DAADHI MUBARAK
✂️✂️✂️⚔⚔⚔⚔⚔✂️✂️✂️
🌹•┈┈❍﷽❍┈┈•🌹
✂️✂️✂️⚔⚔⚔⚔⚔✂️✂️✂️
****************************************
✂️داڑھی منڈے کے متعلق حکم شرعی✂️
📿السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ📿
_****************************************_
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہٰذا میں کہ👇
👈(1)ڈاڑھی رکھنا کیسا ہے
👈(2)داڑھی منڈانا کیسا ہے ؟
👈(3)داڑھی منڈانے والے کی اقتدا کرنا کیسا ہے؟
👈(4)داڑھی منڈانے والے کی تنہا نماز ہوگی یا نہیں ؟
👈(5)داڑھی منڈانے والے کو داماد بنانا کیسا ہے؟
👈(6)داڑھی منڈانے والے کی نکاح پڑھنا کیسا ہے؟
👈(7)داڑھی منڈانے والے کو سلام کرنا کیسا ہے؟
👈(8)داڑھی منڈانے والے کے یہاں کھانا کھانا کیسا ہے؟
👈(9)داڑھی منڈانے والے کوگواہ بنانا کیسا ہے ؟
👈(10)داڑھی منڈانے والے کو مسجد و مدرسہ کی رکنیت دینا کیسا ہے؟
(11)داڑھی منڈانے والے کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا؟
(12)داڑھی منڈانے والے سے قطع تعلق کرنا کیسا ہے،
👈(13)داڑھی منڈانے والے کی اذان واقامت کاکیا حکم ہے ؟
مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
بینوا و توجروا
المستفتی
👑محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی پھلواپور سدھارتھنگر یوپی
💢قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
_****************************************_
💢گروپ💢شرعی سوالات و جوابات
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
_****************************************_
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب ⇩*
**************************************
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
👈(1)ڈاڑھی رکھنا کیسا ہے؟👇
👈(2)داڑھی منڈانا کیسا ہے ؟👇
📗✒داڑھی ایک مشت رکھنا واجب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعار سے ہے ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے اور شعار کفار ہے
👑سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان فرماتے ہیں کہ داڑھی حد مقرر شرع (یکمشت) سے کم نہ کرنا واجب اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کے خلاف ممنوع و حرام اور کفار کا شعار ہے
📗فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 29📗
👑حضرت علامہ حصکفی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ یحرم علی الرجل قطع لحیۃ یعنی مرد کو اپنی داڑھی منڈانا حرام ہے
📗در مختار مع شامی ج 6 ص 407 فی فصل البیع
👑اور فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت العلام مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے
📗بہار شریعت حصہ 16صفحہ 197📗
🔊 داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے، اس سے زائد بال ہوں تو ایک مشت کی حد تک اس کو کاٹ سکتے ہیں، ڈاڑھی کے بارے میں یہی معمول حضور ﷺ اور صحٰابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
داڑھی کی یہ مقدار اس لیے واجب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی تاکید کے ساتھ داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے، جن روایات کی بنا پر داڑھی بڑھانا واجب ہے، دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے داڑھی کو ایک مشت تک کم کروانا ثابت ہے، اس سے کم مقدار کسی سے بھی ثابت نہیں ہے، ان تمام روایات کے مجموعے سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ داڑھی کاٹنے کی آخری حد ایک مشت ہے، اس سے کم جائز نہیں ہے، اگر جائز ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی کم کرتے۔چنانچہ ملاحظہ ہو: 👇
👈👑حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ "أَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا". ترجمہ: ’’نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک لمبائی اور چوڑائی میں کم کرتے تھے۔‘
‘📗 ترمذی، السنن، 5: 94، رقم: 2762،
"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ".
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔‘‘
📗 الصحيح البخاری، 5: 2209 رقم:5553،
مروان بن سالم مقفع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ "يَقْبِضُ عَلَی لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَی الْکَفِّ".
ترجمہ: ’’وہ اپنی داڑھی مبارک کو مٹھی میں پکڑ کر جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے تھے۔‘‘
📗 أبي داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2357،
📗حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1: 584، رقم: 1536،
حضرت سماک بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں: "کَانَ عَلَيً رضی الله عنه يَأخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِيْ وَجْهَهُ".
ترجمہ: ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے چہرے کے قریب سے داڑھی مبارک کاٹتے تھے۔‘‘
📗ابن أبي شيبة، المصنف، 5: 225، رقم: 25480،
حضرت ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقْبِضُ عَلَی لِحْيَتِهِ ثُمَّ يَأخُذُ مَافَضَلَ عَنِ القُبْضَةِ".
ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی مبارک کو مٹھی میں پکڑتے اور مٹھی سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔‘‘ 👇
📚👈داڑھی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث مروی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو تفصیلات منقول ہیں، نیز داڑھی بڑھانے اور کاٹنے کے متعلق صحابہٴ کرام کا جو عمل روایات میں آیا ہے، ان سب کی روشنی میں امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات متعین کی ہے کہ داڑھی کی شرعی اور وجوبی مقدار ایک مشت ہے، جو داڑھی ایک مشت سے کم کردی جائے وہ ہرگز شرعی داڑھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ دور سے داڑھی نظر آئے۔
دارھی منڈانے والا اور ایک مشت سے کم پر کتروانے والا دونوں ناجائز وحرام کے مرتکب اور فاسق ہونے میں برابر ہیں، البتہ داڑھی منڈانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت اور پورے طور پر تغییر لخلق اللہ پائی جاتی ہے اور داڑھی منڈانے یا ایک مشت سے کم پر کتروانے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت اور شیطان کی پیروی پائی جاتی ہے، اس لیے قرآن وحدیث میں ان دونوں پر وعیدیں آئی ہیں وہ سب داڑھی منڈانے اور ایک مشت سے کم پر کتروانے پر منطبق ہوں گی،
🕹لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ داڑھی ایک مشت رکھنا واجب اور سنت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہے اور ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے
👈(3)داڑھی منڈانے والے کی اقتدا کرنا کیسا ہے؟ 👇
🕹داڑھی منڈانےوالا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا اور اس کی اقتداء کرنا عند الشرع جائز نہیں ہے
👈وأما الفاسق فقد عللوا کراھة تقدیمہ بأنہ لا یھتم لأمر دینہ وبأن في تقدیمہ للإمامة تعظیمہ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعاً ولا یخفی أنہ إذا کان أعلم من غیرہ لا تزول العلة فإنہ لا یوٴمن أن یصلي بغیر طھارة فھو کالمبتدع تکرہ إمامتہ بکل حال بل مشی في شرح المنیة علی أن روایة کراھة تقدیمہ کراھة تحریم لما ذکرنا ✒المصدر السابق، کتاب الإمامة، ۲: ۲۹۹
👈کرہ إمامة الفاسق العالم لعدم اہتمامہ بالدین،فتجب إھانتہ شرعاً، فلا یعظم بتقدیمہ للإمامة
📗✒مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص ۳۰۳، ط: دار الکتب العلمیة بیروت
👈قولہ:”فتجب إھانتہ شرعاً،فلا یعظم بتقدیمہ للإمامة“، تبع فیہ الزیلعي ومفادہ کون الکراھة فی الفاسق تحریمیة
📗✒حاشیة الطحطاوي علی المراقي
🍁جو فاسق معلن ہو شریعت مطہرہ میں یہ حکم ہے کہ اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب ہے
اگر فاسق معلن کے علاوہ دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں۔
فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروھۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔ کیونکہ تقدیم ِ فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے، پس دونوں کو درجہ ایك ہوا، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔
📗✒ھکذا فی الفتاوی الرضویہ ج 3 ص 253
👈(4)داڑھی منڈانے والے کی تنہا نماز ہوگی یا نہیں ؟👇
🕹داڑھی منڈانے والے کی نماز کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اس کی نماز ہوجاتی ہے مگر مکروہ تحریمی جیسا کہ حضرت العلام مولانا مفتی عبد المنان صاحب قبلہ اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے فتاوی بحرالعلوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ داڑھی منڈے کی نماز ہوتوجاتی ہے مگر مکروہ تحریمی ہوتی ہے کہ عیب دور کرکے دہرائی جائے؛در مختار میں ہے؛کل صلاة ادیت مع الکراھة تجب اعادتھا؛جو نماز مکروہ پڑھی جائے اس کا دہرانا واجب ہے مگر اس نے تو داڑھی منڈا رکھی ہے دوبارہ صحت کے ساتھ پڑھے گا کیسے البتہ داڑھی منڈانے پر توبہ کر کے پڑھے تو اور بات ہے مختصریہ کہ اس طرح نماز پڑھنے کے بعد بھی آخرت میں مواخذہ ہوگا اگر صحیح طریقہ سے دہرایا نہیں ہاں اس کاعذاب تارک صلات کے عذاب سے کم ہوگا
📗✒ففتاوی بحر العلوم ج 1ص 444
سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ
داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہو کر بلا توبه نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یاصرف پائجامہ پہن کر اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے، نماز ہو جانا بایں معنی ہے ، کہ فرض ساقط ہو جائے گا ور نہ گناہگار ہوگا اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب
📗✒فتاوی رضویہ ج 6ص
👈(5)داڑھی منڈانے والے کو داماد بنانا کیسا ہے؟ 👇
🕹داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے اور اپنی لڑکی فاسق معلن کے نکاح میں تو دے سکتا ہے مگر بہتر یہی ہےکہ متقی پرہیز گار کو دے کیونکہ
جو افعال قرآن و حدیث سے ٹکراتے ہو وہ سرا سر باطل ہوتے ہیں اور ایسے افعال کی ہرگز رعایت نہیں کی جا سکتی ۔ شریعتِ مُطَہّرہ نے تو یہ حکم دیا ہے کہ نکاح کرتے وقت مذہب اور دین کو ترجیح دو’’چُنانچِہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے(یعنی نکاح میں ان کا لحاظ ہوتا ہے ) (۱) مال و (۲) حسب و (۳) جمال و (۴) دین ۔ اور تو دین والی کو ترجیح دے
📗✒صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۳ ص ۴۲۹ حدیث ۵۰۹۰
مذکورہ حدیث گو لڑکی کے انتخاب کے اعتبار سے ہے لیکن شریعت کے مقصود اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پسند اور خوشنودی کی بھی خبر دیتی ہے کہ دینداری کو ترجیح دی جائے لہٰذا لڑکے کے انتخاب میں جب کُفو کی دیگر شرائط پوری ہوں تو مذہبی لڑکے ہی کو ترجیح دی جائے ۔ فسق و فجور والوں میں رشتہ کرنے والے دنیاوی طور پر اپنے فعل کو کتنا ہی اچھا سمجھتے ہوں لیکن اس میں آخرت کا نقصان ہی نقصان ہے ۔ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جس نے اپنی لڑکی شرابی کے نکاح میں دی گویا اس نے اپنی لڑکی کو زِنا میں جھونک دیا ۔ ‘‘ کیونکہ شرابی جب نشے میں ہوتا ہے تو کئی دفعہ طلاق واقع ہونے والی باتیں کرتا ہے یوں اس پر بیوی حرام ہوجاتی ہے جب کہ اسے پتا ہی نہیں ہوتا ۔
📗✒تَنْبِیْہُ الغافِلِین ص 81
🕹مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ اپنی لڑکی اسی کے نکاح میں دیں جو متقی پرہیز گار ہو اور رہی بات فاسق معلن کے نکاح میں دینے کی تو دے سکتا ہے مگر بہتر یہی ہےکہ متقی پرہیز گار کو دے
👈(6)داڑھی منڈانے والے کی نکاح پڑھنا کیسا ہے؟ 👇
🕹داڑھی منڈانے والا کا نکاح پڑھانا درست ہے
👈(7)داڑھی منڈانے والے کو سلام کرنا کیسا ہے؟ 👇
🕹داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو سلام کرنا مکروہ ہے
اگر کوئی شخص اعلانیہ یعنی کھلم کھلا فسق (کبیرہ گناہوں )کا ارتکاب کرتا ہے تو ایسے شخص کو سلام کرنے میں پہل کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر وہ سلام میں پہل کرے تو جواب دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر کوئی اعلانیہ فسق کا اظہار نہ کرتا ہو تو اسے سلام کرنے میں پہل کرنا مکروہ نہیں ہے، اسی طرح اگر سلام میں پہل کرنے سے فاسق کو فسق سے ہٹاکر صلہ رحمی اور دین کی طرف لانا مقصود ہو تو بھی فاسق کو سلام کرنا مکروہ نہیں ہوگا، اس ساری تفصیل میں رشتہ دار اور اجنبی کا ایک ہی حکم ہے۔
📗✒الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 412)
فلا يسلم ابتداء على كافر لحديث «لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام فإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه» رواه البخاري وكذا يخص منه الفاسق بدليل آخر، وأما من شك فيه فالأصل فيه البقاء على العموم حتى يثبت الخصوص، ويمكن أن يقال إن الحديث المذكور كان في ابتداء السلام لمصلحة التأليف ثم ورد النهي اهـ فليحفظ.ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس بالرد (و) لكن (لا يزيد على قوله وعليك) كما في الخانية (قوله وكذا يخص منه الفاسق) أي لو معلنا وإلا فلا يكره كما سيذكره (قوله وأما من شك فيه) أي هل هو مسلم أو غيره وأما الشك بين كونه فاسقا أو صالحا فلا اعتبار له بل يظن بالمسلمين خيرا ط (قوله على العموم) أي المأخوذ من قوله صلى الله تعالى عليه وسلم «سلم على من عرفت ومن لم تعرف» ط (قوله إن الحديث) أي الأول المفيد عمومه شمول الذمي (قوله لمصلحة التأليف ) أي تأليف قلوب الناس واستمالتهم باللسان والإحسان إلى الدخول في الإسلام (قوله ثم ورد النهي) أي في الحديث الثاني لما أعز الله الإسلام (قوله فلا بأس بالرد) المتبادر منه أن الأولى عدمه ط لكن في التتارخانية، وإذا سلم أهل الذمة ينبغي أن يرد عليهم الجواب وبه نأخذ.(قوله ولكن لا يزيد على قوله وعليك) لأنه قد يقول: السام عليكم أي الموت كما قال بعض اليهود للنبي - صلى الله عليه وسلم - فقال له " وعليك " فرد دعاءه عليه وفي التتارخانية قال محمد: يقول المسلم وعليك ينوي بذلك السلام لحديث مرفوع إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «إذا سلموا عليكم فردوا عليهم» "
📗✒الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 415)
ويكره السلام على الفاسق لو معلنا وإلا لا
(قوله لو معلنا) تخصيص لما قدمه عن العيني؛ وفي فصول العلامي: ولا يسلم على الشيخ المازح الكذاب واللاغي؛ ولا على من يسب الناس أو ينظر وجوه الأجنبيات، ولا على الفاسق المعلن، ولا على من يغني أو يطير الحمام ما لم تعرف توبتهم ويسلم على قوم في معصية وعلى من يلعب بالشطرنج ناويا أن يشغلهم عما هم فيه عند أبي حنيفة وكره عندهما تحقيرا لهم
👈(8)داڑھی منڈانے والے کے یہاں کھانا کھانا کیسا ہے؟👇
🕹داڑھی منڈانے والے کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں
👈(9)داڑھی منڈانے والے کوگواہ بنانا کیسا ہے ؟👇
🕹داڑھی منڈانے والے کو گواہ بننا درست نہیں ہے کیونکہ اس کی گواہی کے بارے میں شریعت مطہرہ میں یہ حکم ہے کہ اس کی گواہی مردود الشہادہ ہے جیسا کہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تبارک و تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کی گواہی مردود الشہادہ ہے
📗✒فتاوی فیض الرسول ج 1 باب الامامۃ
👈(10)داڑھی منڈانے والے کو مسجد و مدرسہ کی رکنیت دینا کیسا ہے؟ 👇
🕹مسجد و مدرسہ کی رکنیت کے لئے ایسے شخص کو انتخاب کرنا چاہیے جو سنی ذی علم پرہیز گار دیانتدار ہوشیار کارگزار ہو جیسا کہ سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ سنی ذی علم پرہیز گار دیانتدار ہوشیار کارگزار
📗✒فتاوی رضویہ ج 6ص 523
فاسق کو مسجد کا صدر یا ممبر وغیرہ بنانے میں اس کی تعظیم ہوتی ہے اور فاسق کے بارے میں حدیث مبارکہ میں ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
اذا مدح الفاسق غضب الرب و اھتز لذلک العرش یعنی جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عز و جل غضب فرماتا ہے اور عرش الہی ہل جاتا ہے
📗✒ھکذا فی الفتاوی الرضویہ ج 6ص 524
🍁ولا یجوز تولیۃ الفاسق مع امکان تولیۃ البر۔ ترجمہ : نیک دیندار پرہیز گار متولی ملنے کے باوجود فاسق (غیر پابندی شرع) کو متولی بنانا درست نہیں۔
خدا کے گھر کی خدمت وہی کرے جو خدا کے دوست ہوں، جن کے دل میں اس کی محبت وخشیت گھر کر چکی ہو.
ظاہری طور پر بھی وہ ایسا ہو جس سے خدا پرستی نمایاں ہو۔ (ایضاً)
🍁در مختار شامی وغیرہ میں ہے : جب متولی میں شرعی اعذار اور قباحیتں پیدا ہوجائیں تو اسے عہدہ سے برطرف کر دیا جائے جیسے کہ وہ غیر مامون ہو، عاجز ہو فاسق ہو فاجر ہو یا اسے شراب نوشی کی عادت ہوگئی ہو تو اسے تولیت سے ہٹا دینا ضروری ہے.
📗✒(ص۴۲۱،ص۴۲۲،ج۳)
🕹مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ فاسق کو مسجد یا مدرسہ کا صدر یا ممبر وغیرہ بنانا درست نہیں ہے اگر کوئی بنانا ہوا ہے تو اسے ہٹا دینا ضروری ہے
👈(11)داڑھی منڈانے والے کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ؟👇
داڑھی منڈانے والے کی نماز جنازہ پڑھنا اور پڑھانا درست ہے کیونکہ
ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے تنویر الابصار مع شامی میں ہے الصلاة عليه فرض كفاية،
📗✒تنویر الابصار مع شامی ج1ص 640
لیکن آج کل فسق و فجور بڑھتا جارہا ہے۔ طرح طرح کی برائیاں پھیلتی جارہی ہیں اور لوگ نمازوں سے غافل اور ڈاڑھی رکھنے سے غافل اور اعمال صالحہ سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اس لئے جو فاسق و فاجر ہو یہاں تک کہ جمعہ کی نماز بھی آٹھ دن پر نہ پڑھتا ہو اس کی نماز جنازه زجر و توبیخ کے لئے علماء نہ پڑھیں عوام پڑھیں ۔ فاسق و فاجر کی نماز جنازہ کے بارے میں حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت العلام مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ خواص نہ پڑھیں عوام پڑھیں
📗✒فتاوی امجدیہ ج 1 ص 365
👈(12)داڑھی منڈانے والے سے قطع تعلق کرنا کیسا ہے؟
🕹داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس کا منڈانا حرام و گناہ ہے۔ در مختار فوق رد المحتار کتاب الصوم ‘میں ہے واما الاخذ منها و هي دون ذلك فلم يبحه احد اھ ملخصأ )
📗✒در مختار فوق رد المحتار کتاب الصوم ج 2 ص 418
ھدایہ میں ہے يودب على ارتكابه ما لا يحل اھ
📗✒ھدایہ ج 4 ص 572
یعنی منڈانے والے کو سزادی جائے گی کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا اور فتاوی رضویہ " کتاب الحظر والاباحت میں فتح المعين بشرح قرةالعین" سے ہے۔ يحرم حلق لحيته"اھ
📗✒فتاوی رضویہ ج9ص130نصف اول
لہذا داڑھی منڈہ فاسق معلن ہونے کی وجہ سے مقاطعہ کرنا جائز ودرست ہے۔
👈(13)داڑھی منڈانے والے کی اذان و اقامت کے متعلق حکم شرع کیا؟👇
🕹داڑھی ایک مشت رکھنا واجب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعار سے ہے ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے اور شعار کفار ہے
👑سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان فرماتے ہیں کہ داڑھی حد مقرر شرع (یکمشت) سے کم نہ کرنا واجب اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کے خلاف ممنوع و حرام اور کفار کا شعار ہے
📗✒فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 29
👑حضرت علامہ حصکفی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ یحرم علی الرجل قطع لحیۃ یعنی مرد کو اپنی داڑھی منڈانا حرام ہے
📗✒در مختار مع شامی ج 6 ص 407 فی فصل البیع
👑اور فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت العلام مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے
📗✒بہار شریعت حصہ 16صفحہ 197
🕹 مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور منڈانا فِسق ہے اس کا کٹانا یا ایک مُٹھی سے کم کرانا فِسق ہے اور اگر کٹانے کی عادت ہو تو یہ اِعلانیہ فِسق اور گناہِ کبیرہ ہے ۔
اور اس کے اذان کے بارے میں تو شریعت مطہرہ میں یہ حکم ہے کہ فاسق معلن کو مؤذن مقرر نہیں کرنا چاہئے ہاں اگر کبھی اتفاقا وہ اذان یا اقامت کہہ دی تو اذان واقامت ہوجائے گی مگر اذان کا اعادہ کر لینا بہتر ہے
🍁سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ
اگر فاسق نے اذان دی ہو تو اس پر قناعت نہ کریں بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے ۔
📗✒ فتاوی رضویہ جلد دوم ص 388
الفتاوى الهندية میں ہے کہ
وینبغی أن یکون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنة. کذافي النهایة. ‘‘ 📗✒الفتاوى الهندية، ج 1 ص 53
’"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليؤذن لكم خياركم وليؤمكم قراؤكم" .
📗✒سنن أبي داود: ج 1 ص 87 رقم الحدیث:599، باب من أحق بالإمامة،ط:مختار اینڈ کمپنی- دیوبند
📗✒سنن ابن ماجه:ج 1 ص 53، رقم الحدیث: 726 كتاب الأذان، والسنة فيه، باب فضل الأذان، وثواب المؤذنين
ومنها ـ أي من سنن الأذان ـ أن يكون تقياً؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم : «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن» ، والأمانة لا يؤديها إلا التقي".
📗✒بدائع الصنائع: ج 1 ص 150 کتاب الصلاة، فصل بيان سنن الأذان، ط:دار الكتب العلمية
اور ظاہر ہے فاسق امین نہیں ہوسکتا لہذا مقصود اذان کی اعلام اوقات نماز ہے جو فاسق کی اذان سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی اذان مکروہ ہے اور دوبارہ اذان دی جائے بہار شریعت میں ہے
خنثی فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نہ سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے
📗✒بہار شریعت حصہ 3 ص 31
منحة الخالق على المحر الرائق میں ہے
(قوله و ينمفی ان لا يصح اذان الفاسق الاخ ) كذا فی النهر ايضا وظاهرہ انہ يعاد
وقد صرح في معراج الدراية عن المجتبي انه يكرہ ولايعادو کذا نقله بعض الافاضل عن الفتاوى الهندية عن الذخيرة لكن في القهستانی اعلم ان اعادة اذان الجنب والمرأة والمجنون والسكران والصبى والفاجر والراكب والقاعد والماشي و المنحرف عن القبلة واجبة لانه غير معتدبه وقیل مستحبة فانه معتدبه الا انه ناقص وهو الاصح كما في التمرتاشی ی اہ فقد صرح باعادة أذان الفاجر ای الفاسق لكن في كون اذانه معتدابه نظر لما ذکره
📗✒منحة الخالق على المحر الرائق ج 1 ص 264
🕹مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ داڑھی منڈانے والا یا خشکشی رکھنے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن اذان کا اہل نہیں اور اس کی اذان مکروہ تحریمی ہے اس کا اعادہ کیا جائے اگر فاسق معلن کی اذان کا اعادہ نہ کیا گیا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی گئی تو نماز ہو جائے گی مگر جماعت مسنون کا ثواب حاصل نہ ہوگا گویا وہ جماعت بغیر اذان ہوئی
📗✒در مختار و رد المحتار وغیرہ
📗✒فتاوی خلیلیہ ج 1 ص 233
🔭ایک اہم وضاحت : رمضان میں جن جگہوں پر اذان سحر وافطار کا اعلان ہوتا ہے اور لوگ اسی پر اعتماد کرتے ہیں وہاں فاسق معلن کو دینا جائز نہیں اور اگر دے دے تو اس پر اعتماد کرکے سحر وافطار درست نہیں ردالمحتار میں ہے . المقصود الاصلی من الاذان فی الشرع الاعلام بدخول اوقات الصلوۃ ثم صار من شعار الاسلام فی کل بلدۃ او ناحیۃ من البلاد الواسعۃ فمن حیث الاعلام بدخول الوقت وقبول قولہ لابد من الاسلام والعقل والبلوغ والعدالۃ فاذا اتصف المؤذن بھذہ الصفات یصح اذانہ والافلا یصح من حیث الاعتماد علیہ ۔
📗✒ردالمحتار المجلد الاول باب الاذان 🕹حاصل یہ کہ داڑھی منڈا اگر اذان یا اقامت کہہ دے تو ہوجائے گی مگر اذان کا اعادہ (دوبارہ پڑھ لینا) کرلینا بہتر ہے جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور اقامت کا اعادہ نہیں ۔
_****************************************_
*(🌺واللہ اعلم بالصواب🌺)*
_****************************************_
*✍ کتبہ: جلال الدین احمد امجدی رضوی ارشدی نائےگائوں ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا مدرس جامعہ قادریہ رضویہ ردرور منڈل ضلع نظام آباد تلنگانہ الھند ـ*(بتاریخ ۱۸/فروری بروز منگل ۲۰۲۰/ عیسوی)*
*( موبائل نمبر 📞8390418344📱)*
_*************************************
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
🎙ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ و جامع و تحقیق جواب ہے الجواب' ھوالجواب واللہ ھو المجیب المصیب المثاب فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب و امام جامع مسجد مہا سمند (چھتیس گڑھ)
🎙ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب ہےالجواب صحیح والمجیب نجیح گدائے غوث اعظم محمد صاحب جان رضا حشمتی اختری ارشدی عفی عنہ گورکھپور کشی نگر یوپی الھنــــــــــــــــــد
🎙الجوابــــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح فقط محمدامجدعلی نعیمی،رائےگنج اتر دیناج پور مغربی بنگال،خطیب وامام مسجدنیم والی مرادآبا اترپردیش الھند
🎙الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محمد امین قادری رضوی دیوان بازار مراداباد یوپی الہند
🎙الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محــــمد معصــوم رضا نوری منگلور کرناٹک انڈیا
🎙الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط *محمداسماعیل خان امجدی* رضوی دارالعلوم شہیداعظم دولھاپورپہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک تھانہ ضلع گونڈہ یوپی الھند
🎙*ماشاءاللہ بہت تفصیلی جواب جامع وعمدہ الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند*
🎙الجواب صحیح والمجیب نجیح
واللہ اعلم غلام غوث اجملی پورنوی
خادم التدریس دارالعلوم اہلسنت غریب نواز چاپاکھور بارسوئی کٹیہار بہار
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
Comments
Post a Comment