RUDD E QADYANIYAT

 [05/06, 5:48 pm] 🌹ABUL-HASNAIN RAZA KHAN🌹: مرزا قادیانی  کی حقیقت 👇👇👇


قادیانی غصہ نہ کریں غور کریں۔

مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے 32 سال میں صرف 2 بچے پیدا ہوے

جبکہ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی سے 24 سال میں 10 بچے ہیدا ہوے کیسے؟؟؟؟

جبکہ  مرزا قادیانی کی شادی ہوئی تھی تو اس کو یقین تھا کہ وہ نامرد ہے.مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر 2، صفحہ 21، مکتوب نمبر 14

اسکا نام حرمت بی بی تھا۔اس سے 1852ء یا 1853ء میں شادی ہوئی."


پہلی بیوی سے مرزاقادیانی کے 2 بیٹے تھے۔ 

1۔ مرزا سلطان احمد 2۔ مرزا فضل احمد

ان دونوں بیٹوں نے مرزا قادیانی کو دعوی نبوت میں کذاب سمجھا تھا۔ 

مرزا فضل احمد، مرزا قادیانی (اپنے باپ) کی زندگی میں مر گیا لیکن مرزا نے اسکا جنازہ نہ پڑھا ۔

( روزنامہ الفضل قادیان 7 جولائی 1943ء ص 3)

مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں ایک رنگین مزاج عورت تھی

’’بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور وغیرہ سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں ۔‘‘(کشف الظنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد صفحہ 88)۔نصرت جہان سے شادی


دوسری بیوی جسکا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح 1884ء میں ہوا.

"نصرت جہاں بیگم کے متعلق مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا ہے کہ لوگ میری بیوی پر الزام لگاتے ہیں کہ اسکی میرے بعض مریدوں سے آشنائی ہے."

(روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 197 ، 203 )

مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ

"کیا وجہ ہے کہ حکیم نور الدین اور عبدالکریم سیالکوٹی باقی قادیانی جماعت کے برعکس نصرت جہاں بیگم کو " ام المومنین " کی بجائے

"بیوی صاحبہ" کہتے تھے؟

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ اول ص 63 روایت نمبر 77 طبع جدید 2008ء ص 56)

"نصرت جہاں سے مرزاقادیانی کی اولاد"

مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں سے درج ذیل اولاد ہوئی۔

"لڑکے "

1۔مرزا بشیر احمد (1888ء تا 1887ء) 

2۔مرزا بشیر الدین محمود احمد (1889ءتا 1965ء) 3۔مرزا شوکت احمد (1891ءتا 1892ء)

4۔ مرزا بشیر احمد ایم اے (1893ءتا 1963ء) 

5۔مرزا شریف احمد (1895ءتا 1961ء)

6۔ مرزا مبارک احمد (1899ءتا 1908ء)

"لڑکیاں"

1۔عصمت (1886ءتا 1891ء)

2۔ مبارکہ بیگم (1897ء تا1997ء)

3۔ امتہ النصیر (1903ءتا 1903ء)

4۔ امتہ الحفیظ بیگم (1904ءتا 1987ء)


(دیکهے حسب نامہ مرزا سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 116 روایت 129 طبع جدید 2008ء

صفحہ 104 روایت نمبر 128 حصہ دوم صفحہ 150 روایت نمبر 467 طبع جدید روایت نمبر 470 صفحہ نمبر 442)

مرزا قادیانی کا جب نصرت جہاں سے نکاح ہوا تو مرزا کے پاس نقدی دو اڑھائی سو روپے تھے کوئی زیورات نہیں تھے جو نصرت جہاں کو پہنائے

جب نصرت جہاں کی رخصتی ہوئی صرف ایک صندوق میں کچھ سامان تھا جس کی چابی مرزا قادیانی کو دی گئی تھی اس کے لئے دیکھیں ( حیات ناصر صفحہ 8 مولف شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی اور  سیدہ نصرت جہاں بیگم صفحہ 205 مولف شیخ محمود عرفانی قادیانی ) 

مرزا قادیانی بیوی کے پاس اتنے زیورات اور روپیہ کہاں سے آیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

مرزا صاحب کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ  یعنی دوسری بیوی مسماۃ نصرت جہاں بیگم  کے پاس گروی رکھ کر اس سے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا ہے ۔ تو جس شخص کی عورت اس قدر روپیہ دے سکتی ہو اس کی نسبت گمان گذرتا ہے کہ وہ مالدار ہوگا " ( خزائن جلد 13 صٖفحہ 517 )

مرزا قادیانی کی بیوی نسرت جہاں کے پاس جو زیورات تھے ان کی کل رقم 3505روپے ہے ۔ (قادیانی نبوت ص85)اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا اب اس زمانہ سے خود ہی مرزا غلام قادیانی کی بیوی کے زیورات کی مالیت کا اندازہ لگا لیں 

نصرت جہاں بنا روپے پیسے اور زیورات کے بیاہ کر آئیں پر اتنی دولت اور زیورات کہاں سے آئے قادیانی غصہ نہ کریں عقل کریں اور اس کا جواب دیں۔

[05/06, 5:48 pm] 🌹ABUL-HASNAIN RAZA KHAN🌹: ختم نبوت سے متعلق چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:حدیث(1)”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیأ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ا یک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔“ (صحیح بخاری کتاب صفحہ501 جلد 1، صحیح مسلم صفحہ248 جلد 2)


حدیث(2)”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیأ کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: (۱) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے(۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (۳)مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے (۴)روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا ہے (۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (۶) اورمجھ پرنبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔“ (صحیح مسلم صفحہ 199 جلد 1، مشکوٰۃ صفحہ512) اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اس کے آخر میں ہے:”وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ و بعثت الی الناس عامۃ۔“ (مشکوٰۃ صفحہ 512) ترجمہ: ”پہلے انبیأ کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“


حدیث(3)”سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (بخاری صفحہ633 جلد2)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: ”میرے بعد نبوت نہیں۔“ (صحیح مسلم صفحہ278 جلد2) حضرت شا ہ ولی اللہ محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے کہ یہ حدیث متواتر ہے۔


حدیث(4)”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیأ کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفأ ہوں گے اور بہت ہوں گے۔“ (صحیح بخاری صفحہ491 جلد 1، صحیح مسلم صفحہ126 جلد2، مسند احمد صفحہ297 جلد 2)


حدیث(5)”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔“ (ابوداؤد صفحہ 127 جلد 2،ترمذی صفحہ 45 جلد 2)


حدیث(6)”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔“ (ترمذی صفحہ51 جلد2، مسند احمد صفحہ267 جلد3)


حدیث(7)”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔“ (صحیح بخاری صفحہ120 جلد1، صحیح مسلم صفحہ282 جلد1)


حدیث(8)حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوتے۔ (ترمذی صفحہ209 جلد2)


حدیث(9)”حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (متفق علیہ، مشکوۃصفحہ515)


حدیث(10)متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:”بعثت أنا والساعۃ کھاتین“مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔ (مسلم صفحہ 406 جلد 2)

[05/06, 5:48 pm] 🌹ABUL-HASNAIN RAZA KHAN🌹: 1۔"مرزاقادیانی چور"


۔مرزاقادیانی کے بچپن کے حالات میں لکھا ہے کہ مرزاقادیانی چور تھا اور گھر سے چوریاں کرتا تھا۔


(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 225 روایت نمبر 244 طبع جدید 2008ء) 


2۔ "مرزاقادیانی حرام کھانے والا"


1۔جوانی میں اپنے دادا کی پنشن وصول کر کے ساری پنشن اڑا دی یعنی سارا پیسہ ختم کر دیا ۔ اور گھر والوں کو کچھ نہیں دیا۔ اس شرم کی وجہ سے مرزاقادیانی گھر نہیں گیا۔


(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 38،39 روایت نمبر 49 طبع جدید 2008ء) 


مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ 


"واضح رہے کہ پینشن کی یہ رقم سات صد روپیہ تھی۔ "


(سیرت المہدی حصہ اول ص 13 روایت نمبر 132 طبع جدید 2008ء ص 118)


اس 700 روپے کا اگر آج کے دور کا حساب لگائیں تو آج کل خام گوشت کی کم از کم قیمت 400 بھی لگائیں تو 700 روپے کے 11200 آنے ہونے اور جو 11200 کلو گوشت کی قیمت اس زمانے میں تھی اگر 400 سے آج کے زمانے کے حساب سے ضرب دیں۔ 

11200×400=4480000

تو 44 لاکھ 80 ہزار روپے بنتے ہیں۔ 


یعنی مرزاقادیانی نے اپنے دادا کی پینشن کے 44 لاکھ 80 ہزار روپے آج کے حساب سے اڑا کر ختم کردیئے اور پھر اسی شرم سے گھر واپس نہیں آیا۔


2۔لوگوں سے براہین احمدیہ کی 50 جلدیں لکھنے کا وعدہ کیا اور لوگوں سے 50 جلدوں کی قیمت بھی لے لی۔ لیکن صرف 5 جلدیں لکھیں ۔

اس طرح مرزاقادیانی 45 جلدوں کے پیسے کھا گیا۔


مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 


"پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا ۔اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے. اس لئے پانچ حصوں سے وہ عدد پورا ہوگیا. دوسرا سبب التواء کا جو تئیس برس تک حصہ پنجم لکھا نہ گیا. یہ تها کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ انکے دلی خیالات ظاہر کرے. جنکے دل مرض بد گمانی میں مبتلا تھے اور ایسا ہی ظہور میں آیا. کیونکہ اس قدر دیر کے بعد خام طبع لوگ بد گمانی میں بڑھ گئے. یہاں تک کہ بعض ناپاک فطرت گالیوں پر اتر آئے اور دو چار حصے اس کتاب کے جو طبع ہو چکے تھے.کچھ تو مختلف مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تهے اور کچھ مفت تقسیم کئے گئے تھے. پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تهیں. اکثر نے گالیاں ہی دی اور اپنی قیمت بهی واپس لی. 


(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 )


3۔ "مرزاقادیانی فراڈیہ "


مرزاقادیانی حکیم نور الدین کے ساتھ مل کر فراڈ کرتا تھا ۔مرزاقادیانی نے حکیم نور الدین کے ساتھ مل کر ایک ایسا فراڈ کیا ہے جو شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ 

مرزاقادیانی حکیم نور الدین سے پیسے منگواتا رہتا تھا۔


 ایک دفعہ مرزا قادیانی نے حکیم نور الدین سے 500 روپیہ منگوایا۔ اور 500 روپے کی رقم اس زمانے کے لحاظ سے اچھی خاصی رقم تھی۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زمانے میں خام گوشت ایک آنے کا ایک سیر(کلو) ملتا تھا۔

 

(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ صفحہ 165،166 روایت نمبر 167)


اس 500 روپے کا اگر آج کے دور کا حساب لگائیں تو آج کل خام گوشت کی کم از کم قیمت 400 فی کلو بھی لگائیں تو 500 روپے کے 8000 آنے ہونے اور جو 8000 کلو گوشت کی قیمت اس زمانے میں تھی اگر 400 سے آج کے زمانے کے حساب سے ضرب دیں۔ تو 

8000×400=3200000

32 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ 

  لیکن وہ 500 روپیہ منی آرڈر کے ذریعے نہیں منگوایا۔ کیونکہ اگر منی آرڈر کے ذریعے وہ 500 روپیہ منگوایا جاتا تو اس پر یقینی طور پر ٹیکس بھی لگنا تھا۔ اور ٹیکس بھی اگر 500 روپے پر

 20 روپے بھی بنتا تو ٹیکس تقریبا 128000 روپے بننا تھا لیکن مرزا قادیانی جیسا لالچی آدمی  اتنا ٹیکس دینا کہاں گوارا کرسکتا تھا ۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے وہ 500 روپیہ منگوانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ پہلے 500 روپے کے نوٹ کا آدھا حصہ منگوایا۔ جب وہ آدھا حصہ پہنچ گیا تو پھر اگلی دفعہ اسی 500 روپے کے نوٹ کا دوسرا حصہ منگوایا۔ 

اسی فراڈ کا اشارہ مرزاقادیانی کے مکتوبات میں موجود ہے۔ 


(مکتوبات احمد جل


د 2  صفحہ 41،42 مکتوب نمبر ،26،25 جدید ایڈیشن 2008ء)


4۔ "مرزاقادیانی کی وراثت"


مرزاقادیانی نے اپنی دعوی نبوت سے پہلے کی زندگی میں انگریز کی عدالت میں مقدمہ لڑکر مالی وراثت حاصل کی۔


حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 


 إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا تھا کہ ہمارا ( گروہ انبیاء علیہم السلام کا ) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ‘ ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔


 (بخاری حدیث نمبر 3093) 


ایک اور روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 


"إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، ‌‌‌‌‌‏إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، ‌‌‌‌‌‏إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ "


بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وا


رث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا ۔ 


(ابن ماجہ حدیث نمبر 223)


خلاصہ =

اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر قادیانیوں کی بات مان کر مرزاقادیانی کی دعوی نبوت سے پہلے کی زندگی کو نبوت کے معیار پر پرکھا جائے تو بھی مرزا قادیانی چور، حرام کھانے والا، فراڈیا اور وراثت لینے والا ثابت ہوتا ہے ۔

اور کوئی نبی نعوذ باللہ چور ،حرام کھانے والا،  فراڈیا اور وراثت لینے والا نہیں ہوتا۔


لیجئے قادیانیوں کے اصول کے مطابق مرزاقادیانی اپنے دعوی نبوت میں جھوٹا ثابت ہوگیا۔

[05/06, 5:48 pm] 🌹ABUL-HASNAIN RAZA KHAN🌹: مفتی مبشر شاہ 1:

مرزا قادیانی کا تعارف

بد گفتار، لعنتی کر دار،ہر زہ سر ائی میں منہ زور نبو ت کاچو ر،جھو ٹ کامجسمہ انگریز کے بوٹ کاتسمہ ،خو اہشات کابند ہ، سوچ کاگند ہ، عادات ذلیل فطر ت رزیل ،بد شکل کو تاہ عقل ،مکر وہ خد و خال بے ڈھنگی چال ،ایک آنکھ سے کاناکفر میںسیانا،دل سیاہ ضمیر ٹھاہ، فرنگی کاغلام دشمن خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم،گالیو ں کی بر سات ار تد اد کی سیاہ رات ،ایمان کاشکاری درِ انگر یز کابھکاری ،دولت کاحر یص منافقت کا مریض، اخلاق کاقا تل سر اپاباطل ،ننگ شر افت لائق حقارت ،فتنہ ساز نو سرباز ،علامت فساد منکرجہاد ،کلیساکاپجاری ملکہ پہ صدقے واری، امام دجل و تلبیس باعث فخر ابلیس،پیشوائے مر تد ین رہنمائے ز ند یقین ،منکر حد یث ازلی خبیث ۔غدار ابن غدارانگر یز کازلہ خوار، کافر کبیر زلف ملکہ و کٹو ریہ کااسیر مسیلمہ کذاب کاترجمان اسو د عنسی کانشان کفر کی بر ہان شیطان کی پہچان دشمن قر آن بانی فتنہ ء قادیان،شخصیت بڑی شیطانی ہے ۔نام مر زا غلام احمد قادیانی ہے ۔

یہ ننگ انسانیت بھارت کے صو بہ مشر قی پنجاب کے ضلع گو رداسپور کے ایک پسماند ہ گائو ں ''قادیان ''میں پید ا ہو ا۔اس کے بیٹے بشیر احمد نے اپنی کتاب ''سیر ت المہد ی'' میںاس کی تار یخ پید ا ئش 1836ء لکھی ہے ۔اپنی پیدائش کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں یوں لکھتا ہے ۔''میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا۔اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا…اور میرا سر اس کے پائوں میں تھا۔'' (تریاق القلوب صفحہ 351 ، روحانی خزائن صفحہ 479جلد15 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضی تھاجس نے تمام عمر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پر گذاری اور نماز کبھی نہ پڑھی۔اس کی ماں کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی تھا۔مرزا قادیانی کو بچپن میں دسوندی اور سندھی کے ناموں سے پکاراجاتا تھا۔ مرزا قادیانی نے 'کتاب البریہ ' کے صفحہ134پراپنی قوم مغل(برلاس) بتائی اور لکھا کہ میرے بزرگ ثمرقند سے پنجاب میں وارد ہوئے تھے لیکن اس کتاب کے صفحہ 135کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ میرے الہامات کی رو سے ہمارے آبائو اولین فارسی تھے اور 1900ء تک اسی موقف پر قائم رہا۔5نومبر1901ء کو رسالہ 'ایک غلطی کا ازالہ'شائع کیاجس کے صفحہ16پر لکھا کہ میں ''اسرائیلی بھی ہوںاور فاطمی بھی''۔اس کے ایک سال بعد اپنی کتاب' تحفہ گولڑویہ 'کے صفحہ 40 پر لکھا کہ میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے تھے اور اپنی کتاب 'چشمہ معرفت'میں اپنے آپ کو چینی الاصل ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اپنی تعلیم سے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے ''جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں ... ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے... میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعداس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر (استاد کا احترام ملاحظہ فرمائیں) رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا ، حاصل کیا۔'' (کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 162،163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ180،181 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور اب تعلیم کے علاوہ دیگر مصروفیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے ''میرے والد صاحب اپنے بعض آبائو اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کیلئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے، انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگادیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کانشانہ رہتا رہا۔ (کتاب البریہ صفحہ 164 مندرجہ خزائن جلد 13 صفحہ182از قادیانی)

مرزاقادیانی کو چڑیا پکڑنے کا شوق تھااور انہیں سرکنڈوں سے ذبح کرلیتا ۔قادیان کے چھپڑ میں تیراکی کا شوق تھا۔اکثر جوتا الٹا سیدھا پہنا کرتا تھا۔ چابیاںریشمی ازاربند کے ساتھ باندھا کرتا تھا۔ اوپر والے کاج میں نیچے والا بٹن اور نیچے والے کاج میں اوپر والا بٹن اکثر لگاتا اور جرابیںبھی الٹی پہنتایعنی ایڑھی والا حصہ اوپرہوتا۔ پسندیدہ بیٹھنے کی جگہ پاخانہ کیلئے استعمال ہونے والا کمرہ تھا جہاں کنڈی لگا کر دو ،تین گھنٹے بیٹھا رہتا تھا۔ مرزا قادیانی کی طبیعت آوارہ اور فضول خرچی کا شوق غالب تھا۔سیرت المہدی جلد اول صفحہ34پر مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنے باپ کاواقعہ اپنی والدہ کے حوالے سے لکھتا ہے ''بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ ا


پنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن مبلغ 700روپے وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کرکہیں اور جگہ چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں

آئے۔ ''(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 34 از مرزا بشیر احمد)

اب گھر جاتا تو جوتے پڑتے اسی لئے گھرجانے کی بجائے سیالکوٹ کی کچہری میں 15روپے ماہوار پر بطور منشی ملازم ہوگیا۔سیرت المہدی کے مطابق مرزا قادیانی کی سیالکوٹ کی کچہری کی مدت ملازمت 1864ء تا1868ء ہے۔مر زا احمد علی شیعی اپنی کتاب دلیل العر فان میں لکھتے ہیں کہ ''منشی غلام احمد امر تسر ی نے اپنے رسالہ ''نکاح آسمانی ''کے رازہائے پنہائی میںلکھاتھاکہ مرزانے زمانہ محر ری میں خوب رشوتیں لیں۔یہ رسالہ مرزاکی وفات سے آٹھ سال پہلے 1900 ء میںشائع ہو گیا تھا مگر مرزاقا دیانی نے اس کی تر دید نہیں کی ۔اسی طر ح مو لوی ابر ہیم صاحب سیالکوٹی نے 'مناظر ہ روپڑ،میں جو 22-21مارچ 1932ء میں ہو ا،ہز ارہاکے مجمع میںبیان کیاکہ مرزاصاحب نے سیالکوٹ کی نوکر ی میںر شوت ستانی سے خو ب ہاتھ رنگے اور یہ سیالکو ٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی جس سے مرزاصاحب نے چار ہز ار روپیہ کازیو ر اپنی دو سر ی بیگم کو بنو اکر دیا ۔''(رودادمناظرہ روپڑ مطبوعہ کشن سٹیم پریس جالندھر ص35) رشو ت خو ری کاایک نرالااچھوتااور ماڈر ن اندازبھی ملاحظہ ہو ۔''ہمارے نانافضل دین صاحب فرمایاکرتے تھے کہ مرزاصاحب کچہر ی سے واپس آتے توچو نکہ آپ اہلمد تھے مقد مے والے زمیند ار ان کے مکان تک پیچھے آجاتے''۔ (یامرزاقادیانی خودلے آتا)۔(مئو لفّ) (سیر ت المہدی جلد 3صفحہ93)دورانِ ملازمت قانون کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور مختاری کا امتحان دیا مگر امتحان میں کامیاب نہ ہوا اور منشی سے آگے نہ بڑھ سکا۔اسی دوران انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے ڈی سی آفس میں مرزا قادیانی سے ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا۔ یہ فرد واپس اپنے ملک روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو، جواب دیا کہ میں نوکر ہوگیا ہوںاور پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی، بحث و مباحثہ، اشتہار بازی اور کفروارتداد پر مبنی تصانیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پھر مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ کتاب لکھے گا جو پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی لہٰذا تمام مسلمان مخیر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کیلئے پیشگی رقوم ارسال کریں۔مرزاقادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی رقم پیشگی بھجوادی۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ پانچ جلدیں مکمل ہونے پر کیا اعلان کیا،لوگوں کے پیسے ہڑپ کرنے کیلئے کیا مضحکہ خیز دلیل دی ملاحظہ ہو۔''پہلے پچاس لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیااور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ ''(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ7 مندرجہ روحانی خزائن جلد21صفحہ9از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی نے 85 کے قریب کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں کو علیحدہ علیحدہ بھی شائع کیا گیا اور 23جلدوں میں روحانی خزائن کے نام سے ایک مجموعہ کی شکل میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں مرزا قادیانی نے سینکڑوں دعوے کئے۔ اس نے بتدریج خادم اسلام ، مبلغ اسلام، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، ظلی و بروزی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدائی تک کادعویٰ کیا۔یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا۔ حقیقت میں تو نبی، مہدی، مسیح، مجدد ، عالم فاضل ہونا تو دور کی بات ہے مرزا غلام احمد قادیانی انسان بھی نہ تھا۔ خود اپنی ذات کے متعلق ایک شعر کہتا ہے کہ

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

بشر کی جائے نفرت یعنی مرزا قادیانی کی پہلی شادی حرمت بی بی سے ہوئی جس کو لوگ'پھجے دی ماں' کہا کرتے تھے۔ جس سے دو لڑکے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔اس کے بعدکافی عرصہ تک پہلی بیوی سے مباشرت ترک کئے رکھی۔ پھر پچاس سال کی عمر میںدوسری شادی کرلی۔مرزا قادیانی کی دوسری بیوی کا نام نصرت جہاں بیگم ہے، جس سے پچاس سال کی عمر میں شادی رچائی۔نصرت جہاں بیگم ماڈرن خاتون تھی اور مرزا قادیانی کے مریدوں کے ساتھ قادیان سے لاہور سینکڑوں میل کی مسافت طے کر کے کئی دن خریداری کیلئے لاہور میں گزارہ کرتی تھی۔اگرچہ مرزا قادیانی دائمی مریض تھا اور نامردی کا اقرار بھی کرتا تھا تاہم اولاد کثرت سے ہوئی جس کی تعداد دس تھی۔

مرزا قادیانی کی زندگی کا سب سے دلچسپ واقعہ محمدی بیگم سے نکاح کی خواہش کے متعلق ہے جس پر وہ دل ہار


بیٹھا اور اسے حاصل کرنے کیلئے عجیب و غریب ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ یہ اعلان تھا کہ ''خدا نے آسمان پر محمدی بیگم سے میرا نکاح کردیا ہے اور وہ ضرور میری ہوگی۔'' لیکن نکاح نہ ہونا تھا، نہ ہواالبتہ محمدی بیگم کے والدین نے اس کی شادی سلطان محمود سے کردی اور اللہ پاک نے محمدی بیگم کو تین بیٹے عطا کئے۔ چونکہ محمدی بیگم بھی مرزا قادیانی کے خاندان سے تھی اور خاندان والوں نے اس کا نکاح دوسری جگہ کروا دیا تھا۔ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی نے اس مسئلہ پر خاندان والوں سے قطع تعلق نہ کیا جس وجہ سے مرزا قادیانی نے اس کو طلاق دے دی۔

قادیانی مر زا قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیںلیکن ہم جھو ٹ کے اس پہاڑکو سچائی کی ٹھو کر سے اڑاتے ہو ئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بد خصلت اس فرش خاکی پہ جنم لینے والابد تر ین انسان تھاجس کے رگ ور یشے پر شیطان کی حکمر انی تھی ،جس کادماغ ابلیسی سازشوں کا ہیڈ کوارٹر تھااور جس کادل کفر و ار تد اد کااند ھاکنو اں تھا،جس کا باطن قبر کی تاریکی سے زیادہ کالاتھااور جس کی زبان گالیو ں اور گستاخیو ں کی مشین گن تھی ۔یہ شخص شر ا ب و افیو ن کار سیاتھا۔زناجیسے فعل شنیع کاعادی تھا۔بے غیرت وبے حیاتھا۔جاہل مطلق اور مخبو ط الحواس تھا ۔بے ہودہ شاعری کرنا اس کا شوق تھا۔جھو ٹ بو لنااور فر اڈ کے ذر یعہ لو گو ں سے رقم حاصل کر نااس کی سر شت میں دا خل تھا ۔چو راور لٹیرا تھا۔ اسلام اور ملت اسلامیہ کاغد ار اور یہو دو نصاری کاپالتو تھا ۔اس کی زبان پلید نے دعو ی نبو ت اور جہاد کے حرام ہو نیکااعلان کیا۔

دنیا میں بہت سے گمراہ اور جھوٹے مدعی نبوت گذرے ہیں جنہوں نے ایک آدھ دعویٰ کیا مگر مرزا قادیانی کے دعوئوں کا کوئی حد اور شمار نہیں۔ مرزا قادیانی نے سینکڑوں دعوے کر کے تمام مدعیان نبوت سے کفر اور دجل میںسبقت لے گیا۔دعوئوں کی کثرت کی وجہ سے مرزائی امت بھی مرزا قادیانی کا تعین نہیں کرسکی کہ وہ کیا چیز ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی مجدد زماں یا امام دوراں یا مہدی زماں ہونے کا دعوے دار تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود ہونے کا دعوے دار تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ لغوی یا مجازی یا بروزی یا ظلی نبی ہونے کا دعوے دار تھا اور کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی غیر تشریح نبی تھاا ور کوئی اسے صاحب شریعت اور مستقل نبی مانتا ہے۔

مرزا قادیانی اپنی تمام تر خباثتوں اور باطل دعووں سمیت ہیضہ کے مرض (جسے مرزا قادیانی قہرِ الٰہی کا نشان اور ہیضہ سے مرنے کو لعنتی موت قرار دیتا تھا) میں مبتلا ہو کر 26مئی 1908 ء کو اپنے ایک مرید کے گھر واقع برانڈرتھ روڈ لاہورمیں مرا۔مرزا قادیانی کی زندگی کا آخری فقرہ''میر صاحب !مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے''تھا (مندرجہ حیات ناصر صفحہ 14)۔بوقت موت غلاظت اوپر اور نیچے سے بہہ رہی تھی۔ اپنی ہی غلاظت کے اوپرگر کر مرجانے سے زیادہ عبرتناک موت اور کیا ہوسکتی ہے؟ لاش مال گاڑی (جسے مرزا دجال کا گدھاکہا کرتا تھا) میں لاد کر قادیان پہنچائی گئی جہاں مٹی میں دبا دیاگیا۔

 


مرزا قادیانی کی چند جھوٹی پیش گوئیاں


تیسری پیش گوئی موت مکہ میں ہوگی یا مدینہ میں


مرزا قادیانی نے اپنے ایک خدائی الہام میں اپنی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا:


(1)                ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘                                                          


                                                                                                                                                                                                                                          (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 503 از مرزا قادیانی)


ہر مسلمان اپنے دل میں یہ شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج یا عمرہ کی صورت میں مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ کی زیارت نصیب ہو جائے اور پھر اس سے بڑھ کر اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ان مقدس شہروں میں موت کی سعادت حاصل ہو جائے۔ حضرت عمرفاروق ؓ کی یہ دعا بہت مشہور ہے کہ ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت عطا فرما۔‘‘ حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ ’’جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گاجو مدینہ میں مرے گا۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’میں اس کا گواہ بنوں گا۔‘‘ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس شفاعت سے مراد خاص قسم کی شفاعت ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور خاتم النبیینﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’قیامت میں سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں اس میں سے نکلوں گا پھر ابوبکرؓ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمرؓ۔ پھر میں جنت البقیع میں جائوں گا اور وہاں جتنے مدفون ہیں، ان سب کو اپنے ساتھ لوں گا۔ پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا، وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان آ کر مجھ سے ملیں گے۔‘‘


آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اے مرزا قادیانی تُو مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں۔ یعنی (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کے خدا کو بھی صحیح طرح معلوم نہ تھا کہ مرزا قادیانی مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں؟ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی سراسر غلط اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں 26 مئی 1908ء کو مرا اور لاش ریل گاڑی پر قادیان بھجوائی گئی۔ جب مرزا قادیانی کی لاش لاہور ریلوے اسٹیشن لے جانے کے لیے احمدیہ بلڈنگ سے باہر نکالی گئی تو زندہ دلانِ لاہور نے اس کا بڑا ’’شاندار استقبال‘‘ کیا۔ یعنی راستے بھر مرزا قادیانی کے جنازے پر اس قدر غلاظتیں اور پاخانے پھینکے گئے کہ اس کی لاش بڑی مشکل سے ریلوے سٹیشن تک پہنچ سکی۔


مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موت تو درکنار مرزا قادیانی کو ساری زندگی ان مقدس مقامات میں قدم رکھنے کی توفیق تک نہ ہوئی۔ جب کبھی مرزا قادیانی سے پوچھا جاتا کہ آپ حج کرنے کیوں نہیں جاتے؟ تو مرزا قادیانی طرح طرح کی تاویلات کرتا۔ کبھی کہتا کہ صحت ٹھیک نہیں ہے (جبکہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کے لیے آخر عمر تک سر توڑ کوشش کرتا رہا) کبھی کہا گیا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے (جبکہ مخالفین کو 10، 10 ہزار روپے کا چیلنج دیتا) کبھی کہتا کہ میری جان کو خطرہ ہے (درآں حالیکہ اس کا کہنا تھا خدا کے مرسلین کسی سے نہیں ڈرا کرتے) سچی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ کو منظور ہی نہ تھا کہ مرزا قادیانی حرمین شریفین کی حدود میں داخل ہو۔ حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس شخص کے پاس اتنا خرچہ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت اللہ شریف جا سکے اور پھر حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے یا نصرانی ہو کر۔‘‘ اب اس کا فیصلہ قادیانی خود کریں کہ باوجود وسائل ہونے کے مرز قادیانی نے حج نہیں کیا، لہٰذا وہ کس حیثیت سے مرا؟


قادیانیوں کا اس پیش گوئی کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے مراد مکی فتح یا مدنی فتح ہو گی، کائنات کا سب سے بڑا دجل اور جھوٹ ہے۔ دنیا کی کسی لغت میں موت کا معنی فتح نہیں ہے۔ اگر موت کا معنی فتح ہے تو سب قادیانی زہر کھا کر مر جائیں تاکہ سب کی فتح ہو جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے برعکس اس کی موت لاہور میں اور قبر قادیان میں… اس کے جھوٹا ہونے کی ایک ایسی ناقابل تردید شہادت ہے جو ہمیشہ قادیانیوں کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرتی رہے گی۔ باقی رہا قادیانیوں کا بے تُکی تاویلات کرنا، تو اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:


(2)                ’’اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی کچھ بھی نہ رہے گی بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہوگا کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یاد رکھیں اور انہی کو مدعی


صادق کا معیار ٹھہرائیں۔ مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے


                 کہ نصوص کو ہمیشہ ان کے ظاہر پر حمل کرنا چاہیے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا۔‘‘                (تحفہ گولڑویہ صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 161 از مرزا قادیانی)


 


قادیانی اپنے ’’مسیح موعود‘‘ کے مقرر کردہ صرف اس ایک نہایت معقول معیار ہی کو مدِنظر رکھ لیں تو قبولِ اسلام کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہے گی کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کے ’’عظیم الشان‘‘ ڈھیر میں ایک بھی پیش گوئی ایسی نہیں ہے جسے تاویل کی سان پر نہ چڑھایا گیا ہو۔


 

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ