RADD E SHIYAIYAT
ماتم کی حرمت پر فقہ جعفریہ کی معتبر کتابوں سے چند روایات پیش خدمت ہیں*
”امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ یقینا صبر اور آزمائش دونوں مومن پر آتے ہیں۔ مومن پر جب آزمائش آتی ہے تو وہ صبر کرنے والا ہوتا ہے اور بے صبری اور آزمائش دونوں کافر پر آتے ہیں جب اس پر آزمائش آتی ہے تو وہ بے صبری کرتا ہے۔”
(فروع کافی، کتاب الجنائز جلد 1 ص 131۔مراة العقول جلد 14 ص183)
امام جعفر صادق کے اس فتویٰ سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والا مومن ہے اور جو بے صبری کرتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنھا سے فرمایا جب میں مر جائوں تو مجھ پر چہرہ نہ نوچنا اور نہ مجھ پر اپنے بال بکھیرنا اور نہ واویلا کرنا اور نہ مجھ پر نوحہ کرنا۔”
(فروع کافی ، کتاب النکاح ، ص۲۲۸)
”امام جعفر صادق نے فرمایا میت پر چیخ و پکار اور کپڑے پھاڑنا جائز نہیں۔”
(فروع کافی۱۸۸/۱)
کربلا میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت
یااختاہ اتقی اﷲ وتعزی بعزاء اﷲ واعلمی ان اہل الارض یموتون واہل السماء لایبقون جدی خیر منی وابی خیر منی وامی خیر منی واخی خیر منی ولی ولکل مسلم برسول اﷲﷺ اسوۃ فعزاً مابہذا ونحوہ وقال لہا یا اخیۃ انی اقسمت علیک فابری قسمی لاتشقی علی جیباً ولا تخمشی علی وجہا ولاتدعی علی بالویل والثبور اذا اناہلکت
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کربلا میں اپنی بہن سیدہ زینب کو وصیت کی فرمایا۔ اے پیاری بہن!
ﷲ سے ڈرنا اور اﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا، خوب سمجھ لو۔ تمام اہل زمین مرجائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے، میرے نانا، میرے بابا، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول اﷲﷺ کی زندگی اورآپ کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔
(الارشاد للشیخ مفید ص 232، فی مکالمۃ الحسین مع اختہ زینب، اعلام الوریٰ ص 236)
( امرالامام اختہ زینب بالصبر، جلاء العیون جلد 2، ص 553
فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران، )
(اخبار ماتم ص 399)
ملا باقر مجلسی بھی لکھتے ہیں:
کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن زینب کو وصیت فرمائی، اے میری معزز! بہن میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقاء میں رحلت کرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا، چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا
(جلاء العیون جلد 2، ص 553، فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)
”امام باقر نے فرمایا ، جس نے قبر کی تجدید کی یا کوئی شبیہ بنائی ، وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔”
(من لا یحضر ة الفقیۃ باب النوادر)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رخسار ہر گز نہ پیٹنا اور نہ ہی چہرہ نوچنا اور نہ بال اکھیڑنا اور نہ گریبان چاک کرنا اور نہ کپڑے سیاہ کرنا اور نہ واویلا کرنا۔”
(فروع کافی، کتاب النکاح ص۲۲۸)
امام جعفر صادقؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ رانوں پر مارنا اسکے اجروثواب کو ضائع کر دیتا ہے ۔‘‘
(من لایحضرہالفقیہ،کتاب الجنائز ، باب الصبر والجزع ص 224)
حضور ﷺ کی اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ بروقتِ مصیبت رانوں پر ہاتھ مارنے سے اجروثواب ضائع ہو جاتا ہے تو جو شخص زنجیر زنی ، سینہ کوبی اور بال نوچنے میں مصروف ہو اس کے اجروثواب کا ضیاع تو ہو گا ہی ساتھ ہی نامہ اعمال میں برائیوں کا اضافہ بھی ہو گا ۔
حضور ﷺ نے فرمایا ’’جس آدمی نے مصیبت پر صبر کیا اس کو اللہ تعالیٰ نے تین سو درجات عطا فرمائے ۔ ایسے درجات کہ ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان۔‘‘(اصولِ کافی ، ج2،کتاب الایمان والکفر ، باب الصبر ،جامع الاخبار ص 132)
جابر کہتے ہیں میں نے حضرت امام باقر سے جزع کے متعلق پوچھا یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: شدید جزع یہ ہے کہ کوئی شخص ویل عویل الفاظ چیخ کر نکالے اور اپنے چہرے کو پیٹے ، پیشانی کے بال نوچے اور جس نے نوحہ کیا اس نے صبر کو چھوڑا اور صحیح طریقہ کو چھوڑ کر دوسری راہ چل پڑا اور جس نے صبر کیا اور بوقتِ مصیبت اس طرح استر جاع (انا للہ وانا الیہ راجعون) کہا اور اللہ کی حمد بیان کی ۔ تو اس نے اللہ کو راضی کر لیا اس کا اجر اللہ کے حضور ہے ۔ اور جو بوقتِ مصیبت ایسا نہ کرے گا اس پر حکم خداوندی ہو کر رہے گا ۔ لیکن وہ قابلِ مذمت ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ثواب و اجر ضائع کر دیا ۔ ‘‘(تہذیب الاحکام ج 3ص222،کتاب الجنائز)
امام جعفر صادقؓ نے فرمایا:
’’ صبر کا ایمان کے ساتھ ایسا تعلق ہے جیسا جسمِ انسانی کے ساتھ سر کا ۔ جب سر نہ رہے تو جسم نہیں رہتا اور جب صبر نہ رہے تو ایمان نہیں رہتا ۔ ‘‘(اصول کافی ، ج 2ص 28،کتاب الایمان والکفر ، باب الصبر)
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ :
’’صبر کا نزول مصیبت کی مقدار پر ہوتا ہے ۔(یعنی جتنی بڑی مصیبت آتی ہے اتنا ہی صبر درکار ہوتا ہے) جس نے بوقتِ مصیبت اپنی رانوں پر ہاتھ مارے تو اس کے تمام اچھے اعمال ضائع ہو گئے ۔ ‘‘(نہج البلاغہ ص 495،باب المختار من حکم امیر المومنین علیہ السلام ، حکم 134)
فرمان شیر خداؓ ۔
’’جب آپ جناب رسول اللہ ﷺ کو غسل دے کر کفنانے لگے تو فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی وفات سے نبوت، وحی ، آسمان کی خبریں منقطع ہو گئیں جو کہ آپ کے غیر کے مرنے سے نہ ہوئیں تھیں آپ ہیبت پہنچانے پر مخصوص ہوئے حتیٰ کہ اپنے غیر کی ہیبت سے ہمیں مطمن کر دیا آپ کی وفات سے جو مصیبت ہم پر پڑ رہی ہے دوسرے کی موت میں یہ رنج و اندوہ کہاں آپ کی ہیبت ایک عام ہیبت ہے حتیٰ کہ لوگ آپ کی ہیبت سے یکساں و یکسر ہو رہے ہیں اور اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے جزع و فزع سے منع نہ فرماتے تو ہم اس مصیبت پر اشک کا پانی انتہا کو پہنچا دیتے آنکھ اور دماغ کی تمام رطوبتیں قربان کر دیتے ۔
‘‘(ترجمہ نیرنگ فصاحت ص 375)(شرح نہج البلاغہ لابن میثم شیعہ، ج 4، ص 409، مطبوعہ قدیم ایران)
علی رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت (یعنی زمانہ کفر) کی چار چیزیں ہیں کہ لوگ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ ایک اپنے حسب پر فخر کرنا۔ دوسرا ایک دوسرے کے نسب پر طعن کرنا۔ تیسرے تاروں سے بارش کی امید رکھنا اور چوتھے یہ کہ نوحہ کرنا( بین کر کے رونا)۔ اور نوحہ کرنے والا اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس پر گندھک اور خارش (لگانے) والی قمیض ہو گی۔
(کتاب الخصائل جلد اول ص 226)
(وسائل الشیعہ جلد 17 ص 129)
ان احکامات کی روشنی میں کوئی بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ مروجہ ماتم آئمہ اہلبیت کے نزدیک ممنوع و حرام نہیں کیونکہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے واضح طور پر فرمایا کہ مروجہ ماتم اگر جائز ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے کیونکہ دنیا کی تمام مصیبتیں اگر یکجا کر دی جائیں تو مجموعی طور پر رسول اللہ ﷺ کی وصال کی مصیبت کے ہم پلہ نہیں ہو سکتیں لہٰذا اگر کسی مصیبت پر جز و فزع (مروجہ ماتم) جائز ہوتا تو حضرت علیؓ حضورﷺ کے وصال کے وقت ضرور ماتم کرتے ۔ لہٰذا ہماری شیعہ حضرات سے التماس ہے کہ اگر آپ کو اہل بیت سے واقعی محبت ہے تو ان سے محبت کا حق اُن کے احکامات پر عمل کر کے ادا کریں اُن کے خلاف چل کر محبت کے جھوٹے دعوے کر کے اپنی آخرت برباد نہ کریں ۔
*مندرجہ ذیل فقہ جعفریہ کی روایات سے معلوم ہوا کہ فقہ جعفریہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، امام باقر اور امام جعفر صادق وغیرہ سے روایات موجود ہیں جو اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ مصیبت کے وقت بال بکھیرنا ، چہرے پیٹنا ، سینہ کوبی کرنا، واویلا کرنا، مرثیے پڑھنا ، شبیہیں بنانا ، قبروں کی تجدید کرنا ناجائز اور حرام ہیں۔ لہٰذا پنج تن کا نعرہ لگانے والوں کو مذکورہ بالا فقہ جعفریہ کے دلائل کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے باز آجانا چاہیے*
معلوم ہوا کہ ماہ محرم میں ماتم، نوحہ خوانی، زنجیرزنی اور تعزیہ وغیرہ جیسی غیراسلامی رسومات روافض کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہیں، اسلام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے،
وما علينا إلا البلاغ المبين ۔ !!
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
*مروجہ تعزیہ داری ناجائز و حرام ہے، حوالے ملاحظہ فرمائیں:*
(1) فتاوی عزیزی، ص184 (2) ایضاً، ص186 (3) ایضاً، ص188 (4) ایضاً، ص189 (5) فتاوی رضویہ، ج29، ص238 (6) ایضاً، ج24، ص142 (7) ایضاً، ص145 (8) ایضاً، ص490 (9) ایضاً، ص493 (10) ایضاً، ص498 (11) ایضاً، ص499 (12) ایضاً، ص500 (13) ایضاً، ص501 (14) ایضاً، ص502 (15) ایضاً، ص503 (16) ایضاً، ص504 (17) ایضاً، ص505 (18) ایضاً، ص507 (19) ایضاً، ص508 (20) ایضاً، ص513 (21) ایضاً، ص525 (22) ایضاً، ص558 (23) ایضاً، ج21، ص168 (24) ایضاً، ص221 (25) ایضاً، ص246 (26) ایضاً، ص247 (27) ایضاً، ص423 (28) ایضاً، ج16، ص121 (29) ایضاً، ص155 (30) ایضاً، ج15، ص263 (31) ایضاً، ج8، ص455 (32) ایضاً، ج6، ص442 (33) ایضاً، ص608 (34) فتاوی شرعیہ، ج2، ص612 (35) ایضاً، ج2، ص442 (36) فتاوی بحر العلوم، ج1، ص188 (37) ایضاً، ص320 (38) ایضاً، ج4، ص293 (39) ایضاً، ج5، ص238 (40) ایضاً، ص247 (41) ایضاً، ص268 (42) ایضاً، ص301 (43) ایضاً، ص442 (44) ایضاً، ص443 (45) ایضاً، ص452 (46) ایضاً، ص453 (47) ایضاً، ص456 (48) ایضاً، ج6، ص173 (49) فتاوی دیداریہ، ص120 (50) ایضاً، ص132 (51) فتاوی مفتی اعظم راجستھان، ص135 (52) فتاوی خلیلیہ، ج1، ص79 (53) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (54) ایضاً، ص42 (55) ایضاً، ص68 (56) ایضاً، ص83 (57) ایضاً، ص105 (58) ایضاً، ص128 (59) ایضاً، ص88 (60) فتاوی شارح بخاری، ج2، ص454 (61) فتاوی ضیاء العلوم، ص39 (62) فتاوی ملک العلماء، ص463 (63) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (64) فتاوی فقیہ ملت، ج1، ص54 (65) ایضاً، ج2، ص155 (66) کیا آپ کو معلوم ہے، ح1، ص215 (67) فتاوی مسعودی، ص83 (68) فتاوی نعیمیہ، ص55 (69) فتاوی اویسیہ، ص464 (70) فتاوی تاج الشریعہ، ج1، ص293 (71) ایضاً، ص427 (72) ایضاً، ج2، ص103 (73) ایضاً، ص341 (74) ایضاً، ص511 (75) ایضاً، ص561 (76) ایضاً، ص597 (77) ایضاً، ص619 (78) تعزیہ بازی (79) ملفوظات اعلی حضرت، ص286 (80) اعلی حضرت کے بعض نئے فتاوی، ص86 (81) فتاوی منظر اسلام نمبر، ص218 (82) ایضاً، ص219 (83) ایضاً، ص235 (84) ایضاً، ص237 (85) ایضاً، ص239 (86) ایضاً، ص246 (87) فتاوی رضا دار الیتامی، ص285 (88) عرفان شریعت، ص10 (89) فتاوی شرعیہ، ج3، ص272 (90) ایضاً، ص531 (91) فتاوی امجدیہ، ج4، ص167 (92) ایضاً، ص185 (93) ایضاً، ص206 (94) تعزیہ اور ماتم (95) تعزیہ علماے اہل سنت کی نظر میں (96) رسومات محرم اور تعزیہ داری (97) مروجہ تعزیہ داری کا شرعی حکم (98) بہار شریعت، ح16 (99) خطبات محرم، ص464 (100) محرم میں کیا جائز کیا ناجائز (101) محرم الحرام کے بارے میں 50 سوالات اور علماے اہل سنت کے جوابات (102) ماہ محرم اور بدعات (103) قانون شریعت (104) فتاوی فیض الرسول، ج1، ص247 (105) ایضاً، ص249 (106) ایضاً، ص250 (107) فتاوی فیض الرسول، ج2، ص518 (108) ایضاً، ص533 (109) ص563 (110) ایضاً، ص646
Comments
Post a Comment