1.Hazrat Ali ke Mutalliq Ek Hadees ki Wazahat
★ _*تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال*_ ★
_*کـیــا بـروز قـیـامـت لـواءالـحـمـد مـولا علـی رضـی اللہ تعـالـیٰ عنـہٗ کـے ہـاتـھ میـں ہـوگا*_
_*اَلصَّـــلٰوةُوَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَاخَـاتَــمَ النَّبِیِّیْــن*_
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس سلسلے میں ہمیں صرف دو روایات ملی ہیں پہلی کی تین اسناد اور دوسری کی ایک ہی سند ہے اس کی تحقیق ہم یہاں پیش کر دیتے ہیں اگر کسی شخص کو اس کی کوئی شاہد یا متابعت ملے تو ہمیں پیش کرے ہم اس کی بھی تحقیق کر دیں گے بہت تلاش کے باوجود ہمیں صرف یہ دو روایات ملیں ہیں
*امـام احمــدؒ بـن حـنـبـل (المتـوفـى: 241هـ) نــے فـرمـایـا ⇊*
*1127* - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ قثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُعْطِيتُ فِي عَلِيٍّ خَمْسًا، هُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا: أَمَّا وَاحِدَةٌ، فَهُوَ تُكَايَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الْحِسَابِ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ، فَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِهِ، آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَنْ وُلِدَ تَحْتَهُ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ، فَوَاقِفٌ عَلَى عُقْرِ حَوْضِي يَسْقِي مَنْ عَرَفَ مِنْ أُمَّتِي، وَأَمَّا الرَّابِعَةُ، فَسَاتِرٌ عَوْرَتِي وَمُسَلِّمِي إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الْخَامِسَةُ، فَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ زَانِيًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، وَلَا كَافِرًا بَعْدَ إِيمَانٍ
[ فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل ]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علیؓ کے بارے میں مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہیں
➊ اللہ تعالی کے حضور میں علیؓ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوں گا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ہو جائے گا
➋ میرا لوائے حمد اس کے ہاتھ میں ہوگا سیدنا آدم اور اولاد آدم اس کے نیچے ہوں گے
➌ یہ میرے حوض کوثر کے کنارے کھڑے ہوں گے اور میری امت میں سے جسے پہچانیں گے اسے پانی پلائیں گے
➍ یہ میری ستر پوشی کرنے والا اور مجھے اللہ عزوجل تک لے جانے والا ہوگا ( بطور خدمتگزار )
➎ یہ علیؓ اسلام کے بعد کافر نہ ہوگا اور نہ ہی پاکدامنی کے بعد بدکاری کرے گا
*[ متروک و ساقط الاعتبار ]*
*============================*
جیسا کہ بندہ ناچیز نے عرض کی کہ پہلی روایت کی تین اسناد ہیں ایک تو میں نقل کرچکا ہوں فضائل صحابہ احمدؒ بن حنبل سے اور دوسری سند حلیۃ الاولیاء امام ابو نعیمؒ اصفہانی کی کتاب میں ہے اور تیسری امام عقیلیؒ کی کتاب الضعفاء تینوں اسناد کی تحقیق درج ذیل ہے
*فضائل الصحابہ ابن حنبل کی سند کی تحقیق*
◉ الحسين بن عبيد الله العجلي متهم بالوضع اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے ملاحظہ ہو
[ تلخيص المستدرك 3/1265 ]
◉ فضيل بن مرزوق مجموعی لحاظ سے تو یہ راوی صدوق ہے مگر اس پر خاص جرح ہے کہ اس کی عطیہ العوفی سے تمام روایات منکر ہوتی ہیں اور یہ عطیہ سے موضوعات بیان کرتا ہے
[ المجروحين من المحدثين لابن حبان 2/210 ]
◉ عطية بن سعد العوفي ضعيف الحديث و مدلس و تشيع
[ كتاب طبقات المدلسين ص50 ]
لہذا ان علتوں کی بنا پر امام الائمہ و المسلمین امام ابن حجر عسقلانی اور دیگر ائمہ کے اصول کے تحت یہ سند متروک و ساقط ہے
*============================*
*حلية الأولياء أبو نعيمؒ کی سند کی تحقیق*
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ إِمْلَاءً ,ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ عَمْرٍو، ثنا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُعْطِيتُ فِي عَلِيٍّ خَمْسًا أَمَّا إِحْدَاهَا فَيُوَارِي عَوْرَتِي، وَالثَّانِيَةُ يَقْضِي دَيْنِي، وَالثَّالِثَةُ أَنَّهُ مُتَّكَئِي فِي طُولِ الْمَوْقِفِ، وَالرَّابِعَةُ فَإِنَّهُ عَوْنِي عَلَى حَوْضِي، وَالْخَامِسَةُ فَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ كَافِرًا بَعْدَ إِيمَانٍ وَلَا زَانِيًا بَعْدَ إِحْصَانٍ»
[ حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 10/211 ]
◉ محمد بن الضحاك بن عمرو مجهول الحال ہے
◉ محمد بن عبد الرحمن القشيري المقدسي متهم بالوضع ہے
[ كتاب المغني في الضعفاء 2/606 ]
◉ عطية بن سعد العوفي ضعيف الحديث و مدلس
[ كتاب طبقات المدلسين ص50 ]
لہذا ان علتوں کی بنا پر یہ سند بھی اصول محدثین پر متروک و ساقط ہے
*============================*
*کتاب الضعفاء للعقیلیؒ کی سند کی تحقیق*
حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ الْفَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أُعْطِيتُ فِي عَلِيٍّ خَمْسُ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ فِي أَحَدٍ قَبْلِي، أَمَّا خَصْلَةٌ مِنْهَا فَإِنَّهُ يَقْضِي دَيْنِي، وَيُوَارِي عَوْرَتِي، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَإِنَّهُ الذَّائِدُ عَنْ حَوْضِي، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنَّهُ مِشْكَاةٌ لِي فِي طَرِيقِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَّا الرَّابِعَةُ فَإِنَّ لِوَائِي مَعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتَحْتَهُ آدَمُ وَمَا وَلَدَ، وَأَمَّا الْخَامِسَةُ فَإِنِّي لَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ زَانِيًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، وَلَا كَافِرًا بَعْدَ إِيمَانٍ»
[ كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي 2/22 ]
◉ إبراهيم بن عبد الله الفارسي مجهول الحال
◉ خلف بن المبارك مجهول الحال
◉ الحارث بن عبد الله الأعور متهم بالكذب ہے
[ تهذيب التهذيب 1/331 ]
ان تمام علتوں کی بنا پر یہ سند بھی ساقط الاعتبار اور متروک ہے
*============================*
*امـام خـطیبؒ البـغـدادی (المتـوفـى: 463هـ) نـے فـرمـایـا ⇊*
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيَاضِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ الْقَاضِي، بِصُورَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جُمَيْعٍ الْغَسَّانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ الأَجْلَحِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَأَلْتُ اللَّهَ فِيكَ خَمْسًا فَأَعْطَانِي أَرْبَعًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً: سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي فِيكَ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنْتَ مَعِي مَعَكَ لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَأَنْتَ تَحْمِلُهُ، وَأَعْطَانِي أَنَّكَ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ بَعْدِي "
[ كتاب تاريخ بغداد 5/556 ]
ترجمہ :- حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہارے متعلق اللہ تعالی سے پانچ چیزوں کا سوال کیا جن میں سے چار مجھے عطا کی گئیں اور ایک سے انکار ہو گیا میں نے سوال کیا قیامت کے دن زمین سے نکلنے والے تم پہلے شخص ہو اور میرے ساتھ ہو تمہارے پاس لوائے حمد ہو اور تم ہی نے وہ اٹھا رکھا ہو اور مجھے عطا کیا کہ تم میرے بعد مومنین کے ولی ہو
*[ موضوع ]*
*============================*
اس روایت کا دارومدار عيسى بن عبد الله بن عمر بن علي بن أبي طالب پر ہے مجموعی لحاظ سے یہ راوی متروک الحدیث ہے مگر اس پر خاص جرح موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جب یہ اپنے والد سے مولا علیؓ کے حوالے سے روایت کرے گا تو وہ روایات منکر و موضوع ہوتی ہیں اور یہ روایت بھی یہ اپنے والد سے کر رہا ہے ائمہ کا کلام ملاحظہ ہو *⇊*
✦ قَالَ ابْنُ حَبَّانَ: عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ أَشْيَاءَ موضوعة
[ كتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية 1/238 ]
✦ عِيسَى بن عبد الله بن مُحَمَّد ابْن عمر بن عَليّ بن أبي طَالب روى عَن أَبِيه عَن آبَائِهِ أَحَادِيث مَوْضُوعَة
[ كتاب المدخل إلى الصحيح ص170 ]
✦ فِيهِ عِيسَى بن عبد الله بن مُحَمَّد بن عمر بن عَليّ ابْن أبي طَالب يروي الموضوعات
[ كتاب معرفة التذكرة ص175 ]
*============================*
*اســـں روایـتـــــ کا متـن بـھـی منـکـر ہـــے*
جیسا کہ اس روایت کے متن سے بھی ظاہر ہے کہ یہ متن کے لحاظ سے بھی ناقابل استدلال اور باطل ہے کیونکہ صحیح روایت میں آیا ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ بروز قیامت لوءالحمد نبی ﷺ کے ہاتھ میں ہوگا ملاحظہ ہو *⇊*
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ وَلَا فَخْرَ»
[ سنن الترمذي رقم الحدیث :- 3615 ]
ترجمہ :- حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں روزِ قیامت (تمام) اولادِ آدم کا قائد ہوں گا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا حضرت آدم اور دیگر تمام انبیاء کرام اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا آگے طویل حدیث بیان کی اِسے امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے
اسی طرح صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ بروز قیامت سب سے پہلے اپنی قبر انور سے جلوہ افروز ہوں گے جبکہ خطیب بغدادی کی روایت اس کے مخالف ہے ملاحظہ ہو *⇊*
حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ »
[ صحيح مسلم رقم الحدیث :- 2278 ]
ترجمہ :- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں قیامت کے دن (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں گا سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*خـــــــلاصـــــہ کــــــلام*
حاصل کلام یہ ہوا کہ یہ روایت سنداً اور متناً ناقابل استدلال ساقط الاعتبار اور مردود ہے امام ابن حجر عسقلانیؒ اور امام سخاویؒ اور دیگر محدثین رحمھم اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک فضائل میں بیان کرنے کے بھی قابل نہیں لہذا سیدنا مولا علی مشکل کشا شیر خدا اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنه کے فضائل میں بے شمار صحیح روایات ہیں اور بعض ایسی ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں لہذا ان کو بیان کیا جائے موضوع متروک روایات کو بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*_خـادم اہـلسنت و جـمـاعـت محمــد عــاقـب حسیــن رضــوی_*
Comments
Post a Comment