Ahle Sunnat Aur Wahhabiyat

 [10/07, 12:31 pm] MUHAMMAD HASNAINRAZA KHAN: مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما


برصغیر میں اہل سنت وجماعت کون؟


1-وہابیت کے وجود سے قبل اہل اسلام(کلمہ گویان اسلام)کے دو بڑے طبقے تھے۔سنی اور شیعہ۔بارہویں صدی ہجری میں ابن عبد الوہاب نجدی (1115-1206مطابق 1703-1792)نے وہابیت کی بنیاد رکھی۔رفتہ رفتہ وہابی مذہب دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گیا۔


مجدد صدی سیزدہم حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1159-1239)کی وفات کے بعد ان کے سرکش وشاطر بھتیجے اسماعیل دہلوی (1193-1246)نے 1240ہجری سے برصغیر میں وہابیت کی تبلیغ شروع کی۔


2-چوں کہ اسماعیل دہلوی بن عبد الغنی دہلوی اہل سنت وجماعت کے ایک مشہور علمی خاندان کا ایک فرد تھا,اس لئے بہت سے عوام اہل سنت اس کی فریب بازیوں میں مبتلا ہو گئے۔


3-برصغیر میں وہابیوں کا ایک طبقہ غیر مقلد ہو گیا۔دوسرا طبقہ اعتقادی طور پر وہابی ہو گیا,لیکن فقہیات میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تقلید کرتا رہا۔اس طبقہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے۔


4-وہابیہ اور دیابنہ بھی خود کو اہل سنت وجماعت کہتے تھے,اس لئے اعلی حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کے زمانے ہی میں برصغیر میں اہل سنت وجماعت کو"بریلوی"کہا جانے لگا۔


5-بعض علمائے اہل سنت فرماتے ہیں کہ دیوبندیوں نے ہمارے لئے یہ لفظ استعمال کرنا شروع کیا تھا,اس لئے اس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔یہ بھی سچ ہے کہ عہد ماضی کے علمائے اہل سنت کی تحریروں میں بھی خود کو سنی بریلوی لکھا گیا ہے۔ہر ایک طبقہ کے پاس اپنی اپنی حکمتیں اور اپنے اپنے دلائل ہیں۔


6-چوتھی صدی ہجری سے امام ابو الحسن اشعری (260-324)اور امام ابو منصور ماتریدی(238-333)علیہما الرحمۃ والرضوان کی نسبت سے اہل سنت وجماعت کو اشاعرہ اور ماتریدیہ کہا جانے لگا۔اسی طرح اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کی نسبت سے برصغیر میں اہل سنت وجماعت کو"بریلوی"کہا جانے لگا۔


یہ اصطلاح برصغیر میں مشہور ومستعمل ہو چکی ہے۔بہت سےتعلیم یافتہ غیر مسلمین اور اہل حکومت بھی اس سے واقف وآشنا ہیں۔اس اصطلاح کو ختم کرنا بہت آسان نہیں۔


عوام مسلمین کو بتایا جائے کہ بریلوی کوئی نیا مذہب نہیں,بلکہ برصغیر میں اہل سنت وجماعت کو بریلوی کہا جاتا ہے۔اعلی حضرت قدس سرہ العزیز (1272-1340)مذہب اہل سنت وجماعت کے بے نظیر محقق ومدقق,عظیم المرتبت متکلم وفقیہ,نابغۂ روزگار محدث وعالم,مجدد وقت اور معلم مذہب تھے۔آپ بریلی شریف کے متوطن تھے۔اسی نسبت سے برصغیر میں سنیوں کو بریلوی کہا جاتا ہے۔


7-ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہمارا تعارف"اہل سنت وجماعت"کے لقب سے کیا جائے,لیکن مساجد ومدارس اور مذہبی جائیداد واملاک کے رجسٹریشن کے کاغذات میں"سنی بریلوی" لکھیں۔دیگر حکومتی کاغذات میں بھی"سنی بریلوی"یا "اہل سنت وجماعت بریلوی"لکھیں۔


عہد حاضر میں وہابیہ,دیابنہ, جماعت اسلامی وغیرہ بھی خود کو سنی کہتے ہیں۔یہ لوگ ہماری مسجدوں پر قبضہ کے لئے تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔اندرونی سازشیں کرتے ہیں۔اگرحکومتی کاغذات میں صرف سنی یا صرف اہل سنت لکھا ہو تو یہ لوگ آسانی کے ساتھ ہماری مسجدوں پر قبضہ جما لیتے ہیں۔


8-مسلک اعلی حضرت بعینہ مسلک اہل سنت وجماعت ہے۔اصول وفروع میں کچھ بھی فرق نہیں۔نام بدل جانے سے احکام نہیں بدلتے۔


ریاست اترپردیش کے مشہور عالم قدیم شہر"الہ آباد"کا نام بدل کر"پریاگ راج"کر دیا گیا۔شہر وہی ہے یا نام بدلنے سے شہر بھی بدل گیا؟


مسلک اعلی حضرت سے وہی شخص خارج ہو گا جو مذہب اہل سنت وجماعت سے خارج ہو جائے۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص مذہب اہل سنت وجماعت میں شامل وداخل رہے,اور مسلک اعلی حضرت سے خارج ہو جائے۔


9-اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے متبعین اپنے تعلیمی ادارہ,تحریک وتنظیم اور مشرب طریقت سے وابستگی کے ساتھ باہم مربوط ومتحد ہو جائیں۔خاص کر علمائے کرام وائمہ مساجد ربط باہم کی کوشش کریں۔


مختلف شہروں اور علاقوں میں تصوف,اصلاح اعمال اور دینی معلومات کے لئے چھوٹی بڑی جماعتیں بنائی گئی ہیں۔ان میں سے بہت سی جماعتیں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کی تعلیمات کو کمزور کر رہی ہیں۔ان پر نظر رکھیں۔مناسب ہو تو ان لوگوں سے رابطہ کر کے ان کی اصلاح کریں۔تبلیغ دین کی طرف توجہ دیں۔باہمی تنقید آرائیوں سے پرہیز کریں۔


طارق انور مصباحی 


جاری کردہ:06:جولائی 2021

[10/07, 12:31 pm] MUHAMMAD HASNAINRAZA KHAN: مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما


اہل سنت وجماعت اور روافض میں فرق


مذہب اہل سنت وجماعت افراط وتفریط سے پاک ایک معتدل مذہب ہے۔اہل سنت وجماعت حضرات اہل بیت عظام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے بھی محبت کرتے ہیں,اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے بھی محبت کرتے ہیں۔تمام معظمان اسلام ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ہم تمام اہل حق کی تعظیم وتوقیر اور ادب واحترام کرتے ہیں اور سب سے محبت ومودت رکھتے ہیں۔یہی مذہب اہل سنت وجماعت کی تعلیم ہے۔


اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور

نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)


شیعہ مذہب میں تبرا بازی ایک مذہبی قانون کی حیثیت سے شامل ہے۔روافض حضرات اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے محبت کا دعوی کرتے ہیں اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو برا بھلا کہتے ہیں۔یہی تبرا بازی ہے۔شیعوں کا نظریہ ہے۔


ع/  تولا بے تبرا نیست ممکن


یعنی تبرا بازی کے بغیر حضرات اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے محبت مکمل نہیں ہو سکتی۔جب کہ اہل سنت وجماعت کا نظریہ اس کے برخلاف ہے۔مذہب اہل سنت وجماعت کا نظریہ ہے۔


ع/  تولا بے تبرا ہست ممکن


یعنی تبرا بازی کے بغیر بھی کامل محبت ہو سکتی ہے۔اللہ تعالی نے معبودان باطل کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا,کیوں کہ ہم کسی کے معبود باطل پر طنز کریں گےتو اس کے ماننے والے جواب میں ہمارے معبود برحق کو کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے۔یہی انسانی فطرت ہے۔


ارشاد خداوندی ہے:

(ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم)(سورہ انعام:آیت 108)


مذہب اہل سنت وجماعت میں"الحب للہ والبغض للہ"کی تعلیم دی جاتی ہے۔تمام اہل حق سے محبت رکھنی ہے۔صرف اہل باطل سے اس کے باطل عقائد ونظریات کے سبب نفرت رکھنی ہے۔ان سے دور رہنا ہے۔لا یضلونکم ولا یفتنونکم


سنی صحیح العقیدہ مسلمان خواہ حنفی ہو یا مالکی,شافعی ہو یا حنبلی,اشعری ہو یا ماتریدی,قادری ہو یا چشتی,سہروردی ہو یا نقشبندی,عربی ہو یا عجمی,ہمیں تمام اہل حق سے محبت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔سب کا ادب واحترام کرنا لازم ہے۔


جب ہمارے درمیان کھٹ پٹ شروع ہوئی,تب سے تبرا بازی کا آغاز ہوا۔اس وقت علمائے کرام نے اس جانب توجہ نہ دی۔اب تو تبرا بازی ایسی پوزیشن میں آ چکی ہے کہ اس پر بند باندھنے کی سخت ضرورت ہے۔تبرا بازی مذہب اہل سنت وجماعت کا طریقہ نہیں۔یہ شیعوں کا وطیرہ ہے۔اہل حق کی تبرا بازی ہمارے پیارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔حضور اقدس حبیب کبریا علیہ الصلوۃ والسلام نے امت مسلمہ کو میل محبت کے ساتھ مل جل کر رہنے کا حکم دیا ہے۔"البغض للہ"کا تعلق اہل باطل سے ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ کسی سبب سے کسی شخص سے آپ پرہیز کریں,لیکن تبرا بازی کی ہرگز اجازت نہیں۔


شیعہ لوگ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو برا بھلا کہتے ہیں۔دیوبندی لوگ اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)شان اقدس میں بے ادبی کرتے ہیں۔اب علمائےکرام کی بے توجہی کے سبب سنی حضرات کے درمیان یہ خیال پھیلتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے طبقہ کےعلاوہ دیگر طبقات اہل سنت کے حق میں تنگ دل ہو جائیں۔ان کی شان میں لب کشائی کریں۔ایسے افکار وخیالات حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں,اور مذہبی مصلحت کے بھی خلاف ہے۔جو رسم ورواج اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو,اس کو ترک کرنا لازم ہے۔


طارق انور مصباحی 


جاری کردہ:10:جولائی 2021

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ