Sub'han-Allah ki Fazeelat
🕋*سبحان اللہ کہنے کی فضیلت –*🕋
✍🏻*خادم اہلسنت و جماعت: ناشر مسلک اعلحضرت رضی اللہ عنہ : احقر مولانا محمد یوسف عطا قادری رضوی الھندی، کوپّل-کرناٹک* 📚
*1. سبحان اللہ کا معنی*
*"سُبْحَانَ اللّٰہ"* = اللہ پاک ہے ہر عیب، نقص، کمی اور برائی سے۔ اس میں اللہ کی تسبیح + تقدیس + پاکی کا اقرار ہے۔
*2. قرآن مجید سے دلائل*
1. *زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کرتی ہے:*
`يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ`
*ترجمہ:* اللہ کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ [الحشر: 1]
2. *فرشتوں کا ورد:*
`وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ`
*ترجمہ:* اور ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں۔ [البقرہ: 30]
*3. احادیث مبارکہ سے فضائل*
*1. میزان میں سب سے بھاری کلمہ*
*حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ*
*ترجمہ:* دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری، رحمٰن کو پیارے ہیں: "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ"۔ *[بخاری: 6682، مسلم: 2694]*
*2. 100 بار کہنے سے سمندر کے جھاگ برابر گناہ معاف*
*حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ*
*ترجمہ:* جو دن میں 100 بار "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ" کہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں چاہے سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ *[بخاری: 6405، مسلم: 2691]*
*3. جنت میں درخت لگنا*
*حضرت جابر رضی اللہ عنہ:* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ غُرِسَتْ لَهٗ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ*
*ترجمہ:* جو "سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ" کہے، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔ *[ترمذی: 3464، حسن]*
*4. 1000 نیکیاں یا 1000 گناہ معاف*
*حضرت سعد رضی اللہ عنہ:* ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہر دن 1000 نیکی نہ کما سکے؟
ایک شخص نے پوچھا: کیسے؟ فرمایا: *يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهٗ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ*
*ترجمہ:* 100 بار "سُبْحَانَ اللّٰه" کہے تو 1000 نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا 1000 گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ *[مسلم: 2698]*
*5. بہترین کلام*
*حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ:* میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کلام کون سا ہے؟ فرمایا:
*إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللّٰهِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ*
*ترجمہ:* اللہ کو سب سے پیارا کلام "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ" ہے۔ *[مسلم: 2731]*
*4. امام اہلسنت کا فرمان*
*اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمه الله* "الوظیفۃ الکریمہ" میں فرماتے ہیں:
"تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنا، اللہ عزوجل کی پاکی بیان کرنا ہے اور یہ اذکار میں افضل ترین ہے۔ اس سے دل روشن، گناہ معاف اور درجات بلند ہوتے ہیں۔"
*5. عمل کا طریقہ*
1. *صبح و شام 100 بار:* سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ – سارے گناہ معاف۔
2. *ہر نماز کے بعد 33 بار:* تسبیح فاطمہ کا حصہ۔
3. *چلتے پھرتے:* سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ – جنت میں درخت۔
*ماخذ:* بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف، الوظیفۃ الکریمہ، فیضان سبحان اللہ – مکتبۃ المدینہ ۔
*ایک مرتبہ "سبحان اللہ" کہنے سے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے۔* اس کی صریح دلیل موجود ہے۔
*دلیل حدیث سے:*
*حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*
*مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ غُرِسَتْ لَهٗ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ*
*ترجمہ:* "جو شخص 'سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ' کہے، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔"
*حوالہ جات:*
1. *سنن الترمذی: 3464* – امام ترمذی نے کہا: *"هذا حديث حسن صحيح غريب"* یعنی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
2. *المستدرک للحاکم: 1/501* – امام حاکم نے کہا: *"صحيح على شرط مسلم"* مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ امام ذہبی نے موافقت کی۔
3. *صحیح ابن حبان: 826*
4. *المعجم الکبیر للطبرانی: 1334*
*اہم نکات:*
1. *الفاظ:* حدیث میں *"سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ"* کے الفاظ ہیں۔ صرف "سبحان اللہ" نہیں بلکہ "العظیم و بحمدہ" کے ساتھ۔
2. *ایک بار = ایک درخت:* حدیث کے الفاظ *"غُرِسَتْ لَهٗ نَخْلَةٌ"* یعنی "ایک کھجور لگا دی جاتی ہے"۔ تو جتنی بار کہیں گے اتنے درخت لگیں گے۔
3. *امام اہلسنت کا قول:* اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمه الله *"فتاویٰ رضویہ جلد 23 ص 409"* میں اس حدیث کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ یہ تسبیح کی فضیلت ہے۔
*صرف "سبحان اللہ" کہنے کا حکم:*
اگر کوئی صرف *"سُبْحَانَ اللّٰه"* کہے تو بھی بہت اجر ہے۔ *صحیح مسلم: 2698* میں ہے کہ 100 بار سبحان اللہ کہنے سے 1000 نیکیاں ملتی ہیں یا 1000 گناہ مٹتے ہیں۔
لیکن *جنت میں درخت لگنے والی خاص فضیلت* "سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ" کے ساتھ مخصوص ہے۔
*خلاصہ:* 1 بار *"سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ"* = جنت میں 1 کھجور کا درخت۔ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
اللہ عزوجل ہمیں کثرت سے تسبیح کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment