BAD MAZHAB

 *سوال: کسی منافق ، گستاخ ، ظالم ، بدمذھب رافضی مرتد وغیرہ کے مرنے پر خوشی منانا کیسا؟ حالانکہ حدیث پاک میں ہے کہ مُردوں کی خوبیاں بیان کرو۔*


*جواب:* دشمنانِ اسلام ، اشد گمراہ ، ظالم ، منافق یا مرتد کی موت پر خوشی کا اظہار کرنا شریعت کے منافی نہیں ہے۔ اور اسکی نظیر سلف سے منقول ہے۔ اور اسکو نعمت کہا گیا ہے۔ اور ایسے لوگوں پر جب بیماری آتی ، یا قید ہوتے یا مصیبت میں گرفتار ہوتے تو اہلِ ایمان خوشی کا اظہار کرتے تھے۔


*اللہ کریم ﷻ ارشاد فرماتاہے:*


 يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا 

اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے اور الله تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

[الأحزاب: 9]


 اس آیت سے معلوم ہوا کہ دشمن کی ہلاکت مومنین کے حق میں نہ صرف نعمت ہے بلکہ اللہ کا احسان ہے۔ 

اور اللہ کے احسان پر خوش ہو کر شکر ادا کرنا چاہئے۔


*مخالفین کی پیش کردہ حدیث کا جواب*


مخالفین جو حدیث پیش کرتے ہیں اسکا صحیح مطلب اور جواب ملاحظہ ہو


 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

صحابہ کا گزر ایک جنازہ پر ہوا ‘ لوگ اس کی تعریف کرنے لگے ( کہ کیا اچھا آدمی تھا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ واجب ہو گئی ۔ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ واجب ہو گئی ۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی ۔ تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ 

[صحیح بخاری ، رقم: 1367 مطبوعہ دار السلام ریاض]

[صحیح مسلم ، رقم: 949 مطبوعہ بیروت]


*شارح بخاری امام بدر الدین عینی علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:*


”اگر یہ کہا جائے کہ فوت شدگان کے بارے میں برے کلمات کا استعمال کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ حالانکہ صحیح حدیث زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ "فوت شدگان کو برا بھلا نہیں کہنا بلکہ ان کا ذکر صرف اچھے الفاظ میں ہی کرنا ہے،" تو اس کا جواب یہ ہے کہ فوت شدگان کو برے الفاظ سے یاد کرنے کی ممانعت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو منافق، کافر، اعلانیہ گناہ یا بدعت (یعنی گمراہ) کرنے والے نہیں ہوتے؛ کیونکہ ان لوگوں کی برائیوں کو دوسروں کو بچانے کے لیے ذکر کرنا حرام نہیں ہے ، اس کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ لوگ ان کے راستے پر چلنے سے خبردار بھی رہیں گے۔“


[عمدة القار شرح صحيح البخاری ، جلد8 ، صفحہ 195، مطبوعہ بیروت لبنان]


اسی طرح ایک اور روایت میں ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازے کو لے کر گزرا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے آرام پا لیا یا لوگوں نے اس سے آرام پا لیا، تو صحابہ کرام نے عرض کیا: کس نے آرام پایا ؟ اور کس سے آرام پایا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن شخص دنیا کے رنج و تکلیف سے آرام پا جاتا ہے اور بدکار شخص سے لوگ، شہر، درخت اور جانور آرام پاتے ہیں۔“


[صحیح بخاری، رقم: 6147، مطبوعہ بیروت لبنان]

[صحیح مسلم، رقم : 950 ، مطبوعہ بیروت لبنان] 


امام نسائی علیہ الرحمہ نے اس حدیث پر اپنی کتاب "سنن نسائی" : (1931) میں عنوان قائم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:


*”باب ہے کافروں سے راحت پانے کے بارے میں“*


*امام نووی رحمۃ اللّٰہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:*


”حدیث کا معنی ہے کہ: فوت ہونے والے لوگوں کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو خود راحت پاتے ہیں، اور دوسری وہ قسم جن کے جانے سے لوگوں کو راحت ملتی ہے۔ فاجر آدمی سے لوگوں کے راحت پانے کا مطلب یہ ہے کہ: لوگ فاجروں کی اذیت رسانی سے محفوظ ہو جاتے ہیں، فاجروں کی اذیت رسانی کئی طرح سے ہوتی ہے، مثلاً: لوگوں پر ظلم کرنا، گناہوں کا ارتکاب کرنا، اگر لوگ انہیں گناہوں سے روکیں تو تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے، یا ممکن ہے کہ انہیں روکنے کی بنا پر نقصان اٹھانا پڑے، اور اگر لوگ انہیں روکتے نہیں تو گناہ گار بنتے ہیں۔

جانور اس طرح سے راحت پاتے ہیں کہ ظالم لوگ انہیں مارتے ہیں، ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادتے ہیں، اور بسا اوقات انہیں بھوکا بھی رکھتے ہیں، جانوروں کو ایذا رسانی کے مزید طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔

دھرتی اور درختوں کو داودی دیکو راحت اس طرح ملتی ہے کہ فاجروں کی موجودگی میں بارشیں نہیں برستیں، جبکہ مالکی فقیہ الباجی کہتے ہیں کہ: فاجر لوگ انہیں پانی لگنے سے رکاوٹ ڈالتے ہیں ، انہیں پانی نہیں لگاتے۔“


[شرح مسلم للنووی، جلد7 ، صفحہ 20، 21، تحت الحدیث950، مطبوعہ بیروت لبنان]


*خارجی کی موت پرمولا علی کا سجدہء شکر*


ایک خارجی شخص جس کا نام "المخدج" تھا، اس کے قتل ہونے پر سیدنا مولا علی شیرِ خدا مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ کیا تھا، یہ خارجی آپ سے لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔


ابنِ تیمیہ نے لکھا کہ:

”امیر المومنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے خوارج کے خلاف جہاد کیا، آپ نے خارجیوں سے قتال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کیں، پھر ان کے قتل ہونے پر خوشی کا اظہار بھی کیا، نیز جب خارجیوں کے سر غنّے "ذو الثدیہ" کو مقتولین میں دیکھا تو اللہ تعالی کے لیے سجدہ شکر بھی کیا۔

لیکن جنگ جمل اور صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوشی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ آپ کو انتہائی تکلیف ہوئی اور جو کچھ بھی ہوا اس پر پشیمان بھی ہوئے، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بھی ذکر نہیں کی بلکہ یہاں تک کہا کہ میں نے اپنے اجتہاد سے ان کے خلاف تلوار اٹھائی۔“


[مجموع الفتاوى، جلد 20 ،صفحہ 235 ، مطبوعہ بیروت لبنان]


*بدمذھب پر فالج گرنے پر خوشی*


جس وقت بدمذھب گمراہ ابن ابو داود کو آدھے دھڑ کا فالج ہوا تو اہل سنت نے خوشی کا اظہار کیا، حتی کہ ابن شراعہ بصری نے اس بارے میں اشعار بھی پڑھے تھے:


أفَلَتْ نُجُومُ سُعودِك ابنَ دُوَادِ ... وَبَدتْ نُحُوسُكَ في جميع إيَادِ

ابن داود تمہاری بلندی کا تارہ اب غروب ہو گیا ہے، بلکہ لوگوں میں ہر طرف تمہاری نحوست عیاں ہو چکی ہے۔


فَرِحَتْ بمَصْرَعِكَ البَرِيَّةُ كُلُّها ... مَن كَان منها مُوقناً بمعَادِ


تمہارے بستر مرگ پر جانے سے آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی ساری مخلوقات کو خوشی ہوئی۔


لم يَبْقَ منكَ سِوَى خَيَالٍ لامِعٍ ... فوق الفِرَاشِ مُمَهَّداً بوِسادِ


اب بستر مرگ پر بھی تیری صرف خام خیالی ہی باقی ہے، جس میں حرارت یا برودت کچھ بھی باقی نہیں ہے۔


وَخَبتْ لَدَى الخلفاء نارٌ بَعْدَمَا ... قد كنت تَقْدحُهَا بكُلِّ زِنادِ


حکمرانوں کے ہاں اب تمہاری بھڑکائی ہوئی آگ بجھ جائے گی جسے تو ہر موقع پر بھڑکاتا رہتا تھا۔


[تاريخ بغداد ، از خطیب بغدادی، جلد 4 ، صفحہ 155، مطبوعہ بیروت لبنان]


*بدمذھب کی مصیبت پر خوشی*


شیخ امام ابو علی حسن بن ابراہیم خَلّال حنبلی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں:

”ابو عبد اللہ یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا گیا: ایک شخص ابن ابی داود کے ساتھیوں پر آنے والی آزمائشوں سے خوش ہوتا ہے، تو کیا اسے اس عمل پر گناہ ہوگا ؟ تو امام احمد بن حنبل نے کہا: کون ہے جو اس بات پر خوش نہیں ہوتا؟!"

[السنَّة ،جلد 5، صفحہ 121 مطبوعہ بیروت]


*رافضی سرغنہ کے مرنے پر اللہ کا شکر*


امام ابن کثیر ، سن 568 ھجری میں فوت ہونے والے لوگوں کے تذکرے میں لکھتے ہیں:


”حسن بن صافی بن بزدن ترکی کا تعلق ان بڑے امیروں میں سے تھا جو کہ ملکی سطح پر اثر و رسوخ رکھتے تھے، تاہم یہ شخص متعصب درجے کا خبیث رافضی تھا، اور رافضیوں کی حد درجہ طرف داری کرتا تھا، یہ رافضی اسی کی ناک تلے پَھل پھول رہے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اس شخص سے ماہ ذو الحجہ میں نجات دی اور مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا، اسے اسی کے گھر میں دفن کیا گیا جسے بعد میں قریش کے قبرستان میں منتقل کر دیا گیا ، اس پر اللہ کا ہی شکر ہے اور اسی کی تعریف ہے۔

جس وقت وہ مرا تو اہل سنت اس کے مرنے پر بہت زیادہ خوش ہوئے، انہوں نے اعلانیہ طور پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا، سب کے سب مسلمان بلا استثناء اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔“

[البداية والنهاية ، جلد 12 ، صفحہ 338، مطبوعہ بیروت]


*روافض کے سرغنہ کی موت پر مبارکباد*


خطیب بغدادی علیہ الرحمہ،،، عبید اللہ بن عبد اللہ بن الحسین ابو القاسم الحفاف جو کہ ابن نقیب کے نام سے مشہور تھے ان کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:


”میں نے ان سے حدیث لکھی ہے، ان کی سنی ہوئی احادیث بالکل صحیح تھیں، آپ عقیدے میں بہت پختہ تھے، مجھے ان کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ جس وقت رافضیوں کا سرغنہ ابن المعلم فوت ہوا تو انہوں نے خصوصی طو ر پر مبارکبادی کی محفل کا انعقاد کیا، اور کہنے لگے: اب مجھے کوئی پروا نہیں ہے کہ مجھے جس وقت مرضی موت آ جائے؛ کیونکہ میں نے ابن المعلم رافضی کو مرتے دیکھ لیا ہے۔“


[تاريخ بغداد ، جلد 10، صفحہ 328 ، مطبوعہ بیروت]


ان دلائل سے واضح ہو گیا کہ کسی ظالم کافر ، منافق ، زندیق ، بدمذھب ، رافضی خارجی وغیرہ کے مرنے پر خوشی منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ اکابرینِ امت کا عمل رہا ہے۔ اور وہ رافضی جو ساری زندگی مقامِ اُلُوھیت کی توھین کرتا رہا ہو ، انبیاء کی توھین کرتا رہا ہو، صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین پر تبرّا کرتا رہا ہو ، اسکی موت پر اظہارِ فرحت کرنا کیسے ناجائز ہو سکتا ہے؟ جبکہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ایک خارجی کو جہنم واصل کر کے سجدہ شکر ادا کیا۔ اسی طرح رافضیوں کے مرنے پر سلف صالحین نے شکر کیا خوشیاں منائیں۔


اللہ کریم ﷻ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے سےمحفوظ رکھے۔ اور اپنے حبیب ﷺ اور انکے پیاروں کے نقشِ قدم پر چلائے رکھے اور انہی کی غلامی میں موت عطا فرمائے۔ آمین


_*مدینے پاک کا بھکاری*_

_*محمداویس رضاعطاری*



🌹 *توجہ فرمائیے*  ✍ 


*_دار المطالعہ مدنی  آپ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دار الافتاء اھلسنت کے فتاوٰی جات ، علماء اھلسنت کا علمی ، ادبی ، فکری ، درسی ، تحقیقی مواد سینڈ کرنے ، علمِ فقہ و عقائد پر مشتمل کتب اور جدید مسائل سے آگاہ کرنے مذید شوقِ مطالعہ بڑھانے کیلئے بنایا گیا ہے لھذا ضرور جوئن کریں اور علم دین سے زندگی کو روشن کریں_*

 

*یہ یاد رھے* 👨‍🏫


*ثواب کی نیت سے لنک شیئر ضرور کریں*📲


_اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو_

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ