Al-Baani aur Sahi Hadees
[17/02, 9:29 am] +92 306 8209672: *البانی نے جن احادیث کو صحیح قرار دیا ہے ؛ حقیقتًا اس کے کیا معنی ہیں ؟*
کیا اس کا معنی یہ سمجھا جائے کہ البانی سے پہلے احادیث ضعیف تھیں سو البانی نے اُنہیں صحیح سند سے روایت کیا *؟؟؟*
یا اس کا معنی یہ ہے کہ( البانی کے آنے سے پہلے ) احادیث ضعیف تھیں پھر انہوں نے آکر ان کا ضَعف دور کیا *؟؟؟* مثلا ( سندِ حدیث میں کوئی شخص ) مجہول تھا سو انہوں نے اس کو ظاہر کیا کہ وہ ( مجہول ) کون تھا، یا اُس ( سلسلہء حدیث ) میں کوئی انقطاع تھا سو انہوں نے اس کو جوڑا ...
یا اس کا معنی یہ ہے البانی کی آمد سے قبل ہی حدیث صحیح تھی *؟؟* ایسے میں ہمارا یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہوگا کہ *:( اس حدیث کو البانی نے صحیح قرار دیا ہے )* اس لیے کہ وہ حدیث کو صحیح قرار دینے کے اہل نہیں، بلکہ اس کے اہل تو محدثین ہیں، ( زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حدیث صحیح یا حسن یا ضعیف ہے، نہ کہ حدیث ہی کو اپنی جانب سے صحیح ضعیف حسن لذاتہ یا حسن لغیرہ کا لیبل چڑھایا جائے۔۔) پھر کیوں ہم اُن کی طرف صحیح قرار دینے کی طرف نسبت کرتے ہیں *؟*( جبکہ یہ صفات تو ائمہ ستہ، احمد بن حنبل ، امام نووی، حافظ ابن حجر اور طحاوی وغیرہم جیسے احادیث میں جَبَلی حیثیت رکھنے والوں کے اندر تھیں ۔) ایسے میں ان کا اعتبار تلبیس وتدلیس والوں میں ہوگا...
( جواب *:)* طبعی طور پر البانی کا پہلی حالت میں ہونا دشوار ہے، اس لیے کہ ان کے پاس اصلا کوئی سند نہیں ہے، ان کے صرف وہم کرنے سے ہم کسی حدیث کو موضوع ہونے کا حکم لگادینگے *؟* اس کے علاوہ یہ بھی کہ اس دوران ان کے اور محدثین کے درمیان صدیوں تک سلسلہ منقطع رہا ہے ۔
*رہی دوسری حالت:* اس کا احتمال ہے، لیکن اس کے احتمال کی وجہ بہت ہی زیادہ ضعیف ہے جہاں محدثین نے اس( احادیث کو پرکھنے ) کی جانب پوری طرح غرق ہوگیے اور انہوں نے اس کی تحقیقات میں لمبی چوڑی بحثیں کیں اور اس میں انہوں نے بالکل بھی کوتاہی نہیں برتی ، ایسے میں ہم ان کی اس علمی جد وجہد کو ان کے غیر کی طرف کیسے جوڑ سکتے ہیں *؟؟؟* ایسے میں یہ ایک مذموم سَرِقہ ہوگا۔
*بات کریں اگر تیسری حالت کی ؛* یہ تو اصلا دشوار ہے اور سوال ہی کو سرے سے خارج کیا جاتا ہے ، بھلا اس کا معنی کیا ہوا کہ آج کے دن ہم ( بجائے اس کے کہ بخاری نے ترمذی نے ابوداود نے مسلم نے ابن حبان وغیرہم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے کہنے کی بجائے ) *البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہتے ہیں *؟!!!؟..*
میں حضرات علماء کرام سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرے ان سوالوں کا بغیر طعن وتشنیع اور جرح وقدح کے دینگے ..... ایسے میں کیا *" البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے "* کلمہ کا کوئی معنی رہ جاتا ہے سوائے اس کے کہ جو میں نے بیان کیا *؟؟*
کیا ناصر الدین البانی علماء حدیث میں سے تھے *؟*
یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے احادیث پڑھیں، *حدیث کے علماء میں سے نہیں تھے*
البانی کی کتابوں میں بہت سی ایسی تناقضات( ایک دوسرے کی ضد احادیث ہیں، مثلا کسی حدیث کو پہلے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے پھر ضعیف، اسی طرح پہلے کسی حدیث کو ضعیف کہہ کر بعد میں اس کو صحیح کہا ہے۔) وافر مقدار میں ہیں جو ان کے علمِ حدیث پر قدرت نہ رکھنے پر دلالت کرتی ہیں، اور یہ کہ وہ اہل حدیث کے مختص لوگوں میں سے نہیں ہیں . . . . البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ علم میں بحث کرنے والوں میں سے ہیں ... انہوں نے اُن سرمایۂ احادیث کے رواج کو حدیث کے ایک مدرسہ کی طرح عام کرنے کی کوشش کی ... ؛ جن کے بڑے علماء شافعی ہیں...
کیا آپ نے ان کی *" فتاوائ البانی "* پڑھی ہے *؟* اور اس کے اندر کے مغالطات اور بدعتوں کو روکنے اور دور کرنے کی کوشش کی ہے *؟*
ان کے تعلق سے شیخ عبدالفتاح ابوغدہ _ رحمہ اللہ _ نے کہا *:* *البانی گمراہی اور بدعتوں کا سربراہ ہے۔*
دکتر محمد سعید رمضان البویطی نے ان کے تعلق سے کہا *: میں نے اپنا وقت ایک رنگ وروغن کرنے والے جیسے شخص کے پیچھے ضائع کیا۔* غماری نے کہا *:* *" البانی بدعتی اور گمراہ ہے۔*
شیخ محدث محمد عوامہ نے کہا *: البانی نے امت کو منتشر کیا اور سنت کو ضائع کیا۔*
⤵️1⃣
[17/02, 9:29 am] +92 306 8209672: ⤴️2⃣
اہلٍ شام ان کے محدث ہونے کو مانتے ہی نہیں ، کیونکہ ان کے پاس محدث ہونے کی قابلیت نہیں *۔* ان کی کتابوں کو دیکھتے وقت انہوں نے ایک ہی حدیث کے حکم میں کئی متناقض اقوال دیکھے، ان کے اندر محدث ہونے کے شرائط موجود نہیں ہیں *۔*
اُن کے عقائد میں دہشتیں ہی دہشتیں اور ہنگامے ہی ہنگامے ہیں ...
ذرا اس بات کو سوچیے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ بذاتہ عالَم کو گھیرے ہوئے ہے . !!
*!!!!! مُحَدِّثْ کون ہے؟؟!!!*
اس کے تعلق سے امام تاج الدین سبکی رحمہ اللہ اپنی کتاب *" معید النعم "* میں امام سیوطی کی *" التدریب "* ( ص ٦ ) میں لکھی ہوئی عبارت کو نقل کرتے ہیں *:*
آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں *:*
*" لوگوں کی ایک جماعت محدث ہونے کا دعوی کرتی ہے ، ان کا غایت درجہ( زیادہ سے زیادہ ) صاغانی کی کتاب "مشارق الارض" میں دیکھنا ہے، اور اگر آگے بڑھے " مصابيحِ بغوی " تک، اور یہ گمانِ غالب کرتی ہے کہ وہ درجہء محدثین تک پہنچ گئی !!!( یہ تو بہت اونچی چیز ہے،)ان کے تعلق سے اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کی جہالت بالحديث کامنہ بولتا ثبوت ہے ، اگر کسی نے ہماری ذکر کردہ دو کتابوں کو حفظ بھی کرلیا اور ان دونوں کے ساتھ ان کے برابر اتنے ہی متن بھی جوڑدیے : تب بھی وہ محدث نہیں ہوگا ، یہ تو محدث بن ہی نہیں سکتا حتی کہ " اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل ہوجائے " ۔!!!*
پھر اگر اس نے اپنے زعم( بے بنیاد دعوے ) میں حدیث کی انتہا کو پا بھی لیا تو ابن اثیر کی *" جامع الاصول "* میں مصروف ہوجائے، پھر وہ اس کے ساتھ ابن صلاح کی *" کتاب علوم الحدیث "* یا اُن کی مختصر کو اس میں جوڑے جس کا نام *" التقريب للنووی "* ہے، اور ان جیسی کتابوں کے ساتھ جُڑ جائے ، ایسی صورت میں اس کو اُس شخص سے پکارا جائے گا جو *" محدث المحدثین "* اور *" بخاری العصر "* کے اس مقام تک پہنچا ہے ، اس کے باوجود بھی یہ *الفاظِ کاذبہ* وہ لقب کہے جانے کے مناسب نہیں *۔* ( آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس سے ایک شخص محدث المحدثین ہوجائے گا *؟*)
محدث تو وہ ہے *:* جو اسانید وعلل، اسمائے رجال، عالی اور نازل کو پہچانے، اور اس کے ساتھ من جملہ مُتون( متنوں ) کے ایک بڑے ذخیرے کو حفظ کرے، کُتُبِ ستہ، مسندِ احمد بن حنبل، سنن بیہقی اور معجم طبرانی کو سنے، اور اس مقدار کے ساتھ پھر حدیث کے ہزار حصوں کو اس کے ساتھ ملائے، اور یہ اس کا پہلا درجہ ہے *۔*
پھر ہماری ذکر کردہ تمام کتابیں اور کتبِ طباق اس نے سنا تو شیوخ کے دروازوں پر جاکر اُن سے علل، وفیات اور اَسانید پر گفتگو کرے تو وہ محدثین کے ابتدائی درجات میں ہوگا، پھر مطالعہ کرتے کرتے اس کے علم میں زیادتی اور پختگی آئے گی *۔!!!۔*
Comments
Post a Comment