السلام علیک یا رسول اللہ'، یعنی: 'اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو۔'"
اب حضرت نافع کی اس حدیث کی روشنی میں تو حضرت ابن عمر کا پوری زندگی کا طریقِ کار واضح ہو گیا۔ 100 بار سے زیادہ کا مشاہدہ تو حضرت نافع کا ہے کہ حضرت ابن عمر ہر بار یہی پکارتے:
یا رسول اللہ ۔۔ یا ابوبکر ۔۔ یا ابتاہ (یعنی یا عمر) ۔۔۔
تو اگر کوئی 100 بار "یا علی" ، یا حسن، یا حسین، یا شیخ عبدالقادر جیلانی پکار لے تو کون سی قیامت واقع ہو جاتی ہے؟ اگر حضرت ابن عمر کے پکارنے سے توحید مشکوک نہیں ہوتی تو آج بھی کسی کے اس طرح پکارنے سے توحید کو کوئی خطرہ نہیں۔
ایک اپیل:
ہم نے پہلی قسط میں دو اور آج مزید دو احادیث پیش کیں۔ "ماڈرن توحید" کے علمبرداران سے اپیل ہے کہ یہ بھی اسی طرح احادیثِ رسول ﷺ ہیں جس طرح رفع یدین، آمین بالجہر، قبور پر عمارت نہ بنانے والی، شہداء کے جنت میں زندہ ہونے والی احادیث ہیں، تو آپ احباب کچھ احادیث کا بیان کیوں کرتے ہیں اور کچھ کے بیان سے پہلو تہی کیوں کرتے ہیں؟ جس زور و شور سے دوسری احادیث پیش کرتے ہیں، اسی زور و شور سے بعد از وفات استغاثہ ، یارسول اللہ پکارنے والی احادیث کیوں بیان نہیں کرتے؟ کچھ کا انتخاب اور کچھ کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟ آپ کی تقاریر، آپ کے جمعہ کے خطبات، آپ کے مذہبی جلسوں، آپ کی سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں ان احادیث کا بیان کیوں نہیں ہوتا؟ کیا اس طرح کتمانِ حق یعنی حق کو چھپانے کے مجرم نہیں بن جاتے؟ ان احادیث کے بیان کی آپ کو عادت کیوں نہیں ہے؟ کیا اب احادیث میں بھی ذاتی پسند، ناپسند کا دخل ہو گا؟ ۔۔ آپ کو دعوتِ حق ہے کہ ان احادیث کو بھی واشگاف بیان کرنا شروع کریں، ان کی تشریح و توضیح کریں، ان پر تقاریر کریں، ان سے اخذ ہونے والے ایمانی نکات کو عوام الناس کے سامنے لائیں، ان کی بھی سوشل میڈیا پوسٹیں بنائیں۔۔ کیونکہ یہ بھی احادیث کی کتب سے ہی ہیں، کسی نے خود سے ان کا اختراع نہیں کیا ہے۔
آخری گزارش:
آج بھی ہم نے صرف دو احادیث پیش کی ہیں۔ ان پر محدثین و شارحین کے اقوال بھی نقل کر دیئے ہیں۔۔ اس مسئلہ پر احادیث و آثار کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس پر کئی اقساط درکار ہوں گی۔ ہمیں حیرانی ہوتی ہے کہ توحید توحید اور حدیث حدیث کا رٹ لگانے والے "ماڈرن اہل توحید" کو یہ احادیث اور ان کے شارحین کے اقوال کیوں نظر نہیں آتے؟ اب یا تو یہ لوگ کم علم ہیں ، یا جان بوجھ ان احادیث و اقوال کو چھپاتے ہیں۔
ھدایت کا اصل راستہ تو یہی ہے کہ کسی بھی حدیث کو چھپایا نہ جائے نہ اسے نظر انداز کیا جائے۔ جب کوئی بھی صحیح و ضعیف حدیث سامنے آئے تو بندہ غور و فکر سے جائزہ لے کہ میرا عقیدہ، فکر، عمل اس کے مطابق ہے یا اس سے ہٹا ہوا ہے؟ اگر پھر بھی شکوک رہیں تو شارحینِ حدیث، علماء و فقہاء کی طرف رجوع کیا جائے، پھر ان کی اکثریت جو فیصلہ کرے وہی سب سے محفوظ راستہ اور اللہ تعالی کی پسندیدہ راہ ہے۔ کیونکہ کوئی کتاب خواہ قرآن مجید ہی کیوں نہ ہو اکیلی ھدایت کیلیے کافی نہیں ہوتی جب تک "صراط الذین انعمت علیھم" کے تحت اہل انعام (انبیاء، صدیقین، شھداء، صالحین) کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے "اھدنا الصراط المستقیم" کے تحت صراطِ مستقیم کو اہل انعام کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔۔ ۔ اور جب ہم اہل انعام کو تلاش کرتے ہیں تو آج کے "ماڈرن توحیدی" اور ان کے علماء کو اہل انعام تسلیم کرنے سے زیادہ ہمیں علم، زہد، صالحیت و تقوی کی سربلندیوں پر فائز اسلاف اہل انعام اور ان کے اخذ کردہ مفہوم کو زیادہ بہتر اور قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔ ہم "ماڈرن توحیدی افکار" کو مسترد کرتے ہیں ان افکار کو خوارج کی گمراہیوں کا ایک تسلسل اور امت میں تفرقہ، فتنہ و فساد کا اہم سبب سمجھتے ہیں۔
نوٹ:
اگلی قسط میں ہم صرف احادیث و آثار اور ان کے تراجم پیش کرتے جائیں گے۔ تا کہ پوسٹ میں زیادہ سے زیادہ دلائل پیش کیے جا سکیں۔ ابھی خانوادہ اہلبیت کے دلائل پر مشتمل ایک قسط الگ سے تیار ہے۔
تحریر و تحقیق:
ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری
(یونیورسٹی آف گجرات)📚
Comments
Post a Comment