Ahkaam e Namaz

الجواب
فرض کی تعریف
جسکا ثبوت دلیل قطعی سے ہو اور اسکو چھوڑنے سے عمل ہی نہ ہوسکے,
نماز میں چھ چیزیں فرائض ہیں 
(1)تکبیر تحریمہ
(2)قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے۔
(3) قراءۃ (تلاوت کرنا)
(4)رکوع
(5)سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔
(6) قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔
(7)خروج بصنعہ ,یعنی سلام پھیرنا

1: واجبات نماز سے کیا مراد ہے؟
جواب :واجبات جمع ہے واجب کی اور واجبات نماز ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کا ادا کرنا نماز میں ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کوئی چیز بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدئہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جائے گی اور بھولے سے چھوٹ جانے سے سجدئہ سہو نہ کیا یا جان بوجھ کر کسی واجب کو چھوڑ دیا تو نماز کا داہران واجب ہوتا ہے۔
 واجبات نماز کتنے ہیں؟
جواب :واجبات نماز26 ہیں:
1 تکبیر تحریمہ میں لفظ اللہ اکبر کہنا۔
2۔ الحمد شریف پڑھنا۔
3۔ فرض نماز کی پہلی دو رکعت میں اور واجب و سنت و نفل کی ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ایک چھوٹی سورت یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا۔
4۔ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کو قرات کے لیے مقرر کرنا۔
5۔ الحمد شریف کا سورت سے پہلے ہونا۔ 
6۔ قرات سے فارغ ہوتے ہی رکوع کرنا۔
7-ایک سجدہ کے بعد دوسرا سجدہ کرنا۔
8- تعدیل ارکان، یعنی رکوع، سجود، قومہ، قعود اور جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا
9۔ قومہ، یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔
10۔ جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا۔
11۔ قعدئہ اولیٰ یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دور کعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا، اگرچہ نماز نفل ہو۔ 
12- دونوں قعدوں میں پورا تشہد پڑھنا۔
13-لفظِ السلام دوبار کہنا۔ 
14وتر میں دعا ئے قنو ت پڑھنا اور تکبیر قنوت کہنا۔
15-عید الفطر اور عید اضحےٰ کی ہر چھ تکبیر یں کہنا اور ان میں دوسری رکعت کی تکبیر رکوع اور اس تکبیر کے لیے لفظ اللہ اکبر ہونا بھی واجب ہے۔
16۔ ہر جہری نماز (فجر، مغرب، عشاء، جمعہ، عیدین ، تراویح اور وتر رمضان) میں امام کا آواز سے قرات کرنا اور غیر جہری نمازوں (ظہر، عصر وغیرہ) میں امام کا آہستہ پڑھنا۔
17۔ امام جب قرات کرے بلند آواز سے ہو خواہ آہستہ اس وقت مقتدی کا چپ رہنا۔
18۔ قرات کے سوا تمام واجبات میں امام کی پیروی کرنا۔
19۔ آیت سجدہ پڑھی ہو تو سجدئہ تلاوت کرنا۔ 
20۔ نماز میں سہو ہوا ہو تو سجدئہ سہو کرنا۔
21۔ ہر واجب و فرض کا اس کی جگہ پر ہونا۔ 
22- رکوع کا ہر رکعت میں ایک ہی بار ہونا۔
23۔ سجود کا ہر رکعت میںدو ہی بار ہونا۔
24۔ فرض، وتر اور سنت موکدہ میں قعد اولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا۔
25۔ دوسری رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا اور چار رکعت والی نماز میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا۔
26۔ دو فرض یا دو واجب یا واجب و فرض کے درمیان تین تسبیح کی مقدار وقفہ نہ ہونا۔

 سنن نماز سے کیا مراد ہے؟
جواب ::سنن جمع ہے سنت کی اور نماز کی سنتیں وہ چیزیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ ان کی تاکید فرض اور واجب کے برابر نہیں۔ اسی لیے نماز میں اگر کوئی سنت چھوٹ جائے تو نماز ہو جاتی ہے اور سجدئہ سہوواجب نہیں ہوتا۔ مگر جان بوجھ کر کسی سنت کو چھوڑدینا بہت بری بات ہے اور کسی سنت کی توہین سخت گناہ بلکہ کفر ہے۔

نماز میں کتنی سنتیں ہیں؟
جواب : نماز میں انتیس سنتیں ہیں:
(1) تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانا ۔ 
(2) ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کشادہ اور قبلہ رخ رکھنا۔ (3)بوقت تکبیر سر نہ جھکانا (4)تکبیر سے پہلے ہاتھ کا اٹھانا، یونہی تکبیر قنوت اور تکبیرات عیدین میںکافی کانوں تک ہاتھ لے جانے کے بعد تکبیر کہے اور ان کے علاوہ کسی جگہ نماز میں ہاتھ اٹھانا سنت نہیں ہے۔ 
(5) امام کا بقدر حاجت بلند آواز سے اللہ اکبرا ور سمع اللہ لمن حمد ہٗ ۔ اور سلام اور دوسری تکبیریں کہنا۔ 
(6) بعد تکبیر فوراً ناف کے نیچے ہاتھ باندھ لینا 
(7) ثناء یعنی سبحٰنک اللھم پڑھنا۔
(8) تعوذ، یعنی اعوز باللہ من الشےٰطن الرجیم پڑھنا۔(9) سورئہ فاتحہ کے ختم پر آمین کہنا۔ 
(10) ان سب کا آہستہ ہونا 
(11) فرض کی پچھلی دو رکعتوں میں صرف الحمد شریف پڑھنا 
(12) رکوع کو جاتے وقت اللہ اکبر کہنا ۔ 
(13) رکوع میں کم از کم تین بار تسبیح یعن سبحان ربی العظیم پڑھنا۔ 
(14) رکوع میں گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑ نا اور انگلیاں خوب کھلی رکھنا ۔ 
(15) رکوع سے اٹھنے میں امام کے لیے سمع اللہ لمن حمد ہٗکہنا اور مقتدی کے لیے ربنا لک الحمد کہنااور منفرد کے لیے تسمیع و تحمید دونوں کہنا, 
(16) رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں رکھنا 
(17) سجدہ کے لیے اور سجدہ سے اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنا (18) سجدہ میں جاتے وقت زمین پر پہلے گھٹنے رکھنا پھر ہاتھ پھر ناک پھر ہاتھ پیشانی اور جب سجدہ سے اٹھے تو پہلے پیشانی اٹھائے پھر ناک اور پھر پیشانی اور جب سجدہ سے اٹھے تو پہلے پیشانی اٹھائے پھر ناک پھر ہاتھ پھر گھٹنے 
(19)سجدہ میں کم از کم تین بار سبحٰن ربی الا علیٰکہنا۔ 
(20) سجدہ اس طرح کرنا کہ بازو کروٹوں سے جدا ہوں اور پیٹ رانوں سے اور کلائیاں زمین سے مگر جب صف میںہو تو بازو کروٹوں سے جدا نہ ہوں گے۔ (21) دونوں سجدوں کے درمیان مثل تشہد کے بیٹھنا یعنی بایاں قدم بچھانا اور داہنا کھڑا رکھنا اور ہاتھوں کا رانوں پر رکھنا۔ (22) سجدوں میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی قبلہ رو ہونا اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کا قبلہ رو ہونااور یہ جب ہی ہوگا کہ انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگے ہوں۔ 
(23) دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر دونوں سر ین اس پر رکھ کر بیٹھنا اور داہنا قدم کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رخ رہیں اور ہاتھ کی انگلیوں کو ان کی حالت پر چھوڑنا یوں کہ ان کے کنارے گھٹنوں کے پاس رہیں۔ (24) کلمہ شہادت پر اشارہ کرنا، یوں کہ چھنگلی اور اس کے پاس والی کو بند کرے، انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ باندھے اور لا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے اور الا پر رکھ دے اور سب انگلیاں سیدھی کر لے۔ (25) بعد تشہد دوسرے قعدہ میں درود شریف پڑھنا اور نوافل کے قعدئہ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھنا مسنون ہے۔ 
(26) درود شریف کے بعد اپنے اور اپنے والدین اور مسلمان استادوں اور عام مسلمانوں کے لیے دعا کرنا ۔ 
(27) پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا ۔
(28) السلام علیکم ورحمتہ اللہ دوبار کہنا ۔ 
(29) ہر طرف کے سلام میں اس طرف کے مقتدیوں اور کراماً کا تبین اور ان فرشتوں کی نیت کرنا جو اس کی حفاظت پر مقرر ہیں۔

 نماز کے مستحبات کیا کیا ہیں؟
جواب :وہ باتیں جن کے بجالانے سے نماز میں حسن وخوبی آجاتی ہے مستحبات نماز کہلاتی ہیں مثلاً:
(1) قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنا اور رکوع میں قدموں کی پیٹھ پر اور قعدہ اور جلسہ میں اپنی گود کی طرف اور سجدہ میں ناک کی طرف اور سلام کے وقت اپنے کاندھوں پر نظر رکھنا۔ 
(2) جماہی آئے تو منہ بند کئے رہنا اور نہ رکے تو ہونٹ دانت کے نیچے دبائے اور اس سے بھی نہ رکے تو قیام کی حالت میں داہنے ہاتھ کی پشت سے منہ ڈھانک لے اور باقی حالتوں میں بائیں کی پشت سے، اور جماہی روکنے کا مجرب طریقہ یہ ہے کہ دل میں خیال کرے کہ انبیاء علیہم السلام کو جماہی نہیں آتی تھی۔
(3) کھانسی کو اپنی طاقت بھر نہ آنے دینا ۔
(4) مرد کے تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کپڑے سے باہر نکالنا ۔ (5) جب تکبیر کہنے والا حی علی الفلاح کہے تو امام و مقتدی سب کا کھڑا ہو جانا اور آج کل جو اکثر جگہ یہ رواج پڑ گیا ہے کہ اقامت کے وقت سب لوگ کھڑے رہتے ہیں بلکہ جب تک امام مصلے پر کھڑا نہ ہو اس وقت تک تکبیر نہیں کہی جاتی یہ خلاف سنت ہے۔ 
(6) دونوں پنجوں کے درمیان قیام میں چار انگل کا فاصلہ ہونا۔مقتدی کا امام کے ساتھ نماز شروع کرنا۔
واللہ اعلم بالصواب
مفتی محمدسفیان رضوی
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
الجواب
مرد و عورت کی نماز میں اصولی فرق ستر اور پردے کا ہے، جیساکہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے، لہٰذا عورت کے حق میں مختلف ارکان کی ادائیگی میں زیادہ ستر (پردے) کا خیال رکھا گیاہے، مرد اور عورت کی نماز کے درمیان فرق درج ذیل ہیں:

1-  پہلا فرق تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کے اٹھانے کی ہیئت میں ہے:

جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرد تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائیں گے جب کہ خواتین کے لیے سینے تک ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے۔
المعجم الکبیر للطبرانی: جلد9صفحہ144حدیث نمبر17497، مجمع الزوائد: ج9 ص624 حدیث نمبر1605، البدر المنير لابن الملقن:جلد3صفحہ463میںحضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
 میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (درمیان میں طویل عبارت ہے، اس میں ہے کہ) آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔ اورمصنف ابن أبي شیبة: جلد1صفحہ270باب في المرأة إذَا افْتَتَحَتِ الصَّلاَةَ ، إلَى أَيْنَ تَرْفَعُ يَدَيْهَامیں حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ
 عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے؟فرمایا : اپنے سینے تک۔
🌹نتیجہ🌹

ان دو روایات سے عورت کے لیے ہاتھوں کو کندھے اور سینہ تک اٹھانے کا تذکرہ موجود ہے۔ لہٰذا عورت اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے گی کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں تک اور ہتھیلیاں سینہ کے برابر آجائیں۔ اس فرق کی عقلی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ہاتھ اٹھانے میں زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے، جو عورت کے حق میں عین مطلوب ہے۔

2-  دوسرا فرق قیام میں ہاتھ باندھنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھا مستحب ہے، اگرچہ فقہاء میں اس حوالے سے اختلاف بھی ہے، تاہم خواتین کے حوالہ سے تمام اہلِ علم کا اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی اور اجماع مستقل دلیل شرعی ہے۔مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: صفحہ
153میں ہے
 عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔


3-  تیسرا فرق رکوع کی ہیئت میں ہے کہ مرد رکوع میں اپنے بازو اپنے پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین اپنے بازؤں کو پہلو سے جدا نہیں کریں گی۔
مصنف عبدالرزاق جلد3صفحہ50حدیث نمبر5983میں حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ
عورت سمٹ کر رکوع کرے گی، اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف ملائے گی، جتنا سمٹ سکتی ہو سمٹ جائے گی۔
الفتاویٰ الهندیة جلد1صفحہ74میں ہےکہ
 عورت رکوع میں کسی قدر جھکے گی،گھٹنوں کو مضبوطی سے نہیں پکڑے گی،اپنی انگلیوں کو کشادہ نہیں کرے گی، البتہ ہاتھوں کو ملا کر اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھے گی، گھٹنوں کو قدرے ٹیڑھا کرے گی اور اپنے بازو جسم سے دور نہ رکھے گی۔


4-  چوتھا فرق سجدہ کرنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد سجدے میں بازو کو پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہیں کریں گی، بلکہ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی۔
 مراسیل أبي داؤد: صفحہ103 باب مِنَ الصَّلاةِ، السنن الکبری للبیهقي: جلد2صفحہ223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَة میں ہے کہ حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے
 حضور صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں،  آپ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو؛  کیوں کہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
اور
الکامل لابن عدي جلد 2صفحہ501، رقم الترجمة 399 ،السنن الکبری للبیهقي جلد2 صفحہ223 باب ما یستحب للمرأة الخ،جامع الأحادیث للسیوطي جلد 3صفحہ43 حدیث نمبر 1759میں ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
السنن الکبریٰ لکبری جلد 2صفحہ222.223 باب ما یستحب للمرأة.میں ہے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ سجدے میں (اپنی رانوں کو پیٹ سے) جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ خوب سمٹ کر (یعنی رانوں کو پیٹ سے ملا کر) سجدہ کریں۔
اور
مصنف عبدالرزاق جلد 3صفحہ49 باب تکبیرة میں ہے کہ حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو جہاں تک ہوسکے سکڑ جائے اور اپنی کہنیاں پیٹ سے جدا نہ کرے؛ تاکہ اس کی پشت اونچی نہ ہو
اورمصنف ابن أبي شیبة: حدیث نمبر 2704میں ہےحضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے، جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔

5-پانچواں فرق سجدے سے اٹھ کر بیٹھنے کی ہیئت میں ہے  کہ عورت اپنے دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دے۔
الکامل لابن عدي جلد 2صفحہ501، رقم الترجمة 399 ،السنن الکبری للبیهقي جلد2 صفحہ223 باب ما یستحب للمرأة ... الخ،جامع الأحادیث للسیوطي جلد 3صفحہ43 حدیث نمبر 1759میں ہےکہ
 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
اورالسنن الکبری  التبویب الموضوعي للأحادیث صفحہ2639میں 
 صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چار زانو بیٹھیں۔جامع المسانید از محمد بن محمود خوارزمی جلد1صفحہ400، مسند أبي حنیفة روایة الحصكفي: حديث نمبر 114میں ہےکہ
 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں نماز کس طرح ادا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: پہلے توچہار زانوں ہو بیٹھتی تھیں، پھر ان کو حکم دیا گیا کہ دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر سرین کے بل بیٹھیں۔
اورمصنف ابن أبي شیبة جلد 2صفحہ505، المرأة کیف تکون في سجودها،حدیث نمبر 2794میں ہے

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے۔
واللہ اعلم بالصواب
مفتی محمدسفیان رضوی
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
*🌹چھ کلموں کا ثبوت🌹*
چھ کلموں میں سے شروع کے چار کلموں کے الفاظ تو بعینہا احادیث سے ثابت ہیں اور  پانچویں اور چھٹے کلمے کے الفاظ مختلف احادیث میں متفرق موجود ہیں اور ان کے الفاظ کو ان مختلف ادعیہ سے لیا گیا ہے جو کہ احادیث میں موجود ہیں۔ جب عقائد کی تدوین ہوئی تو اس زمانہ میں ان کے نام اور مروجہ ترتیب شروع ہوئی، تاکہ عوام کے عقائد درست ہوں اور اُن کو یاد کرکے ان مواقع میں پڑھنا آسان ہوجائے جن مواقع پر پڑھنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور اس پر جو فضائل بیان کیے ہیں وہ بھی حاصل ہوجائیں۔

پہلا  کلمہ ’’کنز العمال‘‘ اور ’’مستدرک حاکم‘‘ میں، دوسرا کلمہ ’’ابن ماجہ‘‘ اور ’’بخاری‘‘ میں ، تیسرا کلمہ ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ اور ’’ابن ماجہ‘‘ میں، چوتھا کلمہ ’’مصنف عبد الرزاق الصنعانی‘‘، ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘اور ’’ سنن ترمذی‘‘ میں موجود ہے اور بقیہ دو کلموں کے الفاظ متفرق مذکور ہیں۔

(منقول)
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
*🔸فاتحہ مع خلف الامام کا حکم؟🔸*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضور اگرکوئی شخص امام کے پیچھے امام کی قرأت کو دہراےتو کیا اسکی نمازہوگی؟؟ 

*🔸سائل حسر الدین کراکت🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه تعالٰی وبرکاته*

*الجواب اللھم ہدایت الحق والصواب*   
*وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ*
القرآن
اور جب قرآن پڑھا جائے خاموش کھڑے رہو اور کان لگاکر سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہری قراءت والی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا 
*هل قرا معی احد منکم انفا فقال رجل نعم يا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم، قال انی اقول مالی انازع القرآن قال فانتهی الناس عن القراة مع رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فيما جهر فيه، بالقراة عن الصلوة حين سمعوا ذلک من رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.*
*( 📕مالک، احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجه، بحواله مشکوٰة : 81)*
ابھی ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرآن پڑھا؟ ایک شخص نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فرمایا میں کہہ رہا تھا میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں ہو رہا ہے؟ کہا اس کے بعد جب لوگوں نے یہ بات جہری نمازوں کے بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن لی تو قراءت خلف الامام ترک کر دی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*ان المصلی يناجی ربه و لا يجهر بعضکم علی بعض بالقرآن.*
*(📘احمد بن حنبل، بحواله مشکوٰٰة 81)*
نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتاہے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کوئی آواز سے قرآن نہ پڑھے۔
سو اسے دیکھنا چاہیے کہ کیسی سرگوشی کر رہا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*انما جعل الامام ليوتم به فاذا کبر فکبروا و اذا قرا فانصتوا.*
*(📔ابو داؤد، نسائی، ابن ماجه، بحواله مشکوٰة 81)*

امام صرف اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ پھر جب تکبیر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآن پڑھے تو خاموش رہو۔

📌حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ رہے تھے
*فثقلت عليه القراءة، فلما فرغ قال لعلکم تقرؤن خلف امامکم قلنا نعم يا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم، قال لا تفعلوا الا بفاتحة الکتاب فانه لا صلوة لمن لم يقرا بها.*
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن پڑھنا دشوار ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا، شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرآن پڑھتے ہو؟ ہم نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فرمایا ایسا مت کرو

👌🏻مذکورہ حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مقتدی کو امام کی اقتداء میں خاموش رہنا چاھیے 
قرأت نہیں کرنی چاہیے 
جو شخص ایسا کرتاہے اسکی نماز مکروہ تحریمی ہوگی

*🔸واللہ اعلم بالصواب🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت مفتی محمد امین قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی قادری رضوی دارالافتاء دیوان بازار مراداباد یوپی*
*🗓 ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۹ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی محمد احمد نعیمی  صاحب قبلہ چترویدی نئی دہلی*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث.وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ