HINDU PURAAN
مضمون نمبر 9
📚 *پران ہندو دھرم کی مقدس کتاب* 📚
✍️ *تحریر از :*
*محمد رضوان احمد مصباحی*
*ادراگوڑی ، ٹھاکر گنج ،کشن گنج ،بہار ۔*
*مقیم حال: جھاپا، نیپال۔*
*پرآن کا تعارف:*
ہندو دھرم کی مقدس کتاب جیسے : وید، شاستر ، انپشد اور اسمرتی کو جس طرح ہندو سماج میں مقبولیت حاصل ہے اسی طرح پران کو بھی ایک گونہ اہمیت و مقبولیت حاصل ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پران ہی کے ذریعے ہندو سماج میں زیادہ اثر پڑا ہے کیوں کہ؛ وید اور انپشد وغیرہ سے تو ہندو علما اور خواص ہی استفادہ کرتے ہیں مگر پران کی مقبولیت عوام و خواص دونوں میں مسلم ہے دونوں ہی اس کو مطالعہ کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
✳️ *پران کا لغوی معنی:*
پران کے معنی قدیم، پرانا کے ہیں ۔ اس لیے قدیم حکایات اور کہانیوں کو بھی پران کہا جاتا ہے ۔
✳️ *پران کا اصطلاحی معنی:*
*شری وامن شوارام آپٹے نےاس طرح بیان کیا ہے :* کچھ مشہور مذہبی کتب جو تعداد میں ١٨/ ہیں اور ویاس جی کے ذریعے تالیف کردہ مانی جاتی ہیں اور جو قدیم ہندو مذہبی کہانیوں کے مجموعوں (कथा संग्रह ) کا خزانہ ہیں ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج :١، ص: ٤٤، تصنیف از : ڈاکٹر احمد نعیمی صاحب، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی)*
✳️ *پرانوں کی اہمیت :*
پرانوں کو عوامی وید مہابھارت کی طرح پانچواں وید کہا جاتا ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ویدوں میں جتنی حکایتیں، کہانیاں اور روحانی صداقتیں موجود ہیں پرانوں میں ان کی توسیعات اور تمثیلی تشریحات ہیں ۔ ہندو محققین کا کہنا ہے کہ : ویدوں کی صداقتوں کو سمجھنے کے لیے پرانوں سے استفادہ ناگزیر ہے کیوں کہ؛ وہ ہندوؤں کی مقدس کتابوں کا نہایت ہی ضروری حصہ ہیں ۔
*پرانوں کی اہمیت کے بارے میں "The Puranas" کے مصنف نے لکھا ہے :*
کہ ہندوؤں کی دھارمک و غیر دھارمک کتابوں میں پران کی منفرد حیثیت ومقام ہے ۔ ان کی اہمیت ویدوں کے بعد سمجھی جاتی ہے اور اتنا ہی قدیم بھی سمجھا جاتا ہے ۔ سب سے زیادہ عوامی حیثیت *بھاگوت پران* کی ہے اور اسے انتہائی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں نیز اس حد تک مقدس سمجھتے ہیں کہ گھروں میں کتاب مقدس کے طور پر اس کا روزانہ پٹھن پاٹھن (تلاوت) ہوتا ہے ۔
*(ہندوستانی ورثہ، ص: ٧٦ ، Indian inheritance, بحوالہ تعارف و مطالعہ ہندو ازم ص: ٣)*
✳️ *پرانوں کے موضوعات:*
*امرکوش لغت अमरकोष* کے مطابق پرانوں میں پانچ موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان کو *پنچ لچھن, पंचलक्षण* بھی کہا جاتا ہے ۔ پرانوں میں بیان کردہ پانچ موضوعات حسب ذیل ہیں :
1️⃣ سرگ (सर्ग) یعنی دنیا کی تخلیق
2️⃣ پرتی سرگ(प्रीति सर्ग ) یعنی قیامت प्रलय کے بعد دنیا کی از سر نو تخلیق
3️⃣ ونش (वशं) یعنی رشیوں اور دیوتاؤں کا حال ونسل نامہ
4️⃣ منونتر (मन्वन्तर ) یعنی عہد عظیم महायुग ۔
5️⃣ ونشانو چرت(वंशानुचरीत) یعنی قدیم راج گھرانوں(राजकुल ) کی تاریخ ۔
مذکورہ بالا موضوعات کے علاوہ پرانوں میں رشیوں اور دیوتاؤں کی عجیب و غریب سوانح حیات اور واقعات، عقل سے ماورا حیرت انگیز افسانوی خیالات مضحکہ خیز حکایات اور کہیں کہیں مذہبی احکام اور اخلاقی تعلیمات کا بھی تذکرہ ہے ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج :٠١، ص: ٤٤٩)*
✳️ *پرانوں کی تعداد:*
پرانوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں مگر مشہور اور درست قول یہی ہے کہ پرانوں کی تعداد اٹھارہ ١٨/ ہی ہیں اور ان کے نام درج ذیل ہیں :
1️⃣ *برہم پران ब्रह्मपुराण*
2️⃣ *پدم پران पद्मपुराण*
3️⃣ *وشنو پران. विषणुपुराण*
4️⃣ *شیو پران. शिवपुराण*
5️⃣ *شریمد بھگوت پران भागवतपुराण*
6️⃣ *وایو پران वायुपुराण*
7️⃣ *نارد پران नारदपुराण*
8️⃣ *اگنی پران अग्निपुराण*
9️⃣ *برہم ویورت پرانब्रह्मवैवर्तपुराण*
🔟 *واراہ پران वाराहपुराण*
1️⃣1️⃣ *اسکندر پران स्कन्दपुराण*
2️⃣1️⃣ *مارکنڈے پران मारकणडेपुराण*
3️⃣1️⃣ *وامن پران वामनपुराण*
4️⃣1️⃣ *کرم پران कुर्मपुराण*
5️⃣1️⃣ *متیسہ پران मत्स्यपुराण*
6️⃣1️⃣ *گروڑ پران गुरूणपुराण*
7️⃣1️⃣ *برہمانڈ پران ब्रह्माण्डपुराण*
8️⃣1️⃣ *لنگ پران लिंगपुराण*
*ذیل میں متفرقہ طور پر ہر ایک کا الگ الگ اور مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیں :*
✴️ *برہم پران :* برہم پران سب سے قدیم پران مانا جاتا ہے ۔ اس میں ٢٤٥/ ابواب کے تحت ١٤/ ہزار اشلوک ہیں جن میں وشنو کے اوتاروں اور سورج کی پوجا کا خاص طور سے بیان ہے ۔
✴️ *پدم پران :* اس پران میں کائنات کی ابتدا، قیامت کی علامتیں، جنت، دریا، پہاڑ، رام کہانی، کرشن لیلا، علم نجات، شیو لنگ پوجا کا طریقہ، گوری برت، وامن اوتارکتھااور راج دھرم مورتی کتھا جیسی باتوں کا ٥٢٣/ ابواب اور ٥ / حصوں کے تحت ٥٤/ اشلوک میں ذکر کیا گیا ہے ۔
✴️ *وشنو پران :* وشنو پران کا شمار تاریخی پرانوں کے تحت ہوتا ہے ۔ یہ ٦/ حصوں، ٢٦/ ابواب اور ٢٣/ہزار اشلوک پر مشتمل ہے۔ کچھ نثری حصے بھی ہیں۔ اس پران میں معرفت (گیان) اور عبادت کا خوبصورت امتزاج دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، کہیں کہیں ادویات واد(فلسفہ وحدت الوجود ) کی بھی جھلک ملتی ہے۔
✴️ *شیو پران :* اس پران میں شیو کی مدح وثنا کی گئی ہے ۔ یہ دو قسم کے ہیں : ایک میں ایک لاکھ اشلوک ہیں، جب کہ دوسرے میں چوبیس ہزار اشلوک ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اصل میں شیو پران میں ایک لاکھ اشلوک تھے، لیکن ویاس جی نے تلخیص کر کے چوبیس ہزار کر دئے ۔
✴️ *شریمد بھاگوت پران:* بھاگوت پران کا شمار مہا پرانوں میں ہوتا اس میں بارہ کھنڈ (حصے ) ٣٣٥/ابواب اور کل ملا کر اٹھارہ ہزار ١٨٠٠٠/ اشلوک ہیں ۔ ویشنوی فرقے کے لوگ اسے مہا پران مانتے ہیں اور شکتی فرقے والے اسے صرف پران مانتے ہیں ۔ وہ مہا پران دیوی بھاگوت کو مانتے ہیں ۔
✴️ *وایو پران :* کچھ ہندو علما اسے شیو پران بھی کہتے ہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وایو پران میں شیو کا کردار بڑا واضح انداز میں سامنے آتا ہے ۔ یہ بہت قیمتی پران مانا جاتا ہے ۔ اس میں موسیقی، جغرافیہ شرادھ، ویدک شاکھاؤوں ،پرجاپتی اور دیگر رشیوں کے شجرے، اوتاروں، جزیروں، یگ، یگیہ اور تیرتھ وغیرہ کا ذکر وبیان ہے۔
✴️ *نارد پران :* یہ در حقیقت وشنو پران ہے لیکن چوں کہ اس میں سنکاوک نے نارد کو مخاطب ہوکر کہانی کہی ہے اس لئے اسے نارد پران کہا جاتا ہے ۔ اس میں تقریباً سبھی پرانوں کی مختصر موضوعاتی فہرست دی گئی ہے
✴️ *اگنی پران :* اس پران میں اگنی کی خاص طور سے مدح وثنا کی گئی ہے اس لئے اسے اگنی پران کہا جاتا ہے ۔ اس میں کم از کم اٹھارہ علوم پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے پیش نظر اسے ہندوستانی علوم کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے ۔ اس میں رامائن ،مہا بھارت ،ہری ونش اور دیگر گرنتھوں کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے ویدانگ اور متعلقات و تکمیلات وید کی بھی تفصیل دی گئی ہے ۔ فلسفے اور شاعرانہ ادب وفن پران کی بھی شمولیت ہے ۔ زبان و ادب کے قواعد بھی دئے گئے ہیں ۔ اگنی پران میں ٣٨٣ /ابواب ہیں اور پندرہ ہزار سے زائد اشلوک ہیں ۔
✴️ *برہم ویورت پران :* اس پران میں کرشن کی زندگی کے حالات کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے آدھا پران اس کے لیے وقف ہے ۔ اسے کچھ لوگ وشنو پران سمجھتے ہیں ۔ بعض اہل علم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اسے پران نہیں سمجھنا چاہیے ۔ یہ اختلاف اپنی جگہ لیکن برہم ویورت پران کا شمار پرانوں ہی میں ہوتا ہے ۔ اس کے اشلوک کی تعداد اٹھارہ ١٨٠٠٠/ ہے۔
✴️ *وراہ پران :* اس پران میں خاص طور سے وراہ اوتار کی کہانی / کتھانی کی تفصیل دی گئ ہے ۔ یہ کہانی کرشن کے اوتار وراہ نے پرتھوی کو سنائی تھی ۔ اس لئے اس کا نام وراہ پڑ گیا ۔ وراہ اوتار کے علاوہ اس میں وشنو ورتوں کا بھی ذکر ہے ۔ جنت اور دوزخ کی بھی تفصیل دی گئی ہے ۔ مختلف پرانوں کے بیان کے مطابق اس میں چوبیس ہزار ٢٤٠٠٠/ ہونے چاہئیں، لیکن دستیاب وراہ پران میں کل دس ہزار ١٠٠٠٠/ اشلوک ہیں اور ابواب کی تعداد ٢١٨/ ہے۔
✴️ *اسکندر پران :* یہ مہا پرانوں میں سب سے بڑا ہے ۔ اس کے دو نسخے ملتے ہیں ایک میں اکیس ہزار ٢١٠٠٠/ اشلوک ہیں ۔ جب کہ دوسرے میں ایک لاکھ ۔ اسکندر شیو کے بیٹے کا نام تھا اس کے نام پر اس پران کا نام رکھا گیا ہے ۔ اسکندر پران میں شیو کی خصوصیت اور اہمیت کو ہر جگہ نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس میں ویدک اور تانترک دونوں قسم کی پوجا کی تفصیل دی گئی ہے ۔ تیرتھ ورت کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور آخری حصے میں برہم گیتا اور سویتا گیتا بھی ہے ۔
✴️ *مارکنڈے پران :* اس میں مارکنڈے رشی کے حوالے سے بات کہی گئی ہیں۔ اس لیے اس کا نام مارکنڈے پران ہے، یہ عجیب اور دل چسپ پران ہے اس میں مہابھارت کے بارے میں جمینی کے توسط سے مارکنڈے رشی سے سوالات کئے گئے ہیں ۔ کرشن کے انسانی شکل میں اوتار لینے، قتل کا کفارہ ، دھارمک مقامات کی تیرتھ (زیارت ) کے متعلق سوالات کے جوابات اور مرنے کے بعد کی زندگی، کائنات اور راجا (حکمراں) کے فرائض کو بیان کیا گیا ہے ۔
✴️ *وامن پران :* اس میں وشنو کے مختلف اوتاروں میں سے وامن اوتار کا خصوصی اعتبار اور نمایاں انداز میں ذکر کیا گیا ہے اس لئے اس کا نام وامن پران رکھا گیا ہے ۔ اس میں دس ہزار ١٠٠٠٠/ اشلوک، پنچانوے ٩٥/ ابواب کے تحت ہیں ۔
✴️ *کورم پران :* اس پران میں وشنو کے کورم (کچھوا) کی شکل میں اوتار لینے کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے اس کو کورم پران کہا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ شکتی پوجا کو بھی ابھار کر بیان کیا ہے ۔ کورم کے بھیس میں وشنو نے مہر شیوں کو دھرم، ارتھ، کام اور موکش کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔
✴️ *متسیہ پران :* اصلا یہ پران قدیم ہے اس میں وشنو کے اوتار متسیہ کا ذکر خصوصی موضوع ہے ۔ متسیہ سنسکرت میں مچھلی کو کہا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وشنو نے سب سے پہلے مچھلی کے بھیس میں اوتار لیا تھا ۔ یہ شیو فرقے کا پران مانا جاتا ہے اس میں منو کے ذریعے قیامت کے سلسلے، سیلاب سے بچاؤ کے لیے کشتی بنانے کا ذکر ہے اس میں منو سمرتی اور مہا بھارت کے بھی بہت سے اشلوک پائے جاتے ہیں۔
✴️ *گروڑ پران :* یہ ہندوؤں کا بہت مقبول پران ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پران میں موت کے بعد اس کے رسوم، کرم کانڈ اور اس کے پڑھنے پڑھانے کا طریقہ بتایا گیا ہے نیز جنت اور دوزخ کا بھی ذکر ہے ۔ اس میں علی الاختلاف اٹھارہ ہزار یا انیس ہزار اشلوک ہیں اور اس کے ابواب کی تعداد ٢٨٧/ ہے ۔ اس میں تخلیق کائنات سے لے کر پرجاپتی کی پیدائش، پوجا، دکشا رسم ترپن، آخری رسومات اور اکیس اوتار کے بارے میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔
✴️ *برہمانڈ پران :* اس پران کا شمار تاریخی پرانوں میں ہوتا ہے اس میں پوری دنیا کا خاکہ، جغرافیہ، چھتر نسلوں، آیوروید اور گنگا کی کہانی کا بیان ہے۔ نیز اس میں رام کتھا کا جز بھی پایا جاتا ہے ۔
✴️ *لنگ پران :* اس پران میں شیو لنگ کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسے شیو پران بھی کہا جاتا ہے ۔ اس میں شیو جی کے اٹھارہ اوتاروں، شیورتوں،شیو تیرتھ گاہوں (زیارت گاہوں) کا خصوصی طور سے بیان و ذکر پایا جاتا ہے ۔ اس کے اشلوک کی تعداد گیارہ ہزار ١١٠٠٠/ ہے ۔ اس پران میں شیو پاروتی کی شادی، گنیش کی پیدائش، شیو لنگ کے نصب کا طریقہ، شیورتوں اور دیوتاؤں کا درشن (زیارت ) ہونے جیسی باتوں کا ایک سو باسٹھ ١٦٢/ عنوانات کے تحت ذکر و بیان ہے۔
*( تعارف و مطالعہ ہندو ازم ص: ٦/٧/٨/٩/١٠/١١/١٢/١٣/١٤)*
✳️ *پرانوں کا عہد تصنیف:*
پرانوں کے زمانہ تصنیف کے متعلق ہندو ماہرین کے درمیان کثیر اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ پرانوں کا عہد ( काल ) *ڈبلیو، ایل، لانگر* کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ٤٠٠/ سال بعد کا ہے ۔
*ڈاکٹر وید پرکاش اپادھیائے (डाक्टर वेद प्रकाश उपाध्याय) لکھتے ہیں :* پرانوں کی زبان پاڑنی(पाणिनि) ٢٥٠٢/ سے ١٥٦٣/ قبل مسیح کے درمیان ثابت ہوتی ہے ۔
اور آگے لکھتے ہیں : کہ سبھی اہل علم (विद्वान ) کے نظریات مشکوک ہیں کیوں کہ ان سبھی ماہرین نے پرانوں کے عہد کے تعیین کے سلسلے میں خود "شاید" اور "ممکن ہے" یا سوالیہ نشان؟ کا استعمال کیا ہے ۔
*اس سلسلے میں مشہور ہندو مورخ کرشن چند یواستو کی رائے زیادہ اہم معلوم ہوتی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :*
पुराण प्राचिन काल से लेकर गुप्त काल के इतिहास से सबंधित अनैक महत्वपूर्ण घटनाओं का परिचय कराते हैं / छटी शताब्दी ई0 पुर्व निर्माण (تعمیر نو) के लिए तो पुराण ही एक मात्र स्तरित( سرچشمہ ) है/
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج : ١ ،ص:٤٤١/٤٢)*
✳️ *پرانوں کے مصنفین:*
تعین ویقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پرانوں کے مصنفین فلاں فلاں ہیں ۔ مجموعہ پران (سنہتا ) کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ پرانوں کو بھی وید ویاس جی نے ہی تیار کیا ہے ۔ انہوں نے *لوم ہرشن (लोमहर्षण)* نام کے ایک شاگرد کو پران کے مقدس مجموعہ سکھا دیئے تھے ۔ لوم ہرشن کے چھ شاگرد ہوئے جنہیں لوم ہرشن نے پرانوں کی تعلیم دی ۔ اور پھر اس کے شاگردوں کے شاگرد ہوئے اور سب نے الگ الگ انداز میں اپنے حساب سے پران کے مجموعے تیار کیے اور یہی بعد میں مختلف ناموں سے وجود میں آئے ۔ اور اس امکان کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ مہارشی وید ویاس جی نے پرانوں کے اٹھارہ حصے تیار کیے تھے، جو بعد میں شاگرد اور شاگرد کے شاگردوں نے ایک ایک حصہ کو مستقل پران کی حیثیت دے کر رائج کیا ۔
*(تعارف و مطالعہ ہندو ازم ص: ٠٥)*
خلاصہ کلام یہ کہ ہندو سماج اور پرانوں کے مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وید تو خاص افراد تک محدود ہے لیکن ہندو دھرم کو عوامی سطح پر مقبولیت دلانے میں پرانوں کا بہت ہی اہم اور زبردست کردار رہا ہے ۔
نوٹ:* یہ تحریر آپ کو واٹس اپ گروپ "تقابل ادیان" کے ٹیم ورک سے میسر ہوئی ہے۔
ہماری ٹیم تقابل ادیان کے ساتھ رد الحاد اور رد رافضیت پر بھی منظم کام کررہی ہے۔
لہذا جو علمائے کرام *تقابل ادیان، رد الحاد یا رد رافضیت* میں دل چسپی رکھتے ہوں اور کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ ہم سے رابطہ کریں اور گروپ میں شامل ہوں۔
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
مضمون نمبر 10
*ہندو دھرم میں بہت سے خدا کیسے بنائے گئے؟*
(از قلم احقرصداقت حسین طاہری لکھیم پور)
فطری طور پر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے خدا یا دیوتا کیسے وجود میں آئے اور مورتی پوجا کیوں اور کیسے شروع ہوئی؟
اس سلسلے میں جب ہم قرآن پاک کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بڑے واضح الفاظ میں اس گتھی کو سلجھاتا ہوا نظر آتا ہے
*چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے**
*`وقالو لا تذرن الھتکم ولا تذرن ودا ولا سواعا ویغوث ویعوق ونسرا*(سورہ نوح آیت 23)
اور کافروں کے سردار عوام سے بولےکہ ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہر گز نہ چھوڑنا۔۔ ودا۔۔اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو ۔۔
یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔بت تو ان نزدیک بہت سے تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت و بزرگی والے تھے۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کرام نے بہت سے تفسیری روایات واقوال بیان فرماے ہیں ۔
*چنانچہ ابن کثیر میں ہے*
یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ،عابد ،اولیاء اللہ اور حضرت آدم وحضرت نوح کے سچے تابع فرمان لوگ تھے۔جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے۔ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانے کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں کوئی یادگار قائم کریں۔
اس کے لئے ان کی تصویریں بنا لیں تو عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور شوق عبادت ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر بڑھتا رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا۔
جب تک یہ لوگ زندہ رہے ان کی پوجا نہیں ہوئی لیکن ان کے گزرجانے کے بعد اور علم اٹھ جانے کے بعد جو نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ پڑھایا کہ تمہارے تمہارے بزرگ ان کی پوجا وعبادت کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے۔چنانچہ جہالت کی وجہ سے انھوں نے با قاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔
*صحیح بخاری و تفسیر خازن*میں ہے کہ
مورتی پوجا کی شروعات نیک و صالح لوگوں کی تصویروں سے ہوئی
ہوا یوں کہ ودا،سواع ،یغوث،یعوق اور نسر یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بہت اچھے ونیک لوگ تھے ۔جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے اقارب و احباب کو بہت زیادہ رنج وغم ہوا اوروہ اتنے غمگین و افسردہ ہوئے کہ سب کاروبار چھوڑ کر انھیں یاد کرنے لگے تو ایک دن شیطان نے انسانی شکل میں آکر ان کے ماننے والوں سے کہا کہ تم ان کی تصویریں بنا کر ان کی محفلوں و مجلسوں میں لگا دو اور انھیں ان کے نام سے پکارو تاکہ تمہارا رنج وغم دور ہو ۔
ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور سلسلہ کافی عرصہ دراز تک چلتا رہا۔پھر جب اس زمانے کے لوگ گزر گئے اور ان کے بارے میں کوئی بتانے والا نہیں رہا تو شیطان نے موقع غنیمت جان کر ننان کی اولادوں سے کہا کہ یہ تمہارے آباء واجداد کے خدا دیوتا ہیں تمہارے آباء واجداد ان کی پوجا کرتے تھے۔
یہ سن کر لوگوں نے انھیں اپنا خدا سمجھ لیا اور ان کی پوجا وبندگی شروع کردی ۔پھر اس کے بعد شیطان نے موقع غنیمت جان کر از راہ ہمدردی لوگوں سے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہوگا کہ میں ان کی بہت سی تصویریں بنا دوں تاکہ تم انھیں اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوگئے اور یہ بھی ہوگیا ۔
اصل واقعہ سب بھول گئے اور بت پرستی میں مشغول ہو گئے۔
*قرآن وحدیث*۔ کے علاوہ انسانی مزاہب کی قدیم تاریخ سے بھی یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ابتداء میں لوگ ایک خدا ایک مالک ایک طاقت پر عقیدہ رکھتے اور اس کی عبادت وبندگی کرتے تھے لیکن دھیرے دھیرے اس میں تبدیلی وترمیم ہوتی رہی اور اس طرح بہت سے معبودان باطل وجود میں آگئے اور ان کی مورتیاں قائم ہو گئیں۔
*چنانچہ ڈاکٹر پر بھاکر ما چوے*۔اور *سریندر نارائن دفتوار*،لکھتے ہیں؟
دھیرے دھیرے کسی پتھر یا درخت میں انسانی شکل دیکھی جانے لگی اور مورتی کا ارتقاء کلاؤں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہوا بلکہ ہر کلا کی دیوی کی کلپنا (تصور) کی گئی۔اب مورتی کلا میں ہر دیوی دیوتا کے لئےمخصوص علامتی نشانی اہم ہونے لگی۔جیسے ارٹیمس کا دھنوش مشہور تھا۔
کلا کار مورتی میں شان و شوکت عظمت و اہمیت ظاہر کرنے لگے۔
چوتھی صدی قبل مسیح تک مورتیوں میں انسانی اور خدائی فرق واضح ہے ۔
یعنی مختلف دیوتاؤں کی کلپنا کے پیچھے یونانیوں نے ایک کوئی اونچی اور گہری ایشور کلپنا بھی کرلی تھی یہی طاقت انسانی زندگی کو ہر طرح سے اپنے ما تحت چلاتی تھی:
ہندوستان میں ایشور یا دیوتا کی کلپنا کے ارتقاء کا تصور ویدوں سے شروع ہوتا ہے کہ رگوید دھیوس ،اندراگن وغیرہ کے ثبوت ملتے ہیں یہ فطرت و قدرت کے اہم عناصر کے خدائ روپ ہیں۔بعد کے منتروں میں ادتی ۔پرجاپتی ہرنے گربھ جیسی غیر مجسم،ذہنی کلپناؤں کے مورتی روپ یا مجسمے ملتے ہیں اب ان میں رازوحکمت بھی شان و شوکت اور سخاوت ورحم دلی کے ساتھ ساتھ شامل ہوتی۔پجاری کا معبود کے لئے تعلق بھی بدل جاتا ہے۔
کہیں کہیں ان کی پوجا چوپایوں اور پرندوں کی صورت میں بھی کی جاتی ہے جیسے مچھلی،کچھوا،سور،اور شیر وغیرہ کی شکلوں ہوتی۔لیکن بعد کے روپ میں کہیں کہیں یہ دیوتا عظیم بادشاہ کے روپ میں ہیں جیسے رام ۔ہو سکتا ہے تاریخی مظاہر نے پرانوں کا روپ قبول کر لیا ہو ۔
برہمن گرنتھوں کے زمانے تک آتے آتے دیوتاؤں کی پوجا کے طریقے کا نظم بہت سے تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا۔گرام دیوتا،خاندانی دیوتا بھی اس میں جوڑے گئے۔دیوی دیوتاؤں کی کئی طرح کی اور قسم بن گئیں۔اب دیوتاؤں کو خوش کرنے کے کئی بنے ۔کفارہ یعنی پاپ سے نجات کے لئے مختلف دیوتاؤں کو پکارا جانے لگا ذات پات کے فرق کے مطابق بھی دیوتاؤں کے علاحدہ علاحدہ روپ بنائے گئے۔اب سادھوؤں،منیوں،اور رشیوں نے عبادت وریاضت سے آرنیک گرنتھ تصنیف کئےاور اس میں صبر جسمانی سزا و تکلیف اور نفس کو مارنا جیسی بہت سی چیزیں ہندو دھرم میں گھس پڑیں۔
*ڈایونشیس* کی اور دیگر کتھاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ ک کئی دیوتاؤں کی مدت ہوتی ہے پھر ان کا جنم بھی ہوتا ہے۔مختصر یہ کہ انسان نے اپنی ہی زندگی کے سکھ دکھ رنج وغم اور خوشی کا بہت ہی زیادہ ہر لطف روپ دیوی دیوتاؤں کی کلپنا کی صورت میں قائم کیا ہے۔
مزکورہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں صاف ظاہر ہے کہ جہالت وکم علمی دنیوی عیش وعشرت نفسانی خواہشات اور اور ذہنی و قلبی تسکین کے وجوہات کے پیش نظر بہت سے دیوی دیوتاؤں اور معبودان باطلہ نے جنم لیا۔
گویا کہ لوگوں نے اپنے مفاد اور اپنے مادّی اغراض ومقاصد کے لئے بہت سے دیوی دیوتاؤں اور خداؤں کو ایجاد کیا اس تاریخی حقیقت کی تصدیق عہد کے سب سے مشہور و مقبول ہندو دھرم گرنتھ گیتا سے بھی ہوتی ہے۔
*چنانچہ* بھگوت گیتا میں کہا گیا ہےکہ
جن کی عقل دنیوی خواہشات کے ذریعے ماری گئی ہے وہ وہ دیوتاؤں کی پناہ میں جاتے ہیں اور وہ اپنی اپنی عادت چال چلن کے مطابق پوجا کے خاص طور طریقوں کا پالن کرتے ہیں۔
ان خواہشات کی خواہش کے ذریعے جن کا علم چھینا جا چکا وہ لوگ اپنے چال چلن اور عادت سے متاثر ہو کر اس طریقے کو قبول کر کے دوسرے دیوتاؤں کو پوجتے ہیں:
المختصر یہ کہ اس طرح بہت سے خدا لوگوں نے اپنے مفاد کے لئے بنائے اور پوجنے لگے اور پھر مورتی پوجا عام ہوگئی.
نوٹ:* یہ تحریر آپ کو واٹس اپ گروپ "تقابل ادیان" کے ٹیم ورک سے میسر ہوئی ہے۔
ہماری ٹیم تقابل ادیان کے ساتھ رد الحاد اور رد رافضیت پر بھی منظم کام کررہی ہے۔
لہذا جو علمائے کرام *تقابل ادیان، رد الحاد یا رد رافضیت* میں دل چسپی رکھتے ہوں اور کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ ہم سے رابطہ کریں اور گروپ میں شامل ہوں۔
Comments
Post a Comment