SHAHADATE UMAR RAZIALLAH ANHU
کیا حضرت عمر (رضي الله عنه) كا يوم شهادت يكم محرم الحرام کسی کتاب میں مذکور نہیں؟
--------------------------
روافض کی طرف سے بالعموم اور اپنے آپ کو "سنی" بنا کر پیش کرنے والے رافضیوں (انجینیئر محمد علی مرزا اور ہمنواؤں) کی طرف سے بالخصوص یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ مرادِ رسول ، دامادِ علي حضرت عمر بن الخطاب رضي الله عنه کا یوم شہادت یکم محرم الحرام ہونے کی کوئی دلیل نہیں ، یہ یونہی حضرت حسين رضي الله عنه کی شہادت سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنی طرف سے گھڑ لیا گیا ہے ....... تو آئیے مختصر طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ تاریخ و سیر کی کتابوں میں یہ بات مذکور ہے یا نہیں؟
محمد بن احمد بن تمیم التميمي (م 333 هـ) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبدالله بن زبير (رضي الله عنهما) سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ: حضرت عمر رضي الله عنه کو بدھ کے روز جبکہ ذي الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا، پھر آپ تین دن زندہ رہے اور پھر آپ کی وفات ہوئی ...(كتاب المحن، صفحه 66، تحقيق ڈاکٹر يحيى وهيب الحبورى ، طبع دار الغرب الاسلامي)
ابن الأثير الجزرى (م 630 هـ) نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت ذکر کی ہے کہ : حضرت عمر (رض) کو جب زخمی کیا گیا تو ذي الحج 23 هجرى کی چار راتیں باقی تھیں، اور آپ کو یکم محرم 24 هجرى بروز اتوار کی صبح دفن کیا گیا. (أسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 4 ، صفحه 166 ، دار الكتب العلمية بيروت)
حافظ ابن عساكر (م 571 هـ) نے اپنی مکمل سند کے ساتھ یہ روایت ذکر کی ہے کہ : حضرت عمر (رض) کو ذي الحج کی چند راتیں باقی تھیں جب زخمی کیا گیا، آپ تین راتیں اسکے بعد زندہ رہے اور یکم محرم سنہ 24 هجرى کو آپ کی وفات ہوئی. (تاریخ دمشق ، جلد 44، صفحه 478 ، دار الفكر بيروت)
سر دست یہ تین حوالے سامنے تھے جو ذکر کر دیے ... مزید کتب کے حوالے بھی موجود ہیں ، اگرچہ کتب میں کچھ دوسرے اقوال بھی مذکور ہیں لیکن زیادہ صحیح اور جمہور کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ حضرت عمر رضي الله عنه کی وفات یکم محرم سنہ 24 هجرى کو ہوئی ... لہذا یہ دعوا کہ اہل سنت کی کسی کتاب میں یہ مذکور نہیں کہ حضرت عمر رضي الله عنه کا یوم وفات یکم محرم ہے جھوٹ اور دھوکہ ہے .
ایک رافضی عجوبہ :
------------------
ایک رافضی عجوبہ بھی ملاحظه ، معروف رافضی نعمة الله الجزائرى اپنی کتاب "الأنوار النعمانية" میں لکھتا ہے کہ حضرت عمر (رض) کو 9 ربيع الأول کو قتل کیا گیا" (الأنوار النعمانية، جلد 1 ، صفحه 84 ، نور سماوى ، طبع دار الكوفة)
اس کتاب کا محشى جانتا تھا کہ یہ بات حقائق کے خلاف ہے اس لیے اس نے اسی صفحے کے نیچے حاشیے میں تسلیم کیا کہ یہ بات ان مشہور روایات کے خلاف ہے جن کے مطابق حضرت عمر (رض) کی شہادت ذي الحج کے آخری ایام میں بیان ہوئی ہے، اور پھر محشى نے ان اقوال میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آپ کی شہادت یکم محرم کو ہوئی ...
حضرت عمر رضی اللہ عنہا کی شہادت کی تاریح پراعتراض کا جواب
اعتراض: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کی شہادت ١ محرم کو نہیں ہوئی بلکہ سنی کتابیں ٢٦ زل حج ٢٣ ہجری کو بتاتی ہیں
حوالہ جات ہیں
طبقات ابن سعد جلد ٣ صفحہ ١٤٧
تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥
تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤
تاریخ الماسودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠
تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩
جواب:
پہلا حوالہ طبقات ابن سعد (ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی۔ دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمر کی عمر کے متعلق مختلف اقوال۔ پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ والی روایت نہایت کمزور ہے
دوسرا حوالہ تاریخ طبری (ج 3 ص 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے جو کہ شیعہ ذاکر کے ثبوت کی نفی کرتا ہے۔ اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔ دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم کا بتایا ہے۔ تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے۔ چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا۔ پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے
تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے۔ ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے۔ اگرچہ یہ بھی نہایت ہی کمزور قول ہے لیکن بہرحال شیعہ ذاکر کی دی ہوئی تاریخ سے تو مختلف ہے
چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں۔
پانچواں حوالہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام کا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ کم و بیش تقریبا ہر مورخ نے ہی ان پر ابولولو فیروز کے حملہ کرنے سے شہادت کے دن تک کا درمیانی حصہ تین یا چار دن ذکر کیا ہے۔ ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ حضرت عمر رض پر حملہ 26 یا 27 ذی الحجہ کو ہوا اور ان کی شہادت اس واقعہ کے تیسرے یا چوتھے دن بعد 1 محرم الحرام کو ہوئی اور حجرہ عائشہ میں اسی روز دفن ہوئے۔ اس بارے میں حافظ ابن کثیر کی صراحت اصح ہے۔ واللہ سبحان وتعالی اعلم
#تحقیق_تاریخ_شہادت_سیدنا_عمر_رضی_اللہ_عنہ
کسی کی تاریخ ولادت یا شہادت میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کچھ لوگ اسے بغض اہلبیت بتا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اہلسنت والجماعت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل شہادت تاریخ بدل دی اور وہ اس لئے کہ انہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اور اصل تاریخ یکم محرم نہیں بلکہ 26 ذی الحج ہے۔ اور اس پر ایک پوسٹر بنا کر جگہ جگہ پوسٹ کرتے پھر رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شھادت محرم میں نہیں بلکہ ذی الحج کے مہینے میں ہے۔ سب سے پہلے تو ان روایت کا حال دیکھ لیں۔
🔴حوالہ جات کی حقیقت:🔴
♦1۔پہلا حوالہ طبقات ابن سعد (ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی۔ دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمر کی عمر کے متعلق مختلف اقوال۔ پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ والی روایت نہایت کمزور ہے۔
♦2۔دوسرا حوالہ تاریخ طبری (ج 3 ص 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے جو کہ آپ کی بت کے بھی خلاف ہے۔ اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔ دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم کا بتایا ہے۔ تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے۔ چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا۔ پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے۔
♦3۔تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے۔ ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے۔ اگرچہ یہ بھی نہایت ہی کمزور قول ہے لیکن بہرحال آپکی بتائی ہوئی تاریخ کے سے تو مختلف ہے.
♦4۔چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں۔
♦5۔پانچواں حوالہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام کا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ کم و بیش تقریبا ہر مورخ نے ہی ان پر ابو لولو فیروز کے حملہ کرنے سے شہادت کے دن تک کا درمیانی حصہ تین یا چار دن ذکر کیا ہے۔ ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ حضرت عمر پر حملہ 26 یا 27 ذی الحجہ کو ہوا اور ان کی شہادت اس واقعہ کے تیسرے یا چوتھے دن بعد 1 محرم الحرام کو ہوئی اور حجرہ عائشہ میں اسی روز دفن ہوئے۔ اس بارے میں حافظ ابن کثیر کی صراحت اصح ہے۔اگر کوئی قول 26 ذی الحج کا مل بھی جائے تو بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں اقوال ملتے ہیں پر مشھور قول جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ امام ابن کثیر اور دیگر آئمہ اہلسنت کے نزدیک یکم محرم ہی ہے۔
* اعتراض :*******************
ایک دوست نے ان بکس میں سوال کیا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات غلط مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی الله عنه کی شہادت یکم محرم الحرام کو ہوئی ... یہ در اصل دشمنان اہل بیت کی طرف سے پھیلایا گیا ہے جھوٹ ہے ..
جواب :
سر دست تین حوالے پیش خدمت ہیں .. جنکے اندر صاف طور پر ذکر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کی وفات محرم کی پہلی تاریخ کو ہوئی تھی ... اور یہی بات مشہور ہے ...
🔹حواله نمبر 1:
ابن اثير جزرى اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ "حضرت عمر رضي الله عنه کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا " ۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة ، ج 4 ص 166)
نوٹ: ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ "والاول اصح ما قيل في عمر" کہ پہلی بات جو حضرت عمر رض کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)
🔹حواله نمبر 2:
ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ "ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضي الله عنه حملے میں زخمی کیے گئے ، اسکے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی" (تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابن عساكر ،ج 44 ص 478)
🔹 حواله نمبر 3:
"حضرت عبدالله بن زبير رضي الله عنه سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضي الله عنه کو بروز بدھ جب ذو الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپ تین دن تک زندہ رہے پھر اسکے بعد آپ کی وفات ہوئی" (كتاب المحن ، صفحه 66)
ایک عجوبہ :
میں اسی موضوع پر تحقیق کرتے کہ حضرت عمر رضي الله عنه کی وفات کس تاریخ کو ہوئی تو ایک كتاب میں یہ الفاظ ملے ..کتاب کا مصنف "رافضی" ہے اور متشدد قسم کا رافضی ہے ... نام ہے "نعمت الله جزائرى" لکھتا ہے کہ :
"دوسرے کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا" (دوسرے مراد خلیفہ دوم ہیں) (الانوار النعمانية ، جلد 1 صفحه 84)
اور اس پر مزید مزے کی بات یہ ملی کہ اس کتاب پر حاشیہ میں یہ لکھا گیا کہ "قتل عمر في اليوم التاسع منه كان مشهوراً بين الشيعة" یہ بات شيعه میں مشھور تھی کہ حضرت عمر (رض) کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا تھا۔۔
اعتراض: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کی شہادت ١ محرم کو نہیں ہوئی بلکہ سنی کتابیں ٢٦ذی الحج ٢٣ ہجری کو بتاتی ہیں
کسی کی تاریخ ولادت یا شھادت میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن شیعہ حضرات اسے بغض اہلبیت بتا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اہلسنت والجماعت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل شھادت تاریخ بدل دی اور وہ اس لئے کہ انہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کرنا ہے اور اصل تاریخ یکم محرم نہیں بلکہ 26 ذی الحج ہے۔
اس پر ایک پوسٹر بنا کر جگہ جگہ پوسٹ کرتے پھر رہے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شھادت محرم میں نہیں بلکہ ذی الحج کے مہینے میں ہوئی ہے۔
سب سے پہلے تو ان روایت کا حال دیکھ لیں۔
حوالہ جات کی حقیقت:
1️⃣ طبقات ابن سعد جلد ٣ صفحہ ١٤٧
2️⃣ تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥
3️⃣ تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤
4️⃣ تاریخ المسعودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠
5️⃣ تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩
1️⃣ طبقات ابن سعد جلد ٣ صفحہ ١٤٧
پہلا حوالہ طبقات ابن سعد (ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی۔
دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمرفارق کی عمر کے متعلق مختلف اقوال۔
پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ والی روایت نہایت کمزور ہے۔
2️⃣ تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥
دوسرا حوالہ تاریخ طبری (ج 3 ص 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔
امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔
دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم کا بتایا ہے۔
تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے۔
چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا۔
پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے۔
3️⃣ تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤
۔تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے۔
ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے۔
4️⃣ تاریخ المسعودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠
۔چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں۔
مسعودی شیعہ تھا ثبوت دیکھیں
5️⃣ تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩
پانچواں حوالہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام کا ہے۔
کچھ مزید روایات
امور مؤرخ ،اور جرح و تعدیل کے مستند امام شمس الدین الذہبی اپنی بے مثال کتاب ’’ تذهيب تهذيب الكمال فی اسماء الرجال ‘‘میں لکھتے ہیں کہ:
Comments
Post a Comment