Meelaad aur Bid'at
میلاد رسولﷺ کو بدعت ضلالہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش پر ایک موصوف بنام کلیم یوسف صاحب کے اعتراضات کا تحقیقی محاسبہ
(قسط دوم)
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
موصوف نے حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کا کلام نقل کیا اور پھراپنی طرف سے انکے کلام میں تناقص پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے چناچہ موصوف لکھتے ہیں :
رہی بات حافظ ابن حجر اور حافظ سیوطی رحمہما اللہ کے جواز کے قائل ہونے کی تو آپ خود ان کا کلام ملاحظہ فرمائیں اور پھر فیصلہ کریں:
حافظ سیوطی فرماتے ہیں: " سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبو الفضل ابن حجر عن عمل المولد، فأجاب بما نصه : أصل عمل المولد بدعة ، لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة، ولكنها مع ذلك قد اشتملت على محاسن وضدها، فمن تحرى في عملها المحاسن ، وتجنب ضدها : كان بدعة حسنة ؛ وإلا فلا .
قال : وقد ظهر لي تخريجها على أصل ثابت ، وهو ما ثبت في الصحيحين من أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم المدينة ، فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء، فسألهم فقالوا : هو يوم أغرق الله فيه فرعون ، ونجى موسى ؛ فنحن نصومه شكرا لله تعالى .
وعلى هذا : فينبغي أن يتحرى اليوم بعينه حتى يطابق قصة موسى في يوم عاشوراء، ومن لم يلاحظ ذلك : لا يبالي بعمل المولد في أي يوم من الشهر، بل توسع قوم فنقلوه إلى يوم من السنة، وفيه ما فيه .
فهذا ما يتعلق بأصل عمله(٥).
ترجمہ: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے عید میلاد النبی کے تعلق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ: *اصل میں عید میلاد النبی بدعت ہے*، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد تین صدیوں تک کسی بھی سلف سے یہ عمل منقول نہیں ہے، لیکن عید میلاد النبی کے اندر کچھ اچھائیاں اور کچھ برائیاں بھی ہیں، چنانچہ جس نے اس دن اچھائیوں کو انجام دیا اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کی تو یہ بدعت حسنہ شمار کی جائے گی، پھر کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے عید میلاد النبی منانے کا استدلال عاشوراء کے روزے سے کیا جا سکتا ہے، یہود اس دن اس لئے روزہ رکھتے تھے کیوں کہ اللہ رب العالمين نے فرعون کو ہلاک کیا تھا اور موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو نجات عطا کی تھی.
چنانچہ مناسب یہ کہ عید میلاد النبی اسی دن منائی جائے جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت ہوئی تھی، تاکہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے قصہ سے مطابقت ہوجائے، کیوں کہ ان کی نجات کے شکرانے میں روزہ بعینہ اسی دن رکھا جاتا تھا جس دن انہیں نجات ملی تھی، جو نبی کی ولادت کے دن کا اعتبار نہیں کرتا اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ مہینے میں کس دن نبی کی ولادت کا جشن منائے، اور بعض لوگوں نے تو اس مسئلے میں اس قدر توسع سے کام لیا کہ اسے سال میں ایک دن کے ساتھ خاص کر دیا
الحاوي للفتاوي (١/ ٢٢٩).
اسکے بعد موصوف امام ابن حجر عسقلانی کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
محترم قارئین: ابن حجر رحمہ اللہ کے اس کلام میں غور کرنے کے بعد مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں.
° عید میلاد النبی بدعت ہے.
° نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے سے لیکر تین صدیوں تک اس کا ثبوت نہیں ملتا.
° عید میلاد النبی کو بدعت حسنہ میں شمار کیا جائے گا.
° عید میلاد النبی بعینہ اسی دن منائی جائے گی جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت ہوئی ل.
° یہ ابن حجر رحمہ اللہ کا اپنا اجتہاد ہے جیسا کہ خود ان کے قول سے ظاہر ہے.
قارئین کرام: ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام میں تناقض ہے، کیونکہ ایک طرف وہ اس عمل کو بدعت کہہ رہے ہیں، نیز سلف کے زمانے میں معدوم بھی کہہ رہے ہیں، اس کے باوجود جواز کا فتوی دے رہے ہیں تو یہ تناقض ہی کہلا سکتا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب :اسد الطحاوی
موصوف نے امام ابن حجر عسقلانی کے کلام کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے اور اپنی لا علمی کی وجہ ےسے امام ابن حجر عسقلانی کے منہج و اصول سے ناواقفیت کے سبب ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک طرف میلاد کے بارے فرماتے ہیں کہ پہلی تین صدیوں تک اسکا ثبوت بھی نہیں اسکو بدعت بھی شمار کرتے ہیں پھر اسکو بدعت حسنہ کہہ کر اسکے جواز کا فتویٰ دے دیا پس انکے اجتہاد میں تناقص ہے
ما شاءاللہ کیا فہم پایا ہے موصوف نے اور سلف صالحین سلف و صالحین کا نعرہ ایسے ہوتا ہے جیسے اس جماعت کے قلب پر ساری فقاہت واجیہاد کی معرفت اتری ہے ۔۔
اصل میں امام ابن حجر عسقلانی کا اجتہاد بالکل صحیح اور منہج اہلسنت کے موافق ہے ۔
پہلے بدعت کے بارے امام ابن حجر عسقلانی سے پیش کرتے ہیں انکا مکمل موقف کیا ہے اور انہوں نے کیوں میلاد کو بدعت حسنہ میں شمار کیا ہے
جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں :
والبدعة أصلها ما أحدث على غير مثال سابق وتطلق في الشرع في مقابل السنة فتكون مذمومة والتحقيق أنها إن كانت مما تندرج تحت مستحسن في الشرع فهي حسنة وأن كانت مما تندرج تحت مستقبح في الشرع فهي مستقبحة وإلا فهي من قسم المباح وقد تنقسم إلى الأحكام الخمسة
بدعت سے مراد ایسے نئے امور کا پیدا کیا جانا ہےجن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملےاور ان امور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ نا پسندیدہ عمل ہے اور باالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے ۔ اور اگر وہ بدعت شریعت میں نا پسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبہ (یعنی بری بدعت)کہلائے گی ۔ اور اگر ایسی نہ ہو تو اسکا شمار بدعت مباح میں ہوگا ۔ بدعت کو احکام میں پانچ اقسام میں تقسیم کی گیاہے
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ابن حجر عسقلانی ، ج۴، ص ۲۵۳]
امام ابن حجر عسقلانی سلفیہ کی طرح ہر نئے کام کو بدعت ضلالہ میں شمار نہیں کرتے بلکہ وہ امام شافعی کے اجتہاد کے مطابق بدعت کی بنیادی دو اقسام یعنی بدعت ضلالہ اور بدعت حسنہ کا بیان کیا ہے اور اسکی شرائط لکھی ہے اور اسکے بعد انہوں نے بدعت کی پانچ اقسام کا ذکر کیا ہے جو کہ تفصیلی ہے جسکو امام نووی نے شرح مسلم میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے تو ہم امام نووی علیہ رحمہ کا کلام نقل کرینگے تو امام ابن حجر عسقلانی کے موقف کو سمجھنے میں آسانی ہوگی
چناچہ امام نووی علیہ رحمہ فرماتے ہیں :
قَالَ الْعُلَمَاءُ الْبِدْعَةُ خَمْسَةُ أَقْسَامٍ وَاجِبَةٌ وَمَنْدُوبَةٌ وَمُحَرَّمَةٌ وَمَكْرُوهَةٌ وَمُبَاحَةٌ فَمِنَ الْوَاجِبَةِ نَظْمُ أدلة المتكلمين
لِلرَّدِّ عَلَى الْمَلَاحِدَةِ وَالْمُبْتَدِعِينَ وَشِبْهُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمَنْدُوبَةِ تَصْنِيفُ كُتُبِ الْعِلْمِ وَبِنَاءُ الْمَدَارِسِ وَالرُّبُطِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمُبَاحِ التَّبَسُّطُ فِي أَلْوَانِ الْأَطْعِمَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَالْحَرَامُ وَالْمَكْرُوهُ ظَاهِرَانِ وَقَدْ أَوْضَحْتُ الْمَسْأَلَةَ بِأَدِلَّتِهَا الْمَبْسُوطَةِ فِي تَهْذِيبِ الْأَسْمَاءِ وَاللُّغَاتِ
علماء نے بدعت کی پانچ اقسام یعنی بدعت واجبہ ، مندوجہ، محرمہ ، مکروہہ اور مباحہ بیان کی ہے ۔
بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدثٰن ، مبتدعین اور اس جیسے دیگر امور کے رد کے لیے استعمال کرنا ہے
بدعت مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا ، مدراس ، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا ہے
بدعت مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے
جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں اور اس مسعلہ کو تفصیلی دلائل کےساتھ میں نے تہذیب الاسماء والغات میں واضح کیا ہے
[المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج ، ج، ص ۶، ص ۱۵۵]
امام نووی نے ائمہ اہلسنت کا جو منہج بتایا ہے یہی جمہور کا موقف ہے او راسی کے مطابق ہی ہر نئے کام کو پرکھا جاتا ہے نہ کہ ہر عمومی کام ناجائز قرار دے دیا جائے اس بنیاد پر کہ صحابہ کے دور میں نہیں ہوا تو اس طرح آج کے دور میں سلفیہ سمیت سب بدعتی بن جائیں گے
جیسا کہ قرآن کے تیس پاروں کی تقسیم کا کوئی ثبوت نہیں پہلے تین زمانوں میں
سیرت النبی ﷺ کانفرنس کرنے کا ثبو ت نہیں صحابہ سے اور یہ سلفیہ بھی کرتے ہیں
ختم بخاری اور اسناد حدیث کا بانٹنا یہ سب محافل غیر مقلدین کر رہے ہیں لیکن صحابہ اور تین زمانوں سے اسکا کوئی ثبوت نہیں ۔ تو فقط اہلسنت کی مخالفت میں یہ ایک چھوٹا سا گروہ اہلسنت کے منہج کے بخیے ادھیڑنے پر تل جاتا ہے اور اپنی من پسندسوچ اور تشدید پر مبنی نفس پرسی کو یہ ائمہ سلف صالحین بلکہ جمہور کا موقف دیکر اسکو تحقیق کا نام دیتے ہیں
پس ہم نے ثابت کر دیا کہ موصوف امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کے موقف سے لا علم ہونے کے سبب انکے قول کو تناقص کا مجموعہ قرار دیا جبکہ یہ انکی اپنی خطاء ہے نہ کہ حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد موصوف پھر حدیث رسولﷺ کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس سے اپنا من پسند استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ((كل بدعة ضلالة))(٦).
ہر بدعت گمراہی ہے.
اور صحابی رسولﷺ حضرت ابن عمر کا قول بھی نقل کرتے ہوئے لکھتےہیں :
اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا:" كل بدعة ضلالة وإن رآها الناس حسنة
ہر بدعت گمراہی ہے، گرچہ لوگ اسے اچھا سمجھیں.
الإبانة لابن بطة (١/ ٣٣٩).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب : اسد الطحاوی
حدیث کو فہم مجتہدین اور فقھاء کے تحت ہی سمجھا جاتا ہے اور جو جمہور کا فہم ہوتا ہے اسی کے مطابق حدیث رسولﷺ کو لیا جاتا ہے جمہور کے خلاف شاذ موقف نہیں اپنایا جاتا ہے ۔
جیسا کہ موصوف نے جو حدیث نقل کی ہے یہ حدیث ان تمام ائمہ مجتہیدین اور سلف کی نظر میں تھی لیکن اسکے باوجود ہی انہوں نے بدعت حسنہ اور اسکی پانچ اقسام مدون کی ہے جسکا مطلب صریح طور پر یہی ہے کہ موصوف نے اس حدیث کے ظاہری الفاظ پر اکتفاء کیا ہے
امام نووی ؒ سے ہم اس روایت کی شرح بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں :
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ هَذَا عَامٌّ مَخْصُوصٌ وَالْمُرَادُ غَالِبُ الْبِدَعِ قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ هِيَ كُلُّ شَيْءٍ عُمِلَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ سَابِقٍ
حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ '' ہر بدعت گمراہی ہے '' یہ عام مخصوص ہے عام طور پر اس سے مراد بدعت سئیہ لیا جاتا ہے ۔ اہل لغت نے کہا ہے کہ ہر ہو چیز جس پر مثال سابق کے بغیر کیا گیاہو ، وہ بدعت ہے ۔
اور پھر آگے فرماتےہیں :
إِذَا عُرِفَ مَا ذَكَرْتُهُ عُلِمَ أَنَّ الْحَدِيثَ مِنَ الْعَامِّ الْمَخْصُوصِ وَكَذَا مَا أَشْبَهَهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ وَيُؤَيِّدُ مَا قُلْنَاهُ قَوْلُ عمر بن الخطاب رضي الله عنه في التَّرَاوِيحِ نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ وَلَا يَمْنَعُ مِنْ كَوْنِ الْحَدِيثِ عَامًّا مَخْصُوصًا
جو کچھ میں نےھ بیان کیا ہے اگر اسکی پیچان ہو جاے گی تو پھر یہ سمجھا آسان ہے کہ حدیث اور دیگر ایسی احادیث جو ان سے مشابہت رکھتی ہیں عام مخصوص میں سے تھیں اور جو ہم نے کہا اسکی تائید حضرت عمر فاروقؓ کے قول نعمت البدعہ کرتا ہے اور یہ بات حدیث کو عام مخصوص کے قاعدے سے خارج نہیں کرتی ہے
اب اس حدیث کی دلیل بھی امام نووی نے دی ہے قرآن سے
امام نووی آگے فرماتے ہیں :
قَوْلُهُ كُلُّ بِدْعَةٍ مُؤَكَّدًا بِكُلِّ بَلْ يَدْخُلُهُ التَّخْصِيصُ مَعَ ذَلِكَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ
قول کل بدعتہ لفظ کل کے ساتھ مئوکد ہے لیکن اس کے باوجود اس میں تخصیص شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے تدمر کل شئی (الاحقاف ۵۲:۴۲)
وہ ہرچیز کو اکھاڑ پھینکے گی جیسا کہ اس میں تخصیص شامل ہے
[المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، ج ۶، ص ۱۵۵]
معلوم ہوا اس حدیث میں لفظ''کل'' عمومی نہیں جیسا کہ غیر مقلدین نے سمجھا ہے بلکہ اس میں تخصیص ہے جیسا کہ امام نووی نے قرآن کی آیت سے لفظ کل کی مثال دی ہے
اور دیگر بھی
اس طرح ایک مثال ہم بھی پیش کر دیتے ہیں لفظ کل ہر جگہ عمومی نہیں ہوتا
سورة البقرہ کی آیت نمبر ۲۶۰ میں اللہ فرماتا ہے
اور جب عرض کی ابراھیم نے اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا (یعنی زندہ کریگا)
فرمایا کیاتجھے یقین نہیں عرض کی یقین کیوں نہیں مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجاے فرمایا تو اچھا چار پرندے لے ک اپنے ساتھ ہلالے پھر انکا ایک ایک ٹکڑا :::::ہر پہاڑ پر رکھ دے ::::::پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاوں سے دورٹے اور جان رکھ اللہ غالب حکمت والا ہے
اب یہاں اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ :::اجعل علی کل جبل:::
یعنی گوشٹ کا ٹکڑا ہر پہار پر رکھ یہاں بھی اللہ نے کل کا لفظ استعمال کیا ہے پہاڑ کے لیے کیا اس سے کوئی یہ سمجھے گا کہ اللہ نے حضرت ابراھیمؑ کو پوری قائنات کے ہر ہر پہاڑ پر گوشت ڈالنے کا حکم دیا تھا ؟
بالکل نہیں بلکہ اللہ نے اپنے نبی کو انہی کے علاقے کے جتنے پہاڑ تھے اس کی تخصیص کے ساتھ کہا کہ ہر پہاڑ پر گوشٹ کا ٹکڑا ڈال دو
جیسا اس آیت میں تخصیص ہے کل لفظ کے ساتھ ویسے ہی نبی پاک کی حدیث میں کل لفظ کے ساتھ تخصیص ہے کہ ہر بری بدعت گمراہی ہے اور جہنم میں لے جانے والی ہے
اور اس کل بدعت ضلالہ کا بلکل یہی مطلب اصحاب رسولﷺ نے ہی سمجھا ہے اور عمل کیا ہے
جیسا کہ موصوف نے ابن عمرؓ سے حدیث بیان کی ہے جبکہ حضرت ابن عمرؓ کا مطلب بھی یہی ہے کہ تمام (بری) بدعات گمراہی ہیں چاہے لوگ ان (بری) بدعات کو اچھا سمجھیں ۔
یعنی حضر ت ابن عمرؓ نے حقیقی بدعات جو کہ ضلالہ ہیں اسکو صحیح سمجھنے پر لوگوں کا رد کیا ہے نہ کہ مطلق بدعات کی اقسام کا جیسا کہ ہم حضرت ابن عمرؓ ہی سے انکا موقف پیش کرتےہیں :
سنن ابی داود میں ایک صحیح حدیث ہے :
سنن ابی داود : الحدیث 539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ،قَالَ: اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ .
*کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے*
معلوم ہوا کہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی ایک ایسا عمل جو کہ شریعت کے خلاف ہے اور جسکو کرنے سے سنت نبوی ترک ہو رہی ہے وہ عمل بھی بدعت ہے لیکن کیونکہ حضرت ابن عمر نے اس عمل سے نفرت ظاہر کی ہے تو معلوم ہوا ایسا عمل بدعت ضلالہ ہوتا ہے اور اس بدعت سے اصحاب رسول نفرت کرتے تھے اور ایسی بدعات کو نبی پاک کے فرمان کل بدعت ضلالہ پر محمول کرتے جن میں بری بدعات اور مخال سنت عمل ہوں
اب ہم انہی سے یعنی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی سے بدعت کی تعریف اور مداح کرنا بھی پیش کرتے ہیں :
صحیح البخاری : الحدیث 1775
حدثنا قتيبة ، حدثنا جرير ، عن منصور ، عن مجاهد ، قال دخلت أنا وعروة بن الزبير المسجد ، ، فإذا عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ جالس إلى حجرة عائشة ، وإذا ناس يصلون في المسجد صلاة الضحى. قال فسألناه عن صلاتهم. فقال بدعة.
*میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔*
انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے،
اور اس روایت کو امام ابن ابی شیبہؒ نے بھی روایت کیا ہے اور ان میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں : بدعة و نعمت البدعة
*یعنی یہ بدعت ہے اور بڑی اچھی بدعت ہے*
[مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر ۷۸۵۹]
اب یہاں حضرت ابن عمرؓ بدعت کو اچھا بیان کر رہے ہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے نزدیک ہر نیا عمل کو پرکھنے کا کچھ معیار تھا جسکی وجہ سے وہ ایک کام کو بدعت سمجھتے ہوئے اسکی مخالفت اور اسکو ممنوع قرا ردیتے
اور ایک قسم کے نئے کام کو بدعت قرار دیتے ہوئے اسکی تحسین کرتے تھے
تنبیح!
کوئی یہ اعتراض وارد کر سکتا ہے کہ نماز چاشت تو نبی پاکﷺ سے ثابت ہے تو یہاں حضرت ابن عمر کا لوگوں کی نماز کو بدعت قرار دینا انکا تسامع ہے
تو اسکا جواب ہے کہ :
یہ اعتراض بھی بالکل غیر علمی ہے جب حضرت ابن عمرؓ روضہ رسول ﷺکے ساتھ ٹیگ لگائے بیٹھ کر یہ الفاظ فرما رہے ہیں اور وہ نبی کی سنت کو ہی بدعت قرار دے رہے ہیں ؟
لیکن اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ انکا تسامع ہے انکو معلو م نہ تھا کہ یہ سنت نبوی ﷺہے پھر تو انکو اسکو بدعت قرار دیتے ہوئے اس پر غضب کرنا چاہیےتھا الٹا وہ بدعت کہہ کر اسکو خوبصورت بدعت قرار دے رہے ہیں یہ کیا وجہ ؟
اصل میں اس حدیث کی تشریح بھی ہم شارح مسلم امام محدث النوویؒ الشافعی ؒ سے بیان کرتے ہیں :
أَنَّ مُرَادَهُ أَنَّ إِظْهَارَهَا فِي الْمَسْجِدِ وَالِاجْتِمَاعَ لَهَا هُوَ الْبِدْعَةُ لَا أَنَّ أَصْلَ صَلَاةِ الضُّحَى بِدْعَةٌ وَقَدْ سَبَقَتِ المسألة في كتاب الصلاة والله أعلم
حضرت ابن عمرؓ کی مراد یہ ہے کہ چاشت کی نماز کو مسجد میں ظاہر کر کے اور اجتماع و احتمام کر کے پڑھنا بدعت ہے نہ کہ اصل نماز ضحیٰ یعنی نماز چاشت بدعت ہے
[ شرح صحیح مسلم النووی ، کتاب الحج ، باب ۳۵، ص ۳۲۶ج]
تو معلوم ہوا حضرت ابن عمرؓ نے بھی بدعت پر حسنہ کا اطلاق کیا ہے اور دوسرے موقع پر بدعت سے کراہت و نفرت کا اظہار کیا ہے لیکن سلفیہ کے پاس حضرت ابن عمرؓ کے اس فعل کا جواب بالکل نہیں سوائے ایک بہانے کہ کہ حضرت ابن عمر ؓ کا عمل حدیث رسولﷺ کے خلاف ہے
جیسا کہ انکے علامہ ابن تیمیہ نے حضرت ابن عمرؓ کے عمل کو بدعت میں شمار کیا تھا زیارت رسولﷺ کی قبر کے حوالے سے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں موصوف پھر امام مالک سے منسوب ایک قول نقل کرتے ہیں :
# اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً خان الرسالة؛ لأن الله يقول {اليوم أكملت لكم دينكم} فما لم يكن يومئذ ديناً فلا يكون اليوم ديناً
جس نے دین اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی اور اسے وہ اچھا سمجھتا ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے، کیوں کہ اللہ رب العالمين نے فرمایا کہ میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے، چنانچہ جو عبادت نبی کے زمانے میں دین کا حصہ نہیں تھی وہ آج بھی دین کا حصہ نہیں بن سکتی.
لاعتصام (١/٢٨).
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب : اسد الطحاوی
موصوف نے اس قول کا اصل ماخذ بیان نہیں کیا ہے اور پھر سے علامہ شاطبی نقل کر دیا جو متاخرین میں سے ہیں
جہاں تک ہمارا علم ہے تو یہ قول علامہ شاطبی نےعلامہ ابن حزم کی کتاب سے نقل کیا ہے جیسا کہ ابن حزم اسکو اپنی سند سے بیان کرتےہیں :
حدثنا أحمد بن عمر بن أنس نا الحسين بن يعقوب نا سعيد بن فحلون نا يونس بن يحيى المفامي نا عبد الملك بن حبيب أخبرني بن الماجشون أنه قال قال مالك بن أنس من أحدث في هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة لأن الله تعالى۔۔۔الخ
[الإحكام في أصول الأحكام، ج۶، ص۵۸]
اس قول کی سند میں متعدد ضعف ہیں
پہلا ضعف : اس قول کی سند میں ایک راوی حسین بن یعقوب کا تعین درکار ہے
دوسرا ضعف : اور دوسرا راوی یونس بن یحییٰ المفامی مجہول ہے
تیسراضعف: عبد الملك بن حبيب ضعیف راوی ہے بلکہ اس پر تکذیب کی بھی جرح ہے
لیکن حافظ ابن حجر انکے بارے تقریب میں لکھتےہیں :
عبد الملك بن حبيب الأندلسي، أبو مروان، الفقيه المشهور: صدوق ضعيف الحفظ، كثير الغلط،
عبد الملک بن حبیب یہ فقیہ مشہور ہیں اور فی نفسی سچے ہیں اور حافظے کے اعتبار سے ضعیف اور کثیر غلطیاں کرنے والے تھے
اور علامہ شعیب الارنووط حاشیہ میں کہتے ہیں : : ضعيف في الحديث
[تحریر تقریب التہذیب : برقم۴۷۱۴]
اور
چوتھا ضعف : روایت کا بنیادی راوی جو امام مالک کا شاگرد وہ فقیہ تو تھے لیکن روایت میں ضعیف تھے اور آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے
امام ذھبی لکھتےہیں :
صاحب مالك.
ضعفه الساجي والازدى.
وسئل أحمد بن حنبل عنه، فقال: هو كذا وكذا، ومن يأخذ عنه!
یہ امام مالک کے تلمیذ تھے امام ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام احمد سے اسکے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا یہ تو ایسا تھا ویسا تھا کون اس سے اخذ کر سکتا ہے
نیز امام ابن عبدالبر نے اسکی فقاہت کی تعریف کی ہے :
قال ابن عبد البر: كان فقيها فصيحا دارت عليه الفتيا في زمانه وعلى أبيه قبله، وأضر في آخر عمره، وكان مولعا بسماع الغناء.یہ فقہی تھا ، اس کے زمانہ میں اس سے فتویٰ لیا جاتا تھا لیکن اس سے پہلے اسکے والد سے رجوع کیا جاتا تھا (یعنی فقاہت میں اسکے تفرد کو قبول ہونے میں اشکال تھا )
آخری عمر میں یہ نابینا ہوگیا تھا ۔ اور اس پر یہ الزام ہے کہ یہ گانے سنتا تھا
(نوٹ: الندلسی علماء میں گانا اور میوزک جائز تھا یہ فقہی اختلاف تھا البتہ اس سبب بھی اس سے ترک کر دیا گیا ہوگا ۔ لیکن اس سے انکے فسق پر استدلال نہیں کیا جا سکتا چونکہ یہ فقہی اختلاف تھا )
پس یہ قول امام مالک سے ہرگز ثابت نہیں ہے اگر ہوتا تو اس پر پھر بھی بعد والے ائمہ نے امام شافعی کے قول کو ترجیح دی اور بعد والوں نے بھی اس پر اتفاق کیا جو امام شافعی کا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں موصوف نے جس مصنف یعنی شاطبی کی کتاب سے سب کچھ چھاپا ہے انکا موقف بھی نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :
امام شاطبی رحمہ اللہ بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم پر رد کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: بدعت کی تقسیم کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، کیوں کہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی، اور نا ہی شرعی نصوص کسی بدعت کی تائید کرتے ہیں اور نہ قواعد شرعیہ اس کی حمایت میں ہوتے ہیں، اگر بدعت کی کوئی دلیل ہوتی تو وہ بدعت ہوتا ہی نہیں
الاعتصام (١/٢٤٦)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب : اسد الطحاوی
علامہ شاطبی کا یہ موقف شاذ ہے اور علماء کے اتفاق کے بھی مقابل ہے جیسا کہ انکا رد ہم امام ابن رجب حنبلی علیہ رحمہ سے پیش کرتے ہیں اور اس مسلے پر علماء کا اتفاق کی تصریح بھی ان سے پیش کرتے ہیں
مام ابن رجب اپنی تصنیف : جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم میں فرماتے ہیں :
الشافعي رحمة الله عليه يقول: البدعة بدعتان: بدعة محمودة، وبدعة مذمومة، فما وافق السنة فهو محمود، وما خالف السنة فهو مذموم. واحتج بقول عمر: نعمت البدعة هي.
ومراد الشافعي رحمه الله ما ذكرناه من قبل: أن البدعة المذمومة ما ليس لها أصل من الشريعة يرجع إليه، وهي البدعة في إطلاق الشرع، وأما البدعة المحمودة فما وافق السنة، يعني: ما كان لها أصل من السنة يرجع إليه، وإنما هي بدعة لغة لا شرعا، لموافقتها السنة.
وقد روي عن الشافعي كلام آخر يفسر هذا، وأنه قال: والمحدثات ضربان: ما أحدث مما يخالف كتابا، أو سنة، أو أثرا، أو إجماعا، فهذه البدعة الضلال، وما أحدث فيه من الخير، لا خلاف فيه لواحد من هذا، وهذه محدثة غير مذمومة.
امام شافعی سے مروی ہے ہ بدعتہ محمود بھی ہے اور مذموم بھی جو بدعت سنت (کے احکامات ) کے موافق ہوگی ہے وہ محمود ہے اور جو سنت کے خلاف ہوگی وہی مذموم ہےاور انہوں نے احتجاج کیا حضرت عمر کے قول نعمت البدعہ سےپھر امام ابن رجب کہتے ہیں امام شافعی کی مراد یہ ہے جسکو ہم پہلے بیان کر آئے ہیںں :
کہ بدعت مذموم ہو ہے جسکی کوئی اصل نہ ہو شریعت میں تو شریعت کی طرف لوٹایا جائے گا یہی بدعت شرعی ہے
(یعنی شریعت میں جو بدعت ہوگی وہی ضلالت ہوگی جس سے شریعت کے ارکان و احکامات میں کمی و زیادتی ہو وہ بدعت شرعی اور ضلالت ہے )
پھر امام ابن رجب فرماتے ہیں :
اور جو بدعت محمود ہے وہ بدعت ایسی ہوتی ہے جو سنت کے موافق ہوتی ہے اور اسکی اصل شریعت میں موجود ہوتی ہے یہ شرعی بدعت نہیں ہوتی بلکہ لغوی ہوتی ہے
(نوٹ : امام ابن رجب کا مطلب ہے کہ جو بدعت محمود ہے وہ بدعت حقیقی نہیں کیونکہ حقیقی بدعت سے شریعت میں کمی و زیادتی ہوتی ہے اور وہ ضلالہ ہے اور جو بدعت تو ہو لیکن سنت کے موافق ہو تو اسکو لغوی بدعت کہا جائے گا کیونکہ اسی اصل موجود ہے اور جمہور محدثین اس لغوی بدعت پر بدعت حسنہ کا اطلاق کرتے ہیں یعنی موقف میں کوئی بھی فرق نہیں فقط الفاظ کے اطلاق میں تبدیلی ہے )
پھر امام ابن رجب لکھتے ہیں کہ امام شافعی سے جو تفصیل سے یہ کلام آیا ہے وہ یوں ہے کہ
ایسے نئے امور جو کتاب یعنی قرآن کی مخالفت کرے یا سنت کی یا کسی اثر صحابی کی یا اجماع کی تو ایسی بدعت ضلالہ ہے اور وہ نئے امور جو خیر میں سے ہیں جو پہلے بیان کردہ کسی بھی چیز کی مخالفت نہ کرے اور یہ بدعات غیر مذمومہ ہیں یعنی اچھی ہیں
اور پھر اس مسلہ پر علماء کا اتفاق ذکر کرتے ہوئے لکھتےہیں :
وكثير من الأمور التي حدثت ولم يكن قد اختلف العلماء في أنها بدعة حسنة حتى ترجع إلى السنة أم لا
اور ایسے کثیر نئے امور ہو رہے ہیں جس میں علماء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ بدعت حسنہ ہے یہاں تک کہ انکو سنت کی طرف لوٹانا ہے یا نہیں
[جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم ابن رجب ]
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
Comments
Post a Comment