🔥Gairoun Ke Muqallid Naqli Ahle Hadees ke Akabireen Aur Taweez📚

 💥 *Gair Muqallid Naqli Ahle Hadees ke Akabir bhi Qurani Taweez ke Jawaaz ke Qaail hain aur Taaid karte hain. .. Kya Ye bhi Mushrik Hain ?*🔥

💥 *Dil Ke Phapoley Jall Uthey Seeney ke Daagh se*,

*Iss Ghar ku Aag Lag gai Ghar ke Charaagh se* 💥🤐👇

✍🏻 *Khadime Maslake A'laHazrat RaziAllah Anh: Moulana Muhammad Yousuf Ataa Qadri Razavi, Koppal - Karnatak Al Hind* 🇮🇳📚👇

عمرو بن شعیب کی اس روایت سے استدلال کرنے والے علماء عمرو بن شعیب کی اس روایت سے حسب ذیل علماء نے استدلال کیا ہے : *حافظ ابن قیم جوزی* اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس بیماری (خواب میں ڈرنے) کے لیے اس تعویذ کے علاج کی مناسبت خفی نہیں ہے۔ (زاد المعاد ج ٤ ص ١٦٨۔ ١٦٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے بھی اس حدیث سے استدلال کیا ہے (تفسیر کبیر ج ١ ص ٧٨، بیروت، ج ١ ص ٧٥، مصر) حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے بھی اس حدیث سے تعویذ لٹکانے پر استدلال کیا ہے۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٦ ھ) حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ، علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، شیخ شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ اور نواب بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ نے بھی اس حدیث سے شیطان سے پناہ مانگنے پر استدلال کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٨٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ، فتح القدیر ج ٣ ص ٦٧٧۔ ٦٧٦، مطبوعہ دارالوفا بیروت، ١٤١٨ ھ، فتح البیان ج ٩ ص ١٤٨، مالمکتبہ العصریہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ان کے علاوہ اور بھی مفسرین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جن کو ہم نے اختصار کی وجہ سے ترک کردیا۔ محدثین میں سے ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : جن تعویذات میں اللہ تعالیٰ کے اسماء ہوں ان کو لٹکانے کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔ (مرقات : ج ٥ ص ٢٣٦، مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان، ١٣٩٠) شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : حدیث میں مذکور کلمات کو ایک کاغذ پر لکھ کر گردن میں لٹکا لیاجائے اس حدیث سے گردن میں تعویذات لٹکانے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ سیپیوں اور اس کی مثل چیزوں کا لٹکانا حرام یا مکروہ ہے، لیکن اگر تعویذات میں قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (اشعتہ اللمعات ج ٢ ص ٢٩٠، مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنؤ) شیخ عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : شیخ عبدالحق دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں بچوں کے گلوں میں تعویذات لٹکانے کی دلیل ہے، لیکن رسوم جاہلیت کے مطابق حرز اور کوڑیوں کو لٹکانا بالاتفاق حرام ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٤ ص ٤٧٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) ان تمام دلائل سے واضح ہوگیا کہ از محمد بن اسحاق از عمرو بن شعیب از والد از جدیہ روایت صحیح یا حسن ہے اور اس سے اہل علم نے استدلال کیا ہے تاہم اس سند سے اس روایت کو پھر بھی کوئی تسلیم نہ کرے تو ہم اس روایت کو ایک اور سند سے پیش کر رہے ہیں، جس میں امام محمد بن اسحاق نہیں ہیں۔ امام ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : احمد بن خالد از محمد بن اسمعیل از عمرو بن شعیب از والد از جد خود وہ کہتے ہیں کہ ولید بن ولید ایسے شخص تھے جو خواب میں ڈر جاتے تھے، تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم سونے لگو تو یہ پڑھو : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضیہ و عقابہ و من شر عبادہ و من ھمزات الشیطان و ان یحضرون۔ جب انہوں نے یہ کلمات پڑھے تو ان کا ڈر جاتا رہا، اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلوں میں یہ تعویذ لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔ (خلق افعال العباد ص ٨٩، مطبوعہ مؤسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤١١ ھ)

بعض تابعین سے اقوال کی توجیہ نیز کیپٹن مسعود لکھتے ہیں : پانچویں علت یہ ہے کہ کسی صحابی، کسی تابعی نے تمیمہ کو جائز قرار نہیں دیا، یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض صحابہ بھی ان تعویزوں کو جائز سمجھتے تھے جن میں قرآن یا اسماء اللہ تعالیٰ یا اللہ کی صفات لکھی ہوئی ہوتی تھیں صحیح نہیں ہے۔ (الی قولہ) و کیع، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی انسان کی گردن سے تمیمہ کاٹ دیا اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے ص ٧) سعید بن جبیر کے اس قول میں تمیمہ سے مراد رسم جاہلیت کے مطابق کوڑیاں ہیں یا وہ تعویذات جن میں قرآن مجید اور اسماء الہیہ کے علاوہ کچھ لکھا ہو یا غیر عربی میں لکھا ہو، باقی اسی صفحہ پر ابراہیم نخعی کا جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ہر قسم کے تمائم مکروہ ہیں خواہ قرآن سے لکھے جائیں یا غیر قرآن سے، یہ بلا حوالہ لکھا ہے، سو یہ ہم پر حجت نہیں ہے خصوصاً جب کہ یہ احادیث صحیحہ اور بکثرت آثار تابعین اور متعدد مفسرین کی عبارات اور فقہاء کی تصریحات کے خلاف ہے۔ 

تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق فقہاء تابعین کے فتاوی ابو عصمۃ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے تعویذ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا جب اس کو گردن میں لٹکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) عطا سے اس حائض عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس پر تعویذ ہو، انہوں نے کہا اگر وہ چمڑے میں ہو تو وہ اس کو اتار لے اور اگر وہ چاندی کی نلکی (یا ڈبیا) میں ہو تو اگر چاہے تو وہ اس کو رکھ دے اور چاہے تو نہ رکھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٤) یونس بن خباب بیان کرتے ہیں کہ بچوں کے گلوں میں جو تعویذ لٹکائے اور غسل کے وقت اور بیت الخلاء کے وقت اس کو اتار دے تو تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) (اگر تعویذ چمڑے میں منڈھا ہوا ہو یا چاندی کی ڈبیا میں ہو تو پھر ان احوال اور اوقات میں اتارنا ضروری نہیں ہے) (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٤٣۔ ٤٢، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق علماہ شامی حنفی کی تصریح علامہ سید محمد امین بن ابن عابدین حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : علامہ حصکفی نے کہا کہ مجتبی میں یہ مذکور ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر عربی میں ہو، میں کہتا ہوں کہ میں نے مجتبی میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر قرآن ہو، اور ایک قول یہ ہے کہ تمیمہ وہ کوڑیاں ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں گلے میں لٹکاتے تھے اور مغرب میں مذکور ہے کہ تعویذات ہی تمائم ہیں اس طرح نہیں ہے، تمیمہ صرف کوڑیاں ہیں اور تعویذات میں جب قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے الی قولہ، شلبی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ تمائم تمیمہ کی جمع ہے اور یہ وہ سیپیاں یا کوڑیاں ہیں جن کو عرب اپنے بچوں کے گلے میں ڈال دیتے تھے اس سے وہ اپنے زعم میں ان کو نظر بد سے بچاتے تھے، اسلام نے اس کو باطل کردیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے : جس نے تمیمہ کو لٹکایا اللہ اس کے مقصود کو پورا نہ کرے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ یہی مکمل دوا اور شفا ہے، بلکہ انہوں نے اس کو اللہ کا شریک بنادیا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر اس سے ٹل جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے غیر مصائب کے دور کرنے کو طلب کرتے تھے حالانکہ اللہ کے سوا ان کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ مجتبی میں مذکور ہے کہ قرآن مجید سے شفا حاصل کرنے میں اختلاف ہے بایں طور پر کہ مریض پر یا سانپ سے ڈسے ہوئے پر قرآن مجید یا سورة فاتحہ پڑھی جائے یا کسی کاغذ میں لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے یا کسی طشت میں لکھ کر اس کو دھویا جائے اور اس کا غسالہ (دھو ون) مریض کو پلا دیا جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے اور اس زمانہ میں مسلمانوں کا عمل اس کے جواز پر ہے، اسی کے احادیث اور آثار ہیں اور اگر جنبی یا حائض کے بازو پر تعویذ بندھا ہوا ہو اور وہ کسی چیز میں لپٹا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٢٣٢، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٧ ھ، و رد المختار ج ٥ ص ٢٥٧۔ ٢٥٦، دارالکتب العربیہ مصر ١٣٢٧ ھ، مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ، رد المختار ج ٩ ص ٤٤٣، داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ، طبع جدید) شیخ محمد زکریا انصاری (دیوبندی) سہارنپوری نے بھی علامہ شامی کی اس عبارت کو نقل کر کے اس اسے استشہاد کیا ہے (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢ مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا)

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور دیو بندی عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری کی تصریح : مکتب فکر دیو بند کے مشہور عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری لکھتے ہیں : حضرت ابن مسعود (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم اور تولہ شرک ہیں۔ تمائم کا معنی سیپیاں، گھونگے اور کوڑیاں ہیں یا ان کا ہار۔ (دوسرے علماء اور فقہا نے تعویذات کو بھی تمائم کا مصداق قرار دیا ہے، سعید غفرلہ) ان کو شرک اسلیے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی اعانت کے بغیر حصول نفع اور دفع ضرر کے سبب ہونے کے عقیدہ رکھتے تھے، اس حکم میں وہ دم اور تعویزات داخل نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کے کلام پر مشتمل ہوں۔ اور کسی بلا اور مصیبت کے نازل ہونے سے پہلے بھی ان کا استعمال کرنا جائز ہے، کیونکہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بستر پر لیٹتے تو تین مرتبہ معوذات (الاخلاص، الفلق، الناس) پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے اور پھر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتے اور جسم پر جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٤٨) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حسین (رض) پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے۔ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٢، مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا) امام بغوی اور امام بیہقی نے حضرت عائشہ (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر مصیبت نازل ہونے کے بعد تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ نہیں ہے اور اگر بلا اور مصیبت نازل ہونے سے پہلے تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ ہے تاکہ اس تعویذ سے اللہ کی تقدیر کو دفع اور مسترد کیا جائے۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٥٨، سنن کبری ج ٩ ص ٣٥٠) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول بلا سے پہلے دم فرمایا اور آپ کا یہ دم فرمانا اللہ کی تقدیر کو حاصل کرنے کے لیے تھا نہ کہ اللہ کی تقدیر کو دفع کرنے کے لیے، اس لیے یہ احادیث حضرت عائشہ (رض) کے قول کے خلاف نہیں ہیں۔ 

دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کی تصریح مشہور غیر مقلد عالم شیخ محمد عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٣ ھ لکھتے ہیں۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی اپنی کتاب “ الدین الخالص “ میں لکھا ہے کہ جن تعویذات میں قرآن مجید کی آیات یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے ہوں ان کو لٹکانے کے جواز میں صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے علماء کا اختلاف رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت عائشہ (رض) کی ظاہر روایت میں اس کا جواز ہے، امام ابو جعفر باق اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود کی اس روایت میں توجیہ کی ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم، (تعویذات) اور تولہ (خاوند کے دل میں بیوی کی محبت کا عمل) شرک ہیں، انہوں نے کہا یہ ان تعویذات پر محمول ہے جس میں شرکیہ کلمات ہوں، اور حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حذیفہ، حضرت عقبہ بن عامر اور ابن عکیم کے ظاہر اقوام میں عدم جواز ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ ان اقوال میں بھی حسب سابق توجیہ کی جائے گی اور ممانعت کو ان تعویزات پر محمول کیا جائے گا جن میں شرکیہ کلمات ہوں، سعیدی غفرلہ) بعض علماء نے ممانعت کو تین وجوہ سے ترجیح دی ہے اول اس لیے کہ ممانعت میں عموم ہے اور ممانعت کا کوئی مخصص نہیں ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ جن احادیث میں شرکیہ کلمات کا تمائم میں لکھنا صرف زمانہ جاہلیت میں تھا، کیا شرک کے ذرائع کا سد باب کرنے کے لیے دم کرنے اور دوا دارو کرنے کی بھی ممانعت کی جائے گی کیونکہ حضرت ابن مسعود کی روایت میں دم کرنے کو بھی شرک فرمایا ہے، سعیدی غفرلہ) اور تیسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص تعویذ لٹکاتا ہو ہوسکتا ہے، کہ وہ تعویذ کو قضاء حاجت اور استنجاء کرتے وقت نہ اتارے۔ نواب بھوپالی نے اس وجہ کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وجہ بہت کمزور ہے کیونکہ اس سے کیا چیز مانع ہے کہ وہ شخص قضاء حاجت کے وقت تعویذ اتار لے اور فارغ ہو کر پھر پہن لے۔ پھر نواب بھوپالی نے لکھا ہے کہ اس باب میں راجح یہ ہے کہ تعویذ لٹکانا خلاف اولی ہے کیونکہ جس طرح تقوی کے کئی مراتب ہیں اسی طرح اخلاص کے بھی کئی مراتب ہیں۔ (یوں کہنا چاہیے کہ توکل کے بھی کئی مراتب ہیں، سعیدی غفرلہ) حدیث میں ہے : ستر ہزار مسلمان جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، یہ وہ ہیں جو نہ خود دم کرتے ہوں گے نہ دم طلب کرتے ہوں گے۔ حالانکہ دم کرنا جائز ہے اور اس سلسلہ میں بہت احادیث اور آثار ہیں (لیکن یہ توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، اسی طرح تعویذ لٹکانا بھی توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، سعیدی غفرلہ) واللہ اعلم بالصواب، یہاں پر نواب بھوپالی کی عبارت ختم ہوگئی۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٦ ص ٢٣٢۔ ٢٣١ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) اس بحث کے اخیر میں ہم حافظ ذہبی اور حافظ ابن قیم کے ذکر کیے ہوئے چند تعویذات کا بیان کر رہے ہیں۔ 

تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق علامہ ذہبی کی تصریح اور خواب میں ڈرنے کا تعویذ حافظ ابو عبداللہ محمد بن احمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : تمائم (تعویذات) لٹکانے کے متعلق امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ مکروہ ہے اور کہا جس نے کسی چیز کو لٹکایا وہ اسی کے سپرد کردیا جائے گا۔ حرب نے کہا میں نے امام احمد سے پوچھا جن تعاویذ میں قرآن مجید لکھا ہوا ہو یا اس کا غیر لکھا ہوا ہو آیا وہ مکروہ ہیں ؟ انہوں نے کہا حضرت ابن مسعود اس کو مکروہ کہتے تھے، امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگر سے روایت کیا ہے کہ وہ اس میں نرمی کرتے تھے اور شدت نہیں کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص خواب میں ڈر جائے تو وہ یہ پڑھے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزات الشیطن و ان یحضرون۔ میں اللہ کے غضب سے اس کے عقاب سے اس کے بندوں کے شر اور شیطان کے وسوسوں اور ان کے حاضر ہونے سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ تو پھر شیاطین اس کو ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے بالغ بچوں کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلے میں ایک کاغذ پر یہ کلمات لکھ کر لٹکا دیتے تھے، اس حدیث کو امام ابو دائود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے اور امام النسائی نے اس حدیث کو عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کیا ہے، اور اس کے مکروہ یا غیر مکروہ ہونے کا حکم اس وقت ہے جب کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ تعویذ بنفسہ نفع یا ضرر پہنچاتا ہے، یا اس میں ایسے کلمات ہوں جن کا معنی معلوم نہ ہو۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، داراحیاء العلوم، بیروت، ١٤٠٦ ھ) 

تعویذ لٹکانے کے متعلق علامہ ابن قیم جوزی کی تصریحات اور بخار کا تعویذ علامہ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر المعروف بابن القیم جوزی المتوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : ابو عبداللہ کو یہ خبر پہنچی کہ مجھے بخار چڑھ گیا تو انہوں نے مجھے بخار کے لیے ایک کاغذ لکھ کر بھیجا جس میں یہ لکھا ہو اتھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ و بالل، محمد رسول اللہ قلنا یا نار کوئی برداوسلاما علی ابراھیم وارادوابہ کیدا فجعلنا ھم الاخسرین (الانبیاء : ٧٠۔ ٦٩) اللھم رب جبرائیل و میکائل، و اسرافیل، اشف صاحب ھذا الکتاب بحولک و قوتک و جبروتک الہ الحق و امن۔ مروزی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا کہ یونس بن حبان نے ابو جعفر محمد بن علی سے پوچھا کہ آیا میں تعویذ لٹکائوں ؟ انہوں نے کہا اگر وہ تعویذ اللہ کی کتاب ہو یا اللہ کے نبی کے کلام سے ہو تو اس کو لٹکا لو، اور حسب استطاعت اس سے شفاء طلب کرو، میں نے کہا بخار کا تعویذ اس طرح لکھتا ہوں باسم اللہ وباللہ و محمد رسول اللہ الخ، انہوں نے کہا درست ہے۔ امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگرے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں نرمی کی ہے۔ حرب نے کہا امام احمد بن حنبل نے اس معاملہ میں سختی نہیں کی، امام احمد نے کہا حضرت ابن مسعود (رض) اس معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے، اور ان سے ان تعویذات کے متعلق وال کیا گیا جو مصائب نازل ہونے کے بعد لٹکائے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ خلال نے کہا ہم سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو مصائب نازل ہونے کے بعد ان لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو ڈر جاتے تھے اور جن کو بخار چڑھ جاتا تھا۔ (زاوالمعاوج ج ٤ ص ٢٩١، دارالفکر بیروت)

وضع حمل میں تنگی اور مشکل کے متعلق تعویذ شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : خلال بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو اس عورت کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا جس کو وضع حمل میں تنگی اور مشکل پیش آرہی ہو، وہ یہ تعویذ سفید پیالے میں یا کسی صاف چیز پر لکھتے تھے، وہ حضرت ابن عباس (رض) کی یہ حدیث لکھتے ہیں : لا الہ الا للہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم، الحمد لہ رب العلمین (کانھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثو الاساعۃ من نھار بلاغ) (الاحقاف : ٣٥) (کانھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعژیۃ او ضحاھا) (النازعات : ٤٦) خلال نے کہا ہم سے ابوبکر المروزی نے بیان کیا کہ ابو عبداللہ (امام احمد) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ابو عبداللہ ! کیا آپ اس عورت کے لیے تعویذ لکھ دیں گے جس کو دو روز سے وضع حمل میں مشکل پیش آرہی ہے۔ فرمایا : اس سے کہو کہ وہ ایک بڑا پیالہ اور زعفران لے کر آئے اور میں نے دیکھا کہ وہ متعدد لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے تھے۔ عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم کا ایک گائے کے پاس گزر ہوا، اس کے پیٹ میں اس کا بچہ پھنسا ہوا تھا (وضع حمل میں مشکل ہو رہی تھی) اس گائے نے حضرت عیسیٰ سے کہا : اے کلمۃ اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے جس میں، میں مبتلا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی : یا خالق النفس من النفس، یا مخلص النفس من النفس و یا مخرج النفس من النفس خلصھا، تو اس گائے نے بچہ جن دیا، اور وہ کھڑی ہوئی اس بچے کو سونگھ رہی تھی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا پس جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو اس کو یہ کلمات لکھ دو ۔ خلال نے کہا اسی طرح اس سے پہلے چند کلمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا لکھنا بھی فائدہ مند ہے۔ متقدمین کی ایک جماعت نے قرآن مجید کی آیات کو لکھنے اور ان کے غسالہ (دھو ون) کو پینے کی بھی اجازت دی ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شفا میں سے شمار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ صاف برتن میں لکھا جائے۔ اذا السماء انشقت واذنت لربھا وحقت واذا الارض مدت والقت ما فیھا و تخلت۔ (الانشقاق : ٤۔ ١) حاملہ عورت کو اس برتن سے پانی پلایا جائے اور پانی کو اس کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (زاد المعادج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) اسی طرح حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : جب بعض کلام میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے نفع دیتے ہیں تو تمہارا اللہ کے کلام کے متعلق کیا گمان ہے ! اور امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ جب قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھا جائے تو پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ پی لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ایک شخص کسی برتن میں قرآن مجید لکھے پھر اس کو دھو کر اس کا دھو ون مریض کو پلا دے، اسی طرح کسی چیز پر قرآن مجید لکھ کر اس کو پی لے تو ان میں سے کسی چیز میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح پانی پر قرآن مجید پڑھ کر اسے مریض پر چھڑکا جائے، اور اسی طرح جب عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو قرآن مجید لکھ کر اس کا دھو ون اس حاملہ عورت کو پلا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس سے یہ روایت ہے کہ جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو ایک صاف برتن لے کر اس میں یہ لکھا جائے۔ کا نھم یوم یرون ما یوعدون (الاحقاف : ٣٥) کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا (النازعات : ٤٦) لقد کان فی قصصھم عبرۃ لا ولی الالباب (یوسف : ١١١) پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ عورت کو پلایا جائے اور اس کا پانی عورت کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (الطب النبوی ص ٢٧٩، مطبوعہ داراحیاء العلوم بیروت، ١٤٠٦ ھ) 

نکسیر کے متعلق تعویذ شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفی ٧٦٨ ھ) اپنی پیشانی پر لکھتے تھے، و قیل یا ارض ایلعی ماءک ویاسماء اقلعی و غیض الماء و قضی الامر۔ (ھود : ٥٥) اور میں نے ابن تیمیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں نے متعدد لوگوں کو یہ آیت لکھ کردی اور وہ تندرست ہوگئے اور انہوں نے کہا اس آیت کو نکسیر کی خون سے لکھنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ جہلاء کرتے ہیں کیونکہ خون نجس ہے پس اس سے اللہ کے کلام کو لکھنا جائز نہیں ہے۔ ان کا ایک اور تعویذ یہ ہے : یمحواللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ (الرعد : ٣٩) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٩ ھ)

دل یا سینہ میں درد (انجائنا) کے لیے تعویذ اس طرح لکھا جائے : فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت (البقرہ : ٢٦٦) یحول اللہ و قوتہ دوسر تعویذ اس وقت لکھا جائے جب سورج زرد ہوجائے، اس میں یہ لکھا جائے : یا یھا الذین امنو اتقو اللہ و امنو ابرسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفرلکم واللہ غفور رحیم (الحدید : ٢٨ )

میعادی بخار (ٹائیفائڈ) مثلا تین دن کے بخار کے لیے تعویذ تین باریک کاغذوں پر لکھا جائے : بسم اللہ فرت، بسم اللہ مرت، بسم اللہ قلت، اور ہر روز ایک کاغذ منہ میں رکھ کر نگل لے۔ 

عرق النساء کے لیے تعویذ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللھم رب کل شئی و ملیک کل شئی و خالق کل شئی انت خلقتنی و انت خلقت النساء فلا تسلطہ علی باذی ولا تسلطنی علیہ بقطع واشفنی شفاء لا یغادر سقما ولا شافی الا انت۔

گٹھیا کے لیے تعویذ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بخار اور ہر قسم کے درد کے لیے یہ پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے : بسم اللہ الکبیر اعوذ باللہ العظیم من کل شر کل عرق نعار و من شر حر النار۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٦ )

ڈاڑھ کے درد کے لیے تعویذ جس جگہ درد ہے اس کے بالمقابل رخسار پر لکھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، قل ھو الذی انشا کم و جعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (الملک : ٢٣) اور اگر چاہے تو یہ لکھے : ولہ ما سکن فی اللیل والنھار و ھو السمیع العلیم (الانعام : ١٣)

پھوڑے، پھنسیوں اور آبلوں اور ہر قسم کی انفیکشن کے لیے تعویذ اس کے لیے یہ لکھا جائے گا : و یسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا فیذرھا قاعاصفصفا لا تری فیھا عوجا ولا ماتا (الانعام : ١٣) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٤۔ ٢٩٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) تعویذات اور دم کے جواز کے متعلق ہم نے یہاں پر مفسرین کی تصریحات اور مذاہب اربعہ کے فقہاء کی عبارات کو طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کیا۔۔۔📚

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ