IMAM E AAZAM TABAEE

 ٭امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تابعی تھے ۔تحقیقی مقالہ٭

تابعی کی تعریف:وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں نبی علیہ السلام کے صحابی کی زیارت کی اورایمان کی حالت میں فوت ہوا،اسے تابعی کہتے ہیں۔

{تابعی کی فضیلت کے متعلق احادیث}

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لوگوں پرایک ایساوقت آئے گاکہ لوگوں کی جماعتیں جہادکریں گی،ان سے کہاجائے گا:کیاتم میں رسول اللہ ﷺ کاکوئی صحابی بھی ہے؟وہ کہیں گے ہاں،انہیں فتح ہوگی،پھرلوگوں پرایک ایساوقت آئے گاکہ لوگوں کی جماعتیں جہادکریں گی توان سے پوچھاجائے گا:کیاتم میںکوئی ایساہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اختیارکی ہو؟وہ کہیں گے ہاں،توانہیں فتح حاصل ہوگی،پھرلوگوں پرایک ایساوقت آئے گاکہ لوگوں کی جماعتیں جہادکریں گی ،ان سے پوچھاجائے گا:کیاتم میں کوئی تبع تابعین ہے؟وہ کہیں گے ہاں،توانہیں فتح حاصل ہوگی۔(بخاری:3649،مسلم:6467/2532) ٭حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری امت کاسب سے بہترین زمانہ میرازمانہ ہے،پھران لوگوں کاجوان کے بعدآئیں گے،پھروہ جوان کے بعدآئیں گے۔(بخاری:3650،مسلم:6475/2535)٭حضرت عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:میرے صحابہ کی عزت کرو،کیونکہ وہ تم میں سے سب سے بہترہیں،پھروہ جوان کے بعدآئیں گے،پھروہ جوان کے بعدآئیں گے۔(نسائی کبریٰ:9222،مشکاۃ المصابیح:6012)

ان احادیث سے صحابہ کرام علیہم الرضوان،تابعین اورتبع تابعین کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔لیکن فی زمانہ ایک جلیل القدرتابعی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوگ تعصب کی بناپراختلاف پیداکررہے ہیںکہ وہ تابعی نہیں تھے جبکہ بڑے بڑے محدثین اورنامورتاریخ دان اس بات کی تحقیق کرچکے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تابعی تھے۔جیساکہ خطیب بغدای،امام ذھبی،امام ابن حجرعسقلانی،علامہ عینی،ابن کثیر،علامہ ابن عبدالبر،ابن الندیم رحمہم اللہ وغیرہم۔کچھ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔

٭ابوبکراحمدبن علی الخطیب بغداری رحمہ اللہ المتوفی463ھ فرماتے ہیں:

نعمان بن ثابت ابوحنیفہ التیمی اصحاب الرائے اوراہل عراق کے فقیہ جنہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی۔(یعنی خطیب بغدادی کی تحقیق کے مطابق امام صاحب تابعی ہیں)(تاریخ بغداد13/325مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭امام شمس الدین محمدبن احمدبن عثمان الذھبی رحمہ اللہ المتوفی748ھ فرماتے ہیں:

امام اعظم ابوحنیفہ اہل عراق کے فقیہ نعمان بن ثابت بن زوطاالتیمی جو80ھجری میں پیداہوئے ،انہوں نے(یعنی امام اعظم نے) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی کئی مرتبہ زیارت کی جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے۔(تذکرۃ الحفاظ 1/126مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭ابوالفداء حافظ اسماعیل بن عمربن کثیرالمعروف ابن کثیررحمہ اللہ المتوفی774فرماتے ہیں:

امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت فقیہ عراق اسلام کے ائمہ میں سے ایک جلیل القدرامام،جنہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کازمانہ پایا،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی،اوربعض نے ذکرکیاہے کہ آپ نے سات صحابہ کرام کودیکھاہے۔(البدایہ والنھایہ10/111مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭امام حافظ شہاب الدین احمدبن علی بن محمدبن حجرالمعروف ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ المتوفی852ھ فرماتے ہیں:

نعمان بن ثابت التیمی ابوحنیفہ الکوفی کہاگیاہے کہ وہ ابناء فارس سے ہیں۔(یعنی فارسی النسل ہیں)انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زیارت کی۔(تھذیب التھذیب 6/559مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭امام ذھبی رحمہ اللہ المتوفی748ھ سیراعلام النبلاء میں فرماتے ہیں:

الامام فقیہِ ملت، عالمِ عراق،ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی التیمی،الکوفی،کہاگیاہے کہ وہ فارسی النسل تھے۔آپ 80ھجری میں صغارصحابہ کے زمانہ میں پیداہوئے ،اورآپ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے۔لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کوئی حدیث نہیں سنی۔(سیراعلام النبلاء5/531مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

٭علامہ بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی،المعروف علامہ عینی رحمہ اللہ المتوفی855ھ فرماتے ہیں:

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ اوران کے والدصحابی ہیں،یہ وہ صحابی ہیں جوسب سے آخرکوفہ میں فوت ہوئے ۔ اورصحابہ میں سے ایک یہ بھی صحابی ہیں جن کی زیارت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری 11/293مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت ) 

مخالفین کاکہناہے کہ ہمارے پاس ایک ایسی دلیل ہے جوا ن سب پربھاری ہے چاہے وہ کتنے ہی بڑے امام یامحدث ہوں۔ وہ دلیل یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ خودفرماتے ہیںکہ میں نے عطابن ابی رباح( تابعی) سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔اگرامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کسی صحابی کی زیارت کی ہوتی توآپ نے یہ بات نہیں کرنی تھی کیونکہ صحابی کادرجہ تابعی سے اونچاہے۔عطابن ابی رباح توتابعی ہیں اس معلوم ہواکہ آپ تابعی نہیں ورنہ آپ کہتے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر فضیلت والاکوئی نہیں دیکھا۔ 

الجواب بعون اللہ تعالیٰ

گزارش ہے کہ اگراس اصول کومان لیائے کہ اگرکوئی تابعی یہ جملہ کہہ دے کہ میں نے اس (تابعی)سے بڑھ کرفضیلت والانہیں دیکھایااس(تابعی )سے بڑاعالم نہیں دیکھا۔اوراس سے یہ رزلٹ نکالاجائے کہ وہ تابعی نہیں ورنہ وہ یہ بات نہ کہتا۔آپ کادین آدھارِھ جائے گااوریہ اصول آپ کوتباہ وبربادکردے گا،اوراس اصول سے آپ ﷺکی کئی احادیث کوچھوڑناپڑے گابلکہ آپ کوان صحیح احادیث کوموضوع یامن گھڑت کہناپڑے گا،کیونکہ ایسے کئی راوی ہیںجوتابعی ہیں اوروہ صحابی سے ڈائریکٹ حدیث لیتے ہیں،جیساکہ قتادہ بن دعامہ جوکہ حضرت انس اوردوسرے صحابہ سے ڈائریکٹ روایت کرتے ہیں۔ان کی تمام احادیث جوکتب ستہ(صحاح ستہ)میں ہیں ان کوچھوڑناپڑے گابلکہ ایک اندازے کے مطابق777احادیث جوبخاری ومسلم میں ہیں ان کوضعیف یاموضوع کہہ کرنکالناپڑے گا۔اس کی وجہ آپ کایہ اصول ہے کہ تابعی اگرتابعی کے بارے کہہ دے کہ وہ سب سے زیادہ فضیلت والایاعلم والاہے وہ تابعی نہیں رہتا۔

توجناب قتادہ بن دعامہ تابعی ہیں اوران کاقول کتابوںمیں موجودہے جوانہوں نے حضرت سعیدبن مسیب تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا:حضرت قتادہ بن عامہ رحمہ اللہ تابعی المتوفی118 ھ،حضرت سعیدبن مسیب تابعی رحمہ اللہ کے بارے فرماتے ہیں:

مارایت اعلم من سعیدبن مسیب،ترجمہ: میں نے سعیدبن مسیب سے بڑھ کرکوئی عالم نہیں دیکھا۔(تذکرۃ الحفاظ 1/44مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)یادرہے کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے کئی احادیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیںجیساکہ بخاری حدیث:13 اور15،اسکے علاوہ اس نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ سے احادیث روایت کی ہیں۔(تذکرۃ الحفاظ1/92مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اگرآپ وہ اصول یہاں فٹ کریں توآپ کوکتب ستہ(صحاح ستہ)سے تقریباََ1800احادیث جو قتادہ سے ہیں جوکہ تابعی ہیں۔300سے زیادہ روایات بخاری میں ہیں،400سے زیادہ روایات مسلم میں ہیں۔تقریباََایک اندازے کے مطابق بخاری ومسلم میں ان کی 777روایا ت ہیں،جن کواس اصول کے تحت ضعیف یاموضوع ومن گھڑت کہناپڑے گاکیونکہ یہ صحابی سے روایت کرتے ہیں،اوراگراس اصول سے وہ تابعی نہیں رہتے توصحابی سے کیسے وہ روایت کرسکتے ہیں،تویہ تمام روایات ذخیرہ احادیث سے خارج ہوجائیں گی۔توپہلی ہی دلیل سے آپ کے اصول کی دھجیاں اڑگئیں۔اگراس اصول پرقائم ہوتونکالوبخاری ومسلم سے 777احادیث۔

ایوب سختیانی تابعی رحمہ اللہ المتوفی131ھ،حضرت قاسم بن محمدبن ابی بکرتابعی رحمہ اللہ کے بارے فرماتے ہیں :

عن ایوب ۔وذکرالقاسم۔فقال:مارایت رجلاافضل منہ ۔میں نے قاسم بن محمدبن ابی بکررضی اللہ عنہ سے کوئی فضیلت والاآدمی نہیں دیکھا۔(سیراعلام النبلاء5/34مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)یادرہے کہ ایوب سختیانی تابعی ہیںانہوںنے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے۔(سیراعلام النبلاء5/313مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)اس اصول سے ایوب سختیانی جوکہ بخاری ومسلم کے راوی ہیں وہ بھی تابعی نہیں رہے۔

امام زہری رحمہ اللہ المتوفی124ھ ،حضرت امام زین العابدین علی بن حسین تابعی رضی اللہ عنہ کے بارے فرماتے ہیں:

مارایت احداکان افقہ منہ۔میں نے ان سے بڑھ کرکوئی فقیہ نہیں دیکھا۔(سیراعلام النبلاء4/539مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)یادرہے کہ امام زھری نے حضرت عبداللہ بن عمراورحضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے احادیث روایت کی ہیں اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے۔(سیراعلام النبلاء5/207دارالکتب العلمیہ بیروت)(یادرہے عبداللہ بن عمراورجابررضی للہ عنہماسے کوئی تابعی بڑافقیہ نہیں)

ابن شہاب زھری کے تابعی ہونے میںکس اہل علم کوشک ہے؟اتنے بڑے محدث جن کی روایات کتب ستہ میں سینکڑوں کی تعدادمیں ہیں۔وہ محدث جوعبداللہ بن عمراورجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایات لے رہاہے وہ کیسے ایک تابعی کے بارے میںکہہ رہاہے کہ میں نے علی بن حسین سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔اگران کے اصول کوماناجائے توزہری بھی تابعی نہیں رہتے۔پھرنکال لیں سینکڑوں احادیث بخاری ومسلم سے اورکتب احادیث سے کیونکہ یہ صحابہ سے بھی احادیث لاتے ہیں۔معلوم ہواکہ اسطرح کے جملے تابعین اپنے زمانے کے معتبرتابعین کے بارے میں بولاکرتے تھے اوراس سے ہرگزیہ مطلب نہیں نکالاجاتاتھاکہ وہ اب تابعی نہیں رہے۔اگرآپ یہ مطلب قبول نہیں کریں گے توپھرآپ ان تمامرویات کاانکارکریں جوبخاری ومسلم میں ان سے مروی ہیں صحابہ کے توسط سے۔

اس سے زیادہ بھی حوالے موجودہیں لیکن اسی پراکتفاء کرتے ہوئے بات کوسمجھانامقصودہے کہ ان کااصول غلط اورتعصب پرمبنی ہے ،اس طرح کے بیانات تابعین اپنے زمانے کے تابعین کے لیے دیتے رہے ہیں۔ان اماموں کے اقوال جوتابعین کے بارے میں ہیں ،اس سے مرادصرف اتناہے کہ ہمارے نزدیک تابعین میں سے افضل یہ شخص ہے۔بس اس کامقصدہی یہ ہے۔لیکن انہوں نے کچھ اورمقصدنکالاہواہے اس سے توکئی تابعی ،تابعی نہیں رہتے اوران کے اصول سے آپ کوسینکڑوں احادیث نکالنی پڑیں گی ،موضوع ومردودکاکلہاڑاچلاکر۔

آخرمیں ان مخالفین کے لیے ایک پھکی اورچیلنج ہے اس حدیث کا مطلب سمجھادیںاگراسی اصول پراب بھی قائم ہیں؟،ترمذی شریف میں صحیح حدیث ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

جوتابنانے ،جوتاپہننے،سواری پرسوارہونے اورسواری پربیٹھنے کے حوالے سے (یعنی عادت واطواراورخصائل کے اعتبار سے ) رسول اللہ ﷺکے بعدحضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی فضیلت والانہیں۔(ترمذی:3764)

بظاہراس حدیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرمارہے ہیں کہ نبی علیہ السلام کے بعدسب سے زیادہ فضیلت والے حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔

مخالفین سے یہ سوال ہے کہ کیااس صحیح حدیث سے آپ یہ ثابت کریںگے کہ حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان اورحضرت علی رضی اللہ عنہم سے زیادہ فضیلت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ہے؟اب توآپ کے سامنے صحیح حدیث ہے اب نکالواپنااصول اوران تمام صحابہ کرام سے زیادہ فضیلت دوجعفربن ابی طالب کواورہوجائوصحابہ اوراجماع امت کے منکر۔

مفتی علی نوازقادری

Ph.D Research Scholar

رابطہ نمبر:03159650575

Subscribe: ALI NAWAZ ONLINE (Youtube Channel)

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ