ILM E GAIB E NABIﷺ
*علم غیب*
(قرآن اور حدیث کی روشنی میں)*
مسئلہ علم غیب پر عام طور سے جگہ جگہ بحثیں ہوتی رہتی ہیں اور بسا اوقات یہ بحثیں لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں جس کی وجہ ہمارے معاشرے کا اتحاد اور امن و سکون تباہ و بر باد ہوتا ہے۔جبکہ ہمارے ہر اختلاف کا حل قرآن وحدیث میں موجود ہے جس کومانناہر مسلمان پر ضروری ہے۔اسی لئے اس مسئلےکی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں سوال وجواب کی شکل میں یہاں پر پیش کیا گیا ہے،جسے مکمل پڑھنے کے بعد کسی بھی انصاف پسند مسلمان کے لئے اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
قارئین سے گذارش ہے کہ اپنے آپ کو ہر طرح کی جانبداری سے خود کو جدا کر کے اِن سوالات وجوابات کو پڑ ھ لیں انشاء اللہ اس مسئلے کی پوری حقیقت سمجھ میں آجائے گی ۔
پیش کش:دعوت قرآن
سوال: غیب کسے کہتے ہیں؟
جواب: جمہور مفسرین کرام کے نزدیک غیب وہ ہے جو حِس سے چھپا ہوا ہو۔
{تفسیر کبیر،جلد اول،ص:۲۷۳}
یعنی آنکھ ،ناک،کان وغیرہ جو علم حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ،اُن سے جو معلوم نہ کیا جا سکے وہ غیب ہے۔آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ غیب وہ چیز ہے جسے کوئی بھی انسان اپنی عقل اور سوچ وفکر کے ذریعے خود سے حاصل نہ کر سکے۔
انتباہ: واضح رہے کہ یہ تعریف انسان کے لحاظ سے ہے ،نہ کہ رب کے لحاظ سے۔کیو نکہ ربِّ قدیر کے نزدیک تو دنیا کی کوئی چیزپو شیدہ ہی نہیں،بلکہ ہر چیز اس کے نزدیک خوب روشن وظا ہر ہے۔
سوال: کیا حضور ﷺ کو علمِ غیب حاصل ہے؟
جواب: ہاں،اللہ تعالیٰ کے عطا کر نے سے حضور ﷺ کو علم غیب حاصل ہے۔
سوال:غیب کا جاننا تو خدائے تعالیٰ کی صفت ہے ۔اب اگر حضور ﷺکے لئے بھی علم غیب مان لیا جائے تو کیا خدا اور رسول کی صفت برابر نہ ہو جائے گی اور شرک نہ ہوگا؟
جواب: ایسا ہر گز نہ ہوگا،اس لئے کہ اللہ کا جو علم ہے وہ اس کا ذاتی ہے یعنی کسی کے دینے سے نہیں بلکہ اُسے خود حاصل ہے۔جبکہ حضور ﷺ کا علم عطائی ہے۔تو خدا دینے والا اور حضور ﷺ لینے والے ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے کہ دینے والا اور لینے والا کبھی برابر نہیں ہوتا۔لہذا ثابت ہوا کہ حضور کے لئے علم غیب مانا جائے تو اُس سے حضور کا رب کے برابر ہونا لازم نہ آئے گا اور نہ یہ شر ک ہوگا۔
دیکھئے،قرآن پاک کے اندر بہت سی جگہوں پر اللہ تعالیٰ کو سننے والا اور دیکھنے والا کہا گیا ہے۔تو دیکھنا اور سننا خدائے تعالیٰ کی صفت ہو ئے ،پھر قرآن ہی میں انسان کو بھی دیکھنے اور سننے والا بتا یا گیا ۔تو دیکھنا اور سننا انسان کی بھی صفت ہوئے ۔تو کیا کوئی عقلمند یہ کہے گا کہ دیکھنے اور سننے میں انسان{معاذاللہ}خدا کے برابر ہو گیالہذا یہ شر ک ہوا۔ایسا ہر گز نہ کہے گابلکہ ہر کوئی دل سے یقین جانے گا کہ خدا اپنی قدرت و طاقت سے دیکھتا اور سنتا ہے اور انسان خدائے تعالیٰ کی دِی ہوئی طاقت سے دیکھتا اور سنتا ہے۔لہذا جس طرح دیکھنے اور سننے میں انسان کا خدا کے برابر ہونا لازم نہ آیا اور نہ یہ شر ک ہوا ۔اسی طرح علم غیب کے مسئلے میں بھی حضور کا نہ خدا کے برابر ہونا لازم آتا ہے اور نہ یہ شر ک ہے۔
سوال: جب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کر کے حضور کو بتا ہی دیا تو پھر وہ علم غیب کہاں رہا؟
جواب:وہ غیب ہی رہا ،کیو نکہ خود اللہ تعالیٰ نے اُسے غیب ہی قرار دیا ہے۔جیسا کہ ارشاد رب العالمین ہے۔”وما ھو علی الغیب بضنین”اور وہ{محمد ﷺ}غیب کی بات بتانے پر بخیل{کنجوس} نہیں۔
{سورہ تکویر،آیت:۲۴}
پھر یہ کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی یہ کہنا درست نہ ہو کہ”اللہ غیب جانتا ہے”کیو نکہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز غیب ہی نہیں بلکہ تمام چیزیں نہایت روشن اور ظاہر ہیں۔
سوال: پھر حضور ﷺ کو “عالم الغیب”کہنا صحیح ہو نا چا ہئے؟
جواب:نہیں،کیو نکہ”عالم الغیب” کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے ۔البتہ نبی کریم ﷺ کو “عالِمِ غیب”عالمِ ما کان و ما یکون{جو کچھ ہو چکا،ہوتا ہے اور ہوگا ان سب کا جاننے والا}اور عالمِ اولین و آخرین کہا جائے گا۔
سوال:حضور ﷺ کا علم غیب اور اللہ تعالیٰ کا علم غیب برابر ہے یا اُس میں کچھ فرق{کمی بیشی} ہے؟
جواب:حضور ﷺ کا علم غیب اللہ کے علم غیب کے برابر ہر گز نہیں ۔بلکہ حضور ﷺ کا علم محدود{جس کی حد ہو}اور متناہی ہے یعنی قیامت تک کی تمام چیزیں خواہ گزر چکی
ہو یا آئندہ آنے والی ہو ں اُن سب کا علم آپ کو دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب رہے بعد قیامت کا علم ۔۔۔۔۔۔تو قیامت کے بعد کی بعض چیزوں کا علم آپ کو دیا گیا ہے۔مثلاََحساب وکتاب کا علم،جنت ودوخ کا علم،اہل جنت کا جنت میں رہنے کی کیفیت کا علم وغیرہ۔
جبکہ خدا کا علم غیر محدود{جس کی کوئی حد نہیں}وغیر متناہی ہے یعنی اُس کا علم نہ کسی زمانے کے ساتھ خاص ہے {مثلا قیامت تک کا علم}اور نہ وہ گنا جا سکتا ہے{مثلا اتنے ارب یا اتنے کھرب}بلکہ اس کا علم بے انتہا اور بے شمار ہے۔
سوال:قرآن شریف کی کس آیت سے حضور ﷺ کا علمِ غیب ثابت ہے؟
جواب:قرآن شر یف کی بہت سی آیتوں سے حضور ﷺ کا علمِ غیب ثابت ہے۔اُن میں سے چند پیشِ خدمت ہیں۔
آیت نمبر۱: وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۔
{سورہ آل عمران،آیت:۱۷۹}
ترجمہ: اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے غیب پر مطلع کر دے لیکن اپنے رسولوں میں سے غیب کا علم عطا فر مانے کے لئے چُن لیتا ہے۔
اس آیت کر یمہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو علم غیب عطا فر ماتا ہے۔
آیت نمبر ۲: عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ۔
{سورہ جن،آیت:۲۶}
ترجمہ : اللہ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فر مادیا کہ اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیب کا علم عطا فر ماتا ہے۔اور بلا شبہ اللہ کے نزدیک تمام رسولوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ حضور اکرم ﷺ کی ذات با بر کات ہے۔تو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو بھی علم غیب حاصل ہے۔
آیت نمبر ۳: وَ مَا ہُوَ عَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ۔
{سورہ تکویر،آیت نمبر:۲۴}
تر جمہ : اور وہ{محمد ﷺ}غیب کی بات بتانے پر بخیل{کنجوس} نہیں۔
یعنی غیب کی بات بتاتے ہیں۔اور غیب کی باتیں وہی بتا ئے گا جس کے پاس غیب کا علم ہوگا۔
آیت نمبر ۴: وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ؕ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا۔
{سورہ نساء،آیت:۱۱۳}
تر جمہ: ہم نے آپ کو سکھا دیا جو کچھ آپ نہ جانتے تھے۔اور یہ اللہ کا آپ پر بڑا فضل ہے۔
دیکھئے، اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے صاف صاف لفظوں میں فر مادیا کہ{ائے محبوب}آپ کو سکھا دیا جو کچھ بھی آپ نہیں جانتے تھے ۔اب بھی اگر کوئی یہ کہے کہ حضور یہ نہیں جانتے تھے ،حضور کو فلاں چیزکا علم نہیں تھا تو وہ آیت قرآنی کو چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے۔جس کے انجام سے ہر انسان کو ڈرنا چاہئے۔
سوال: کیا احادیث سے بھی حضور کا علم غیب ثا بت ہے؟
جواب: جی ہاں، کثیر احادیث طیبہ سے بھی حضور کا علم غیب ثا بت ہے۔ان میں سے چند حاضر ہیں۔
حدیث نمبر ۱:حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:حضور علیہ الصلوۃ و السلام ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہو ئے اور ہمیں کا ئنات کی ابتدا سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہو نے اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے تک کی خبر دی،اب جو اُسے یا د رکھا ،یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔
{صحیح بخاری،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی قول اللہ تعالیٰ:ھو الذی یبدءو االخلق ثم یعید وھو اھون علیہ،حدیث:۳۱۹۲}
حدیث نمبر ۲:حضرت عمر وبن اخطب رضی اللہ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ:رسول اکرم ﷺنے ہمیں فجر کی نما زپڑ ھائی اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا ،پس منبر سے اُترے،نمازپڑ ھائی پھر منبر پر جلوہ افروزہوئےاور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ ﷺ نے اُتر کر عصر کی نمازپڑ ھائی
پھر منبر پر جلوہ افروزہوئے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔تو آپ ﷺ نے جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہو نے والا تھا ،اُن سب کی خبر دے دی۔تو ہم میں سے بڑا عالِم وہ ہے جو اُن باتوں کو زیادہ یاد رکھا ہے۔{صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ،حدیث:۲۸۹۲
حدیث نمبر ۳: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیا ن کر تے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے مجھے قیامت تک ہونے والی تمام باتیں بتادی۔اور کوئی ایسی بات نہ رہی جس کے بارے میں نے آپ ﷺ سے نہ پوچھا ہوں،البتہ میں نے یہ نہ پو چھا کہ مدینہ میں رہنے والوں کو ،کون سی چیزمدینہ سے نکال دے گی۔
{صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ،حدیث:۲۸۹۱ }
حدیث نمبر ۳:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسولِ اکرم ﷺ نے فر مایا کہ:دجّال آئے گا اور مدینہ کے ایک کنارے میں قیام کرے گا ،پھر مدینہ طیبہ کی زمین تین مرتبہ کا نپے گی تو ہر کافر اور منافق مدینہ سے نکل کر اُس کی طرف چلا جائے گا۔
{صحیح بخاری،کتاب الفتن ،باب ذکر الدجال،حدیث:۷۱۲۴}
حدیث نمبر ۴:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں صرف اپنے سامنے دیکھتا ہوں؟قسم بخدا،مجھ پر تمہارے رکوع وسجود کی ظاہری حالت مجھ پر پو شیدہ رہتی ہے اور نہ ہی باطنی خشوع وخضوع،بے شک میں اپنے پیچھے سے تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے۔
{بخاری،کتاب الاذان،باب الخشوع فی الصلاۃ،حدیث:۷۴۱۔۷۴۲۔مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بتحسین الصلاۃ واتمامھا والخشوع فیھا،حدیث:۴۲۳۔۴۲۴۔۴۲۵}
حدیث نمبر ۵:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:جنگ بدر کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ:یہ فلاں کافر کے مر نے کی جگہ ہے{یہ کہتے جاتے تھے}اور اپنے ہاتھ کو زمین پر اِدھر اُدھر رکھتے تھے ،پھر کوئی کافر حضور کی بتا ئی ہو ئی جگہ سے ذرّا برابر بھی اِدھر اُ دھر نہیں مرا۔
{صحیح مسلم،کتاب الجھاد والسیر،باب غزوۃ بدر ،حدیث:۱۷۷۹}
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور کو یہ بھی معلوم تھا کہ کون کب اور کہاں مرے گا۔اور یہ بات غیب کی ہے۔لہذا اس سے حضور کا علم غیب واضح طر یقے سے ثا بت ہوا۔
حدیث نمبر۶:حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺایک سفر سے آئے جب مدینہ شر یف کے قر یب پہونچے تو بڑے زور کی آندھی چلی یہاں تک کہ سوار زمین میں دھنسنے کے قر یب ہو گیا ،رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ:یہ آندھی ایک منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے۔جب آپ ﷺ مدینہ شر یف پہونچے تو منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
{صحیح مسلم،کتاب صفات المنا فقین واحکامھم،حدیث:۲۷۸۲}
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے مدینہ شر یف میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ایک منافق کے مرنے کی خبر دے دی اور یہ خبر بالکل صحیح ثابت ہو ئی ،یہی تو علم غیب ہے۔
حدیث نمبر ۷: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیا ن کر تے ہیں کہ:حضرت زید،حضرت جعفراور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہم سے متعلق خبر آنے سے پہلے ہی حضور ﷺ نے ان کے شہید ہو جانے کی خبر لوگوں کو بتا دیا تھا ،چنانچہ آپ ﷺ نے فر مایا کہ :اب جھنڈا زید نے سنبھا لا ہے لیکن وہ شہید ہو گئے۔اب جھنڈا جعفر نے سنبھال لیا ہے،اوروہ بھی شہید ہو گئے۔اب ابنِ رواحہ نے جھنڈا لیا ہے لیکن وہ بھی جام شہادت نوش کر گئے۔آپ ﷺ یہ بیان فر مارہے تھے اور آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو کے قطرے ٹپک ر ہے تھے۔پھر آپ ﷺ نے فر مایا کہ:اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں ایک تلوار{خالد بن ولید}نے سنبھالا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو کافروں پر فتح عطا فر مائی ہے۔
{صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ موتہ من ارض الشام،حدیث:۴۲۶۲}
یہ جنگ ملک شام میں لڑی گئی اور مجا ہدین اسلام سے متعلق خبر آنے سے پہلے ہی حضور ﷺ نے مدینہ شر یف میں رہتے ہوئے وہاں کی ساری باتیں یہاں پر صحابہ کرام سے بیان کردیا۔اور کسی صحابی نے اِس پر اعترا ض بھی نہ کیا کہ :یا رسول اللہ ﷺ آپ مدینہ شر یف میں رہتے ہو ئے ملک شام میں ہو نے والے واقعے کے بارے میں کیسے خبر دے رہے ہیں ؟معلوم ہوا کہ صحابہ بھی یہ مانتے تھے کہ آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے کوئی چیز آڑ نہیں بن سکتی اور جس طرح آپ اپنی نگا ہوں کے سامنے ہو نے والے واقعات کو دیکھتے ہیں اُسی طر ح دور دراز مقامات پر ہو نے والے واقعات کو بھی بغیر کسی ظا ہری ذریعے کے دیکھتے اور جانتے ہیں۔یہی تو غیب کا جاننا ہے۔
حدیث نمبر ۸: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ:ائے اللہ،ہمارے لئے برکت دے ہمارے ملک شام میں،ائے اللہ،ہمارے لئے بر کت دے ہمارے ملک یمن میں۔راوی نے کہا:صحابہ کرام نے عر ض کیا:اور ہمارے”نجد” میں۔تو حضور ﷺ نے فر مایا کہ:وہاں زلزے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کی سینگ ظاہر ہوگی۔
{صحیح بخاری،کتاب الاستسقاء،باب ماقیل فی الزلازل والآیات،حدیث:۱۰۳۷}
صحابہ کرام کی گذارش کے باوجود حضور ﷺ کا “نجد”{نیا نام ریاض سعودی عرب}کے لئے دعا نہ کرنا اور یہ بتانا کہ وہاں فتنے ہوں گے اور وہاں سے شیطان کا سینگ یعنی امت کو گمراہ کرنے والا آدمی{محمد بن عبد الوہاب نجدی } پیدا ہوگا۔اس کا تعلق علم ِغیب ِمصطفیٰ ﷺ سے ہے۔
حدیث نمبر ۹: حضرت علی رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو کم عمر،عقل سے پیدل ہوں گے،وہ مخلوق میں سب سے بہتر شخص کی بات بیان کریں گے{یعنی وہ حضور کی احادیث بیان کریں گے}مگر وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا،پس تم انہیں جہاں پانا قتل کر دینا کیو نکہ ان کے قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن بڑا ثواب ملے گا۔
{صحیح بخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام،حدیث :۳۶۱۱۔مسلم ،حدیث:۱۰۶۶۔ترمذی،حدیث:۲۱۸۸۔نسائی،حدیث:۴۱۰۲۔ابن ماجہ،حدیث:۱۶۸}
اس حدیث سے حضور ﷺ کا علم غیب صاف ظاہر ہے۔
حدیث نمبر ۱۰: مدینہ کے منافقوں نے جب حضور اکرم ﷺ کے علمِ پاک پر اعتراض کیا اور کہا کہ”ہم ان کے زمانے میں اِن کے ساتھ رہ کے انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور یہ ہمیں نہیں پہچان پاتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت تک کہ سارے لوگوں کی اصلیت کو جانتے ہیں”جب حضور ﷺ تک یہ بات پہونچی تو کیا ہوا ،حدیث کی زبانی سنئے اور خود فیصلہ لیجئے کہ کیا اس حدیث کے بعد بھی مصطفیٰ جانِ رحمت کے علمِ غیب سے انکار کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟؟؟ پوری حدیث حاضر خدمت ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:حضور نبی کریم ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نمازپڑ ھائی۔اس کے بعد آپ ﷺ منبر پر کھڑ ے ہو گئے اور قیامت کا ذکر فر مایا اوربتا یا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے معاملات ہوں گے۔پھر آپ ﷺ نے فر مایا کہ:جس کو کسی چیزکے بارے میں پو چھنا ہو وہ پوچھ لے۔قسم بخدا،تم مجھ سے جس چیزکے بارے میں پوچھو گے میں اِسی جگہ رہتے ہوئے تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا،{صحیح مسلم کے حدیث نمبر :۲۳۶۰/میں یہ لفظ ہے کہ :حضور ﷺ نے فر مایا”سلونی عمّ شئتم “مجھ سے جو چا ہو پو چھو}تو لوگ رونے لگے اور حضور نبی کریم ﷺ بار بار فر ماتے رہےکہ”مجھ سے پو چھو”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پو چھا کہ:یا رسول اللہ!میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟آپ ﷺ نے فر مایا کہ:تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور پوچھے کہ:یا رسول اللہ ﷺ!میرے باپ کون ہیں؟آپ ﷺ نے فر مایا کہ:تمہارے باپ حذافہ ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ :پھر حضور بار بار فر مانے لگے کہ:مجھ سے پو چھو،مجھ سے پو چھو۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اور عر ض کیا:یا رسول اللہ ﷺ!ہم اللہ کے رب،اسلام کے دین اور محمد ﷺ کے رسول ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔تب حضور ﷺ خاموش ہوئے۔
{صحیح بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما یکرہ من کثرۃ السوال،حدیث:۷۲۹۴۔صحیح مسلم،حدیث:۲۳۵۹}
تلک عشرۃ کاملۃ۔ اِس عنوان سے متعلق کتب احادیث میں اوربہت ساری احادیث طیبہ موجود ہیں ،جن سے روز روشن کی طرح ظاہر ہو تا ہےکہ حضور ﷺ کو علم غیب حاصل تھا۔مناسب ہے کہ آپ اوپر بیان کئے گئے آیات قر آنیہ اور احادیث طیبہ کو بالخصوص آخری حدیث کو دو بارہ پڑ ھئے ۔پھر خود فیصلہ کیجئے کہ :حضور کو علم غیب تھا یا نہیں ؟حضور کے علم غیب پر اعتراض کر نے والے مسلمان تھے یا منافق ؟حضور ان انکار کر نے والوں سے خوش ہوئے یا ناراض ؟حضور جس سے ناراض ہوں اس کا ٹھکا نہ جنت ہے یا جہنم ؟ہر ایک پہلو پر خوب غور وفکر کے بعد ہی آخری فیصلہ لیجئے کیو نکہ یہ ایمان کا مسئلہ ہے اور اسی پر آخرت کی کامیابی اور ناکا می کا دارومدار ہے۔اللہ سیدھا راستہ چلانے والا ہے۔من یھدی اللہ فلا مضل لہ و من یضل لہ فلا ھادی لہ۔
سوال: کیا کچھ ایسی آیتیں بھی ہیں جن سے ظا ہر ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کسی کے لئے علم غیب ثا بت نہیں ؟
جواب: ہاں !چند ایسی بھی آیتیں ہیں جن سے بظاہر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے علم غیب ثا بت نہیں۔
سوال: کیا اُن آیتوں کو تر جمہ کے ساتھ بیان کرنا پسند فر مائیں گے؟
جواب:کیوں نہیں،ضرور بیان کروں گا،لیجئے سنئے۔
آیت نمبر ۱: قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ۔
{سورہ نمل،آیت:۶۵}
ترجمہ : ائے رسول!آپ کہہ دیجئے کہ زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
آیت نمبر ۲: وَلَوْ کُنۡتُ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیۡرِۚۛ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ۔
{سورہ اعراف،آیت :۱۸۸}
تر جمہ: اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔
آیت نمبر ۳: وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ۔
{سورہ،انعام،آیت:۵۹}
تر جمہ: اور اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
آیت نمبر ۴: قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ۔
{سورہ انعام،آیت:۵۰}
تر جمہ : آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہیں یہ کہتا ہوں کہ میں خود سے غیب جانتا ہوں۔
آیت نمبر ۵: یَسْـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنۡدَ اللہِ۔
{سورہ احزاب ،آیت:۶۳}
تر جمہ: لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پو چھتے ہیں ۔آپ کہہ دیجئے کہ اُس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔
آیت نمبر ۶: اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ۔
{سورہ لقمان،آیت:۳۴}
تر جمہ: بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔
سوال: اِن آیتوں کے ہوتے ہوئے آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺکے لئے علم غیب کیسے مان لیا؟
جواب: اب تک کہ بیان سے آپ کو یہ تو ضرور معلوم ہو گیا ہوگا کہ قرآنی آیتوں اور بخاری ومسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں سے حضور کا علم غیب ثابت ہو تا ہے۔اور پھر قر آنی آیتوں ہی سے آپ ﷺ کے علم غیب کی بظاہر نفی بھی ہو رہی ہے۔لہذا آپ ہی بتا ئیں کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن میں ایک ہی مسئلے کے متعلق دو طرح کے حکم ہوں؟ایک جگہ کہا جار ہا ہو کہ “ہے” اور دوسری جگہ کہا جارہا ہو کہ” نہیں ہے”؟ہر گز نہیں بلکہ اِن آیتوں میں غیر خدا کے لئے ذاتی علم کی نفی کی گئی ہےکہ بغیر کسی کے دئے خود سے اللہ کے علاوہ کوئی غیب نہیں جانتا۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے قرآن شریف کی دوسری آیتوں کو سامنے رکھئے ۔مثلا ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا: وللہ العزۃ جمیعا۔ساری عزتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔دوسری جگہ یوں ارشاد فر مایا : وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین۔عزت اللہ کے لئے اور اُس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے۔اب غور کریں کہ عزت اگر رسول اور مومنین کے لئے بھی ثابت ہے تو یہ کیسے کہا جار ہا ہے کہ “عزت”صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔اسی طر ح سے اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اپنے آپ کو “رؤف ورحیم”کہا ۔پھر اسی قر آن میں دوسری جگہ رسول ﷺ کو بھی “رؤف ورحیم”کہا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ذرا سوچ کر انصاف سے بتائیں کہ
ایسی صورت میں کیا کہا جائے؟کیا یہ کہہ دیا جائے کہ معاذاللہ !دونوں میں سے کوئی ایک آیت صحیح ہے اور دوسری غلط؟نہیں ،ہر گز نہیں ،بلکہ دونوں آیتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ۔اب رہا یہ سوال کہ پھر اس کا حل کیا ہے؟ تو اِس کا حل وہ ہے جس کی طرف سر کارِ دو عالم ﷺ نے خود اشارہ فر مایا کہ”علماء انبیاء کے وارث ہیں”اور قرآن نے تو صاف لفظوں میں فر مادیا ہے کہ”اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو علم والوں سے پو چھو”۔لہذا ہمیں علماء ہی سے ایسے مسئلوں کا حل معلوم کر نا چا ہئے۔
یہاں ہمارا مقصود چونکہ علم غیب کا مسئلہ حل کرنا ہے اس لئے ابھی اٹھائے گئے اِن مسئلوں کو چھوڑتا ہوں اور صرف علم غیبِ مصطفیٰ ﷺ کی نفی کے سلسلے میں اوپر لکھی گئیں آیات کریمہ کے بارے میں علمائے ربانئین نے جو کچھ بیان کیا ہے اُن کو مختصرا بیان کئے دیتا ہوں ۔لیکن اصل جواب سے پہلے چند باتیں خوب ذہن نشین فر مالیں اور کبھی نہ بھولیں تا کہ آنے والی باتوں کا سمجھنا آپ کے لئے آسان ہو جائے۔
{۱} حضور کا یہ علم عطائی یعنی خدا کےدینے سے ہے۔ذاتی یعنی خود سے نہیں ہے۔
{۲}آپ کو قیامت تک کی ہر ہر چیز کا علم دیا گیا ۔
{۳}تمام اولین و آخرین کا علم آپ کو ایک ساتھ نہیں دیا گیا بلکہ قرآن جس طرح ضرورت کے مطابق تھوڑا تھوڑا نازل ہو کر مکمل ہوا ،اُسی طرح حضور کو بھی تھوڑا تھوڑا دیا گیا اور جس دن قرآن مکمل ہوا اس دن آپ کا یہ علم شر یف بھی مکمل ہوا۔لہذا ایسا ہو سکتا ہے بعض چیزیں آپ کو پہلے معلوم نہ تھیں پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اُن چیزوں کا علم بھی عطا فر مادیا۔
اب اُن آیتوں کی تشریح مفسرین کے بیان سے سنیں اور دیکھیں کہ علماء نے کس طرح دونوں باتوں کو صحیح فر مایا ہے۔
آیت نمبر ۱: قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ۔
{سورہ نمل،آیت:۶۵}
ترجمہ : ائے رسول!آپ کہہ دیجئے کہ زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
اِ س آیت کا مطلب یہ ہے کہ بلا واسطہ یا اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر یا سارے غیب خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
{جاء الحق،بحوالہ تفسیر انموذج جلیل}
یعنی اس آیت کے تین مطالب بیان کئے گئے۔{۱}بغیر واسطہ اور کسی ذریعہ کے جاننا یہ صرف اللہ کی شان ہے۔{۲}یا پھر اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے سیکھے بغیر غیب کا جان لینا یہ اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے۔{۳}یا پھر یہاں غیب سے مراد تمام غیب ہے ،یعنی تمام غیوب کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
اب آپ غور کریں کہ ان تین معنوں میں سے کسی بھی معنی کے لحاظ سے یہ آیت ہمارے حضور ﷺکے علم غیب جاننے کے خلاف نہیں ہے۔کیو نکہ یہ تو ہم اہل سنت وجماعت بھی نہیں کہتے کہ سارے غیوب آپ ﷺ کو معلوم ہے ،یا آپ بغیر اللہ کے بتائے غیب جانتے ہیں ۔بلکہ سنی حضرات بھی یہی کہتے ہیں کہ بس قیامت تک کا سب غیب اللہ تعالیٰ کے بتانے سے آپ کو معلوم ہے تو پھر یہ آیت اہل سنت کے عقیدہ علم غیب کے خلاف کیسے ہو گئی؟
آیت نمبر ۲: وَلَوْ کُنۡتُ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیۡرِۚۛ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ۔
{سورہ اعراف،آیت :۱۸۸}
تر جمہ: اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔
اِس آیت میں بلا واسطہ جان لینے کی نفی کی گئی ہے ۔رہی بات خدا کے بتا دینے سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا جان لینا تو یہ بات بالکل درست اور امر واقع ہے۔
{نسیم الریاض}
تفسیر بیضاوی میں اِس آیت کے تحت ہے: وهو إظهار للعبودية والتبري من ادعاء العلم بالغيوب إلا ما شاء الله۔ یعنی حضور کا یہ فر مانا کہ اگر میں غیب جانتا الخ تو آپ نے یہ اظہار بندگی کے لئے کہا اور آپ نے تمام غیوب کو جاننے کا دعویٰ کرنے سے اپنی برأت کااعلان کر نے کے لئے کہا۔ہاں مگر جتنا اللہ نے چا ہا آپ کو غیب کے علم سے نوازا۔{تفسیر بیضاوی،جلد:۳/ص:۸۱
تفسیر جلالین کے حاشیہ تفسیر صاوی میں ہے:اَنّہ قَالَ تواَضُعاََ۔ یعنی حضور نے یہ تواضع و انکساری کے طور پر کہا۔
آیت نمبر ۳: وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ۔
{سورہ،انعام،آیت:۵۹}
تر جمہ: اور اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اِ س آیت کا مطلب یہ ہے کہ بلا وسیلہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
{تفسیر عنایت القاضی}
آیت نمبر ۴: قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ۔
{سورہ انعام،آیت:۵۰}
تر جمہ : آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہیں یہ کہتا ہوں کہ میں خود سے غیب جانتا ہوں۔
اس آیت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ علم غیب ذاتی صر ف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے علاوہ ذاتی علم غیب کسی کے لئے نہیں ہے۔
{تفسیر نیشا پوری}
اور یونہی خزانہ سے مراد سارے خزانے کہ اللہ کے دئے بغیر میرے پاس نہیں ہے۔اور اللہ کے دینے سے ضرور ہے جیسا کہ خود حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: زمین کے خزانوں کی کنجیا ں مجھے عطا کی گئیں۔
{صحیح بخاری،کتاب الجھاد والسیر،حدیث:۲۹۷۷۔صحیح مسلم،کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ،حدیث:۵۲۳}
آیت نمبر ۵: یَسْـَٔلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنۡدَ اللہِ۔
{سورہ احزاب ،آیت:۶۳}
تر جمہ: لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پو چھتے ہیں ۔آپ کہہ دیجئے کہ اُس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔
اِ س آیت کے تحت علامہ صاوی کہتے ہیں کہ :یہ بات {حضور ﷺکا قیامت کے بارے میں نہ جاننا}اُس وقت کی ہے جب سوال ہوا تھا ،کیو نکہ حقیقت یہی ہے کہ وصال اقدس سے پہلے تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر چیز کا علم عطا فر مادیا تھا جو کچھ بھی آپ نہیں جانتے تھے{جیسا کہ سورہ نساء آیت نمبر:۱۱۳/ میں ہے}اُن تمام میں سے قیامت کا بھی علم ہے۔
آیت نمبر ۶: اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ۔
{سورہ لقمان،آیت:۳۴}
تر جمہ: بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔
اِس آیت میں پا نچ چیزوں کا بیان ہے۔{۱} قیامت کب ہو گی؟۔{۲}بارش کب ہو گی؟۔{۳}عورت کے پیٹ میں بچہ ہے یا بچی؟۔{۴}کل کیا ہوگا؟۔{۵}کون کہا مرے گا؟
اِن پانچ چیزوں کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اِن کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں اور جو غیر خدا کے لئے مانے وہ مشرک ہے ۔آئیے !ذرا مفسرین کرام اور علماء عظام کے ارشادات ملاحظہ کریں تا کہ درست بات معلوم ہو جائے۔
اس آیت کے تحت “تفسیرات احمدیہ”میں ہے:اِ ن پانچ باتوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں اور محبوب بندوں کو سکھادے۔
تفسیر صاوی میں ہے :اِ ن باتوں کو کوئی خود سے نہیں جانتا ۔رہا خدائے تعالیٰ کے کسی بندہ کو بتا دینے سے اُس بندہ کا جاننا تو اُس میں کوئی حر ج نہیں ہے جیسا کہ انبیائے کرام اور بعض اولیا ئے کرام
{ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے}
پھر یہی علامہ صاوی اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے آگے تحر یر فر ماتے ہیں:علماء نے فر مایا کہ :حق یہی ہے کہ دنیا سے تشریف لے جانے سے پہلے آپ ﷺ کو اِن پانچ باتوں پر اطلاع مِل چکی تھی۔
اِ ن پانچ چیزوں کے بارے میں علماء نے جو کچھ بیان فر مایا ہے اُس کا ثبوت احادیث سے بھی ملتا ہے۔مثلاَ
کل کیا ہوگا؟کے تعلق سے صحیح بخاری و مسلم وغیرہ متعدد کتب احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ:جنگِ خیبر کے موقع سے ایک دن حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فر مایا کہ :کل میں جھنڈا اُس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا فر مائے گا ،راوی بیان کرتے ہیں کہ:پھر کل ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے جھنڈا عطا فر مایا ۔اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ پر فتح عطا فر مائی۔
{صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ خیبر،حدیث:۴۲۱۰۔صحیح مسلم،حدیث:۲۴۰۶}
اس سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو یہ معلوم تھا کہ کل کیا ہوگا؟۔اس کے علاوہ سیکڑوں احادیث ہیں جس میں حضور ﷺنے آنے والے زمانے کے بارے میں بتا یا کہ آئندہ ایسا ایسا ہوگا۔اس لئے اس میں کسی بھی مسلمان کا شبہ کرنا زیب نہیں دیتا،کیو نکہ یہ بات مسلمان کے بچوں پر بھی پو شیدہ نہیں ہے۔
کون کہاں مرے گا؟کے تعلق سے آپ اوپر میں پوری حدیث پڑ ھ چکے ہیں کہ جنگ ِبدر کے موقع پر حضور ﷺ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کون کافر کہاں مرے گا،اور آپ ﷺ نے جس کا فر کی جو جگہ بتائی وہ اُس جگہ سے ذرا سا بھی اِدھر اُ دھر نہیں مرا۔
{صحیح مسلم،کتاب الجھاد والسیر ،باب غزوۃ بدر،حدیث:۱۷۷۹}
بار ش کب ہوگی؟اس کی بھی خبر حضور ﷺ نے دی،چنانچہ حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں حضور نے ارشاد فر مایا:ثُمَّ یُرْسِلُ اللّہ مَطَراَلاَیَکنُّ مِنْہُ بَیْتُ مَدَرِ وَ لاَ وَ بَرِ۔پھر اللہ تعالی ایک ایسی بارش بھیجے گا جس سے کوئی گھر شہر اور دوکان خالی نہ رہے گا۔
{مشکوۃ المصابیح،جلد دوم،ص:۴۷۳۔۴۷۴۔مسلم شریف}
اِس حدیث شر یف سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ نے وقت سے پہلے بارش کی خبر دے دی۔لیکن ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ،صحیح نہیں ہے وغیرہ۔لیکن معلوم ہو نا چا ہئے کہ قر آن کریم سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِ س کا علم حضرت یو سف علیہ السلام کو عطا فر مایا تھا جیسا کہ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے۔قَالَ تَزْرَعُوۡنَ سَبْعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمْ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحْصِنُوۡنَ ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیۡہِ یَعْصِرُوۡنَ ۔
تر جمہ : یو سف{علیہ السلام } نے کہا :تم حسب معمول سات سال تک کاشت کاری کروگے ،پھر تم جو کھیت کاٹو تو تمام غلے ان کے خوشوں میں چھوڑ دینا سوائے اُن تھوڑے سے غلے کے جسے تم کھاؤ،پھر اُس کے بعد سات خشک سالی کےسخت سال آئیں گے وہ اُس غلے کو کھا جائیں گے جو تم نے پہلے جمع کر رکھا تھا سوائے تھوڑے سے غلّے کے جنہیں تم محفوظ رکھوگے ،پھر اُس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی اور اُس میں لوگ پھلوں کو نچوڑیں گے۔
{سورہ یوسف،آیت:۴۷۔۴۸۔۴۹}
اِ س آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ کے بتانے سے معلوم تھا کہ چودہ سال کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں بارش ہوگی۔اور تمام علماء کا اتفاق ہے کہ تمام انبیائے کرام کو جتنی خوبیاں دی گئیں وہ سبھی خوبیا ں حضور ﷺکو بھی عطا کی گئیں۔بلکہ ان سے بھی زیادہ آپ کو عطا کی گئیں ۔تو ثابت ہوا کہ حضور ﷺکو بھی بارش کا علم دیا گیا۔
ماں کے پیٹ میں لڑ کا ہے یا لڑ کی؟ تو اس بات کا علم بھی حضور کو دیا گیا۔چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت امام حسین کی پیدائش کی خبر آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی دے دیا تھا۔ ام الفضل بنت حارث بیان کرتی ہیں کہ:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور میں نے حضور سے عر ض کیا کہ :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میں نے رات کو ایک بہت ہی غلط خواب دیکھا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : کیا دیکھا ہے؟ میں نے کہا:یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میں نے دیکھا کہ آپ کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:تم نے اچھا خواب دیکھا ہے۔ان شاء اللہ ،فاطمہ کے یہاں ایک لڑ کا پیدا ہو گا جو تمہاری گود میں رکھا جائے گا۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مانے کے مطابق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں رکھے گئے۔{المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین بن علی الشھید رضی اللہ عنہما ،حدیث:۴۸۱۸}اس حدیث کو امام ذہبی نے صحیح قرار دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺکو اللہ کے بتانے سے اِس بات کا بھی علم تھا کہ ماں کے پیٹ میں لڑ کا ہے یا لڑ کی؟
ہو سکتا ہے کوئی کہنے والا کہہ دے کہ یہاں حضور نے تو خواب کی تعبیر بیان فر مائی تو یہ علم غیب کیسے ہوا؟تو اُن سے عر ض ہے کہ یہ خواب دوسرے خوابوں کی طرح نہیں کیونکہ حضور ﷺ نے لڑ کا پیدا ہونے کی جو خبر دی خواب میں اِ س کا کوئی ذکر نہیں۔لہذا یہ بات جو اللہ کی عطا سے آپ نے بتا یا غیب ہی کی بات ہوئی۔
اب آئیے !کچھ ایسی حدیثوں کا بھی ذکر کر لیں جن کو کچھ لوگ علم غیب کی نفی میں پیش کرتے ہیں اور کسی طرح حضور کی اِس خوبی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے،اور کوئی نہ کوئی بہانہ لگا کر انکار پر اڑے رہتے ہیں۔افسوس!ایک سچے امتی کے دعویدار کا اپنے نبی کی خدا دا دخوبی کے ساتھ یہ رویہ!!! فاللہ الی المشتکیٰ۔
حدیث نمبر ۱:حضور علیہ السلام ایک نکاح میں تشریف لے گئے ،وہاں انصار کی کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بدر کے کے شہداء کرام کا مر ثیہ گارہی تھیں ،حضور کو دیکھ کر اُن میں سے کسی شعر کا یہ ٹکڑا پڑ ھ دیا “وَفِینا نبی یعلم مافی غد” یعنی ہم میں ایسے نبی ہیں جو آنے والےکل کی بات جانتے ہیں ۔اس پر حضور ﷺنے فر مایا کہ :یہ چھوڑ دو اور جو گا رہی تھیں وہی گائے جاؤ۔
{صحیح بخاری،کتاب النکاح ،باب ضرب الدف فی النکاح والولیمۃ ،حدیث:۵۱۴۷}
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ :دیکھئےاگر حضور ﷺواقعی غیب جانتے تو اُن بچیوں کو منع نہ فر ماتے۔آپ کا منع فر مانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے۔
اُن سے عر ض ہے کہ یہاں یہ غور کرنا چا ہئے کہ اس شعر کا بنانے والا کون ہے؟کیا وہ بچیاں؟نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کیو نکہ بچیوں کا شعر بنانا خلاف عادت ہے۔تو کیا کسی کا فر نے یہ شعر بنایا؟یہ بھی نہیں ہو سکتا ۔اس لیے کہ وہ تو ہمارے نبی ﷺکو نبی ہی نہیں مانتے تھے ۔لا محالہ کسی صحابی نے بنایا ہو گا ۔تو اگر ایسا کہنا شرک ہوتا تو حضور ﷺاُس صحابی کا پتہ لگاتے اور پھر اُن سے تو بہ کراتے یا کم از کم اِ س شعر کی مذمت فر ماتے اور حاضرین کو اس کے شرک ہونے پر آگاہ ضرور کرتےکیوں کہ دنیا میں آپ کی آمد شرک مٹانے ہی کے لئے ہوئی تھی مگر آپ ﷺ نے ایسا کچھ نہ کیا ۔اِس کا صاف مطلب ہے کہ یہ شر ک نہیں ہے۔
دوسری خاص بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ جس طرح منہ کے سامنے کسی عالم دین کی تعریف کی جائے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ”ارے بھائی بس کرو،کوئی دوسری بات کرو”اور یہ بات تو ہمارے سماج میں ہوتی ہی رہتی ہے اور ہم بھی ایک دوسرے کو منہ کے سامنے تعریف کرنے سے روکتے رہتے ہیں ۔لہذا حضور ﷺنے بھی منہ کے سامنے اپنی تعریف سننا پسند نہ فر مایا اس لئے منع فر مادیا۔
حدیث نمبر ۲:تیمم کی آیت نازل ہونے کے موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا ،اِدھر اُدھر خوب تلاش کیا گیا مگر نہ ملا پھر کافی دیر کے بعد جب اونٹ کو اٹھایا گیا تو اُس کے نیچے سے نکلا ۔
اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر حضور کو غیب معلوم ہوتا تو لوگ کیوں پر یشان ہوتے؟حضور فورا بتا دیتے پھر وہاں سے چل پڑتے ،معلوم ہوا کہ حضور کو غیب کا علم نہیں ۔
تو ایسے لوگوں سے عر ض ہے کہ آپ کو معلوم تو تھا مگر ایک خاص سبب کی وجہ سے آپ ﷺ نے بیان نہیں فر مایا ۔وہ خاص سبب یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے یہ جان رہے تھے کہ ہار تلاش کرتے کرتے نماز کا وقت ہو جائے گا۔اور اِس صحرامیں لوگ پانی نہیں پائیں گے تو فضلِ الہی کا نزول ہوگا اور اِس طرح کے مواقع پیش آنے کے وقت میری امت کے لئے کوئی نہ کوئی آسانی مِل جائے گی جس سے قیامت تک میری امت کے لوگ مستفیض ہوتے رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور تیمم کی رخصت نازل ہوئی جو کہ ایک بڑی رحمت ہے۔اس لئے آپ ﷺ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے۔یہی وجہ تھی کہ اُس وقت نماز کے مسئلے کو لے کرصحابہ کرام کافی پر یشان تھے یہاں تک کہ لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شکایت بھی کی۔مگر رسول ِ گرامی وقار ﷺ کو سب سے زیادہ نماز کی محبت ہو نے کے باوجود اُس وقت انتہائی اطمینان و سکون کے ساتھ آرام فر ما رہے تھے اور آپ پر کوئی بے چینی نہ تھی۔
حدیث نمبر ۳: جنگ مریسیع سے واپسی پر رات کو حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور صحابہ کرام نے ایک مقام پر قیام فر مایا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رفع حاجت{پیشاب یا پاخانہ} کے لئے کچھ دور نکل گئیں ۔واپسی پر معلوم ہوا کہ ہار ٹوٹ کر کہیں گِر گیا ہے۔لہذا آپ پھر ہار تلاش کر نے چلی گئیں ۔واپس آکر دیکھتی ہیں کہ قافلہ روانہ ہو چکا ہے اور وہاں کوئی نہیں ہے۔آپ اکیلی رہ گئیں ۔ادھر صحابی رسول حضرت صفوان بن معطل{جن کا کام ہی تھا کہ لشکر کے پیچھے پیچھےاِس خیال سے چلے تا کہ لشکر کا گِرا پڑا سامان
اٹھا لیں}یہاں آ پہونچے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سوئی ہوئیں پایا ۔یہ دیکھ کر انہوں نے سمجھا کہ موت ہو چکی ہے لہذا”انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑ ھا ۔آواز سُن کر آپ بیدار ہوگئیں ۔حضرت صفوان نے آپ کو اپنے اونٹ پر بٹھا یا اور خود مہار تھامے پیدل چل کر لشکر سے جا ملے ۔اس واقعے کو غلط طر یقے سے لیتے ہوئے منافقوں نے اپنی شاطر دماغ کی فر ضی پیداوار سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگادی اور بد تمیزی کا طوفان کھڑا کر دیا ۔جگہ جگہ اس واقعے کا خوب چر چا کیا حتّٰی کہ بعض صحابہ بھی اس ناپاک سازش کے شکار ہو گئے اور اِس کو سچ سمجھنے لگے۔تو طبعی طور پر انسان ہو نے کے ناطے آپ ﷺ کو بڑا غم ہوا۔
{صحیح بخاری،مفہوما}
اب اِس زمانے کے کچھ لوگ اپنی بد دماغی سے یہ چند سوال اٹھاتے ہیں۔
اگر آپ کو علم غیب ہے تو آپ حضرت عائشہ سے نارا ض کیوں ہو ئے تھے؟
اگر آپ کو علم غیب تھا تو پھر آپ پر یشان ہی کیوں ہوئے تھے؟
پھر اگر آپ کو حضرت عائشہ کی پار سائی اور بے گناہی معلوم ہی تھی تو اتنے دنوں تک خاموش کیو ں رہے؟اور وحی کا انتظا ر کیو ں کیا؟اپنی بیوی کی بے گناہی بیان کر کے اُس طوفان کو روک دیتے مگر ایسا نہ کیا ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو غیب کا علم نہیں دیا گیا ۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ دیکھئے خود آقائے کریم ﷺاپنے دلِ مبارک کی کیا کیفیت بیان فر ما تے ہیں:
ایک دن منبر اطہر پرکھڑے ہو کر صحابہ کے سامنے حضور نے اِس سے متعلق ایک مختصر خطبہ دیا ۔اِ س خطبہ میں آپ نے ایک بہت ہی اہم بات کہی ہے جو بخاری کی اِسی حدیث میں آج بھی موجود ہے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں “فو اللہ ما علمت علی اھلی الا خیرا”خدا کی قسم،مجھے اپنی بیوی کی پاک دامنی اور بے گناہی پر یقین ہے۔
{بخاری۔۔۔۔۔۔}
سبحان اللہ ! کس قدر صاف اور واضح انداز میں آپ نے فر مایا کہ میری بیوی پاک ہے بے گناہ ہے۔اس کے باوجود بھی اگر کوئی انکار کرے اور کہتا پھرے کہ نہیں حضور کو علم نہیں تھا ،تو اُس منکر ،ہٹ دھرم کا دنیا میں کیا علاج ہے ۔ہاں البتہ میدانِ محشر میں ضرور اِس ناپاک بات کی سزا پائے گا۔
سبحان اللہ!سرور کائنات علیہ التحیۃ والثنا جس چیز پر قسم کھا کر فر مائیں کہ میں تو خیر{یعنی اچھا} ہی جا نتا ہوں اور دین کے دشمن اسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ نہیں جانتے تھے ۔معاذاللہ ثم معاذاللہ،اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایسی سمجھ سے بچائے۔
اس حدیث پاک میں حضور نے نہ صرف حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کو بے گناہ بتا یا بلکہ ایک اور سوال کا بھی جواب عنایت فر ماکر خبیث نفسوں کا منھ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔ یعنی نبی کا کوئی دشمن ،بد باطن فتنہ پھیلانے والا یہ سوال اٹھا سکتا تھا کہ ہاں حضرت عائشہ تو بے قصور تھیں مگر وہ مرد جن کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں تھیں انہوں نے زبر دستی کچھ بد تمیزی اور چھیڑ چھاڑ کی ہوگی۔
قر بان جائیے غیب کی خبر دینے والے آقا ﷺ پر کہ آپ نے اِس سوال کا بھی پہلے ہی جواب دے دیا اور مسلمانوں کو مزید الجھن میں پڑ نے سے بچا لیا ۔چنانچہ بخاری کی اسی حدیث میں ہے “و لقد ذکروا رجلا ما علمت علیہ الا خیرا “اُن{فتنہ پھیلانے}والوں نے ایک ایسے آدمی کی بات کہی ہے جس کو میں اچھا ہی جانتا ہوں۔
نتیجہ کیا نکلا؟ یہی کہ حضور نہ حضرت عائشہ صدیقہ سے بد گمان تھے اور نہ لانے والے صحابی رسول صفوان بن معطل کے بارے میں کچھ شک فر ماتے تھے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ صرف تکلیف اور پر یشانی کی وجہ سے یہ سمجھ لینا سراسر غلط ہے کہ حضور ﷺ کو اس بات کا علم نہیں تھا ۔دوسرے کے دُکھ درد کو سمجھنا تو ذرا مشکل ہوتا ہے اس لئے فر ض کیجئے اگر اِس طرح کا حادثہ آپ ہی کے ساتھ پیش آئے اور دشمن آپ پر نہایت ذلیل اور شر مناک قسم کا کوئی بہتان باندھے اور جگہ جگہ اس کا چر چا کر کے سماج میں آپ کو رُسوا کرنا چا ہے۔ایسی صورت میں ایمان سے بتائیے کہ یہ جاننے کے باو جود کہ آپ پاک دامن اور بے قصورہیں۔کیا آپ کو پر یشانی لاحق نہ ہوگی؟کیا آپ کا چہرہ پھیکا نہ پڑے گا ؟ کیا آپ اپنا زیادہ تر وقت سوچ وفکر میں گزار ئیے گا؟اور کیا ایک باعزت آدمی اس طرح کے حالات میں صرف اس لئے خوش اور مطمئن نظر آئے گا کہ وہ اپنے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے خلاف جو الزام لگایا گیا ہے وہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔
انسان ہو نے کے ناطے اپنی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر آپ کا جواب یہ ہو اور یہی ہونا بھی چا ہئیے کہ اس طرح کے حالات میں ایک شریف آدمی کی پر یشانی لازمی چیز ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔تو اسی کے ساتھ یہ بھی ماننا ہوگا کہ حضور کی پر یشانی کی وجہ ان منافقوں کی بد تمیزی اور شرارتیں تھیں ،آپ کی لا علمی نہیں۔
انہیں رنج وغم اور پر یشان کُن حالات کا اثر تھا کہ اُن دنوں حضور ﷺ اکثر فکر مند اور اداس رہا کرتے تھے ۔طبعی حالات کے تحت جہاں زندگی کے اور کام میں فرق پڑ گیا وہیں ازدواجی زندگی کی خوشی بھی کچھ بد مزہ سی ہو گئی تھی۔بہر حال آپ کے غمگین اور پریشان رہنے کی وجہ آپ کی لا علمی نہیں بلکہ وہ تھا جو ابھی بیان ہوا۔
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ معاملہ اپنے گھر کا تھا اور ظاہر ہے کہ اپنے علم کی بنیاد پر حضور ﷺ اِس مقدمہ کا فیصلہ حضرت عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا کے حق میں فر مادیتے تو اِس سے کوئی بھی بد باطن منافق کہہ سکتا تھا کہ”چو نکہ مسئلہ اپنی بیوی کا تھا اس لئے {معاذاللہ}جان بو جھ کر جانبداری سے کام لیا گیا اور مجرم کے جرم پر پردہ ڈالا گیا” اور خاص طور سے مدینہ شریف لے اُس وقت کے ماحول میں منافقوں کی طرف سے اس طرح کا سوال اٹھا نا کوئی بعید نہ تھا کیو نکہ منافقوں کا ایک بہت بڑا گروپ رات ودن اسی طرح کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا اور طرح طرح کے افواہوں کے ذریعے اس فتنہ کو اس طرح ہوا دے رہا تھا کہ کئی صحابہ کرام بھی اس فتنے کا شکار ہوگئے ۔لہذا ان حالات میں احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ خود فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اس ذات سے اس مقدمہ کا فیصلہ کرایا جائے جس کے بارے میں جانب داری یا پردہ پوشی کا شبہ بھی نہ کیا جا سکے ۔لہذا حضور ﷺ نے اللہ کی طرف سے وحی کا انتظار کیا ۔بالآ خر ایک مہینے کے طویل انتظار کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ کی برأت اور بے گناہی کے بارے میں وحی نازل ہوئی ۔اہلِ ایمان مطمئن ہوگئے اور منافقوں کا منہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔
انتباہ: جو لوگ کہتے ہیں کہ حضور کو معلوم ہوتا تو دیر کیوں کرتے؟مگر آپ نے سُن لیا کہ یہ برأت کی وحی بھی ایک مہینہ کے بعد نازل ہوئی تو کیا{معاذاللہ}اللہ کو بھی معلوم نہ تھا اسی لئے اتنے دنوں کے بعد وحی بھیجی؟
اس تیسرے سوال کا جواب یہ بھی ہے کہ اگر حضور ﷺخود اپنے الفاظ میں برأت کا اعلان کر دیتے تو اس کو حدیث کہا جاتا ۔لہذا جو لوگ خود اپنے کانوں سے حضور کے الفاظ کو سُن لیتے انہیں تو سچ مچ اطمینان ہوجاتا لیکن یہی حدیث جب روایتوں کے ذریعے آنے والی نسلوں تک پہونچتی تو ممکن تھا کہ کوئی یہ کہہ دیتا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے،بخاری میں نہیں ہے،یہ حدیث ضعیف ہے فلاں راوی ناقابل اعتبار ہے یا یو ں ہی اور کوئی کمی و خامی دِ کھا کر کہہ دیتا کہ اس حدیث کو دلیل بنا نا صحیح نہیں ہے۔تو معاذاللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی برأت مشکوک ہو کر رہ جاتی۔
لیکن برأت کا اعلان اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہو جائے تو اُسے قرآن کہا جائے گا اور قیامت تک کسی کو بھی یہ ہمت نہ ہوگی کہ قرآن کی صحت کے بارے میں شک و شبہ کر سکے ۔یہی وہ عظیم مصلحت تھی جس کے پیش نظر حضور اکرم ﷺ نے خود برأت کا اعلان نہ فر ما یا۔
یہ باتیں اِس نا چیز کی من گڑ ھت نہیں بلکہ مرجع المفسرین حضرت امام فخر الدین رازی ر حمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب “تفسیر کبیر” سے مستفاد ہیں جنہیں مزید تحقیق چا ہئے وہ وہاں سے رجوع کریں۔
حدیث نمبر ۴:ابو براء نجدی {جو ابھی مسلمان نہیں ہو ا تھا} کی سفارش پر نبی کریم ﷺ نے اپنے ستّر صحابہ کرام کو نجد یوں کی ہدایت اور انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لئے ابو براء نجدی کے ساتھ روانہ فر مادیا مگر نجد کے قبیلہ رِ عل و ذکوان کے کافروں نے بیر معونہ نامی کنواں کے پاس سوائے دو کے ان تمام صحابہ کرام کو دھوکہ سے شہید کردیا۔
{مفہوما}
اس واقعے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضور کو علم غیب ہوتا تو صحابہ کو ہر گز اس کے ساتھ نہ بھیجتے۔
اُن حضرات سے عر ض ہے کہ اس سے یہ سمجھنا کہ حضور کو ان کی شہادت کا علم نہ تھا ،صحیح نہیں ہے اس لئے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ زخمی ہوں گے یا شہید کر دئیے جائیں گے خدا ئے تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبلغین اسلام کو بھیجا جاتا ہے۔جیسا کہ دیکھئے قرآن پاک میں ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بے دین یہودیوں کی ہدایت کے لئے کئی نبیوں کو ان کےپاس بھیجا مگر ان یہودیوں نے ان میں سے بہت سے نبیوں کو شہید کر دیا تو کیا وہ لوگ اللہ کے بارے میں بھی کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نبیوں کے شہید
ہونے کا علم نہ تھا ورنہ کیوں بھیجتا۔ معاذاللہ !من ھذہ الہفوات ۔
بلکہ نبی کی عظمت پر خوش ہونے والا ایک سچا مسلمان یہی کہے گا کہ حضور ﷺ کو اُن صحابہ کے شہید ہونے کا علم تھا ۔اسی لئے حضور نے ابو براء سے بر جستہ اس کا اظہار کر دیا تھا ۔ چنانچہ اسی واقعہ میں حضور اکرم ﷺ کے یہ الفاظ بھی مذکور ہیں کہ”انی اخشی علیھم اہل النجد”مجھے خطرہ ہے کہ نجدی لوگ ان کو نقصان پہنچائیں گے۔
{ضیاء النبی ،جلد:۳/ص:۵۹۲}
اس مختصر سے رسالے میں ہم کس کس آیت اور کس کس حدیث کا صحیح مطلب بیان کریں ۔اب تک جو کچھ بیان ہو چکا ،انشاء اللہ ایک مسلمان کے اطمینان قلبی کے لئے وہی کافی ہے ۔البتہ خلاصے کے طور کچھ “نوٹ” کئے دیتا ہوں تا کہ علم غیب سے متعلق قرآنی آیتوں اور حدیثوں کو سمجھنے میں آپ کو ایک روشنی ملے اور آپ اس کا صحیح مطلب سمجھ سکیں ۔وہ نوٹ یہ ہیں۔
جب آپ ﷺ کا غیب جاننا قرآن وحدیث سے ثابت ہے تو ہر وہ آیت و حدیث جو بظاہر اس کے خلاف معلوم ہوں ان میں مندرجہ ذیل باتوں میں سے کوئی بات ہو سکتی ہے۔
ان آیتوں یا حدیثوں میں علم ذاتی کی نفی کی گئی ہوں یا ذاتی ملکیت کی نفی کی گئی ہو یا تواضع و انکسار کے طور پر حضور نے ایسا کہا ہو یا اپنے سامنے اپنی تعریف سننا پسند نہ کیا ہو ،اس لئے ایسا فر مایا ہو۔یا کسی حکمت اور خاص بات کی وجہ سے حضور خاموش رہے ہوں اور جواب نہ دیا ہو یا جواب دینے میں تا خیر کی ہو ۔یا اللہ کے فضل وکرم سے آپ کو معلوم تھا کہ ایسا ہونے ہی والا ہے اور خدا کی طرف سے ایسا ہونا مقدر ہو چکا ہےاسے کوئی رد نہیں کر سکتا ،لہذا آپ خاموش رہے ہوں۔اسی طرح خود جانتے ہوئے بھی کسی سے کچھ پوچھ لئے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہوئے بھی پو چھنا یہ کچھ نبی علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ خود رب قدیر نے بھی پو چھا مثلاَ َ حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام سے رب کائنات نے فر مایا “و ما تلک بیمینک یا موسی ٰ” ائے موسیٰ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟حضرت موسیٰ نے جواب دیا تھا “ھی عصای” یہ میری لاٹھی ہے۔
{سورہ طٰہٰ ،آیت:۱۷}
یو ں ہی بہت سی حدیثوں میں یہ بات ملتی ہے کہ فر شتے جن کے ذمے زمین میں گھوم پھر کے دیکھنا ہے کہ کون بندہ کیا عبادت کرتا ہے؟وہ جب بار گاہ الہی کی طرف واپس جاتے ہیں تو رب کا ئنات ان سے پو چھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں پایا ؟اب آپ ہی سو چیں کہ خا لق کائنا ت جسے ذرہ ذرہ کا علم ہے کیا اُسے اِن باتوں کا علم نہ تھا کہ حضرت موسیٰ سے پو چھا ،فر شتوں سے پو چھا؟
بات در اصل یہ ہے کہ اس طرح کے سوال میں کوئی حکمت اور مصلحت ضرور ہوتی ہے ۔معلوم ہوا کہ کسی بات پر خاموش رہنے سے یا کسی سے کچھ پو چھنے لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس بات کا علم ہی نہیں ۔اب ان باتوں کو خوب یاد رکھیں تا کہ آپ دھو کہ نہ کھا ئیں۔
سوال: اگر کوئی صرف اُن آیتوں کو مانے جس سے ظا ہر ہوتا ہے کہ حضور کو غیب کا علم نہ تھا اور اُن آیتوں کو نہ مانے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو علم غیب تھا۔تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟
جواب: قرآن حکیم کی ہر آیت پر ایمان لانا اور اسے ماننا لازم وضروری ہے اس کے بغیر کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ۔بعض آیتوں کا اقرار اور بعض آیتوں کا انکار کر نے والوں کے تعلق سے اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فر ماتا ہے۔ اَفَتُؤْمِنُوۡنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوۡنَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الْعَذَابِ ؕ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ۔
{سورہ بقرہ،آیت:۸۵۔۸۶}
تر جمہ: کیا تم بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو۔تو جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اور قیامت کے دن انہیں سخت عذاب کی طرف پھیر دیا جائے گا۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو آخرت کے بدلے خریدا تو ان کے عذاب میں کوئی کمی نہ کی جائے گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
سوال:نبی ﷺ کی ذات اقدس میں کمی اور خامی تلاش کر نا کیسا ہے؟
جواب: نبی ﷺ کی ذات اقدس میں کمی و خامی کی تلاش گویا آپ کی تو ہین اور آپ کی شان کو گھٹانا ہے اور یہ بات تمام علماء کے نز دیک کفر ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے کہا کہ”فلاں کا علم حضور سے زیادہ ہے “تو اس نے حضور کو عیب لگایا اور آپ کی تو ہین کی اور صحابہ کے زمانہ سے اب تک تمام علماء یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ نبی کی تو ہین کفر ہے۔
{نسیم الریاض للخفاجی،جلد:۴/،ملخصا}
بہر حال اب تک کے بیان سے آپ کو ضرور یقین ہو چکا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو غیب کا علم عطا فر مایا اور آپ ﷺ غیب جانتے ہیں ۔مگر آپ کی مزید رہنمائی کے لئے اتنا اور کہوں گا کہ حضور ﷺ کے علم غیب کے ثبوت میں بے شمار آیتیں اور احادیث مبار کہ موجود ہیں لیکن افسوس!کچھ لوگوں کو وہ آیتیں اور احادیث تو نظر آتی ہیں جن سے بظاہر لگتا ہے کہ حضور کو علم غیب نہیں {حالانکہ ان میں ذاتی علم غیب کی نفی کی گئی ہے}اور انہیں وہ آیتیں اور احادیث نظر نہیں آتیں جن سے صاف صاف ثا بت ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو علم غیب حاصل ہے جیسا کہ خود اللہ تعالی ٰ ارشاد فر ماتا ہے کہ “نبی غیب کی بتا نے پر بخیل نہیں ہے
{سورہ تکویر،آیت:۲۴}
اسی طرح انہیں وہ احادیث بھی نظر نہیں آتیں جن سے آپ ﷺ کا علم غیب صاف ظاہر ہوتا ہے مثال کے طور پر حضور ﷺ نے حضرت عمر فاروق ر ضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ دونوں شہید کئے جائیں گے
{بخاری،کتاب فضائل الصحابہ،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث: ۳۶۹۷۔صحیح مسلم،حدیث:۲۴۱۷۔ترمذی،حدیث:۳۶۹۷}
چنانچہ فر مان نبوی ﷺ کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابولؤلؤ نے ۲۴/ہجری میں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو باغیوں نے ۳۵/ہجری میں حملہ کر کے شہید کر دیا۔
ایسے لوگوں پر بڑا افسوس ہوتا ہے جو نبی ﷺ کا کلمہ پڑ ھنے کے باوجود آپ ﷺ کی اُن خوبیوں کا انکار کرتے ہیں جنہیں اللہ نے اپنے محبوب کو عطا کی ہیں۔یاد رکھیں!حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنا اور مذاق اڑانا منافقوں کا طر یقہ ہے اور آپ کی کسی خوبی کو چھپانا یہودیوں کا طر یقہ ہے ۔فر ق صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ براہ راست انکار کر دیا کر تے اور چھپا یا کر تے تھے اور یہ لوگ اللہ عز وجل کا نام پاک کا سہارا لے کر اور قرآن و احادیث کا غلط معنی بیان کر کے انکار کر رہے ہیں {اور کہہ دیتے ہیں کہ علم غیب صرف اللہ کو ہے ،یہ خوبی صرف اللہ کے پاس ہے،اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں }جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ عز وجل کی عطا سے نبیوں کے پاس علم غیب ہے فرق یہ ہے کہ اللہ کا علم غیب ذاتی ہے اور نبی کا علم غیب عطائی ہے ۔یہی صحیح اسلامی عقیدہ ہے۔
افسوس! ہم ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کو علم غیب نہیں ۔۔۔۔۔۔ہم ایک جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے اعلیٰ سب سے افضل ہمارا نبی۔۔۔۔۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی ہماری طرح ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب کے صدقے میں کائنات کو پیدا فر مایا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔۔۔۔۔۔۔نبی کے چا ہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔نبی مر کر ختم ہو گئے۔۔۔۔۔مٹی ہو گئے۔
{ معاذاللہ}
اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس طرح کی باتوں سے نبی ﷺ کی عظمت ظاہر کی جار ہی ہے یا نبی میں کمی تلاش کی جار ہی ہے ۔ہر انصاف پسند،خدا ترس اور سچا عاشق رسول یہی کہے گا کہ اس قسم کی سوچ اور فکر سے تو ہین مصطفی کی بُو آرہی ہے ۔
تو ہین نبی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے ابلیس مقبول سے مردود اور جنتی سے جہنمی ہوا ،ورنہ اللہ کی عبادت میں اس نے بھی کوئی کمی نہ رکھی تھی ،اس لئے بہت زیا دہ عبادت نجات کے لئے کافی نہیں ہوتی بلکہ نجات صرف رضائے الہی سے ملتی ہے اور رضائے الہی رضائے مصطفی میں ہے :و لسوف یعطیک ربک فتر ضیٰ{سورہ ضحیٰ،آیت:۵} اور بے شک قر یب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤگے ۔لہذا دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے رضائے مصطفیٰ حاصل کریں ،نبی کی شان کے مطابق تعظیم کا حق ادا کریں ،اور ہمیشہ یاد ر کھیں۔
باادب با نصیب بے ادب بے نصیب
ایمان کی حفاظت کریں ،ایمان کی دولت لُٹ گئی تو سب کچھ لٹ گیا ۔ہم اپنی ہر چیز کی حفاظت کی فکر تو کرتے ہیں ،لیکن دولت ایمان کی حفاظت کی فکر نہیں کرتے ۔یہ بات بھی یاد رکھنی چا ہئے کہ اِس زمانے میں ہر کوئی ایمان ہی کی بات کرتا ہے ۔ہر ایک کی زبان پر اللہ کا نام ہے ۔ہر ایک کے ہاتھ میں قرآن ہے ۔ہر کوئی حدیث دکھا رہا ہے لہذا ایمان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کریں ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ۔
{سورہ تو بہ،آیت:۱۱۹}
تر جمہ:اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
سچے کون ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن پر اللہ نے انعام فر مایا۔
اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ۔
{سورہ نساء،آیت:۶۹}
تر جمہ: اللہ نے انعام فر مایا انبیاء،صدیقین،شہداء اور نیک لوگوں پر۔
اب ہمیں فیصلہ کرنا چا ہئے کہ زیادہ سچے کون ہیں؟ ہم یا حضرت ابو بکر صدیق ر ضی اللہ عنہ؟ہم یا شہید اعظم سیدنا امام حسین ر ضی اللہ عنہ؟ہم یا امام اعظم ابو حنیفہ و شافعی رحمہما اللہ ؟ہم یا خواجہ حسن بصری ر حمۃ اللہ علیہ؟ ہم یا یا غوث اعظم ر حمۃ اللہ علیہ؟زیادہ صالح اور نیک کون؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یا غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ؟ یقینا فیصلہ یہی ہوگا کہ اللہ کے یہ محبوب بندے زیادہ سچے اور زیادہ نیک ہیں لہذا ہمیں بھی ان کے ساتھ ہو جانا چا ہئے ،ان کے نقش قدم پر چلنا چا ہئے ۔
اللہ رب العزت ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنے محبوبوں کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے ۔آمین بجاہ سید المر سلین ﷺ
DEOBAND KE AQAID:
👇
AQEEDA # 1 :"Gaib ki baaton ka jesa Ilm
Huzoor (Aleh Salaam) ko hai, aesa Ilm Zed O
Umar , bachon aur Paglon ko, balkay tamaam
jaanwaron ko haasil hai, Rasool Ki Takhsees
nahin"Hawalay k liye dekhiye kitaab ( Hifzul
Eemaan , Page: 8 , Musannif: Molvi Ashraf Ali
Thanvi , Shae Karda: Kutub Khana Ashrafiya
Company Deoband aur Kutub Khana Aezaziya
Deoband )
AQEEDA # 2 :"Huzoor (Aleh Salaam) ko Aakhri
Nabi samajhna Awaam ka khayal hai, Ahl E Ilm
ka nahin"( Tehzeer Un Naas , Page: 3 ,
Musannif: Molvi Muhammad Qasim Sahab
Nanatwi, Shae Karda: Kutub Khana Aezaziya
Deoband )
AQEEDA # 3 :"Huzoor (Aleh Salaam) k baad koi
Nabi peda hojae to phir b Khatmiyat E
Muhammadi main kuch faraq na
aaega"( Tehzeer Un Naas , Page: 25 )
Note : Yahi Aqeedah Qadiyaniyon ka b hai
AQEEDA # 4 :"Shetaan O Malakul Moat ko
tamaam Roe Zameen ka Ilm hai, aur Huzoor
(Aleh Salaam) k Ilm se Ziyada hai"( Buraheen E
Qaatey , Page: 55 , Musannif: Molvi Khaleel
Ahmed Ambethvi , Shae Karda: Kutub Khana
Imdadiya Deoband )
AQEEDA # 5 :"Namaz main Huzoor
(AlehSalaam) ka khayal Ghaday aur Bail k
khayal main Doobne se bura hai"( Sirat E
Mustaqeem , Page: 97 , Musannif: Molvi Ismail
Dehelvi , Shae KArda: Kutub Khana Ashrafiya,
Raashid CompanyDeoband )
AQEEDA # 6 :"Har makhlooq bara ho ya chota,
ALLAH ki shaan main Chamaar seb Ziyada
Zaleelhai"( Taqweet Ul Eemaan , Page: 13 ,
Mussannif: Molvi Ismail Dehelvi , Shae Karda:
Kutub Khana Ashrafiya, Raashid Company
Deoband )
Note: Har Makhlooq main Huzoor (Aleh
Salaam) ,aue Deegar Ambiya b aate hain..
AQEEDA # 7 :"Huzoor (Aleh Salaam) ki
Taazeembaray bhai ki si Kijiye"( Taqweet Ul
Eemaan , Page: 52 )
Note : Kiya Huzoor (Aleh Salaam) ki izzat bas
baray bhai jitni karni chahiye??
yeh sawaal khud se puchen k hum apnebaray
bhai ki kitni izzat karte hain ,
Aur kiya Huzoor (Aleh Salaam) dono jahanon
ki remat ka bas yahi darja hai??
AQEEDA # 8 :"Huzoor (Aleh Salaam) ka Yom E
Meelaad manana Kanhaeiyya (Cow) k janam
din manane ki tarah hai"
( Buraheen E Qatay , Page: 152 )
AQEEDA # 9:"KHUDA TA'ALA JHOOT Bolsakta
hai"
(Mas'ala Imkaan Kazab), Buraheen E Qatay,
Musannif Molvi Khaleel Ahmed Sahab
Anbethwi.
AQEEDA # 10:"KHUDA TA'ALA ko Jagah aur
Zamana aur Murkab hone, aur Mahiyat se PAK
maanna BIDDAT hai .
(Eezaa Ul HAQ, Musannif Molvi Ismail Dehelvi
Sahab) .
AQEEDA # 11:"KHUDA TA'ALA ko Bandon k
Kaamon ki Pehle se KHABAR nahin hoti , Jab
Banday achay ya Buray kaam karlete hain , tab
us ko maaloom hota hai".
( Balagtal Heraan, PAGE#57, Musannif MOLVI
HUSSAIN ALI SAHAB, SHAGIRD-E-RAHEE D AHMED
SAHAB).
AQEEDA # 12:"Aamaal main Bazahir Ummati,
NABI se k Baraabar hojaate hain, Balkay Barh
bhi jaate hain".
(tehzeer Un Naas, Matboo'a Dar Ul Asha'at,
Karachi, Musannif MOLVI MUHAMMAD QASIM
SAHAB, Baani-E-DEOBAND MADARSA)
AQEEDA # 13:"HUZOOR (ALEH SALAAM)ka Misal-
O-NAZEER mumkin hai".
(Yakroozi Musannif Molvi Ismail Sahab Dehelvi,
Matboo'a Farooqi, PAFE#144)
AQEEDA # 14:"HUZOOR (ALEH SALAAM)ko bhai
kehna Jaez hai q k AAP bhi Insaan hain".
(Buraaheeen-E-Q ATAY, Musannif MOLVI
KHALEEL AHMED SAHAB O Taqweet Ul Eemaan
Musannif MOLVI ISMAIL SAHAB DEHLVI)
AQEEDA # 15:"HUZOOR (ALEH SALAAM)ko Urdu
bolna Madarsa-E-DEOBA ND se Aaya"
(Buraaheen-E-QA TAY, Matboo'a Daul Asha'at
Karachi, Molvi KHALEEL AHMED)
AQEEDA # 16:"Main ne HUZOOR (ALEH SALAAM)
ko Khuwaab main dekha k Mujhey AAP Pul-E-
Siraat par le gae , aur Kuch Aage ja kar dekha
k HUZOOR (ALEH SALAAM) Giray ja Rahe hain ,
to Mene HUZOOR (ALEH SALAAM) ko GIRNE se
roka"
(Balagtal Heraan, Mubbashiraat Musannif
MOLVI HUSSAIN ALI SAHAB
AQEEDA # 17: Deoband Mureed ne Khuwaab
main Apne Peer ka Kalma parha (Yaani Kalmay
main MUHAMMAD UR RASOOL ALLAH ki Jagah
AHRAF ALI RASOOL ALLAH (MazALLAH) PArha)..
aur in k Peer ne Yaani ASHRAF ALI SAHAB ne
kaha k"IS Waqiye main Tassalli di gai hai k Jis
ki Taraf tm Rujo'okarte ho, woh Ittaba'a
Sunnat hai".
(Ba hawal: Kitaab Ul Imdaad, PAGE#35,
Mutba'a AL IMDAAD Ul MUTAABIK, Thaana
Jhoon INDIYA, Musannif ASHRAF ALI THANVI)
AQEEDA # 18: LAFZ REHMATULLIL AALAMEEN
Sirf HUZOOR (ALEH SALAAM) k Liye hi nahin
Balkay har kisiUlama K liye bhi Istamaal
Hosakta hai (Fatawa Rsheediya, PAGE#218,
Naashir Muhammad Ali Kar Khana, Islami
Kutub,Urdu Bazaar, Karachi) AQEEDA # 19:
MUHARRAM main Sabeel lagana HARAAM hai .
(Fatawa E Rasheediya, PAGE# 120, Naashir
Muhammad Ali Kar khana, ISlaami Kutub,
Karachi) AQEEDA # 20: NABI, WALI, SHETAAN,
BHOOT, Wagera sab barabar hain (Taqweet Ul
Eemaan, Page # 41, Matboo'a Darul Islaam,
Publisherz Ahmed Printing, Press 50, Lahore
Pakistan) AQEEDA # 21: NABI ka Maasoom
hona Zaruri nahin
(Tasfee A Tul Aqaid, PAGE# 25-28, Qasim
Nanatwi)
AQEEDA # 22: Pegambar k Liye Mo'ajazaZaruri
nahin.
(Taqweet Ul Eemaan, PAGE# 16-17, MOLVI
ISMAIL DEHELVI)
AQEEDA # 23: Jis Urs main sirf QURA'AN parha
jae , us main Shareek hona bhi durust nahin
hain . (Fatawa E Rasheediya, PAGE#147, MOLVI
RASHEED AHMED GANGOOHI)
AQEEDA # 24: Holi, Deewaali, ki Poori khana
Durust hai .
(Fatawa E Rasheediya, PAGE# 561, Naashir
Muhammad Ali Kaarkhaana, Islaami Kutub,
UrduBazaar, Karachi) AQEEDA # 25: Hindu k
Piyao se Paani Peena Ja'ez hai.
(Fatawa E Rasheediya, PAFE#562, Naashir
Muhammad Ali Kaarkhaana, Islaami Kutub,
UrduBazaar, Karachi) AQEEDA # 26: All
Prophets are useless.
(Taqwiyatul Eeman, page 29).
AQEEDA # 27: The Prophet is not beyond all
lies, and he is not innocent. (Tasfiyatul
Aqaa’id, page 25).
AQEEDA # 28: Praise the Prophet, only as a
(ordinary) man.
(Taqwiyatul Eeman, page 35).
AQEEDA # 29:"To be living"is the quality of the
Prophet, as well as Dajjal.The characteristic of
the Prophet is the same as that of Dajjal.
(Aab-e-Hayaat, page 169).
AQEEDA # 30: For Deobandis, Durood Taaj is
disliked (not permissible). (Fazaa’il-e-Dur ood,
page 73).
AQEEDA # 31:"Rasool (Aleh Salaam) ko deewar
k peeche ka Ilm nahin"
( Braheen E Qatay , Page: 55 )
AQEEDA # 32:"Rasool (Aleh Salaam) k chane se
kuch nahin hota"
( Taqweet ul Eemaan , Page: 50 )
FAISLA AAP KHUD KAR SAKTE HAIN📚

Comments
Post a Comment