KYA TAWEEZ SHIRK HAI?
📚تعویز شرک نہیں📚
✍🏻تعویز گلے میں لٹکانا کیسا📚
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1250277718475958&id=254697614700645?sfnsn=wiwspmo&extid=IHX9CI3PB5IZWgWd&d=n&vh=i
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں““۔ ( یہ دعا پڑھنے سے ) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب ہے۔
✍🏻امام حاکم، حافظ ذھبی، امام بیہقی نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے۔
📚اور غیروں کے مقلد شیخ البانی نے اسے اپنی صحیح ترمذی میں نقل کیا ہے اور شیخ احمد شاکر نے کہا اسکی سند صحیح ہے📚
📚 *Ta'weez Pahenne Ka Saboot Sahaba Kiraam Aur Mohaddiseen Ka Aqeedah E Taueed* 📚
https://www.facebook.com/muhammadhasnainraza.khan
1 - Jaam'e Tirmizi, Hadees No.3528
Tarjumah - "Rasoolullah ﷺ Ne Farmaaya Ke Jab Tum Me Se Koi Nee'nd Me Darr Jaaye To Yeh Du'aa Padhe
"أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُون"
Tarjumah - Mai'n Panaah Maa'ngta Hoo'n Allah Ke Kaamil Wa Jaam'e Kalmo'n Ke Zariye Allah Ke Gazab, Allah Ke Azaab Aur Allah Ke Bando'n Ke Sharr Wa Fasaad Aur Shayaateen Ke Waswaso'n Se Aur Iss Baat Se Ke Woh Humaare Pass Aaye'n.
Yeh Du'aa Padhne Se Pareshaan Kun Khwaab Usko Kuchh Nuqsaan Nahi Paho'ncha Sakega.
Hazrate Abdullah Bin Umar Radiallahu Anhu Apne Baalig Bachcho'n Ko Yeh Du'aa Sikha Dete The Aur Jo Bachche Na Baalig Hote The Unke Liye Yeh Du'aa Kaagaz Pe Likh Kar Unke Gale Me Latka Dete The".
Imaam Tirmizi Rahmatullah Alaih Kehte Hai'n Ke Yeh Hadees Hasan Gareeb Hai. (Matlab Yeh Hadees Qaabil e Qabool Hai)
Iss Hadees Ko Aur Kitne Mohaddiseen Ne Likha Hai Post Ke Aakhir Me Mulaaheza Farmaaye'n
2 - Gunyatut Taalibeen, Safha No.130 Me Gause A'azam Shykh Abdul Qaadir Jilaani Rehmatullah Alaih Likhte Hai'n.
Bukhar Ka Ta'weez :-
Neeche Di Huwi Du'aa Likh Kar Aur Ta'weez Banaakar Bukhaar Waale Ki Gardan Me Daaldo, Imaam Ahmad Bin Humble Rehmatullah Alaih Farmaate Hai'n Ke Mujhe Bukhaar Huwa To Yeh Du'aa Likh Kar Di Gayi,
Tarjuma - Allah Ke Naam Se Jo Bada Maherbaan Nihaayat Rahem Karne Waala Hai, Allah Ke Naam Ki Barkat Se, Mohammad Allah Ke Rasool Hai'n, Aye Aag Ibraaheem Par Thandi Aur Salaamati Waali Hoja, Unhone Ibraaheem Ke Saath Tadbeer Ki Lekin Humne Unhe'n Nuqsaan Uthaane Waala Bana Diya, Aye Jibrail, Meekaa'il Aur Israafeel Ke Rab, Apni Qudrat e Kaamela Se Iss Sahib e Ta'weez Ko Shifa Bakhsh, Tu Hi Sabse Badh Kar Rahem Karne Waala Hai.
3 - Fathul Baari Sharah Sahih Bukhaari, Jild No.10, Safha No.196 Me Imaam Ibne Hajar Askalaani Rehmatullah Alaih Likhte Hai'n.
Tarjumah - "Tamaa'im Tameemah Ki Jama Hai, Isse Muraad Woh Daane Aur Maale Hai'n Jo Gale Me Latkaaye Jaate Hai'n, Ahle Arab Zamaana e Jaahiliyat Me Aqeedah Rakhte The Ke Yeh Tameemah Aafaat Ko Dafa Karte Hai'n.
Imaam Ibne Hajar Askalaani Rehmatullah Alaih Ki Iss Wazaahat Se Yeh Saaf Hogaya Ke Jo Hadees Me "Tameemah Ko Shirk Kaha Gaya Hai" Woh Qur'aani Ya Du'aa'iyah Ta'weez Nahi Balke Mushriko Ke Daane Aur Maale Wagaira Hai.
Qur'aani Ta'weez Pahenna Bilkul Jaiz Hai Balke Sahaaba Ki Sunnat Hai👍
Hazrate Abdullah Bin Umar Radiallahu Anhu Waali Hadees Ke Hawaale Mulaaheza Farmaaye'n👇
1- Jaam'e Tirmizi, Hadees No.3528
2 - Masnade Ahmad Bin Humble, Hadees No. 6696
3 - Imaam Ibne Abi Shayba (Ustaad Of Imaam Bukhaari, Muslim & Abu Daawood) Al-Musannaf, Hadees No. 2413
4 - Imaam Daarmi, Al Raddu Ala Jaheemiya, Safa No. 150
5 - Imaam Bukhaari, Khuliki Afa'alu Ibaad, Safha No. 89
6 - Sunan e Abu Daawood, Hadees No.3893
7 - Imaam Tabraani, Ad-Du'aa, Hadees No.1086.
8 - Imaam Haakim, Al-Mustadrak, Jild No. 1, Safha 733, Hadees No. 2010.
9 - Imaam Baiheqi, Kitaabul Aadaab, Safha No.893
10 - Imaam Baiheqi, Al Isma Wassifaat, Hadees No.4407
11 - Khateeb Tabrezi, Mishqaatul Masaabih, Hadees No.2477
12 - Imaam Munzari, At Targeeb Wat Tarheeb, Hadees No.2496
13 - Imaam Nawvi, Al-Azkaar, Hadees No.354📚
Wahabio Ke Molvio Ne Bhi Iss Hadees Ko Likha Hai👇
1 - Allama Zehbi, At-Tibbun Nabi, Safha No.281.
2 - Ibne Taimiyah, Al Kalimut Tayyib, Safha No.32, Hadees No.48.
3 - Ibne Kaseer, Tafseer Ibne Kaseer, Sureh Momin, Safha No.97.
4 - Ibne Qayyim Jauzia, Ja'adul Maad, Jild No.4, Safha No.290
5 - Naasiruddin Albaani, Sahi Sunan e Tirmizi, Hadees 2793📚
Like, Share and Join our Whatsapp✅
⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵⤵
🕋سورہ یونس
آیت نمبر 57🕋
ترجمہ:
اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم نصیحت آگئی اور دلوں کی بیماریوں کی شفا آگئی اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم نصیحت آگئی اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء آگئی اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے آپ کہئے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، سو اس کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں یہ اس (مال) سے کہیں بہتر ہے جس کو وہ (کفار) جمع کرتے ہیں (یونس : ٥٨۔ ٥٧ )
روحانی بیماریوں کے علاج کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا اس سے پہلے یونس : ٣٨۔ ٣٧ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل قرآن مجید ہے، اور اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں چار صفات بیان فرمائی ہیں : (١) قرآن مجید میں اللہ کی جانب سے نصیحت ہے۔ (٢) قرآن مجید دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ (٣) قرآن مجید ہدایت ہے۔ (٤) قرآن مجید مومنوں کے لیے رحمت ہے۔ اور قرآن جید کی ان چاروں صفات کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منصب نبوت کے ساتھ قوی ربط ہے۔ اس کی تفصیل اور تمہید یہ ہے کہ چٹورا انسان جس طرح زبان کی لذت اور چٹخارے حاصل کرنے کے لیے لذید، چٹ پٹی اور مسالے دار اشیاء اور مرغن اور میٹھی چیزیں بکثرت کھاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور معدہ کے السر کا مریض بن جاتا ہے اور شہوانی لذتوں کے ناجائز حصول کی کثرت کی وجہ سے آتشک، سوزاک اور ایڈزکا مریض بن جاتا ہے پھر جسمانی صحت کے حصول کے لیے اسے کھانے پینے کی ان مرغوب اشیاء اور تکمیل شہوت سے پرہیز کرایا جاتا ہے اور ایسی دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جن سے اس کی زائل شدہ جسمانی صحت بحال ہو سکے، اسی طرح انسان کی نفسانی اور روحانی بیماریوں کا معاملہ ہے، جب انسان کا اللہ کے نبی سے رابطہ نہ ہو اور وہ صرف اپنی عقل سے اپنے عقائد وضع کرے اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے خود ضابطہ حیات مقرر کرے تو اس کے دل و دماغ پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے اور اس کے عقائد گمراہ کن اور ملحدانہ ہوتے ہیں اور اس کے اعمال کفر، شرک اور زندیقی پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کو حلال اور حرام کی بالکل تمیز نہیں ہوتی، سو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نفسانی روحانی اور قلبی امراض کے علاج اور اصلاح کے لیے نبی مبعوث فرمایا اور روحانی بیماریوں کے علاج اور ان کی اصلاح کے لیے قرآن مجید آپ پر نازل فرمایا۔
قرآن مجید سے قلبی اور روحانی امراض کے علاج کے چار مدارج جو ماہر معالج ہو اس کے علاج کے حسب ذیل طریقے ہیں : (١) وہ مریض کو مضر اور مخرب اشیاء کے استعمال سے منع کرتا ہے جن سے اصل حیات خطرہ میں پڑجاتی ہے، اس طرح قرآن مجید انسان کو شرک اور کفر سے روکتا ہے کیونکہ شرک اور کفر کے ارتکاب سے انسان سرمدی عذاب اور دائمی دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید نے جگہ جگہ انسان کو کفر اور شرک سے منع کیا ہے تاکہ انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اخروی عذاب کا مستحق نہ ہوجائے اور اس کے عقائد کی اصلاح کی ہے۔ (٢) مریض کو ایسی دوائیں دی جائیں جن کی وجہ سے اس کے خون میں اعتدال پیدا ہوا اور وہ خرابی دور ہوجائے جس کی وجہ سے مرض پیدا ہوا ہے مثلاً مریض کے جسم میں جگہ جگہ زخم ہیں جو ٹھیک نہی ہو رہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں اس کی شکر کا لیول بڑھا ہوا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ خون میں اس کی شکر کو کنٹرول کیا جائے اور جب شکر اعتدال پر آجائے گی تو زخم ٹھیک ہوجائیں گے، اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) جب لوگوں کو ممنوع کاموں کے ارتکاب سے منع کرتے ہیں تو ان کا ظاہر گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے، پھر وہ ان کو باطن کی طہارت کا حکم دیتے ہیں جس کو تزکیہ نفس کہتے ہیں۔ نماز، روزے، زکوۃ اور حج کو ترک کرنے سے بچنا اور چوری، ڈاکہ، نشہ کرنے، قتل اور زنا سے بچنا، اسی طرح جھوٹ، چغلی اور غیبت سے بچنا ان کاموں سے ظاہر بدن پاک ہوتا ہے اور کینہ، حسد، بخل، حرص اور بغض سے بچنے سے بدن کا باطن اور قلب پاک ہوتا ہے اور جب تک ظاہر پاک نہ ہو باطن صاف نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید میں ایسے احکام بھی ہیں جن سے ظاہر بدن پاک ہوتا ہے اور ایسے احکام بھی ہیں جن سے باطن صاف ہوتا ہے۔ لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولًا من انفسہم یتلواعلیھم ایتہٖ و یزکیہم و یعلمھم الکتب والحکمۃ ج وان کانوامن قبل لفی ضللٍ مبین ( آل عمران : ١٦٤) بیشک اللہ نے مسلمانوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دیا جو ان پر اس کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور انکا تزکیہ (باطن صاف) کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے خذ من اموالھم صدقۃ تطھر ھم وتزکیھم بھا۔ (التوبہ : ١٠٣) ان کے اموال سے زکوۃ لیجئے جس سے ان کو پاک کیجئے اور اس سے ان کا تزکیہ (صفائے باطن) کیجئے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ عقائد فاسدہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق مذمومہ امراض کے قائم مقام ہیں اور جب یہ چیزیں زائل ہوجاتی ہیں تو قلب کو شفاء حاصل ہوجاتی ہے اور اس کی روح ان تمام آلودگیوں سے پاک ہوجاتی ہے جو اس کو انوار الہیہ کے مطالعہ سے مانع ہوتی ہیں اور ان ہی دو مرتبوں کی طرف قرآن مجید کی ان صفات میں اشارہ ہے : موعظۃ من ربکم و شفاء لما فی الصدور، یہ تمہارے رب کی جانب سے نصیحت ہے اور دل کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ (٣) جب انسان عقائد فاسدہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق/رذیلہ سے منزہ، پاک اور صاف ہوجاتا ہے تو اس کا دل روشن ہوجاتا ہے اور اس میں انوار الہیہ منعکس ہونے لگتے ہیں اور اس کی روح تجلیات قدسیہ سے فیض یاب ہونے کے قابل ہوجاتی ہے اور اسی مرتبہ کو اس آیت میں ہدایت کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے، اس ہدایت کا پہلا مرتبہ یہ ہے : یایھالنفس المطمئنۃ ارجعیٓ الی ربک (الفجر : ٢٨۔ ٢٧) اور ہدایت کا متوسط مرتبہ یہ ہے : ففر و الی اللہ۔ (الذاریات : ٥٠) سو اللہ کی طرف بھاگو۔ اور آخری مرتبہ یہ ہے : قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔ (الانعام : ٩١) آپ کہئے : اللہ پھر ان کو ان کی کج بحثی میں الجھا ہوا چھوڑ دیجئے۔ (٤) اور جب انسان درجات روحانیہ اور معارج ربانیہ کے اس درجہ پر پہنچ جائے کہ اس کے انوار سے دوسرے قلوب بھی روشن ہونے لگیں جس طرح چاند، سورج کے انوار سے مستفیض ہو کر ایک جہاں کو منور کرتا ہے، وہ بھی انوار رسالت سے مستیز ہو کر عام مسلمانوں کے دلوں کو منور کرنے لگے اور اس کے انوار سے بھی دوسرے ناقص مسلمان کامل ہونے لگیں تو یہی وہ مرتبہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن مومنین کے لیے رحمت ہے، اور مومنین کی تخصیص اس لیے فرمائی ہے کہ منبع فیوض تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور مسلمانوں کا منتہاء کمال یہ ہے کہ وہ انوار رسالت میں جذب ہوجائے تبھی وہ معارف ربانیہ سے واصل ہوتا ہے، اور کفار تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب نہیں آتے اور آپ سے دور بھاگتے ہیں اور آپ کا انکار کرتے ہیں اور جس کو معرفت محمدی حاصل نہ ہو وہ معارف ربانیہ کا کب اہل ہوسکتا ہے سو یہ مرتبہ مومنین ہی کیساتھ مختص ہے اس لیے فرمایا ورحمۃ للمؤمنین۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص قرآن مجید سے اپنے نفس کے کمالات حاصل کرنا چاہے اس کے لیے چند مراتب ہیں، اس کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ وہ نا مناسب کاموں کو چھوڑ کر اپنے ظاہر کو درست کرے اور اس کی موعظت سے اشارہ فرمایا کیونکہ موعظۃ کا معنی ہے گناہوں سے منع کرنا، اور دوسرا مرتبہ ہے عقائدہ فاسدہ اور صفات ردیہ سے اپنے باطن کو صاف کرنا اور اس کی طرف شفاء لما فی الصدور سے اشارہ فرمایا اور تیسرا مرتبہ نفس کو برحق عقائد اور عمدہ اخلاق سے مزین کرنا اور اس کی طرف ھدی سے اشارہ فرمایا اور چوتھا مرتبہ اللہ کی رحمتوں کے انوار سے قلب کا روشن ہونا اور اس کی طرف ورحمۃ للمؤمنین سے اشارہ فرمایا۔
قرآن مجید سے جسمانی شفاء حاصل کرنے کی تحقیق : علامہ جلال الدین سیوطی نے اس آیت میں شفاء لما فی الصدور کو عام قرار دیا ہے اور قرآن مجید کو روحانی امراض کے علاوہ جسمانی امراض کے لیے بھی شفاء قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں احادیث اور آثار کو بیان کیا ہے جن کو ہم انشاء اللہ عنقریب نقل کریں گے، اور علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : اور یہ بات بعید نہیں ہے کہ بعض دل کی بیماریاں، جسمانی بیماریوں کا سبب ہوجاتی ہیں، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حسد اور کینہ دل کی بیماری ہے اور اس سے بعض جسمانی بیماریاں بھی ہوجاتی ہیں، اور ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی برکت سے جسمانی امراض دور فرما دیتا ہے۔ (روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ) مفتی محمد شفیع دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : درحقیقت قرآن ہر بیماری کی شفاء ہے خواہ قلبی و روحانی ہو یا بدنی اور جسمانی (الی قولہ) علماء امت نے کچھ روایات و آثار سے اور کچھ اپنے تجربوں سے آیات قرآنی کے خواص و فوائد مستقل کتابوں میں جمع بھی کردیئے ہیں، امام غزالی کی کتاب خواص قرآنی اس کے بیان میں مشہور و معروف ہے، جس کی تلخیص حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی نے اعمال قرآنی کے نام سے فرمائی ہے اور مشاہدات و تجربات اتنے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کی مختلف آیتیں مختلف امراض جسمانی کے لیے بھی شفاء کلی ثابت ہوتی ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصلی مقصد قلب و روح کی بیماریوں کو ہی دور کرنا ہے اور ضمنی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔ (معارف القرآن ج ٤، ص ٥٤٣، مطبوعہ ادارۃ المعارف القرآن ١٤١٤ ھ) ہم اس بحث میں پہلے تمیمہ اور تولہ کا معنی بیان کریں گے پھر قرآن مجید سے جسمانی شفاء کے حصول کے متعلق احادیث کا ذکر کریں گے، پھر دم اور تعویزات کی ممانعت کے متعلق بعض آثار کی توجیہ کریں گے، پھر تعویذ لٹکانے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت مع حوالہ جات کے پیش کریں گے۔ اس کے بعد اس روایت کے صحیح یا حسن ہونے کی تحقیق کریں گے اور اس کے راویوں میں امام محمد بن اسھاق، اور عمرو بن شعیب کی تعدیل پر اعتراضات کا جائزہ لیں گے اور تعویزات لٹکانے کے متعلق فتاوی تابعین کا ذکر کریں گے اور تعویزات کے جواز میں فقہاء احناف اور علماء دیوبند اور علماء غیر مقلدین کی تصریحات پیش کریں گے، اور آخر میں حافظ ابن قیم جوزی کے ذکر کردہ چند تعویذات کو پیش کریں گے۔
تمیمہ اور تولہ وغیرہ کے معنی اور ان کا شرعی حکم۔ علامہ مبارک بن محمد المعروف بابن الاثیر الجذری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : ٹمائم کا معنی ہے تعاویذ اور خروز (ڈوری میں پروئی ہوئی سیپیاں اور کوڑیاں) اور ان کے عقد کا معنی ہے ان کو گلے میں لٹکانا۔ (جامع الاصول ج ٤ ص ٧٣٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ) علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں : عقد التمائم کا معنی ہے ڈوری میں پروئی ہوئی سیپیوں اور کوڑیوں کو اور تعویذوں کو گلے میں لٹکانا (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٢٧٤، مطبوعہ مکتبہ دارالایمان المدینہ المنورہ، ١٤١٥ ھ) امام حسین بنن مسعود بغوی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : تمائم ان سیپیوں یا کوڑیوں کو کہتے ہیں جن کو عرب اپنے بچوں کے گلوں میں لٹکاتے تھے، ان کا اعتقاد تھا کہ اس سے نظر نہیں لگتی، شریعت نے اسکو باطل کردیا۔ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس کے گلے سے تمیمۃ کو کاٹ دیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٤١٧) حضرت عائشہ نے فرمایا : مصیبت نازل ہونے کے بعد جو تعویذ گلے میں لٹکایا جائے وہ تمیمہ نہیں ہے، لیکن تمیمہ وہ ہے جو مصیبت نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے، تاکہ اس سے اللہ کی تقدیر کو رد کیا جائے۔ (اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تقدیر رد کرنے کا اعتقاد نہ ہو تو مصیبت نازل ہونے سے پہلے بھی تعویز لٹکانا جائز ہے۔ ) عطاء نے کہا جو تعویذ قرآن مجید سے لکھے جائیں ان کو تمائم میں سے شمار نہیں کیا جائے گا۔ سعید بن مسیب سے سوال کیا گیا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کے گلوں میں ایسے تعویذ لٹکائے جائیں جن میں قرآن مجید لکھا ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا جب وہ تعویذ چمڑے میں منڈھا ہوا ہو یا لوہے کی ڈبیہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تولہ جادو کی ایک قسم ہے، اسمعی نے کہا یہ وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے خاوند کے دل میں عورت کی محبت ڈال دی جاتی ہے، اور حضرت جابر سے مروی ہے کہ نشرہ شیطان کا عمل ہے، (مسند احمد جج ٣ ص ٢٩٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٦٨) نشرہ ایک قسم دم ہے، جس شخص کے متعلق یہ گمان ہو کہ اس کو جن کا آسیب ہے اس سے اس کا علاج کیا جاتا ہے، متعدد فقہاء نے اس کو مکروہ کہا ہے۔ حسن نے کہا یہ جادو ہے سعید بن مسیب نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٥٩۔ ١٥٨، ملحضًا، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٥١٦ ھ) امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : تمیمہ ان سیپیوں اور کوڑیوں کو کہتے ہیں جن کو (زمانہ جاہلیت میں عرب) گلوں میں لٹکاتے تھے، اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس سے مصائب دور ہوتے ہیں اور جو تعویذ لٹکائے جاتے ہیں ان کو بھی تیمیمہ کہتے ہیں (الی قولہ) ان کو لٹکانے کی اس وجہ سے ممانعت کی گئی ہے کہ اہل جاہلیت کا یہ اعتقاد تھا کہ یہ مصائب دور ہونے کی علت ہیں اور ان سے مکمل عافیت حاصل ہوتی ہے، اور اگر ان کو اللہ کے ذکر سے برکت حاصل ہوتی ہے، اور اگر ان کو اللہ کے ذکر سے برکت حاصل کرنے کے لیے لٹکایا جائے اور اعتقاد یہ ہو کہ اللہ کے سوا کوئی مصیبت کو ٹالنے والا نہیں ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (سنن کبری ج ٩ ص ٣٥٠ ملحضًا، مطبوعہ نشر السنہ ملتان) ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں جس تمیمہ کو شرک فرمایا ہے (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٣) یہ وہ تعویذ ہے جس کو بچے کے گلے میں ڈالا جائے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء، قرآنی آیات اور ماثورہ (منقولہ) دعائیں نہ ہوں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ سیپیاں، کوڑیاں ہیں جن کو عرب بچوں کے گلوں میں اس لیے ڈالتے تھے کہ ان کو نظر نہ لگے اور یہ باطل ہے، اس کو شرک اس لیے فرمایا ہے کہ ان کا اعتقاد تھا کہ یہ سبب قوی ہیں یا ان کی (خود بہ خود) تاثیر ہے، یا ان میں ایسے کلمات ہوتے تھے جو شرک خفی یا شرک جلی کو متضمن ہوتے تھے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٥٩، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ) نیز ملا علی قاری فرماتے ہیں : جو تعویذات آیات قرآنیہ، اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور منقولہ دعائوں پر مشتمل ہوں ان میں کوئی حرج نہیں ہے، خواہ وہ تعویذ ہوں، دم ہو یا نثرہ ہو، البتہ غیر عربی میں جائز نہیں کیونکہ ان میں شرک کا احتمال ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٦١۔ ٣٦٠، مطبو ٤ عہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ) علامہ سید احمد طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ لکھتے ہیں : ہندیہ میں مذکور ہے کہ تعویذ لٹکانا جائز ہے لیکن بیت الخلاء جاتے وقت یا عمل زوجیت کے وقت تعویذ اتار لینا چاہیے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار ج ٤ ص ١٨٣، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، ١٣٩٥ ھ)
قرآن مجید سے جسمانی شفاء کے حصول کے متعلق احادیث اور آثار حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوتے تو اپنے اوپر قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر دم فرماتے اور اپنا ہاتھ اپنے جسم پر پھیرتے، پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوگئی تو میں قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر آپ پر دم کرتی جن کو پڑھ کر آپ دم فرماتے تھے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩١٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٠٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٩، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٥٤٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٧٥١) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس کے اوپر قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر دم فرماتے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٢، مشکوۃ رقم الحدیث : ١٥٣٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند اصحاب سفر میں تھے، ان کا عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزر ہوا، صحابہ نے ان سے مہمانی طلب کی، انہوں نے صحابہ کو مہمان نہیں بنایا۔ اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈنک مارا ہوا تھا، انہوں نے اس کے تمام جتن کیے لیکن کسی چیز سے اس کو فائدہ نہیں ہوا، پھر ان میں سے کسی نے کہا یہ جماعت جو یہاں ٹھہری ہوئی ہے ہوسکتا ہے ان کے پاس کوئی چیز ہو، وہ ان کے پاس گئے اور کہا اے لوگو ! ہمارے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے اور ہم ہر قسم کی کوشش کرچکے ہیں اس کو کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے۔ بعض صحابہ نے کہا ہاں ! اللہ کی قسم میں دم کرتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم ہم نے تم سے مہمانی طلب کی تھی، تم نے ہماری مہمانی نہیں کی، اب تم پر بالکل دم نہیں کروں گا حتی کہ تم مجھے کوئی انعام نہ دو ۔ انہوں نے بکریوں کی ایک معین تعداد (سنن ابن ماجہ میں ہے تیس بکریاں) پر صلح کرلی۔ پھر وہ گئے اور الحمد للہ رب العالمین (مسلم میں ہے سورة فاتحہ) پڑھ کر اس پر دم کیا، وہ بالکل تندرست ہوگیا اور اس طرح چلنے لگا، گویا اس کو کوئی بیماری نہیں تھی۔ سردار نے کہا ان سے جس انعام کا وعدہ کیا ہے وہ ان کو پورا پورا دو ۔ بعض صحابہ نے کہا اس انعام کو پورا پورا تقسیم کرلو بعض نے کہا نہیں یہ دم کی اجرت ہے اس کو اس وقت تک تقسیم نہ کرو حتی کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ جائیں اور ہم آپ کے سامنے یہ تمام ماجرا بیان کریں پھر دیکھیں آپ اس میں کیا حکم فرماتے ہیں۔ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو آپ سے اس کو بیان کیا۔ آپ نے فرمایا : تمہیں کس نے بتایا یہ (زمانہ جاہلیت کا) دم ہے، پھر آپ نے فرمایا : تم نے درست کیا اس کو تقسیم کرلو اور اس میں سے میرا حصہ بھی نکالو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٠٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٤، سنن ابنماجہ رقم الحدیث : ٢١٥٦، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١٠٨٦٨، مسند احمد رقم الحدیث : ج ٣ ص ١٠، مصنف ابن اب ی شیبہ ج ٨ ص ٥٤۔ ٥٣، کراچی، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١١٢، سنن دارقطنی ج ٣ ص ٦٤۔ ٦٣) یہ حدیث صحیح ہے جس سے معلوم ہوا کہ دم کرنے کی اجرت لینا جائز ہے اور جن احادیث میں ممانعت ہے وہ تمام احادیث ضعیف ہیں۔ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ بیان فرماتے ہیں : حضرت ابو الا حوص (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہا میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔ انہوں نے اس کو خمر (شراب) پینے کا مشورہ دیا، پھر کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے نجس چیز میں شفا نہیں رکھی، شفا صرف دو چیزوں میں ہے : قرآن میں اور شہد میں۔ ان میں دل کی بیماریوں کے لیے شفا ہے اور لوگوں کے لیے شفا ہے۔ (العجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٩١٠) امام ابن المنذر اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا میرے سینہ میں تکلیف ہے۔ آپ نے فرمایا : قرآن پڑھو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : شفاء لما فی الصدور۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حلق میں درد کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : تم قرآن پڑھنے کو لازم رکھو۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٨٠) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو وہ آرام محسوس کرتا ہے، حضرت خثیمہ جب بیمار ہوئے تو میں ان کے پاس گیا، میں نے کہا آج آپ تندرست لگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا آج میرے پاس قرآن مجید پڑھا گیا تھا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٧٩، الدرالمنثور ج ٤ ص ٣٦٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں کہ تعوذ کے کلمات پڑھ کر پانی پر دم کیا جائے پھر اس کے ساتھ مریض کا علاج کیا جائے۔ مجاہد نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ قرآن مجید کی آیات لکھ کر ان کو دھولیا جائے اور اس کا غسالہ (دھو ون) مریض کو پلا دیا جائے، اسی کی مثل ابو قلابہ سے مروی ہے اور نحعی اور ابن سیرین نے اس کو مکروہ قرار دیا، اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت وضع حمل میں مشکل پیش آرہی تھی تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن مجید کی کچھ آیتیں اور کچھ کلمات طیبات لکھ کر انہیں دھو کر اس کا غسالہ (دھو ون) اس عورت کو پلایا جائے۔ ایوب نے کہا میں نے ابو قلابہ کو دیکھا انہوں نے قرآن مجید کی کچھ آیتیں لکھیں پھر ان کو پانی سے دھویا اور اس شخص کو پلادیا جس کو جنون تھا۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٦، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٣ ھ) امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، تو اس پر بچھو نے ڈنگ مارا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جوتی سے اس بچھو کو مار دیا، پھر آپ نے واپس مڑتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت فرمائے یہ نمازی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نمازی کو، نبی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نبی کو مگر اس کو ڈنک مار دیتا ہے، پھر آپ نے پانی اور نمک منگا کر اس کو ایک برتن میں ڈالا پھر جس انگلی پر بچھو نے ڈنک مارا تھا اس کو پانی میں ڈبو یا اور اس پر پانی لگایا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٤٢، بیروت، شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٦٥) امام محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین دوا قرآن ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٠١، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) علامہ شمس الدین محمد بن ابوبکر ابن قیم جو زیہ متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : یہ بات معلوم ہے کہ بعض کلام کے خواص ہوتے ہیں اور اس کی تاثیرات ہوتی ہیں تو تمہارا رب العالمین کے کلام کے متعلق کیا گمان ہے جس کی ہر کلام پر فضیلت اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت تمام مخلوق پر ہے، اس کا کلام مکمل شفاء ہے، عصمت، نافعہ، نور، ہادی اور رحمت عامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا : و ننزل من القران ما ھو شفآء ’‘ و رحمۃ ’‘ للمؤمنین۔ (بنو اسرائیل : ٨٢) ہم قرآن مجید کی ان آیات کو نازل فرماتے ہیں جو مومنین کے لیے شفاء اور رحمت ہیں۔ اور قرآن مجید کی تمام آیات شفا ہیں اور سورة فاتحہ کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے جس کی مثل قرآن میں ہے نہ تورات میں نہ انجیل میں اور نہ زبور میں۔ ایک مرتبہ میں مکہ میں بیمار ہوگیا، مجھے دوا اور طبیب میسر نہ آسکے، تو میں سورة فاتحہ سے اپنا علاج کرتا تھا، میں ایک گھونٹ زمزم کا پانی پیتا اور اس پر کوئی سورة فاتحہ پڑھتا، پھر ایک گھونٹ زمزم کا پانی پیتا، میں نے کئی بار یہ عمل کیا حتی کہ میرے تمام درد اور تکلیفیں دور ہوگئیں اور مجھے مکمل فائدہ ہوگیا۔ (زد المعادج ٤، ص ١٤١۔ ١٤٠، ملحضًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)
کلمات طیبہ سے دم کرنے کے جواز کے متعلق احادیث الشفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت حفصہ (رض) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم اس کو پھوڑے کا دم کیوں نہیں سکھاتیں جس طرح تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٧) سہیل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دم صرف بیمار شخص یا سانپ یا بچھو کے ڈسے ہوئے میں ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٨ مختصراً ) (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٣٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٤٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٦١٥، المستدرک ج ٤ ص ٤١٨۔ ٤١٧، ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦، سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥٠) امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں : اس قسم کی جھاڑ پھونک اور دم کرنے کی ممانعت ہے جس میں کلمات شرک ہوں یا اس میں سرکش شیاطین کا ذکر ہو یا اس میں عربی کے علاوہ کسی اور زبان کے کلمات ہوں یا ان کلمات کا کچھ پتا نہ ہو، ہوسکتا ہے کہ اس میں جادو کے کلمات ہوں یا کفریہ کلمات ہوں، لیکن جس میں قرآن مجید کے کلمات ہوں یا اس میں اللہ عزو جل کا ذکر ہو تو ان کلمات کے ساتھ دم کرنا جائز ہے اور مستحب ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة الفلق اور سورة الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩١٢) اور جن صحابہ نے بکریوں کے عوض سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا، ان سے آپ نے فرمایا : تم کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ (زمانہ جاہلیت کا) دم ہے، اس کو تقسیم کرو، اور اس میں سے میرا حصہ بھی نکالو اور فرمایا : جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں اجرت کی سب سے زیادہ مستحق اللہ کی کتاب ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٧، ٢٢٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠١) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) ” میں ہر شیطان اور ہر زہریلے کیڑے اور ہر نظر بد کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ “ اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل نے یہ پڑھ کر آپ پر دم کیا : بسم اللہ ارقیک من کل شئی یؤذیک من شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک۔ اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفا دے ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذا دے اور ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد نظر سے، اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٥، ٢١٨٦، سنن الترمذیرقم الحدیث : ٩٧٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٥٢٣، سنن کبری للنسائی رقم الحدیث : ١٠٨٤٣) اور عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم زمانہ جاہلیت میں دم کرتے تھے، یا رسول اللہ ! آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے دم کے کلمات مجھے پڑھ کر سنائو، اس وقت تک دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک کہ ان میں شرکیہ کلمات نہ ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٦) (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٠، ١٥٩، مطبوعہ دارالمکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٣ ھ)
دم اور تعویذ کی ممانعت کے متعلق حضرت ابن مسعود کا ارشاد اور امام بغوی سے اس کی توجیہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دم کرنا تمائم (تعویذ لٹکانا) اور تولہ (بیوی سے خاوند کی محبت کا جادو) شرک ہیں، حضرت عبداللہ کی بیوی نے کہا آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں، خدا کی قسم ! میری آنکھ میں کچھ پڑگیا تھا میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی وہ میری آنکھ پر دم کرتا تھا اور جب وہ مجھ پر دم کرتا تھا تو مجھے آرام آجاتا تھا۔ حضرت عبداللہ نے کہا یہ شیطان کا عمل تھا، وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ میں چبھوتا تھا اور جب وہ یہودی دم کرتا تھا تو وہ اپنے ہاتھ کو ہٹا لیتا تھا، تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم اس طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے تھے : اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا شفاء الا شفاءک لا یغادر سقما۔ اے لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور کر دے، شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کسی کی شفا نہیں ہے جو بیماری کو باقی رہنے نہیں دیتی۔
تعویذ اور دم کی ممانعت کے متعلق ابن حکیم اور حضرت عقبہ بن عامر کا ارشاد اور امام بیہقی، امام ابن الاثیر اور دیگر علماء سلف کی توجیہ عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حکیم ابو معبد الجہنی کی عیادت کرنے کے لیے گیا ان پر ورم تھا۔ ہم نے کہا آپ کوئی چیز کیوں نہیں لٹکاتے ؟ (ایک روایت میں ہے آپ تعویذ کیوں نہیں لٹکاتے، مشکوۃ رقم الحدیث : ٤٥٥٦) انہوں نے کہا موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی چیز کو لٹکایا وہ اسی کے سپرد کردیا جائے گا۔ امام ترمذی نے کہا عبداللہ بن عکیم کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت نہیں اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھا، اور اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر سے بھی روایت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٧٢، مسند احمد ج ٤ ص ٣١٠، المستدرک ج ٤ ص ٢١٦، سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥١، شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٠) امام ترمذی نے حضرت عقبہ بن عامر کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے، جس شخص نے تمیمہ (تعویذ) لٹکایا، اللہ اس کے مقصد کو پورا نہ کرے اور جس شخص نے کوڑی (سیپی) کو لٹکایا اللہ اس کی حفاظت نہ کرے۔ (مسند احمد (ج ٤ ص ١٥٤، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٧٥٩، المعجم الکبیر ج ١٧ ص ٢٩٧، ج ٤ ص ٤١٧، مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٠٣) امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ اس قسم کی احادیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس قسم کی احادیث میں ان تمائم (تعویذات) کو شرک فرمایا، جن تعویذات کو لٹکانے والوں کا یہ اعتقاد ہو کہ مکمل عافیت اور بیماری کا مکمل زوال ان تعویذات کی وجہ سے ہوگا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین کا عقیدہ تھا، لیکن جس نے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے برکت حاسل کرنے کے لیے تعویذ کو لٹکایا اور اس کا اعتقاد ہو کہ مصیبت کو ٹالنے والا اور مرض کو دور کرنے والا صرف اللہ عزو جل ہے تو پھر تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥٠، مطبوعہ ملتان) نیز امام بیہقی فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے کہ دم، تولہ، اور تمائم شرک ہیں، اس سے ان کی یہ مراد ہے کہ وہ دم اور تعویذ وغیرہ شرک ہیں جو عربی زبان میں نہ ہوں اور ان کے معنی غیر معلوم ہوں۔ (سنن صغیر ج ٢ ص ٤٢٣، مطبوعہ دارالمجید بیروت، ١٤١٥ ھ) علامہ مجد الدین ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجذری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : تمائم (تعویذات) کو شرک اس لیے فرمایا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں وہ تمائم کے متعلق مکمل دوا اور شفاء کا اعتقاد رکھتے تھے، اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ تمائم اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر کو ٹال دیتے ہیں اور وہ اللہ کے غیر سے مصائب کو دور کرنا چاہتے تھے۔ (النہایہ ج ١ ص ١٩٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ) علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی متوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : تعویذ اور کوڑی لٹکانے پر آپ نے شرک کا اطلاق اس لیے فرمایا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان کے لٹکانے کا جو طریقہ معروف اور مروج تھا وہ شرک کو متضمن تھا کیونکہ ان کے متعلق ان کا اعتقاد شرک کی طرف لے جاتا تھا، میں کہتا ہوں کہ شرک سے مراد یہ اعتقاد ہے کہ یہ تعویذات قوی سبب ہیں اور ان کی اصل تاثیر ہے اور یہ توکل کے منافی ہے۔ (شرح الطیبی ج ٨ ص ٣٠١، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، ١٤١٣ ھ) علامہ محمد طاہر پٹی متوفی ٩٨٦ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٢٧٤، مطبوعہ دارالایمان مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)
تعویذ لٹکانے کے متعلق عبداللہ بن عمرو کی روایت اور اس کے حوالہ جات امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : علی بن حجر، اسماعیل بن عیاش، از محمد بن اسحاق از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت ہے : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جائے تو وہ یہ دعا کرے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شرعبادہ و من ھمزات الشیطان و ان یحضرون، تو پھر شیاطین اس کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے بالغ بچوں کو اس دعا کی تلقین کرتے تھے اور جو نابالغ بچے تھے ان کے گلے میں ایک کاغذ پر یہ دعا لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٢٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٩٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٨١، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٦٦٩٦ طبع دارلحدیث قاہرہ، اس کے حاشیہ میں شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، المستدرک ج ١ ص ٥٤٨، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ذہبی نے اس پر جرح نہیں کی، بلکہ حافظ ذہبی نے خود اس حدیث سے استدلال کیا ہے، الطب النبوی ص ٢٨١، کتاب الآداب للبیہقی رقم الحدیث : ٩٩٣، شیخ البانی نے اس حدیث کو اپنی صحیح ترمذی میں درج کیا ہے، رقم الحدیث : ٢٧٩٣، مصابیح السنہ ج ٢ ص ٢١٦، مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث : ٢٣٤٧٧، المصنف لا بن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، الترغیب والترہیب رقم الحدیث : ٢٣٨٤، دار ابن کثیر بیروت، ١٤١٤ ھ، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص ٤٥٦، ٤٥٥، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، ١٤٠٧ ھ، حافظ منذری نے حدیث کو امام نسائی کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے، عمل الیوم واللیلہ رقم الحدیث : ٧٦٥، مختصر سنن ابو دائود للمنذری رقم الحدیث : ٣٧٤٤ )
حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت کے صحیح اور حسن نہ ہونے اور مدرج ہونے کے جوابات کیپٹن ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے ” تعویذ گنڈا شرک ہے “ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا ہے، اور انہوں نے گلے میں تعویذ لٹکانے کو شرک کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی مذکور الصدر حدیث کے اوپر انہوں نے یہ عنوان قائم کیا ہے : ” تعویذ کے بیوپاریوں کو اکلوتا سہارا “ پھر انہوں نے اس حدیث کو رد کرنے کے لیے پانچ علتیں ذکر کی ہیں، ہم نمبردار ان پانچوں علتوں کا ذکر کر کے ان پر مفصل بحث کریں گے، فتقول وباللہ التوفیق کیپٹن عثمانی لکھتے ہیں : اس ایک روایت کے اندر متعدد علتیں ہیں : (١) یہ پورے سرمایہ روایت میں اپنے طرز کی ایک منفرد روایت ہے اور صحیح ہونا تو دور رہا یہ حسن روایت بھی نہیں ہے۔ امام ترمذی جو تصحیح روایات کے بارے میں بہت فراخ دل واقع ہوئے ہیں اس روایت کو حسن بھی شمار نہیں کرتے بلکہ حسن غریب کہتے ہیں۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے۔ ص ٥، مطبوعہ کراچی) امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے اس کے باوجود کیپٹن مسعود کا یہ کہنا کہ امام ترمذی اس روایت کو حسن بھی شمار نہیں کرتے بہت عجیب ہے شاید انہوں نے یہ سمجھا ہو کہ غریب ہونا اس حدیث کے حسن ہونے کے منافی ہے تو اس کی وجہ اصطلاح محدثین سے نا واقفیت ہے۔ حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ترمذی نے یہ تصریح کی ہے کہ حدیث حسن کی شرط یہ ہے کہ وہ متعدد سندوں کے ساتھ مروی ہو، پھر وہ اپنی بعض احادیث کے متعلق یہ کیسے کہتے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے ذریعہ پہچانتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ امام ترمذی نے مطلقًا حدیث حسن کے لیے یہ شرط نہیں بیان کی، بلکہ یہ حدیث حسن کی ایک خاص قسم کی شرط ہے اور یہ وہ قسم ہے جس حدیث کے متعلق وہ انی کتاب میں صرف حسن لکھتے ہیں اور اس کے ساتھ صحیح یا غریب کی صفت نہیں لاتے، کیونکہ وہ بعض حدیث کے متعلق صرف حسن لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صرف صحیح لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صرف غریب لکھتے ہیں، اور بعض کے متعلق حسن صحیح لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق حسن غریب لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صحیح غریب لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق حسن صحیح غریب لکھتے ہیں اور انہوں نے جو متعدد اسانید کی شرط عائد کی ہے وہ اس حدیث کے متعلق ہے جس کو وہ صرف حسن لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کے آخر میں خود اس کی تصریح کی ہے اور جس حدیث کے متعلق وہ حسن غریب کہتے ہیں اس میں انہوں نے جمہور کی تعریف سے عدول نہیں کیا۔ (شرح نخبۃ الفکر ص ٣٨۔ ٣٦، مطبوعہ قرآن محل کراچی) خلاصہ یہ ہے کہ امام ترمذی کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے اگرچہ ایک سند سے مروی ہے۔ نیز یہ حدیث امام ابو دائود کے نزدیک بھی حسن ہے کیونکہ جس حدیث پر وہ کوئی حکم نہ لگائیں وہ ان کے نزدیک حسن اور عمل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امام ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمن الشرزوری متوفی ٦٤٣ ھ لکھتے ہیں : امام ابو دائود نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے میں نے اپنی اس کتاب میں جس حدیث کو درج کیا اس حدیث میں جو شدید ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے اور جس حدیث کے متعلق میں نے کوئی چیز ذکر نہی کی، وہ صالح ہے اور بعض ایسی احادیث بعض دوسری احادیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (علوم الحدیث لا بن الصلاح ص ٣٣، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورہ ١٣٨٦ ھ) علامہ یحییٰ بن شرف نوادی متوفی ٦٧٦ ھ امام ابو دائود کی اس عبارت کے متعلق لکھتے ہیں : امام ابو دائود کی اس تحریر کی بناء پر ہم نے امام ابو دائو د کی سنن میں جس حدیث کو مطلقًا پایا اور معتمدین میں کسی ایک نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا نہ ضعیف کہا تو وہ امام ابو دائود کے نزدیک حسن ہے۔ (تقریب النوادی مع تدریب الراوی ج ١ ص ١٦٧، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورۃ، ١٣٩٢ ھ) علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : امام ابو دائود کی ایسی حدیث استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے اور معتمدین میں سے کسی کی تصریح کے بغیر اس حدیث کو صحیح نہیں کہا جائے گا اس لیے اس حدیث کو حسن کہنے میں زیادہ احتیاط ہے اور اس سے بھی زیادہ احتیاط اس کو صالح کہنے میں ہے۔ (تدریب الراوی ج ١ ص ١٢٧، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورۃ، ١٣٩٢ ھ) واضح رہے کہ امام ابو دائود نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس پر کسی قسم کے ضعف کا حکم نہیں لگایا، پس مذکور الصدر تصریحات کے مطابق یہ حدیث امام ابو دائود کے نزدیک بھی حسن ہے۔ کیپٹن مسعود نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : ” اس حدیث کا صحیح ہونا تو در کنار رہا “ گزارش یہ ہے کہ اس سند کے ساتھ امام احمد نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور شیخ احمد شاکر جو متاخرین میں کافی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حاکم نے بھی اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی مخالفت نہیں کی بلکہ خود اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور شیخ البانی جو مخالفین کے نزدیک مسلم ہے انہوں نے بھی امام ترمذی کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ان سب کے حوالے ہم نے شروع میں ذکر کردیئے ہیں۔ کیپٹن مسعود نے اس حدیث کی دوسری علت یہ بیان کی ہے : (٢) دوسری علت اس روایت میں یہ ہے کہ : عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے متعلق یہ جملہ کہ وہ اس دعا کو نابالغ بچوں کے گلے میں لکھ کر لٹکا دیا کرتے تھے۔ حدیث کے الفاظ نہیں بلکہ راوی کی طرف سے ایک ” مدرج “ جملہ ہے۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے ص ٥، مطبوعہ کراچی) کیپٹن مسعود صاحب نے جو یہ دعوی کیا ہے کہ یہ جملہ حدیث کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ راوی کے الفاظ ہیں اور یہ حدیث مدرج ہے اس پر انہوں نے کوئی دلیل پیش نہی کی اور بلا دلیل حدیث کے کسی جملہ کو راوی کا کلام قرار دینا غیر مسموع اور غیر مقبول ہے۔ اگر وہ اس سلسلہ میں ناقدین اور ناقلین حدیث میں سے کسی کی شہادت پیش کرتے تو اس کی طرف التفات کیا جاتا محض ان کی ذہنی اختراع تو لائق جواب نہیں ہے۔
تعویذ کے جواز کی روایت کا ایک حدیث سے معارضہ اور اس کا جواب کیپٹن مسعود صاحب نے اس حدیث کی تیسری علت یہ بیان کی ہے : (٣) تیسری علت : عبداللہ بن عمرو بن العاص جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کمسن بچوں کے گلے میں دعا کا تعویذ لٹکاتے تھے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعویذ لٹکانے کی برائی میں صحیح حدیث کی روایت کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صحابی کسی چیز کی برائی کی حدیث بھی روایت کرے اور دوسری طرف اس چیز میں بھی مبتلا ہو۔ روایت یوں ہے : (رواہ ابو دائود ص ٥٤٠ و مشکوۃ ص ١٣٨٩ ترجمہ : عبداللہ بن عمرو بن العاص (علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ یہ روایت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے نہیں بلکہ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے ہے اور اسی طرح ابو دائود کے نسخوں میں ہے۔ مشکوۃ میں غلطی سے عبداللہ بن عمر چھپ گیا ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں کہیں یہ تین باتیں کرو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب مجھے حق و ناحق کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ تین باتیں یہ ہیں : (١) تریاق استعمال کروں (اس میں شراب اور سانپوں کا گوشت ہوتا ہے) ، (٢) تعویذ لٹکائوں (٣) شاعری کروں (تعویذ گنڈا شرک ہے۔ ص ٦۔ ٥ مطبوعہ کراچی)
اس اعتراض کے جواب میں اولاً گزارش یہ ہے کہ جس حدیث پر امام ابو دائود سکوت فرمائیں وہ اس وقت حسن ہوتی ہے جب معتمدین میں سے کسی نے اس کو ضعیف نہ قرار دیا ہو اور اس حدیث کو حافظ منذری اور امام بخاری نے ضعیف قرار دیا اور دو معتمدین میں سے ہے، چناچہ حافظ ذکی الدین عبدالعظیم بن عبد القوی المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن رافع التنوخی ہے جو افریقیا کا قاضی تھا، امام بخاری نے کہا اس کی حدیث میں بعض مناکیر ہیں۔ (مختصر سنن ابو دائود ج ٥ ص ٣٥٤، مطبوعہ دارالمعفتہ، بیروت) ثانیاً اس حدیث کی شرح میں ابو سلیمان حمد بن محمد الخطابی الشافعی المتوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث میں تمیمہ (کوڑیاں یا تعویذ) لٹکانے کی ممانعت ہے، قرآن مجید سے تبرک حاصل کرنے یا شفا طلب کرنے کے لیے جو تعویذ لٹکائے جائیں وہ اس میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ وہ اللہ سبحانہ کا کلام ہے اور اس سے استعاذہ کرنا (پناہ طلب کرنا) اللہ سے استعاذہ کرنے کے قائم مقام ہے اور یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ وہ تعویذ مکروہ ہیں جو غیر عربی میں ہوں اور ان کا معنی معلوم نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ جادو ہو یا اس میں اور کوئی چیز ممنوع ہو۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو دائود ج ٥ ص ٣٥٤، مطبوعہ دارالمعرفتہ، بیروت) ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں جو تمیمہ سے ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد زمانہ جاہلیت کا تمیمہ ہے، کیونکہ تمیمہ (تعویذ کی جو قسم اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کے کلمات کے ساتھ مختص ہے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے، بلکہ وہ تعویذ مستحب ہے اور اس میں برکت کی امید ہے اور اس کی اصل سنت سے معروف ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٦١، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ)
📚تعویز شرک نہیں ہے📚
🕋سورۃ يونس
آیت نمبر 58🕋
تفسیر:
روایت حدیث میں امام محمد بن اسحاق کا مقام کیپٹن مسعود صاحب نے اس حدیث کی چوتھی علت یہ بیان کی ہے : (٤) چوتھی علت اس روایت میں یہ ہے کہ اس کے دو راوی محمد بن اسحاق اور عمرو بن شعیب ایسے راوی ہیں جن پر آئمہ حدیث نے شدید جرح کی ہے۔ محمد بن اسحاق بن یسار۔ امام مالک فرماتے ہیں ” دجال من الدجا جلۃ “ دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔ (تہذیب جلد ٩ ص ٤١، میزان جلد ٣ ص ٢١) سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ یحییٰ قطان کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذاب (بہت بڑا جھوٹا) ہے۔ (میزان الاعتدال جلد ٣ ص ٢١) وہیب بن خالد اس کو کاذب کہتے ہیں۔ (تہذیب ج ٩ ص ٤٥) جریر بن عبدالحمید کا بیان ہے کہ میرا یہ خیال نہ تھا کہ میں اس زمانہ تک زندہ رہوں گا جب لوگ محمد بن اسحاق سے حدیث کی سماعت کریں گے۔ (تہذیب التہذیب جلد ٢ ص ٣٠٦) اب ذرا ایسے کاذب راوی کے بارے میں آئمہ حدیث کا نظریہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ واذا قالو متروک الحدیث او واھیا او کذاب فھو ساقط لا یکتب حدیثہ (تقریب النواوی ص ٢٣٣) جب محدثین کسی راوی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ متروک ہے یا واہی ہے یا کذاب ہے تو وہ راوی ساقط الاعتبار ہوتا ہے اس کی روایت لکھی بھی نہیں جاسکتی۔ (تقریب النواوی ص ٢٣٣) اس جرح کے جواب میں گزارش ہے کہ پہلے ہم امام محمد بن اسحاق کا ترجمہ ۃ (تعارف) پیش کریں گے اور روایت حدیث میں ماہرین اور ناقدین کے نزدیک جو ان کا مقام ہے وہ بیان کریں گے اور اس کے بعد کیپٹن مسعود کی نقل کردہ جرح کا جواب ذکر کریں گے۔ امام محمد بن اسحاق بن یسار کے متعلق حافظ جمال الدین یوسف المزی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : محمد بن اسحاق نے صحابہ میں سے حضرت انس بن مالک (رض) کی زیارت کی اور تابعین میں سے سالم بن عبداللہ بن عمر اور سعید بن المسیب کی زیارت کی، امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے تعلیقًا روایت کی ہے اور امام ابو دائود، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے ان سے اصالتًا روایت کی ہے۔ زہری کہتے تھے کہ جب تک مدینہ میں محمد بن اسحاق موجود ہیں ان کے علم کا خزانہ قائم رہے گا۔ امام شافعی فرماتے تھے کہ جو شخص مغازی میں تبحر حاصل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ محمد بن اسحاق کا پروردہ ہوگا۔ ابو معاویہ کہتے تھے کہ محمد بن اسحاق کا حافظہ لوگوں میں سب سے زیادہ ہے۔ امام بخاری نے کہا علی بن عبداللہ، محمد بن اسحاق کی احادیث سے استدلال کرتے تھے اور ابن عیینہ نے کہا میں نے کسی شخص کو محمد بن اسحاق پر تہمت لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ابو زرعہ دمشقی نے کہا کہ محمد بن اسحاق وہ شخص تھے کہ بڑے بڑے علماء ان سے علم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے، ان میں سفیان، شعبہ، ابن عیینہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، ابن المبارک، ابراہیم بن سعد تھے اور اکابر محدثین ان سے روایت کرتے تھے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں کہ محمد بن اسحاق پر قدری ہونے کی تہمت لگائی جاتی تھی حالانکہ وہ قدریہ کے عقائد سے بہت دور تھے۔ یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے سوال کیا، کیا آپ کے نزدیک محمد بن اسحاق کی حدیث صحیح ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میرے نزدیک محمد بن اسحاق کی حدیث صحیح ہے۔ میں نے کہا پھر امام مالک نے جو ان پر اعتراض کیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے ؟ انہوں نے کہا امام مالک ان کے پاس بیٹھے نہ انہوں نے انکو پہچانا۔ میں نے کہا کہ ہشام بن عروہ نے ان پر اعتراض کیا ہے (کہ محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کو نہیں دیکھا) علی بن مدینی نے کہا کہ ہشام حجت نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے بچپن میں ان کی بیوی سے حدیث کا سماع کیا ہو۔ ابوبکر مروزی کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک موسیٰ بن عبیدہ اور محمد بن اسحاق میں سے کون پسندیدہ ہے ؟ انہوں نے کہا محمد بن اسحق۔ محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ علی بن مدینی نے کہا کہ محمد بن اسحاق صالح وسط ہیں۔ یعقوب بن شیبہ السدوسی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کیا آپ کو محمد بن اسحاق کے صدق کے متعلق کوئی تردد ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، وہ صدق (بہت زیادہ سچے) ہیں۔ عجلی نے کہا وہ ثقہ ہیں۔ شعبہ کہتے تھے کہ محمد بن اسحاق حدیث میں امیر المومنین ہیں۔ محمد بن سعد نے کہا کہ محمد بن اسحاق ثقہ ہیں۔ بعض لوگوں نے ان پر اعتراض کیا ہے، ایک اور مقام پر کہا جس شخص نے سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی کو جمع کیا وہ محمد بن اسحاق ہیں (واضح رہے کہ سیرت اور مغازی کی تمام روایات کی اصل محمد بن اسحاق ہیں) ابو احمد بن عدی نے کہا کہ محمد بن اسحاق کی فضیلت کے لیے یہ کافی ہے کہ انہوں نے سلاطین کو فضول کتابوں کے مطالعہ سے ہٹا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی کی طرف متوجہ کردیا اور بعد کے تمام سیرت نگاروں نے ان ہی سے استفادہ کیا ہے۔ احمد بن خالد نے کہا کہ ١٥١ ہجری میں محمد بن اسحاق کی وفات ہوئی۔ (تہذیب الکمال رقم : ٤٦٤٤، ج ١٦ ص ٨٣۔ ٧٠، ملحضًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ، تہذیب التہذیب رقم : ٤٩٦٠، ج ٩ ص ٣٨، ٣٣، ملحضًا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)
امام محمد بن اسحاق کو کاذب کہنے کا جواب امام محمد بن اسحاق کو جس وجہ سے کذاب اور مدلس کہا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے : ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی المتوفی ٣٦٥ ھ لکھتے ہیں : سلیمان بن دائود کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ وہ کذاب ہے۔ انہوں نے کہا میں نے وہیب سے پوچھا، آپ کو کیسے معلوم ہوا انہوں نے کہا مجھ سے مالک بن انس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذاب ہے۔ میں نے مالک سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ انہوں نے کہا مجھ سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ کذاب ہے، میں نے ہشام سے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ انہوں نے کہا وہ میری بیوی فاطمہ بنت المنذر سے ایک حدیث روایت کرتا ہے، حالانکہ وہ نو سال کی عمر میں میرے پاس رخصتی کے بعد آئی تھی، اور اس کو تا حیات کسی مرد نے نہیں دیکھا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦ ص ٢١١٧، الضعفا الکبیر ج ٤ ص ٢٥، المنتظم ج ٥ ص ٢٠٩، تہذیب الکمال ج ١٦ ص ٧٥، تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٤، میزان الاعتدال ج ٦ ص ٥٨۔ ٥٧، کتاب الجرح و التعدیل ج ٧ ص ١٩٣۔ ١٩٢) ان ہی کتابوں میں اس اعتراض کا جواب بھی مذکور ہے، امام ابن عدی لکھتے ہیں : امام احمد نے فرمایا : امام محمد بن اسحاق کے لیے یہ ممکن تھا کہ جس وقت ہشام کی بیوی فاطمہ مسجد میں جا رہی ہو، اس وقت انہوں نے اس حدیث کو سن لیا ہو یا کسی وقت وہ گھر جا رہی ہو تو ان سے سن لیا ہو۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦ ص ٢١٢٠) علامہ ذہبی نے کہا کہ امام احمد نے فرمایا ممکن ہے کہ محمد بن اسحاق نے ان سے مسجد میں یہ حدیث سنی ہو، یا انہوں نے بچپن میں ان سے یہ حدیث سنی ہو یا انہوں نے پردہ کی اوٹ سے یہ حدیث بیان کی ہو، اور اس میں کیا چیز مانع ہے حالانکہ وہ بوڑھی اور عمر رسیدہ ہوچکی تھیں۔ (میزان الاعتدال ج ٦ ص ٥٨) علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ امام احمد نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ امام محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی کے پاس گئے ہوں اور ہشام کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو۔ (المنتظم ج ٥ ص ٢٠٩) حافظ مزی لکھتے ہیں کہ عبدالل بن احمد نے کہا میں نے اپنے والد کے سامنے ابن اسحاق کی ایک حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا ہشام نے اس کا انکار نہیں کیا، ہوسکتا ہے کہ محمد بن اسحاق ہشام کی بیوی سے اجازت لے کر گئے ہوں اور انہوں نے اجازت دے دی ہو اور ہشام کو اس کا علم نہ ہوا ہو۔ (تہذیب الکمال ج ١٦ ص ٧٥، ایضًا تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٥) نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : امام محمد بن اسحاق کو سلیمان التیمی، یحییٰ قطان اور وہیب بن خالد نے کاذب کہا ہے رہے وہیب اور قطان تو انہوں نے اس تکذیب میں ہشام بن عروہ اور مالک کی تقلید کی ہے اور رہے سلیمان التیمی تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے کسی وجہ سے محمد بن اسحاق پر اعتراض کیا ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ روایت حدیث کے علاوہ اس کا کوئی اور سبب ہے، کیونکہ سلیمان جرح اور تعدیل کے اہل نہیں ہیں، امام ابن حبان نے محمد بن اسحاق کا ثقات میں ذکر کیا ہے ہشام اور مالک نے ان پر جرح کی ہے، رہے ہشام تو ان کا قول لائق جرح نہیں ہے کیونکہ تابعین حضرت عائشہ (رض) کو دیکھے بغیر ان سے حدیث روایت کرتے تھے، اسی طرح محمد بن اسحاق نے فاطمہ کو دیکھے بغیر ان سے حدیث روایت کی اور ان کے درمیان پردہ لٹکا ہوا تھا اور رہے مالک تو انہوں نے ایک مرتبہ یہ کہا اور پھر وہ ان کی طرف پلٹ گئے۔ وہ روایت حدیث کی وجہ سے ان پر اعتراض نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کی جو اولاد مسلمان ہوگئی تھی اور ان کو غزوہ ٗ خیبر وغیرہ کے واقعات یاد تھے، محمد بن اسحاق ان کو بھی تلاش کرتے تھے ہرچند کہ ان سے وہ استدلال نہیں کرتے تھے اور امام مالک کے نزدیک ان ہی سے روایت حدیث جائز تھی جو بہت ثقہ ہوں، اور جب امام ابن المبارک سے ان کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے تین مرتبہ کہا وہ بہت سچے ہیں اور امام ابن حبان نے کہا مدینہ میں محمد بن اسحاق کے پائے کا کوئی عالم نہیں تھا اور نہ روایات کو جمع کرنے میں کوئی شخص ان کی ٹکر کا تھا (الی قولہ) امام ذہبی نے ہشام کی تکذیب کا رد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ہشام کا یہ کہنا بداہتاً غلط ہے کہ فاطمہ نو سال کی عمر میں اس کے نکاح میں آئی کیونکہ فاطمہ، ہشام سے تیرہ سال بڑی تھی، اور امام ابن اسحاق نے فاطمہ سے اس وقت حدیث کی روایت کی ہے جب ان کی عمر پچاس سال سے زیادہ تھی اور فاطمہ سے امام محمد بن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی حدیث روایت کی ہے، ان میں سے محمد بن سوقہ ہیں۔ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٣٨۔ ٣٧)
عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ پر جرح کا جواب حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کے ایک اور راوی پر جرح کرتے ہوئے کیپٹن مسعود لکھتے ہیں : دوسرے راوی عمر و بن شعیب جو محمد بن اسحاق کے استاد ہیں ان کا معاملہ بھی اپنے شاگرد سے مختلف نہیں، ابو دائود کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب، عن ابیہ عن جدہ لیس بحجۃ عمرو بن شعیب کی روایت اپنے باپ سے اور ان کی اپنے دادا سے حجت نہیں ہے اور اس روایت میں ایسا ہی ہے اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ وہ آدھی حجت بھی نہیں ہے۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب ہمارے نزدیک واہی ہے۔ امام احمد کہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب کی روایت حجت نہیں ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٥٠۔ ٤٩) ابوزرعہ کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنے باپ سے صرف چند روایتیں سنی ہیں لیکن وہ باپ اور داد سے منسوب کر کے تمام غیر مسموع روایتیں بےتحاشا بیان کرتے ہیں۔ (میزان الاعتدال جلد ٢ ص ٢٨٩) ابن حجر کہتے ہیں کہ انہوں نے عن ابیہ عن جدہ کے طریقہ سے کچھ بھی نہیں سنا وہ کتاب سے نقل کر کے محض تدلیس سے کام لیتے ہیں۔ (طبقات المدلسین ص ١١) یہ دست ہے کہ بعض لوگوں نے عمرو بن شعیب پر جرح کی ہے لیکن ماہرین حدیث نے عمرو بن شعیب کی تعدیل کی ہے۔ حافظ جمال الدین ابن الحجاج یوسف المزی المتوفی ٧٤٢ ھ لکھتے ہیں : عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص القرشی، ان سے امام بخاری نے قرائت خلف الامام میں احادیث روایت کی ہیں اور امام ابو دائود، امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ان سے احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے کہا امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، اسحاق بن راہویہ، ابو عبید اور ہمارے عام اصحاب کو میں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے احادیث روایت کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مسلمانوں میں سے کسی شخص نے بھی ان سے روایت حدیث کو ترک نہیں کیا۔ امام بخاری نے فرمایا ان کے بعد اور کون رہ جاتا ہے ؟ اسحاق بن منصور نے یحییٰ بن معین سے روایت کیا کہ ان کی احادیث لکھی جاتی ہیں۔ عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک کون بہتر ہے، عمرو بن شعیب، عن ابیہ، عن جدہ یا ابو بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ ؟ تو انہوں نے کہا میرے نزدیک عمرو زیادہ بہتر ہیں، احمد بن عبداللہ العجلی اور امام نسائی نے کہا وہ ثقہ ہیں، امام اوزاعی نے کہا میں نے عمرو بن شعیب سے افضل اور کامل کوئی شخص نہیں دیکھا، امام دارقطنی نے کہا میں نے ابوبکر النقاش سے یہ سنا ہے کہ عمرو بن شعیب سے افضل اور کامل کوئی شخص نہیں دیکھا، امام دارقطنی نے کہا میں نے ابوبکر النقاش سے یہ سنا ہے کہ عمرو بن شعیب تابعین میں سے نہیں ہیں، اور وہ بیس تابعین سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ امام دار قطنی نے کہا جب میں نے تحقیق کی تو ان کی تعداد بیس سے زیادہ ہے۔ (حافظ مزی کہتے ہیں کہ :) امام دار قطنی کا بھی یہ گمان ہے کہ عمرو بن شعیب تابع نہیں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے زینت بنت ابی سلمہ اور الربیع بنت معوذ بن عفراء حدیث کا سماع کیا ہے اور وہ صحابیہ ہیں۔ ان کی وفات ١١٨ ھ میں ہوئی تھی۔ (تہذیب الکمال رقم : ٤٩٦٩، ج ١٤ ص ٢٤٩۔ ٢٤٤ ملحضًا وملتنقطًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) حافظ شہاب الدین بن احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٦ ھ لکھتے ہیں : ابن شاہین نے کہا عمرو بن شعیب ثقات میں سے ہیں۔ احمد بن صالح نے کہا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند ثابت ہے۔ یعقوبہ بن ابی شیبہ نے کہا ہمارے اصحاب میں سے کوئی شخص عمرو بن شعیب کی احادیث پر تنقید نہیں کرتا، ان کے نزدیک عمرو بن شعیب ثقہ ہیں اور ان کی احادیث ثابت ہیں، اور عمرو بن شعیب کی جن احادیث کا لوگوں نے انکار کیا ہے اس کی وجہ ان کی احادیث کی اسانید میں بعد کے ضعیف راوی ہیں اور جن ثقہ راویوں نے ان سے احادیث کو روایت کیا ہے وہ احادیث صحیح ہیں۔ علی بن مدینی نے کہا شعیب کے والد نے انکے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع کیا ہے اور علی بن مدینی نے کہا ہمارے نزدیک عمرو بن شعیب ثقہ ہیں اور ان کی کتاب صحیح ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٤٥، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ) حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ عمرو بن شعیب کے متعلق اپنی رائے میں لکھتے ہیں کہ وہ صدق ہیں یعنی بہت زیادہ سچے ہیں۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص ٧٣٧، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٣ ھ) حافظ شمس الدین محمد بن احمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ نے عمرو بن شعیب کی تعدیل کے متعلق بہت اقوال لکھے ہیں ہم ان میں سے چند نقل کر رہے ہیں۔ ابو حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے عمرو بن شعیب کے متعلق سوال کیا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور کہا میں ان کے خلاف کچھ کہہ سکتا ہوں جن سے آئمہ نے حدیث کو روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے امام بخاری کی تاریخ کبیر (ج ٦ ص ٣٤٢) یہ نقل کیا ہے کہ امام احمد، علی بن مدینی، اسحق، اور حمیدی میں نے ان سب کو عمرو بن شعیب سے احادیث روایت کرتے ہوئے دیکھا، پھر ان کے بعد کے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ امام ابو زرعہ نے کہا ان کی روایات میں وہ احادیث منکر ہیں جو مثنی بن الصباح اور ابن لہیعہ سے مروی ہیں اور فی نفسہ ثقہ ہیں۔ ابو حاتم بن حبان نے کہا کہ عمرو بن شعیب کے متعلق صحیح یہ ہے کہ ان کو تاریخ ثقات کی طرف راجع کیا جائے، کیونکہ ان کی عدالت ( نیکی اور پرہیز گاری) کا بیان ہوچکا ہے، اور ان کی احادیث میں جو منکر روایات ہیں تو ان میں جو روایات عن ابیہ عن جدہ ہیں ان کا حکم ثقات کا ہے، جب وہ مقاطیع اور مراسیل روایات کریں تو ان کی احادیث میں سے مقطوع اور مرسل کو چھوڑ دیا جائے اور حدیث صحیح سے استدلال کیا جائے، (حافظ ذہبی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ عمرو بن شعیب کی اپنے باپ اور دادا سے جو روایات ہیں ان میں کوئی روایت مرسل ہے نہ منقطع، رہا یہ کہ وہ بعض احادیث کتاب سے بیان کرتے ہیں اور بعض سن کر تو یہ محل نظر ہے اور ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کی احادیث، حدیث صحیح کی اعلیٰ اقسام میں سے ہیں بلکہ ان کی حدیث حسن کے قبیل سے ہے۔ (میزان الاعتدال ج ٥ ص ٣٢٣۔ ٣٢٠ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)
عمرو بن شعیب کی اس روایت سے استدلال کرنے والے علماء عمرو بن شعیب کی اس روایت سے حسب ذیل علماء نے استدلال کیا ہے : حافظ ابن قیم جوزی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس بیماری (خواب میں ڈرنے) کے لیے اس تعویذ کے علاج کی مناسبت خفی نہیں ہے۔ (زاد المعاد ج ٤ ص ١٦٨۔ ١٦٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے بھی اس حدیث سے استدلال کیا ہے (تفسیر کبیر ج ١ ص ٧٨، بیروت، ج ١ ص ٧٥، مصر) حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے بھی اس حدیث سے تعویذ لٹکانے پر استدلال کیا ہے۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٦ ھ) حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ، علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، شیخ شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ اور نواب بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ نے بھی اس حدیث سے شیطان سے پناہ مانگنے پر استدلال کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٨٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ، فتح القدیر ج ٣ ص ٦٧٧۔ ٦٧٦، مطبوعہ دارالوفا بیروت، ١٤١٨ ھ، فتح البیان ج ٩ ص ١٤٨، مالمکتبہ العصریہ بیروت، ١٤١٥ ھ) ان کے علاوہ اور بھی مفسرین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جن کو ہم نے اختصار کی وجہ سے ترک کردیا۔ محدثین میں سے ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : جن تعویذات میں اللہ تعالیٰ کے اسماء ہوں ان کو لٹکانے کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔ (مرقات : ج ٥ ص ٢٣٦، مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان، ١٣٩٠) شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : حدیث میں مذکور کلمات کو ایک کاغذ پر لکھ کر گردن میں لٹکا لیاجائے اس حدیث سے گردن میں تعویذات لٹکانے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ سیپیوں اور اس کی مثل چیزوں کا لٹکانا حرام یا مکروہ ہے، لیکن اگر تعویذات میں قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (اشعتہ اللمعات ج ٢ ص ٢٩٠، مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنؤ) شیخ عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : شیخ عبدالحق دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں بچوں کے گلوں میں تعویذات لٹکانے کی دلیل ہے، لیکن رسوم جاہلیت کے مطابق حرز اور کوڑیوں کو لٹکانا بالاتفاق حرام ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٤ ص ٤٧٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) ان تمام دلائل سے واضح ہوگیا کہ از محمد بن اسحاق از عمرو بن شعیب از والد از جدیہ روایت صحیح یا حسن ہے اور اس سے اہل علم نے استدلال کیا ہے تاہم اس سند سے اس روایت کو پھر بھی کوئی تسلیم نہ کرے تو ہم اس روایت کو ایک اور سند سے پیش کر رہے ہیں، جس میں امام محمد بن اسحاق نہیں ہیں۔ امام ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : احمد بن خالد از محمد بن اسمعیل از عمرو بن شعیب از والد از جد خود وہ کہتے ہیں کہ ولید بن ولید ایسے شخص تھے جو خواب میں ڈر جاتے تھے، تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم سونے لگو تو یہ پڑھو : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضیہ و عقابہ و من شر عبادہ و من ھمزات الشیطان و ان یحضرون۔ جب انہوں نے یہ کلمات پڑھے تو ان کا ڈر جاتا رہا، اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلوں میں یہ تعویذ لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔ (خلق افعال العباد ص ٨٩، مطبوعہ مؤسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤١١ ھ)
بعض تابعین سے اقوال کی توجیہ نیز کیپٹن مسعود لکھتے ہیں : پانچویں علت یہ ہے کہ کسی صحابی، کسی تابعی نے تمیمہ کو جائز قرار نہیں دیا، یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض صحابہ بھی ان تعویزوں کو جائز سمجھتے تھے جن میں قرآن یا اسماء اللہ تعالیٰ یا اللہ کی صفات لکھی ہوئی ہوتی تھیں صحیح نہیں ہے۔ (الی قولہ) و کیع، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی انسان کی گردن سے تمیمہ کاٹ دیا اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے ص ٧) سعید بن جبیر کے اس قول میں تمیمہ سے مراد رسم جاہلیت کے مطابق کوڑیاں ہیں یا وہ تعویذات جن میں قرآن مجید اور اسماء الہیہ کے علاوہ کچھ لکھا ہو یا غیر عربی میں لکھا ہو، باقی اسی صفحہ پر ابراہیم نخعی کا جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ہر قسم کے تمائم مکروہ ہیں خواہ قرآن سے لکھے جائیں یا غیر قرآن سے، یہ بلا حوالہ لکھا ہے، سو یہ ہم پر حجت نہیں ہے خصوصاً جب کہ یہ احادیث صحیحہ اور بکثرت آثار تابعین اور متعدد مفسرین کی عبارات اور فقہاء کی تصریحات کے خلاف ہے۔
تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق فقہاء تابعین کے فتاوی ابو عصمۃ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے تعویذ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا جب اس کو گردن میں لٹکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) عطا سے اس حائض عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس پر تعویذ ہو، انہوں نے کہا اگر وہ چمڑے میں ہو تو وہ اس کو اتار لے اور اگر وہ چاندی کی نلکی (یا ڈبیا) میں ہو تو اگر چاہے تو وہ اس کو رکھ دے اور چاہے تو نہ رکھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٤) یونس بن خباب بیان کرتے ہیں کہ بچوں کے گلوں میں جو تعویذ لٹکائے اور غسل کے وقت اور بیت الخلاء کے وقت اس کو اتار دے تو تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٣) (اگر تعویذ چمڑے میں منڈھا ہوا ہو یا چاندی کی ڈبیا میں ہو تو پھر ان احوال اور اوقات میں اتارنا ضروری نہیں ہے) (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٤٣۔ ٤٢، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)
دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق علماہ شامی حنفی کی تصریح علامہ سید محمد امین بن ابن عابدین حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : علامہ حصکفی نے کہا کہ مجتبی میں یہ مذکور ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر عربی میں ہو، میں کہتا ہوں کہ میں نے مجتبی میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ وہ تمیمہ مکروہ ہے جو غیر قرآن ہو، اور ایک قول یہ ہے کہ تمیمہ وہ کوڑیاں ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں گلے میں لٹکاتے تھے اور مغرب میں مذکور ہے کہ تعویذات ہی تمائم ہیں اس طرح نہیں ہے، تمیمہ صرف کوڑیاں ہیں اور تعویذات میں جب قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے الی قولہ، شلبی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ تمائم تمیمہ کی جمع ہے اور یہ وہ سیپیاں یا کوڑیاں ہیں جن کو عرب اپنے بچوں کے گلے میں ڈال دیتے تھے اس سے وہ اپنے زعم میں ان کو نظر بد سے بچاتے تھے، اسلام نے اس کو باطل کردیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے : جس نے تمیمہ کو لٹکایا اللہ اس کے مقصود کو پورا نہ کرے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ یہی مکمل دوا اور شفا ہے، بلکہ انہوں نے اس کو اللہ کا شریک بنادیا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر اس سے ٹل جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے غیر مصائب کے دور کرنے کو طلب کرتے تھے حالانکہ اللہ کے سوا ان کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ مجتبی میں مذکور ہے کہ قرآن مجید سے شفا حاصل کرنے میں اختلاف ہے بایں طور پر کہ مریض پر یا سانپ سے ڈسے ہوئے پر قرآن مجید یا سورة فاتحہ پڑھی جائے یا کسی کاغذ میں لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے یا کسی طشت میں لکھ کر اس کو دھویا جائے اور اس کا غسالہ (دھو ون) مریض کو پلا دیا جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے اور اس زمانہ میں مسلمانوں کا عمل اس کے جواز پر ہے، اسی کے احادیث اور آثار ہیں اور اگر جنبی یا حائض کے بازو پر تعویذ بندھا ہوا ہو اور وہ کسی چیز میں لپٹا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٢٣٢، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٧ ھ، و رد المختار ج ٥ ص ٢٥٧۔ ٢٥٦، دارالکتب العربیہ مصر ١٣٢٧ ھ، مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ، رد المختار ج ٩ ص ٤٤٣، داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ، طبع جدید) شیخ محمد زکریا انصاری (دیوبندی) سہارنپوری نے بھی علامہ شامی کی اس عبارت کو نقل کر کے اس اسے استشہاد کیا ہے (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢ مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا)
دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور دیو بندی عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری کی تصریح : مکتب فکر دیو بند کے مشہور عالم شیخ محمد ذکریا سہارنپوری لکھتے ہیں : حضرت ابن مسعود (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم اور تولہ شرک ہیں۔ تمائم کا معنی سیپیاں، گھونگے اور کوڑیاں ہیں یا ان کا ہار۔ (دوسرے علماء اور فقہا نے تعویذات کو بھی تمائم کا مصداق قرار دیا ہے، سعید غفرلہ) ان کو شرک اسلیے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی اعانت کے بغیر حصول نفع اور دفع ضرر کے سبب ہونے کے عقیدہ رکھتے تھے، اس حکم میں وہ دم اور تعویزات داخل نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کے کلام پر مشتمل ہوں۔ اور کسی بلا اور مصیبت کے نازل ہونے سے پہلے بھی ان کا استعمال کرنا جائز ہے، کیونکہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بستر پر لیٹتے تو تین مرتبہ معوذات (الاخلاص، الفلق، الناس) پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے اور پھر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتے اور جسم پر جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٤٨) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حسین (رض) پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے۔ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) (اوجز المسالک ج ٦ ص ٣٠٢، مطبوعہ المکتبہ الیحیویہ، سہارنپور، یوپی۔ انڈیا) امام بغوی اور امام بیہقی نے حضرت عائشہ (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر مصیبت نازل ہونے کے بعد تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ نہیں ہے اور اگر بلا اور مصیبت نازل ہونے سے پہلے تعویذ لٹکایا جائے تو وہ تمیمہ ہے تاکہ اس تعویذ سے اللہ کی تقدیر کو دفع اور مسترد کیا جائے۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٥٨، سنن کبری ج ٩ ص ٣٥٠) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول بلا سے پہلے دم فرمایا اور آپ کا یہ دم فرمانا اللہ کی تقدیر کو حاصل کرنے کے لیے تھا نہ کہ اللہ کی تقدیر کو دفع کرنے کے لیے، اس لیے یہ احادیث حضرت عائشہ (رض) کے قول کے خلاف نہیں ہیں۔
دم اور تعویذ کے جواز کے متعلق مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کی تصریح مشہور غیر مقلد عالم شیخ محمد عبدالرحمن مبارک پوری متوفی ١٣٥٣ ھ لکھتے ہیں۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی اپنی کتاب “ الدین الخالص “ میں لکھا ہے کہ جن تعویذات میں قرآن مجید کی آیات یا اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھے ہوں ان کو لٹکانے کے جواز میں صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے علماء کا اختلاف رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت عائشہ (رض) کی ظاہر روایت میں اس کا جواز ہے، امام ابو جعفر باق اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود کی اس روایت میں توجیہ کی ہے کہ جھاڑ پھونک، تمائم، (تعویذات) اور تولہ (خاوند کے دل میں بیوی کی محبت کا عمل) شرک ہیں، انہوں نے کہا یہ ان تعویذات پر محمول ہے جس میں شرکیہ کلمات ہوں، اور حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حذیفہ، حضرت عقبہ بن عامر اور ابن عکیم کے ظاہر اقوام میں عدم جواز ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ ان اقوال میں بھی حسب سابق توجیہ کی جائے گی اور ممانعت کو ان تعویزات پر محمول کیا جائے گا جن میں شرکیہ کلمات ہوں، سعیدی غفرلہ) بعض علماء نے ممانعت کو تین وجوہ سے ترجیح دی ہے اول اس لیے کہ ممانعت میں عموم ہے اور ممانعت کا کوئی مخصص نہیں ہے۔ (میں کہتا ہوں کہ جن احادیث میں شرکیہ کلمات کا تمائم میں لکھنا صرف زمانہ جاہلیت میں تھا، کیا شرک کے ذرائع کا سد باب کرنے کے لیے دم کرنے اور دوا دارو کرنے کی بھی ممانعت کی جائے گی کیونکہ حضرت ابن مسعود کی روایت میں دم کرنے کو بھی شرک فرمایا ہے، سعیدی غفرلہ) اور تیسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص تعویذ لٹکاتا ہو ہوسکتا ہے، کہ وہ تعویذ کو قضاء حاجت اور استنجاء کرتے وقت نہ اتارے۔ نواب بھوپالی نے اس وجہ کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ وجہ بہت کمزور ہے کیونکہ اس سے کیا چیز مانع ہے کہ وہ شخص قضاء حاجت کے وقت تعویذ اتار لے اور فارغ ہو کر پھر پہن لے۔ پھر نواب بھوپالی نے لکھا ہے کہ اس باب میں راجح یہ ہے کہ تعویذ لٹکانا خلاف اولی ہے کیونکہ جس طرح تقوی کے کئی مراتب ہیں اسی طرح اخلاص کے بھی کئی مراتب ہیں۔ (یوں کہنا چاہیے کہ توکل کے بھی کئی مراتب ہیں، سعیدی غفرلہ) حدیث میں ہے : ستر ہزار مسلمان جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، یہ وہ ہیں جو نہ خود دم کرتے ہوں گے نہ دم طلب کرتے ہوں گے۔ حالانکہ دم کرنا جائز ہے اور اس سلسلہ میں بہت احادیث اور آثار ہیں (لیکن یہ توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، اسی طرح تعویذ لٹکانا بھی توکل کا اعلیٰ مرتبہ ہے، سعیدی غفرلہ) واللہ اعلم بالصواب، یہاں پر نواب بھوپالی کی عبارت ختم ہوگئی۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٦ ص ٢٣٢۔ ٢٣١ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٩ ھ) اس بحث کے اخیر میں ہم حافظ ذہبی اور حافظ ابن قیم کے ذکر کیے ہوئے چند تعویذات کا بیان کر رہے ہیں۔
تعویذ لٹکانے کے جواز کے متعلق علامہ ذہبی کی تصریح اور خواب میں ڈرنے کا تعویذ حافظ ابو عبداللہ محمد بن احمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : تمائم (تعویذات) لٹکانے کے متعلق امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ مکروہ ہے اور کہا جس نے کسی چیز کو لٹکایا وہ اسی کے سپرد کردیا جائے گا۔ حرب نے کہا میں نے امام احمد سے پوچھا جن تعاویذ میں قرآن مجید لکھا ہوا ہو یا اس کا غیر لکھا ہوا ہو آیا وہ مکروہ ہیں ؟ انہوں نے کہا حضرت ابن مسعود اس کو مکروہ کہتے تھے، امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگر سے روایت کیا ہے کہ وہ اس میں نرمی کرتے تھے اور شدت نہیں کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص خواب میں ڈر جائے تو وہ یہ پڑھے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزات الشیطن و ان یحضرون۔ میں اللہ کے غضب سے اس کے عقاب سے اس کے بندوں کے شر اور شیطان کے وسوسوں اور ان کے حاضر ہونے سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ تو پھر شیاطین اس کو ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے بالغ بچوں کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے اور نابالغ بچوں کے گلے میں ایک کاغذ پر یہ کلمات لکھ کر لٹکا دیتے تھے، اس حدیث کو امام ابو دائود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے اور امام النسائی نے اس حدیث کو عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کیا ہے، اور اس کے مکروہ یا غیر مکروہ ہونے کا حکم اس وقت ہے جب کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ تعویذ بنفسہ نفع یا ضرر پہنچاتا ہے، یا اس میں ایسے کلمات ہوں جن کا معنی معلوم نہ ہو۔ (الطب النبوی ص ٢٨١، داراحیاء العلوم، بیروت، ١٤٠٦ ھ)
تعویذ لٹکانے کے متعلق علامہ ابن قیم جوزی کی تصریحات اور بخار کا تعویذ علامہ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر المعروف بابن القیم جوزی المتوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : ابو عبداللہ کو یہ خبر پہنچی کہ مجھے بخار چڑھ گیا تو انہوں نے مجھے بخار کے لیے ایک کاغذ لکھ کر بھیجا جس میں یہ لکھا ہو اتھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ و بالل، محمد رسول اللہ قلنا یا نار کوئی برداوسلاما علی ابراھیم وارادوابہ کیدا فجعلنا ھم الاخسرین (الانبیاء : ٧٠۔ ٦٩) اللھم رب جبرائیل و میکائل، و اسرافیل، اشف صاحب ھذا الکتاب بحولک و قوتک و جبروتک الہ الحق و امن۔ مروزی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا کہ یونس بن حبان نے ابو جعفر محمد بن علی سے پوچھا کہ آیا میں تعویذ لٹکائوں ؟ انہوں نے کہا اگر وہ تعویذ اللہ کی کتاب ہو یا اللہ کے نبی کے کلام سے ہو تو اس کو لٹکا لو، اور حسب استطاعت اس سے شفاء طلب کرو، میں نے کہا بخار کا تعویذ اس طرح لکھتا ہوں باسم اللہ وباللہ و محمد رسول اللہ الخ، انہوں نے کہا درست ہے۔ امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) اور دیگرے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں نرمی کی ہے۔ حرب نے کہا امام احمد بن حنبل نے اس معاملہ میں سختی نہیں کی، امام احمد نے کہا حضرت ابن مسعود (رض) اس معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے، اور ان سے ان تعویذات کے متعلق وال کیا گیا جو مصائب نازل ہونے کے بعد لٹکائے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ خلال نے کہا ہم سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو مصائب نازل ہونے کے بعد ان لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو ڈر جاتے تھے اور جن کو بخار چڑھ جاتا تھا۔ (زاوالمعاوج ج ٤ ص ٢٩١، دارالفکر بیروت)
وضع حمل میں تنگی اور مشکل کے متعلق تعویذ شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : خلال بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن (امام) احمد نے بیان کیا ہے کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) کو اس عورت کے لیے تعویذ لکھتے ہوئے دیکھا جس کو وضع حمل میں تنگی اور مشکل پیش آرہی ہو، وہ یہ تعویذ سفید پیالے میں یا کسی صاف چیز پر لکھتے تھے، وہ حضرت ابن عباس (رض) کی یہ حدیث لکھتے ہیں : لا الہ الا للہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم، الحمد لہ رب العلمین (کانھم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثو الاساعۃ من نھار بلاغ) (الاحقاف : ٣٥) (کانھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعژیۃ او ضحاھا) (النازعات : ٤٦) خلال نے کہا ہم سے ابوبکر المروزی نے بیان کیا کہ ابو عبداللہ (امام احمد) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ابو عبداللہ ! کیا آپ اس عورت کے لیے تعویذ لکھ دیں گے جس کو دو روز سے وضع حمل میں مشکل پیش آرہی ہے۔ فرمایا : اس سے کہو کہ وہ ایک بڑا پیالہ اور زعفران لے کر آئے اور میں نے دیکھا کہ وہ متعدد لوگوں کے لیے تعویذ لکھتے تھے۔ عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلی اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم کا ایک گائے کے پاس گزر ہوا، اس کے پیٹ میں اس کا بچہ پھنسا ہوا تھا (وضع حمل میں مشکل ہو رہی تھی) اس گائے نے حضرت عیسیٰ سے کہا : اے کلمۃ اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے جس میں، میں مبتلا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی : یا خالق النفس من النفس، یا مخلص النفس من النفس و یا مخرج النفس من النفس خلصھا، تو اس گائے نے بچہ جن دیا، اور وہ کھڑی ہوئی اس بچے کو سونگھ رہی تھی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا پس جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو اس کو یہ کلمات لکھ دو ۔ خلال نے کہا اسی طرح اس سے پہلے چند کلمات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا لکھنا بھی فائدہ مند ہے۔ متقدمین کی ایک جماعت نے قرآن مجید کی آیات کو لکھنے اور ان کے غسالہ (دھو ون) کو پینے کی بھی اجازت دی ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شفا میں سے شمار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ صاف برتن میں لکھا جائے۔ اذا السماء انشقت واذنت لربھا وحقت واذا الارض مدت والقت ما فیھا و تخلت۔ (الانشقاق : ٤۔ ١) حاملہ عورت کو اس برتن سے پانی پلایا جائے اور پانی کو اس کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (زاد المعادج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) اسی طرح حافظ ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : جب بعض کلام میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے نفع دیتے ہیں تو تمہارا اللہ کے کلام کے متعلق کیا گمان ہے ! اور امام احمد نے یہ تصریح کی ہے کہ جب قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھا جائے تو پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ پی لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ایک شخص کسی برتن میں قرآن مجید لکھے پھر اس کو دھو کر اس کا دھو ون مریض کو پلا دے، اسی طرح کسی چیز پر قرآن مجید لکھ کر اس کو پی لے تو ان میں سے کسی چیز میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح پانی پر قرآن مجید پڑھ کر اسے مریض پر چھڑکا جائے، اور اسی طرح جب عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو قرآن مجید لکھ کر اس کا دھو ون اس حاملہ عورت کو پلا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس سے یہ روایت ہے کہ جب کسی عورت کو وضع حمل میں دشواری ہو تو ایک صاف برتن لے کر اس میں یہ لکھا جائے۔ کا نھم یوم یرون ما یوعدون (الاحقاف : ٣٥) کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا (النازعات : ٤٦) لقد کان فی قصصھم عبرۃ لا ولی الالباب (یوسف : ١١١) پھر اس کو دھو کر اس کا غسالہ عورت کو پلایا جائے اور اس کا پانی عورت کے پیٹ پر چھڑکا جائے۔ (الطب النبوی ص ٢٧٩، مطبوعہ داراحیاء العلوم بیروت، ١٤٠٦ ھ)
نکسیر کے متعلق تعویذ شیخ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفی ٧٦٨ ھ) اپنی پیشانی پر لکھتے تھے، و قیل یا ارض ایلعی ماءک ویاسماء اقلعی و غیض الماء و قضی الامر۔ (ھود : ٥٥) اور میں نے ابن تیمیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں نے متعدد لوگوں کو یہ آیت لکھ کردی اور وہ تندرست ہوگئے اور انہوں نے کہا اس آیت کو نکسیر کی خون سے لکھنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ جہلاء کرتے ہیں کیونکہ خون نجس ہے پس اس سے اللہ کے کلام کو لکھنا جائز نہیں ہے۔ ان کا ایک اور تعویذ یہ ہے : یمحواللہ ما یشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب۔ (الرعد : ٣٩) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٢، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٩ ھ)
دل یا سینہ میں درد (انجائنا) کے لیے تعویذ اس طرح لکھا جائے : فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت (البقرہ : ٢٦٦) یحول اللہ و قوتہ دوسر تعویذ اس وقت لکھا جائے جب سورج زرد ہوجائے، اس میں یہ لکھا جائے : یا یھا الذین امنو اتقو اللہ و امنو ابرسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفرلکم واللہ غفور رحیم (الحدید : ٢٨ )
میعادی بخار (ٹائیفائڈ) مثلا تین دن کے بخار کے لیے تعویذ تین باریک کاغذوں پر لکھا جائے : بسم اللہ فرت، بسم اللہ مرت، بسم اللہ قلت، اور ہر روز ایک کاغذ منہ میں رکھ کر نگل لے۔
عرق النساء کے لیے تعویذ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللھم رب کل شئی و ملیک کل شئی و خالق کل شئی انت خلقتنی و انت خلقت النساء فلا تسلطہ علی باذی ولا تسلطنی علیہ بقطع واشفنی شفاء لا یغادر سقما ولا شافی الا انت۔
گٹھیا کے لیے تعویذ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بخار اور ہر قسم کے درد کے لیے یہ پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے : بسم اللہ الکبیر اعوذ باللہ العظیم من کل شر کل عرق نعار و من شر حر النار۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٦ )
ڈاڑھ کے درد کے لیے تعویذ جس جگہ درد ہے اس کے بالمقابل رخسار پر لکھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، قل ھو الذی انشا کم و جعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (الملک : ٢٣) اور اگر چاہے تو یہ لکھے : ولہ ما سکن فی اللیل والنھار و ھو السمیع العلیم (الانعام : ١٣)
پھوڑے، پھنسیوں اور آبلوں اور ہر قسم کی انفیکشن کے لیے تعویذ اس کے لیے یہ لکھا جائے گا : و یسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا فیذرھا قاعاصفصفا لا تری فیھا عوجا ولا ماتا (الانعام : ١٣) (زاد المعاد ج ٤ ص ٢٩٤۔ ٢٩٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ).
#سوال__کیاتعویذات_پہنناشرک_ہے ؟
#نیزتمائم_اورتعویذمیں_کیافرق_ہے ؟
#الجواب::
پہلےنمبرپر تمائم (تمیمہ) کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں-کیونکہ آلِ نجد وہ حدیثیں پیش کرتی ہے جس میں تمیمہ یا تمائم کی نفی ہے- اور اسی حدیث کو اسمائے الٰہیہ والے تعویذات پر فِٹ کر کے شرک کا گولہ پھینک دیتےہیں_
حالانکہ تمیمہ اور تعویذمیں فرق ہے
#تمائم_اورتعویذمیں_فرق
#تمیمہ
علامہ ابنِ اثیر لکھتےہیں:
"التميمة :وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم , يتقون بها العين في زعمهم"
"تميمة : "یہ خرزات (پتھر، منکے اور کوڑیوں کی مالا) کو کہتے ہیں جنہیں (زمانہ جاہلیت میں) عرب لوگ ( مؤثر بالذات یعنی خود پتھرکی ذاتی طاقت سمجھ کر) بچوں کو اس کے ذریعہ سے نظرِ بد سے بچانے کے زُعم (عقیدہ و نظریہ) سے پہناتے تھے"
[النهاية لابن الأثير : جلد1، صفحہ 197]
وھابیہ نجدیہ کے تین مشہورعلما, مولوی زبیرعلیزئی, مولوی صلاح الدین یوسف, مولوی عمرفاروق سعیدی, نے ملکر ابوداؤد شریف پر ترجمہ, فوائد,تحقیقق وتخریخ لکھی اس میں وہ تمیمہ کی وضاحت لکھتےہیں :
"تمیمہ یعنی وہ مَنکےجو عرب لوگ(زمانہء جاھلیت میں)اپنے بچوں کونظرِبد سے بچانے کے لئے پہناتےتھے تمیمہ اور تمائم کہلاتے ہیں-اس معنیٰ میں وہ کوڑیاں, مَنکے, پتھر, لوہا, چھلے, انگوٹھیاں لکڑی اور دھاگے وغیرہ سب شامل ہیں جو جاھل لوگ بغرضِ علاج پہنتےپہناتےہیں اس میں وہ تعویذات بھی آتےہیں جو کفریہ شرکیہ اور غیر شرعی تحریروں پر مشتمل ہو -
لیکن ایسے تعویذات جو آیاتِ قرآنیہ اور مسنون دُعاؤں پر مشتمل ہوں انہیں تمیمہ کہنا قرآن وسُنت کی ہتک ہے اس پاکیزہ کلام کو یہ بُرا نام دینا ناروا غُلُو ہے........
علمائےسنت کا ایک گروہ(تعویذات) کا قائل و فاعل رہا ہے............
مگر کلامُ اللہ یا مسنون دُعاؤں کو تمیمہ جیسا بُرا نام دینا بہت بڑا ظُلم ہے-"
[ابوداؤدشریف(اُردو), کتاب الطب,جلد4 صفحہ نمبر21 مطبوعہ دارالسلام لاھور]
وھابیہ کے محققینِ ثلاثہ کی اس گفتگو سے درج ذیل چیزیں واضح ہو جاتی ہیں کہ
1: تمیمہ وہ مَنکےاور پتھر وغیرہ ہیں جو زمانہءجاھلیت میں باندھےجاتےتھے-
2:ایسی تحریریں جو کفر وشرک پر مشتمل ہوں وہ بھی تمیمہ کے زمرء میں آتیں ہیں-
(جن سے احادیث میں منع فرمایا گیاہے جبکہ تعویذات کا جواز قرآن وست سے ثابت ہے)
3:ایسےتعویذات جو آیتِ قرنیہ اور مسنون دُعاؤں پر مشتمل ہوں اُنہیں تمیمہ کہنا قرآن و سُنت کیساتھ کھلواڑ, غُلُو, اور بہت بڑاظُلم ہے-
اور یہی ظلم آج کے جاھل وھابی بھولے بھالے مسلمانوں کیساتھ کر رہے ہیں- تمیمہ والی احادیث پڑھ کر اسمِ الٰہیہ والے تعویذات کو شرک قرار دے رہےہیں.
امام بغوی فرماتے ہیں :
’’ اَلتَّمَائِمُ جَمْعُ تَمِیْمَۃٍ وَ ہِیَ خَرَزَاتٌ کَانَتِ الْعَرَبُ تُعَلِّقُہَا عَلٰی اَوْلاَدِہِمْ یَتَّقُوْنَ بِھا الْعَیْنَ بِزَعْمِہِمْ فَاَبْطَلَہَا الشَّرْعُ ‘‘
’’تمائم، تمیمہ کی جمع ہے، اور یہ گُھونگے ہیں جنھیں عرب اپنے گمان میں اپنی اولاد کو نظربد وغیرہ سے بچانے کے لیے پہناتے تھے، شریعت نے انھیں باطل قرار دیا ہے۔‘‘
[شرحُ السنۃ جلدنمبر 12 صفحہ نمبر 157 ]
وھابیہ کے جرحِ حدیث کے ٹھکیدار البانی نےلکھا :
ومن ذلك تعليق بعضهم نعل الفرس على باب الدار، أو في صدر المكان!
وتعليق بعض السائقين نعلا في مقدمة السيارة أو مؤخرتها، أو الخرز الأزرق على
مرآة السيارة التي تكون أمام السائق من الداخل، كل ذلك من أجل العين زعموا"
’’اور اسی قسم سے بعض لوگوں کا گھر کے دروازے پر جوتا لٹکانا، یا مکان کے اگلے حصے پر، یا بعض ڈرائیوروں کا گاڑی کے آگے، یا پیچھے جوتے لٹکانا، یا گاڑی کے اگلے شیشے پر ڈرائیور کے سامنے نیلے رنگ کے منکے لٹکانا بھی ہے، یہ سب ان کے زُعم باطل کے مطابق نظر بد سے بچائو کی وجہ سے ہے۔‘‘
[السلسلۃ الصحیحۃ جلد1 صفحہ 450]
یہ تو تھی تمیمہ کی مختصر سی وضاحب آئیے اب رضوی فقیر تعویذکی مختصر سی وضاحت پیش کرتا ہے-
#تعویذکسےکہتےہیں¿¿¿
تعویذ کی لغوی معنی "حفاظت کی دعا کرنا" ہے.
[مصباح اللغات صفحہ 573]
فعل کے حساب سے (عربی میں) مادہ عوذ کے تحت "عَوَّذَ تَعوِِِيذًا وِ أعَاذَ" باب تفعيل کے وزن سے تعویذ بنتا ہے
[المنجد : صفحہ 593]
دوسرے لفظوں میں آپ اسے اسم کے حساب سے "تحریری دعا" کہہ لیجئے جس طرح زبانی دعا کی قبولیت و اثرپذیری الله تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، ٹھیک اسی طرح پر قرآن کی آیات پر مشتمل تعویذ یعنی "تحریری دعا" کے اثرات و فوائد بھی الله تعالیٰ کی مشیت و مرضی پر ہی منحصر ہے. مَثَلاً : حدیثِ بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ سلم پر لبید بن اعصم یہودی کے کیے ہوۓ سحر (جادو) کے اثرات ختم کرنے کے لئے وحی الٰہی کی ہدایت پر آپ صلی الله علیہ وآلہ سلم پر "معوذتين" یعنی سوره الفلق اور سوره الناس کا تلاوت کرنا،
(تفسیر ابن عباس)
صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی وہ حدیث جس میں انہوں ایک سفر میں سورہ الفاتحہ پڑھ کر دم کرنے کے عمل سے سانپ کے کاٹے ہوۓ ایک مریض کا علاج کیا تھا اور وہ تندرست ہوگیا تھا اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ سلم نے سارا واقعہ سنکر سورہ الفاتحہ کی اس تاثیر کی تصدیق فرمائی تھی.
#نوٹ
چونکہ تمیمہ بھی (پناہ حاصل کرنے کے لئے) گلے میں لٹکایا جاتا، تو اسے بھی تعویذ کہا جانے لگا،
جبکہ
تعویذ میں اسماء اللہ تعالیٰ یا ادعیہء ماثورہ ہوں اور اس کو مؤثر حقیقی نہ سمجھا جاتا ہو صرف الله کو موثر حقیقی مانتے بطور سبب کے تعویذ اختیار کیا جاتا ہو تو اس قسم کے تعویذ کو بھی شرک قرار دینا تحکم و زیادتی ہے، اس لیے کہ اس قسم کے تعویذ کے لینے دینے اور استعمال کی اجازت کتب حدیث سے ملتی ہے،
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو)
[مرقات شرح المشکوٰة، ص:۳۲۱ و ۳۲۲، ج۸،]
[الترغیب والترہیب، ج۵ ص۲۷۱،]
[ابوداوؤد شریف، ج۲، ص۹۲ وغیرہا]
لہذا بعض لوگوں کا تعویذ پہننے کو مطلقاً شرک قرار دینا غلط ہے.
جہاں تک ان احادیث كا تعلق ہے جس میں آپ صلی الله علیہ وآلہ سلم نے تعویذ لٹکانے سے منع فرمایا ہے تو یہ اس صورت پر محمول ہیں،
1: جب کہ اس میں شرکیہ و کفریہ کلمات لکھے ہوں،
2: یا تعویذ کو مؤثر بالذات (اللہ کی عطا کےبغیر ذاتی طور اثر رکھنے والا)، نافع (نفع دینے والا) اور ضار (نقصان دینے والا) سمجھا جائے جیسا کہ لوگ زمانہء جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے
٣) یا وہ عجمی زبان میں لکھے ہوں تو ان کے معنی معلوم نہ ہوں.
لیکن اگر اسمائے حُسنیٰ اور دیگر آیاتِ قرآنیہ و ادعیہء ماثورہ لکھ کر لٹکایا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ بلکہ موثر حقیقی صرف الله تعالیٰ کو مانا جاۓ اور اس دم و تعویذ کو صرف سبب کے درجہ میں سمجھا جاۓ جیسا کہ بیماری میں دوا وغیرہ کرانا
عن جابر رضی اللہ عنہ السئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النشرة فقال ہو من عمل الشیطان رواہ أبوداوؤد قال العلي القاري فی المرقاة النوع الذي کان من أہل الجاھلیة یعالجون بہ ویعتقدون فیہ وأما ما کان من الآیات القرآن والأسماء والصفات الربانیة والدعوات والماثورة النبویة فلا بأس بل یستحب سواء کان تعویذًا أو رقیة أو نشرة
[مرقاة شرح مشکوٰۃ: جلد8 صفحہ341]
اب آئیےتعویذات کے جواز کیطرف
#تعویذات_کےجوازپراحادیث::
امام بخاری علیہ لرحمہ کے شیخ الحدیث امام ابوبکر بن ابی شیبہ علیہ الرحمہ کی کتاب "المصنف" کی کتاب الطب کے"باب : جس نے اجازت دی تعویذ لٹکانے کی بالترتیب احادیث ملاحظہ ہوں:
حضرت مجاہرضی اللہ عنہ بچوں کے لئے تعویذ لکھتے تھے پھر وه ان پر اسےلٹکاتے تھے.
23893- .....حضرت جعفررضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ تعویذاتِ قرآنیہ کو چمڑے میں ڈال کر گلے وغیرہ میں لٹکانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے.
23894- ....حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی نیند میں ڈر جائے تو یہ دعا پڑھے:
أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ
یعنی
میں اللہ کے غضب، عقاب، اسکے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے ہمارے پاس آنے سے اللہ کے پورے کلمات کی پناہ مانگتا ہوں
اگر وہ یہ دعا پڑھے گا تو وہ خواب اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ عبد اللہ بن عمرو(بن العاص) رضی اللہ عنہ یہ دعا اپنے بالغ بچوں کو سکھایا کرتے تھے
اور نابالغ بچوں کے لیے لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے۔
[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » بَاب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ ۔۔۔ رقم الحديث: 3475 (3528)]
[سنن أبي داود » كِتَاب الطِّبِّ » بَاب كَيْفَ الرُّقَى ۔۔۔ رقم الحديث: 3397 (3893)]
23895- .....حضرت ابن سیرین علیہ الرحمہ تعویذاتِ قرآنیہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے.
23896- .....حضرت ایوب علیہ الرحمہ نے حضرت عبیداللہ بن عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ کے بازو میں ایک دھاگہ دیکھا.
23897- .....حضرت عطاء علیہ الرحمہ(تابعی ومفتی مکہ)نے فرمایا : نہیں ہے کوئی حرج کہ (گلے میں) لٹکایا جاۓ قرآن.
23898- .....یونس بن حباب رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تعویذات بچوں پر لٹکانے کے بارے میں؟ تو انہوں نے رخصت (اجازت) دی اس میں-
(حدیث:23893 تا23898 تک حوالہ ملاحظہ ہو)
[المصنَف, کتاب الطب, صفحہ22,باب 24, ناشر مکتبۃالرُشدبیروت]
#وھابیہ_کی_گواہی
وھابیہ کے فتاویٰ علمائےحدیث میں ہےکہ:
"کچھ شک نہیں کہ نفس دم (رقیہ) یعنی ذات دم کی یا ذات تعویذ یا ذات عمل حب (تولہ) کی نہیں بلکہ ان کی بعض قسمیں شرک ہیں ؛ اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم ان منتروں کو پڑھ کر مجھ کو سناؤ جب تک ان میں شرک نہ ہو میں کوئی حرج نہیں دیکھتا"
[صحيح مسلم » كِتَاب السَّلَامِ » بَاب لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ ...رقم الحديث: 4086]
[فتاویٰ علماۓ : حدیث ج 10، ص 82 ، کتاب الایمان و العقائد]
وھابیہ کے مناظرِاعظم ثناءاللہ امرتسر نے لکھا:
"مسئلہ تعویذ میں اختلاف ہے ، راجح یہ ہے کہ آیات یا کلمات صحیحہ دعائیہ جو ثابت ہوں ان کا تعویذ بنانا جائز ہے ، ہندو ہو یا مسلمان . صحابہ کرام نے ایک کافر بیمار پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا.
[فتاویٰ ثنانیہ : ج 1، ص 339، باب اول : عقائد و مہمات دین]
مضمون بہت طویل ہوگیا ہے دوستو! ورنہ رضوی فقیر وھابیہ کے گھر سے متعدد اور حوالہ جات پیش کرتا- جس میں تعویذات کوجائز کہا گیا ہےبلکہ وھابیہ کے مولوی ابوالبرکات وھابی نے تو تمام وھابیہ کو چیلنج کر دیا تھاکہ کوئی وھابی تعویذات کو شرک ثابت کرکے دکھائے (فتاویٰ برکاتیہ 270, 272)
#ہمارامؤقف::
سیدی مرشدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:
"تعویذوں میں حرج نہیں جبکہ اُن میں قرآن یا اسمائے الٰہیہ لکھے جائیں- مکروہ جب ہیں کہ غیرِ عربی میں ہوں اور معنٰی معلوم نہ ہوں- کیا معلوم کہ اُن میں جادو یا کفر یا کچھ اور ہو- اور وہ تعویذ جو آیتوں یا دُعاؤں سء ہوں اُس میں حرج نہیں"
[فتاویٰ افریقہ, صفحہ 178 ناشر سنی دار الاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد]
ان تمام ابحاث سے ثابت ہواکہ اسمائے الٰہیہ والے تعویذات پہننا جائزوثابت ہے-
اور جو تمائم والی روایات آلِ نجد پیش کرتی ہے اس سے ان تعویذات کی نفی نہیں ہوتی-
بلکہ انکے بڑوں کےبقول ان تعویذات کو تمائم یا تمیمہ کے زمرے میں داخل کرنا سراسر ظلم غُلُو اور دیں کیساتھ مذاق ہے-
اللہ انہیں ھدایت عطافرمائےآمین
مدینے پاک کا بھکاری

ماشاءالله بہت خوب جواب دیا آپ نے
ReplyDelete