MARD WO AURAT KI NAMAZ MEIN FARQ

 *مرد اور عورت کی نماز کا فرق اور نام نہاد اہلحدیث و غیرمقلدین کا رد اور تقلید کی لزومیت.........!!*

.

سوال:

کچھ احباب کی طرف سے ایک تصویری پوسٹ ملی اور احباب نے فرمایا کہ اسکا جواب لکھیں...تصویری پوسٹ میں اہل حدیث و غیر مقلدین وغیرہ کی طرف سے اعتراض کیا گیا ہے کہ:

اپنا مسلک اپنی مرضی یا قرآن و حدیث اللہ کی مرضی....؟؟پھر لکھا کہ حدیث میں ہے کہ نماز میں حالتِ سجدہ میں کہنیاں کھلی رکھو، پیٹ کے ساتھ زمین کے ساتھ نہ ملاؤ(بخاری) یہ لکھنے کے بعد اہلحدیث غیرمقلد کہتے ہیں کہ یہ حکم مرد و عورت دونوں کے لیے ہے....پھر حدیث لاتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جیسے مجھے نماز پڑھتا دیکھتے ہو ایسے ہی نماز پڑھو....اس حدیث کے تحت اہلحدیث و غیرمقلدین کہتے ہیں کہ یہ حکم مرد و عورت سب کے لیے ہے لیھذا مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں

.

*جواب.و.تحقیق*

#پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی صحیح حدیث میں دکھا دو کہ لکھا ہو کہ مرد و عورت کی نماز میں فرق نہیں......ورنہ ہم نیچے حوالے دے رہے ہیں کہ حدیث و اقوالِ صحابہ کرام کے کہ مرد عورت کی نماز میں فرق ہے....

.

#دوسری بات یہ ہے کہ تم قیاس کے منکر بلکہ قیاس کرنے والے مجتہدین فقہاء پر مذمت و بڑے بڑے فتوے لگانے والے خود ہی قیاس کرنے لگ گئے ہو.......؟؟ کیا یہ کھلا تضاد بغض و منافقت نہیں.....؟؟

.

#تیسری بات تم نے مسلک و فقہ کو قرآن و حدیث کے مقابل رکھا ہے ، مقابل لکھا ہے... جوکہ بغض جہالت و گمراہی ہے....فقہ و مسلک تو قرآن و احادیث و اقوالِ صحابہ وغیرہ کا خلاصہ و نچوڑ ہے

.

*#چوتھی بات و قاعدہ*

آیات پاک و حدیث پاک کی تنسیخ تخصیص توضیح تفسیر و تشریح دوسری ایات و احادیث سے ہوتی ہے جس پر کئ دلائل و حوالہ جات ہیں ہم اختصار کے پیش نظر فقط ایک حدیث پاک پیش کر رہے ہیں

الحدیث:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينسخ حديثه بعضه بعضا، كما ينسخ القرآن بعضه بعضا ".

‏‏‏‏ ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو دوسری  حدیث منسوخ و مخصوص(و تشریح) کر دیتی ہے۔ جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت سے منسوخ و مخصوص(و تفسیر) ہو جاتی ہے

(مسلم حدیث777)

لیھذا یہ اصول یاد رہے کہ بعض آیات و احادیث کی تشریح تنسیخ تخصیص دیگر آیات و احادیث سے ہوتی ہے....عام آدمی کے لیے اسی لیے تقلید لازم ہے کہ اسے ساری یا اکثر احادیث و تفاسیر معلوم و یاد نہیں ہوتیں،مدنظر نہیں ہوتیں تو وہ کیسے جان سکتا ہے کہ جو ایت یا حدیث وہ پڑھ رہا ہے وہ کہیں منسوخ یا مخصوص تو نہیں.....؟؟ یااسکی تفسیر و شرح کسی دوسری آیت و حدیث سےتو نہیں.....؟ اسی لیے سیدنا سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں

الحديث مَضِلَّة إلا للفقهاء

ترجمہ:

حدیث(اسی طرح آیت عام آدمی کےلیے)گمراہی کا سبب بن سکتی ہے سوائے فقہاء کے

(الجامع لابن أبي زيد القيرواني ص 118)

تو آیت و حدیث پڑھتے ہوءے معتبر اہلسنت عالم کی تفسیر و تشریح مدنظر ہو تقلید ہو یہ لازم ہے ورنہ اپنے سے نکات و مسائل نکالنا گمراہی بلکہ کفر تک لے جاسکتا ہے....وہ عالم وہ مجتہد و فقیہ نکات و مسائل نکال سکتا ہے جو بلاتصب وسیع الظرف ہوکر اکثر تفاسیر و احادیث کو جانتا ہو لغت و دیگر فنون کو جانتا ہو مگر آج کے مصروف دور میں اور علم و حافظہ کے کمی کے دور میں اور فنون و احاطہ حدیث و تفاسیر کے کمی کے دور میں بہتر بلکہ لازم یہی ہے کہ عالم فقیہ بھی تقلید کرے، کسی مجتہد کے قول و تفسیر و تشریح کو لے لے کیونکہ ہر مسلے پر اجتہاد مجتہدین کر چکے

البتہ

جدید مسائل میں باشعور وسیع الظرف وسیع علم والا عالم اپنی رائے پردلیل باادب ہوکر قائم کر سکتا ہے

.

.

*تمھاری دی گئ دلیل کا جواب*

سجدے میں کھل کر سجدہ کرنے، جیسے مجھے دیکھتے ہو ایسے نماز پڑھو اور سجدہ میں بیٹھنے کی کیفیت تکبیر کہنے رکوع کرنے کی کیفیت وغیرہ سب احادیث کی وضاحت و تخصیص دیگر احادیث سے ہوتی ہے کہ یہ احادیث مرد کے ساتھ خاص ہیں عورت اس سے مستثنی ہے اور اس کے استثنی پر حدیث و اقوالِ صحابہ دلیل ہیں…مرد عورت کی نماز میں فرق نہ ہونا تم اہلحدیث و غیر مقلدین کا فاسد قیاس ہے جس کے مقابلے میں ہم اہلسنت کے پاس احادیث و صحابہ کرام کے اقوال اور قیاسِ صحیح بطور دلیل ہیں…قیاس فاسد ممنوع مردود بلکہ کبھی گمراہی تک ہوجاتا ہے

مگر قیاسِ مجتہد ، قیاسِ برحق حق ہیں

.

*مرد و عورت کی نماز کے فرق پر فقہ و مسلک کے دلائل احادیث و اقوالِ صحابہ وغیرہ ملاحظہ کیجیے*


*#پہلا فرق اور اہم قانون و قاعدہ*

الحدیث:

وإِذا سَجَدت ألصَقَتْ بَطنَها فى فخِذَيها كأستَرِ ما يَكونُ لها

ترجمہ:

عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے ملائے(سمٹ کر سجدہ کرے جبکہ مرد کھل کر سجدہ کریں)عورت اس طرح سجدہ کرے کہ زیادہ پردہ ہو(زیادہ باحیا لگے)

[السنن الكبرى للبيهقي,4/186]

[كنز العمال ,7/549حدیث20203]

[جامع الأحاديث ,3/43حدیث1759]

.

امام بخاری کے استاد امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ

عَلِىٌّ: إذا سَجَدَتِ المَرأَةُ فلتَضُمَّ فخِذَيها

ترجمہ:

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے ملائے

[مصنف ابن أبي شيبة ,1/241روایت2777]

[السنن الكبرى للبيهقي ت التركي ,4/185]

.

*#دوسرا قاعدہ و قانون*

أنَّ رسولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مرَّ على امرأَتَينِ تُصَلّيانِ فقالَ: "إذا سَجَدتُما فضُمّا بَعض اللَّحمِ إلى الأرضِ، فإِنَّ المَرأةَ لَيسَت فى ذَلِكَ كالرَّجُلِ

رسول کریم کا گذر دو عورتوں پر ہوا جو نماز پڑھ رہی تھیں آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ جب تم(عورتیں) سجدہ کرو تو پیٹ کو زمیں کی طرف جھکاو(مرد کی طرح پیٹ بازو کہنیاں کھل کر سجدہ نہ کرو)کیونکہ اس معاملے میں تم مرد کی طرح نہیں ہو

[المراسيل لأبي داود حدیث87]

[جامع الأحاديث ,3/233]

[السنن الكبرى للبيهقي4/187]

[الجامع الصغير وزيادته ,حدیث 1557]

.


الحدیث:

وكانَ يأْمُرُ الرِّجالَ أن يَتَجافَوا فى سُجودِهِم، ويأْمُرُ النِّساءَ يَنخَفِضْنَ فى سُجودِهِنَّ

ترجمہ:

نبی پاک حکم دیتے تھے تھے مردوں کو کہ وہ کھل کر(پیٹ رانون سے جدا کرے اور کہنیاں زمین سے جدا کرکے اور کہنیاں رانوں اور پیٹ سے جدا کرکے)نماز پڑہیں اور عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ سجدے میں خوب سمٹ کر سجدہ کریں(پیٹ رانوں سے ملا لیں اور کہنیاں زمین و رانوں کےساتھ ملا لیں)

[السنن الكبرى للبيهقي ت التركي ,4/185]

 .

*#دو اہم قاعدے و قانوں مذکروہ احادیث و روایات سے ثابت ہوئے کہ عورت جتنا ہوسکے سمٹ کر زیادہ پردہ کی حالت میں نماز پڑھے اور دوسرا قاعدہ یہ ثابت ہوا کہ نماز میں بھی عورت مرد کی طرح نہیں…ان دو قاعدوں سے مسلہ مذکورہ میں نام نہاد اہلحدیث و غیرمقلدین کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں…انہی دو قاعدوں پر فقہ حنفی کے مطابق مرد و عورت کی نماز کے فرق کے مسائل ثابت کیے گئے ہیں*

.

فقہ حنفی:

والمرأة تنخفض في سجودها وتلزق بطنها بفخذيها " لأن ذلك استر لها.

ترجمہ:

عورتیں سجدے میں خوب سمٹ کر سجدہ کریں اور پیٹ رانوں سے ملا لیں(کہنیاں زمین و رانوں کےساتھ ملا لیں)کیونکہ یہی ان کے لیے زیادہ پردہ ہے(زیادہ حیاء کا طریقہ ہے)

[الهداية في شرح بداية المبتدي ,1/52)

.

.


*#دوسرا فرق*

امام بخاری کے استاد امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ: «تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِرُ

ترجمہ:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ عورت نماز میں جمع ہوکر سمٹ کر رہے گی اور سجدے میں بیٹھے گی تو دونوں پاوں سیدھی طرف نکال کر سرین زمین پر رکھ کر بیٹھے گی

[مصنف ابن أبي شيبة ,1/241روایت2778]

.

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «إِذَا سَجَدَتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَحْتَفِزْ، وَلْتُلْصِقْ فَخِذَيْهَا بِبَطْنِهَا»

ترجمہ:

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

عورت جب سجدے میں بیٹھے گی تو دونوں پاوں سیدھی طرف نکال کر سرین زمین پر رکھ کر بیٹھے گی اور جب سجدہ کرے گی تو پیٹ رانوں سے ملائے گی

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,3/138روایت5072]

.

فقہ حنفی:

جلست على أليتها اليسرى وأخرجت رجليها من الجانب الأيمن " لأنه أستر لها

ترجمہ:

عورت جب سجدے میں بیٹھے گی تو دونوں پاوں سیدھی طرف نکال کر سرین زمین پر رکھ کر بیٹھے گی کیونکہ اسی میں ان کے لیے زیادہ پردہ ہے(زیادہ حیاء کا طریقہ ہے)

[الهداية في شرح بداية المبتدي ,1/53]

.

*#تیسرا فرق*

الحدیث:

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «يَا وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا

ترجمہ

اے وائل بن حجر جب تم(مرد) نماز تکبیر تحریمہ کہو تو کانوں تک ہاتھ اٹھاؤ اور عورت سینے(کندھے)تک ہاتھ اٹھائے

[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ,2/103حدیث2594]

[جامع الأحاديث ,23/439حدیث26377]

[المعجم الكبير للطبراني ,22/19حدیث28]

[كنز العمال ,7/431]

.

امام بخاری کے استاد روایت کرتے ہیں

 قَالَ: رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَرْفَعُ كَفَّيْهَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ

سیدۃ(صحابیة)ام درداء جب تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھاتیں تو کندھے تک اٹھاتیں

[مصنف ابن أبي شيبة ,1/216روایت2470]

.

فقہ حنفی:

والمرأة ترفع يديها حذاء منكبيها " هو الصحيح لأنه أستر لها

ترجمہ:

عورت کندھوں تک ہاتھ اٹھائے گی یہی صحیح ہے کیونکہ اسی میں ان کے لیے زیادہ پردہ ہے(زیادہ حیاء کا طریقہ ہے)

[الهداية في شرح بداية المبتدي ,1/48]

.

.

*#چوتھا فرق*

اہلحدیث غیرمقلد بھی کہتے ہیں کہ عورت سینے پے ہاتھ باندھے...یہی فقہ حنفی کا بھی حکم ہے

فَإِنَّهَا تَضَعُ عَلَى صَدْرِهَا؛ لِأَنَّهُ أَسْتَرُ لَهَا

ترجمہ:

عورت سینے پے ہاتھ باندھے کیونکہ اسی میں ان کے لیے زیادہ پردہ ہے(زیادہ حیاء کا طریقہ ہے)

[البحر الرائق ,1/320]

.

.

*#پانچواں فرق*

فقہ حنفی:

وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَتَنْحَنِي فِي الرُّكُوعِ يَسِيرًا وَلَا تُفَرِّجُ وَلَكِنْ تَضُمُّ...لِأَنَّ ذَلِكَ أَسْتَرُ لَهَا

عورت رکوع میں تھوڑا جھکے اور وہ کھل کر رکوع نہیں کرے گی بلکہ سمٹ کر رکوع کرے گے(کہنیاں پیٹ کی طرف ملائے گی)کیونکہ اسی میں ان کے لیے زیادہ پردہ ہے(زیادہ حیاء کا طریقہ ہے)

[رد المحتار,1/494]

.

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: تَجْتَمِعُ الْمَرْأَةُ إِذَا رَكَعَتْ تَرْفَعُ يَدَيْهَا إِلَى بَطْنِهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ، فَإِذَا سَجَدَتْ فَلْتَضُمَّ يَدَيْهَا إِلَيْهَا، وَتَضُمَّ بَطْنَهَا وَصَدْرَهَا إِلَى فَخِذَيْهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ "

ترجمہ:

سیدنا عطاء فرماتے ہیں کہ عورت جب رکوع کرے تو ہاتھوں کو پیٹ کی طرف ملائے اور جتنا ہوسکے سمٹ کر نماز پڑھے اور جب سجدہ کرے تو پیٹ اور سینہ رانوں سے ملائے اور جتنا ہوسکے سمٹ کر نماز پڑھے

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,3/137روایت5059]

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whatsApp,bip nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ