MAZARAAT KI HAZIRI KE AADAAB
📚مزارات کی حاضری کے صحیح آداب📚
✍🏻محمد یوسف رضا قادری رضوی الھندی✍🏻
https://chat.whatsapp.com/HiUBejzCII32xjlBeYOK7D
مزارات اولیاء کو چھونا.
قبروں پر ہاتھ رکھنے اور اولیاء کرام رحمھم اللہ السلام کی پاکیزہ أرواح والی جگہوں سے برکت حاصل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں"جامع الفتاوى" میں ہے قبروں پر ہاتھ رکھنا نہ تو سنت ہے اور نہ ہی مستحب مگر اس میں کوئی حرج نہیں.؛ (القنیہ ،کتاب السیر، باب فیما یتعلق بالمقابر الخ ص 227).
مزارات پر حاضری کے آداب.
مجدد اعظم فقیہ بے بدل امام اہل سنت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ الرحمن بزرگان دین کے مزارات پر حاضری کا طریقہ یوں بیان فرماتے ہیں:مزارات شریفہ پر حاضری ہونے میں پائینتی کی طرف سے جاے اور کم. از کم. چار ہاتھ کے فاصلہ پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز با ادب سلام عرض کرے :السلام علیک یا سیدی و رحمۃ اللہ و برکاتہ. پھر درود غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار، آیت الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورہ یاسین اور سورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرےعمل کے قابل ہے اور اسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لیے دُعا کرے اور صاحبِ مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے، پھر اسی طرح سلام کر کے واپس آئے. مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق نا جائز ہے اور سجدہ حرام ہے. (فتاویٰ رضویہ (مخرّجہ)...
الواقع بوسہ قبر میں علماء مختلف ہیں ، اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے کہ دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے او رمانع ادب ، تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے۔ اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے، ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو، پھر تقبیل کی کیا سبیل! عالمِ مدینہ علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ خلاصۃ الوفاء شریف میں جدارِ مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
فی کتاب العلل والمسؤلات لعبد اﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ علٰی الہٖ وسلم تبرك بمسہ وتقبیلہ ویفعل بالقبر مثل ذٰلك جاء ثواب اﷲ تعالٰی فقال لاباس بہ [1]۔
یعنی امام احمد بن حنبل کے صاحبزادہ امام عبداﷲ فرماتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کوئی شخص نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر کوچھوئے
اوربوسہ دے۔ اور ثواب الہٰی کی امید پر ایساہی قبر شریف کے ساتھ کرے، فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں۔(ت)
امام اجل تقی الملّۃ والدین علی بن عبد الکافی سبکی قدس سرہ الملکی شفاءُ السقام ، پھر سیدنورالدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحٰیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی بناتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایك صاحب کو دیکھا کہ مزار اعطر سید اطہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے لپٹے ہوئے ہیں اور قبر شریف پر اپنا مُنہ رکھے ہیں، مروان نے ان کی گردن پکڑ کرکہا جانتے ہو یہ تم کیا کررہے ہو، انھوں نے ا س کی طرف منہ کیا اور فرمایا:
نَعم اِنِّی لَمْ اٰتِ الْحَجَرَ انما جَئْتُ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سَمِعْتُ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذِا وَلِیَہۤ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیْہ غَیْرُ اَھْلَہٖ [2]۔
ہاں میں کسی پتھرکے پاس نہ آیا میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہواہوں ، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا، دین پر نہ رو جب اس کا والی اس کااہل ہو، ہاں دین پر رو جب نا اہل اس کا والی ہو۔
سید قدس سرہ فرماتے ہیں : رواہ احمد بسند حسن [3]امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔ نیز فرماتے ہیں:
روی ابن عساکر جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان بلا لارای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یابلال اما اٰن لك ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجعل یبکی
یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابود رداء ضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایك رات خواب دیکھا کہ حضورا قدس صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں: اے بلال !یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ ہماری زیارت کو حاضر ہو؟ بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ غمگین اور ڈرتے ہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئے، مزارِ پر انوار پر
عندہ ویمرغ وجہہ علیہ [1]۔
حاضرہو کر رونا شروع کیا اور منہ قبر شریف پر ملتے تھے۔
امام حافظ عبدالغنی وغیر ہ اکابر فرماتے ہیں :
لیس الاعتماد فی السفر للزیارۃ علی مجرد منامہ بل علٰی فعلہ ذٰلك والصحابۃ متوفرون ولاتخفی عنھم ھذہ القصۃ [2]۔
یعنی زیارت اقدس کے لیے شدالرحال کرنے میں ہم فقط خواب پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس پرکہ بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہ کیا اور صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بکثرت موجود تھے اور انھیں معلوم ہوا اور کسی نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔
عالمِ مدینہ (سیدنورالدین سمہودی علیہ الرحمۃ ) فرماتے ہیں:
ذکر الخطیب بن حملۃ ان بلالا رضی اﷲ تعالٰی عنہ وضع خدیہ علی القبر الشریف وان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا ن یضع یدہ الیمنی علیہ ثم قال ولا شك ان الاستغراق فی المحبۃ یحمل علی الاذن فی ذلك والقصد بہ التعظیم والناس تختلف مراتبھم کما فی الحٰیوۃ فمنھم من لا یملك نفسہ بل یباد رالیہ ومنھم من فیہ اناۃ فیتا خر اھ ونقل عن ابن ابی الصیف والمحب الطبری جواز تقبیل قبور الصالحین وعن اسمٰعیل التیمی قال کان ا بن المنکدریصیبہ الصمات فکان یقوم فیضع خدہ علٰی قبرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعوتب فی ذلك فقال انہ یستشفی بقبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [3]۔
یعنی خطیب بن حملہ نے ذکر کیاکہ بلال رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ نے قبر انور پر اپنے دونوں رخسارے رکھے اورابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما اپنا دہنا ہاتھ اس پر رکھتے، پھر کہا شك نہیں کہ محبت میں استغراق ا س میں اذن پر باعث ہوتا ہے اور اس سے تعظیم ہے، او رلوگوں کے مرتبے مختلف ہیں ، جیسے زندگی میں، تو کوئی بے اختیار انہ اس کی طرف سبقت کرتا ہے اور کسی میں تحمل ہے وہ پیچھے رہتا ہے، او رابن ابی الصیف اور امام محب طبری سے نقل کیا کہ مزارات اولیاء کو بوسہ دینا جائز ہے.
فتاویٰ رضویہ ج:9📚
مشکوٰۃ شریف، کتاب: کرامتوں کا بیان،
باب: نجاشی کی قبر پر نور،
ح 5877📚
https://www.facebook.com/muhammadhasnainraza.khan
عن عائشة قالت : لما مات النجاشي كنا نتحدث أنه لا يزال يرى على قبره نور . رواه أبو داود📚
ترجمہ:
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہمارے درمیان اس بات کا چرچا ہوتا تھا کہ نجاشی کی قبر پر ہمیشہ نور دکھائی دیتا ہے۔ (ابوداؤد )
تشریح
نجاشی سے مراد حبشہ کے دو بادشاہ ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت اپنے ملک کے حکمران تھے وہ پہلے دین نصرانیت (عیسائیت) کے پیرو تھے پھر آنحضرت ﷺ پر ایمان لا چکے اور سچے مسلمان بن گئے تھے، انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بڑی خدمت کی اور آنحضرت ﷺ کے دل میں اونچی جگہ بنائی، چناچہ جب حبشہ ہی میں ان کا انتقال ہوا اور آنحضرت ﷺ کی یہ خبر ملی تو آپ ﷺ نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مدینہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ ان کے انتقال کے بعد کا ذکر حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرما رہی ہیں کہ مدینہ میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ نجاشی کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، کیونکہ جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حبشہ آنا جانا ہوتا تھا وہ وہاں ان کی قبر دیکھ کر مدینہ میں آکر یہی بتاتے تھے اور چونکہ سب لوگوں کا کسی غلط بات پر متفق ہونا ممکن نہیں تھا اس لئے یہ بات خبر متواتر کے قریب کی ہے۔ رہی بات کہ نور دکھائی دینے سے کیا مراد ہے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نجاشی کی قبر پر نور کا اس طرح کھلی آنکھوں مشاہدہ ہوتا تھا جیسے کسی چراغ، چاند اور سورج کی روشنی دیکھی جاتی ہے، تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ نور دکھائی دینا دراصل اس نورانیت تازگی اور روحانی طمانیت کی تعبیر ہے جو اس قبر کی زیارت کرنے والے کو حاصل ہوئی تھی📚
Comments
Post a Comment