BID'AT KA MAANA AUR AQSAAM

🌷🌷 اقسام بدعت🌹🌹

💥 بدعت کی تعریف 💥

📖اچھی بدعت {بدعتِ حَسَنہ} کی دلیل📖
✍🏻ابو حسنین محمد یوسف رضا قادری رضوی🌹

*🌹Achi Bida't Ka Suboot Bukhari Sharif Se*

ہر بدعت گمراہیت نہیں ہوتی، اچھی بدعت کا ثبوت بخاری شریف سے

📝 Firqa Wahabaiya Ke Tamam Giroh jaise Ghair Muqallid, Deobandi, Jama'at islami, Tablighi Jama'at Wagera Ahlesunnat Wa Jama'at Ke Har Ache Kaam Ko Bida't Kehkar Rad Karte Hain Jabke Khud kai Aise Kaam Karte Hain Jinka Sabot Na Qur'an Mein Hota hai Na Hadith Mein. Khair, Hum Ahlesunnat Wa Jama'at Hain Jinke Mamulat Wa Nazriyat Aqaid Sab Qur'an Wa Sunnat Se Sabit Shuda Hain Aur Ahlesunnat Wa Jama'at Mein Jo Ache Kaam Hain Unki Bhi Dalil Qur'an Wa Hadith Se Rakhte Hain Bidat Ke Mauzo Per Ye Pehli Qist Aapke Samne Hai 

📌 Imam Bukhari رحمة الله عليه​ Hadith Naqal Farmate Hain : 

وعن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، أنه قال: خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه، ليلة في رمضان إلى المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون، يصلي الرجل لنفسه، ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط، فقال عمر: «إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد، لكان أمثل» ثم عزم، فجمعهم على أبي بن كعب، ثم خرجت معه ليلة أخرى، والناس يصلون بصلاة قارئهم، قال عمر: «نعم البدعة هذه، والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون» يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله

📖 “Ibne Shuhab Arwa Bin Zuber Abdur Rahman Bin Abdul qari رضي الله عنهم Se Riwayat Hai  Ke Main Hazret Omer رضي الله عنه Ke sath Ramadan Ki Ek Raat Mein Masjid  Ki Taraf Nikla To Log Mutafariq Thy. Ek Aadmi Tanha Namaz Padh Raha Tha Aur Ek Aadi Giroh Ke Sath. 

📍Hazret Omer رضي الله عنه Ne Farmaya Ke Mere Khayal Mein Ineh Ek Qari Ke Piche Jama' Kar Diya Jaye Tu Acha Ho, Pas Hazret Abi Bin Ka'ab رضي الله عنه Ke Piche Sabko Jama' Kar Diya Gaya  Phir Main Ek Dusri Raat Ko Unke Sath Nikla Aur Log Apne Qari Ke Piche Namaz Padh Rahe Thy. Hazrat Omer رضي الله عنه  Ne Farmaya Ke Ye Achi Bid'at Hai Kyunke Raat ka Wo Hissa Jismein Wo So Jaate Hain Usse Behtar Hai Jismein Wo Qayam Karte Hain…..  !

📘 Bukhari Shareef 
Kitab Us Salat Baab Fadl Min Qayam Ramadan, Hadith 2010.📚
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
📚صحیح مسلم،
کتاب: علم کا بیان،
باب: اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں، ح : 6790، 6791، 6792، 6793، 6794📚

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ الصُّوفُ فَرَأَی سُوئَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّی رُئِيَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّی عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ📚

ترجمہ:
زہیر بن حرب، جریر، بن عبد الحمید اعمش، موسیٰ بن عبداللہ بن یزید ابی ضحی عبدالرحمن بن ہلال عیسیٰ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ دیہاتی آدمی اونی کپڑے پہنے ہوئے حاضر ہوئے آپ نے ان کی بدحالی دیکھ کر ان کی حاجت و ضرورت کا اندازہ لگا لیا آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پس لوگوں نے صدقہ میں کچھ دیر کی تو آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر کچھ ناراضگی کے آثار نموادر ہوئے پھر انصار میں سے ایک آدمی دراہم کی تھیلی لے کر حاضر ہوا پھر دوسرا آیا پھر صحابہ نے متواتر اتباع شروع کردی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اس عمل کرنے والے کے برابر ثواب لکھا جائے گا اور ان کے ثواب میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس آدمی نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس پر اس عمل کرنے والے کے گناہ کے برابر گناہ لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ کی جائے گی📚

Translation:
Jarir bin Abdullah reported that some desert Arabs clad in woollen clothes came to Allahs Messenger ﷺ . He saw them in sad plight as they had been hard pressed by need. He (the Holy Prophet) exhorted people to give charity, but they showed some reluctance until (signs) of anger could be seen on his face. Then a person from the Ansar came with a purse containing silver. Then came another person and then other persons followed them in succession until signs of happiness could be seen on his (sacred) face. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He who introduced some good practice in Islam which was followed after him (by people) he would be assured of reward like one who followed it, without their rewards being diminished in any respect. And he who introduced some evil practice in Islam which had been followed subsequently (by others), he would be required to bear the burden like that of one who followed this (evil practice) without theirs being diminished in any respect📚

⚡⚡⚡⚡⚡
⚡️ بدعت کی دو اقسام ہیں؛ 
١. بدعت حسنہ: اسے بدعت لغویہ بھی کہتے ہیں. 
٢. بدعت سیئہ: اسے بدعت شریعہ بھی کہتے ہیں. 

⚡️ بدعت لغویہ (حسنہ) کی تعریف:
⚡️علامہ بدر الدین محمد بن عبدالله زرکشی  بدعت لغویہ اور بدعت شرعیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فأما في الشرع فموضوعة للحادث المذموم، و إذا أريد الممدوح قُيّدَتْ و يکون ذالک مجازًا شرعياً حقيقة لغوية. (المنثور في القواعد، 217/1)
یعنی شرع میں عام طور پر لفظ بدعت، محدثہ مذمومہ کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن جب بدعت ممدوحہ مراد ہو تو اسے مقید کیا جائے گا لہٰذا یہ بدعت ممدوحہ مجازاً شرعی ہوگی اور حقیقتاً لغوی ہوگی. 

⚡️ علامہ ابن رجب حنبلی المتوفی لکھتے ہیں: المراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له فی الشريعة يدلّ عليه، وأما ما کان له أصل من الشرع يدلّ عليه فليس ببدعة شرعاً وإن کان بدعة لغة. (جامع العلوم والحکم، 252/1)
یعنی بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے لیکن ہر وہ معاملہ جس کی اصل شریعت میں موجود ہو وہ شرعاً بدعت نہیں اگرچہ وہ لغوی اعتبار سے بدعت ہوگا.

⚡️ ابن کثیر اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں بدعت کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والبدعة علي قسمين تارة تکون بدعة شرعية کقوله [فإن کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] و تارة تکون بدعة لغوية کقول أمير المؤمنين عمر بن الخطاب عن جمعه إيّاهم علي صلاة التراويح واستمرارهم : نعمت البدعة هذه. (تفسير القرآن العظيم، ١٦١/١)
یعنی بدعت کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات یہ بدعت شرعیۃ ہوتی ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ [فان کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] اور بعض اوقات یہ بدعت لغویہ ہوتی ہے جیسا کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق کا لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کرتے اور دوام کی ترغیب دیتے وقت فرمان ’’نعمت البدعة هذہ‘‘ ہے۔ 
⚡⚡⚡⚡⚡

⚡️ بدعت شرعیہ (سیئہ) کی تعریف: 
⚡️بدعت شرعیہ: اختراع شدہ وہ امر جو سنت ثابتہ کے خلاف ہو اور اس کی اصل شرع میں ثابت نہ ہو.

⚡️ امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ الله کا قول بیان فرماتے ہیں: المحدثات من الأمور ضربان: أحدهما ما أحدث مما يخالف کتاباً أوسنة أو اثرًا أو إجماعاً فهذه البدعة ضلالة، و الثانية ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا فهذه محدثة غير مذمومة. (بيهقي، المدخل الي السنن الکبري، 206/1؛ سير أعلام النبلاء، 408/8؛ تهذيب الاسماء واللغات، 21/3)
یعنی محدثات میں دو قسم کے امور پر مشتمل ہیں: پہلی قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جو قرآن و سنت یا اثریا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے، اور دوسری قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جن کو بھلائی کے لیے ایجاد کیا گیا ہو اور ان میں سے کوئی کسی ادلہ شرعی کی مخالفت نہ کرتا ہو پس یہ امور یعنی نئے کام محدثہ غیر مذمومہ ہیں. 

⚡️ امام غزالی فرماتے ہیں: فلیس کل ما ابدع منھیا بل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة وترفع امرا من الشرع بقاء علته. (احیاء العلوم دین، 3/2)
یعنی ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے. 

⚡️ ابن حزم اندلسی بدعت کی تعریف اور تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: والبدعة کل ما قيل أو فعل مما ليس له أصل فيما نسب إليه صلي الله عليه وآله وسلم و هو في الدين کل مالم يأت في القرآن ولا عن رسول الله ﷺ إلا أن منها ما يؤجر عليه صاحبه و يعذر بما قصد إليه من الخير و منها ما يؤجر عليه صاحبه و يکون حسنا و هو ماکان أصله الإباحة. (الاحکام في اُصول الاحکام، 47/1)
یعنی بدعت ہر اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس کی دین میں کوئی اصل یا دلیل نہ ہو اور اس کی نسبت حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف کی جائے لہٰذا دین میں ہر وہ بات بدعت ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہ ہو مگر جس نئے کام کی بنیاد خیر پر ہو تو اس کے کرنے والے کو اس کے اِرادہء خیر کی وجہ سے اَجر دیا جاتا ہے اور یہ بدعتِ حسنہ ہوتی ہے اور یہ ایسی بدعت ہے جس کی اصل اباحت ہے۔ 

⚡️ علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں: أن البدعة هی الفعلة المخترعة فی الدين علی خلاف ما کان عليه النبی ﷺ وکانت عليه الصحابة والتابعون. (تفسير روح البيان، 24/9)
یعنی بدعت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی سنت کے خلاف گھڑا جائے ایسے ہی وہ عمل صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے بھی مخالف ہو. 

⚡️ سر فراز خان دیوبندی لکھتا ہے: آپ ﷺ کے اس بہترین اسوہ اور ہدی و سیرت کی اتباع کا نام سنت اور خلاف ورزی کا نام بدعت ہے....آپ ﷺ کے سیرت و نمونہ کے خلاف جو  کچھ ایجاد کیا جائے گا بدعت ہے (راہ سنت، ص:  70
⚡⚡⚡⚡⚡


🌷 بدعات کو دو درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے، بدعت 
حسنہ اور بدعت سیئہ. بدعت واجبہ، بدعت مباحہ، مندوب یہ بدعت حسنہ کی ضمنی قسمیں ہیں. اسی طرح بدعت مکروہہ اور حرام بدعتیں، یہ تقسیم بدعات سئیہ میں داخل ہیں. 

🌷امام نووی فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو اقسام ہیں: البدعة فی الشرع هی إحداث ما لم يکن فی عهد رسول الله ﷺ وهی منقسمة إلی حسنة و قبيحة. (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3؛ المنهاج، 286/1؛ حسن المقصد فی عمل المولد، ص: 51)
یعنی شریعت میں بدعت سے مراد وہ نئے اُمور ہیں جو حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآله وسلم کے زمانے میں نہ تھے، اور یہ بدعت، حسنہ اور قبیحہ میں تقسیم ہوتی ہے۔ 

براعته ابو محمد عبدالعزيز بن عبدالسلام فی آخر ”کتاب القواعد“ البدعة منقسمة إلی واجبة و محرمة و مندوبة و مکروهة و مباحة قال والطريق فی ذلک أن تعرض البدعة علی قواعد الشريعة فان دخلت فی قواعد الايجاب فهی واجبة و إن دخلت فی قواعد التحريم فهی محرمة و إن دخلت فی قواعد المندوب فهی مندوبه و ان دخلت فی قواعد المکروه فهی مکروهة و ان دخلت فی قواعد المباح فهی مباحة.  (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3) 
یعنی شیخ عبدالعزیز بن عبدالسلام ”کتاب القواعد“ میں فرماتے ہیں۔ بدعت کو بدعت واجبہ، محرمہ، مندوبہ، مکروہہ اور مباحہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ بدعت کا قواعدِ شرعیہ سے موازنہ کیا جائے، اگر وہ بدعت قواعد ایجاب کے تحت داخل ہے تو واجب ہے اور اگر قواعدِ تحریم کے تحت داخل ہے تو حرام ہے اور اگر قواعدِ استحباب کے تحت داخل ہے تو مستحب ہے اور اگر کراھت کے قاعدہ کے تحت داخل ہے تو مکروہ اور اگر اباحت کے قاعدہ میں داخل ہے تو مباح ہے۔ 

🌷شرح مسلم میں فرماتے ہیں: قال العلماء: البدعة خمسة أقسام واجبة ومندوبة ومحرمة ومکروهة ومباحة فمن الواجبة نظم أدلة المتکلمين للرد علی الملاحدة والمبتدعين وشبه ذلک ومن المندوبة تصنيف کتب العلم و بناء المدارس والربط و غير ذلک و من المباح التبسط في ألوان الأطعمة و غير ذلک والحرام والمکروه ظاهران.  (المنهاج بشرح صحيح مسلم بن الحجاج، 154/7)
یعنی علماء نے بدعت کی پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہہ اور مباحہ بیان کی ہیں۔ بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر اُمور کے رد کے لئے استعمال کرنا ہے اور بدعتِ مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا۔ بدعتِ مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں.

🌷علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: والبدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق، وتطلق فی الشرع فی مقابل السنة فتکون مذمومة، والتحقيق أنها إن کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فهی حسنة، وإن کانت مما تندرج مستقبح فی الشرع فهی مستقبحة، وإلَّا فهی من قسم المباح. (فتح الباری شرح صحیح البخاری، 253/4)
یعنی بدعت سے مراد ایسے نئے اُمور کا پیدا کیا جانا ہے جن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملے اور ان اُمور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ ناپسندیدہ عمل ہے، اور بالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ بدعت شریعت میں ناپسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبحہ یعنی بری بدعت کہلائے گی اور اگر ایسی نہ ہو تو اس کا شمار بدعت مباحہ میں ہوگا۔ 

🌷حضرت امام شافعی سے روایت ہے:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتاباً اوسنةً اواثراً اواجماعاً فھٰذہ البدعة ضالة والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیه لواحد من ھذا وھی غیر مذمومة. (القول المفید للشوکانی، 78/1)
نوپیدا باتیں دوقسم کی ہیں، ایک وہ ہیں کہ قرآن یا احادیث یا آثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ تو بدعت وگمراہی ہے، دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں. 

🌷علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی، علامہ ابن اثیر جزری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: البدعة بدعتان : بدعة هدًي، و بدعة ضلال، فما کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ فهو في حيز الذّم والإنکار، وما کان واقعا تحت عموم ما ندب ﷲ إليه و حض عليه الله أو رسوله فهو في حيز المدح، وما لم يکن له مثال موجود کنوع من الجود والسّخاء و فعل المعروف فهو من الأفعال المحمودة، ولا يجوز أن يکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع به؛ لأن النبي ﷺ قد جعل له في ذلک ثوابا فقال : [من سنّ سُنة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها] وقال في ضده: [من سنّ سنة سيّئة کان عليه وزرُها ووِزرُ من عمل بها] وذلک إذا کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ ، قال : ومن هذا النوع قول عمر رضی الله عنه : نعمت البدعة هذه، لمَّا کانت من أفعال الخير وداخلة في حيز المدح سماها بدعة ومدحها. (لسان العرب، 6/8)
Read more
بقیہ... 
ابن اثیر کہتے ہیں بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. جو کام الله اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو وہ مذموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو الله تعالى نے مستحب قرار دیا ہو یا الله تعالى اور رسول الله ﷺ نے اس حکم پر برانگیختہ کیا ہو تو یہ امر محمود ہے اور جن کاموں کی مثال پہلے موجود نہ ہو جیسے سخاوت کی اقسام اور دوسرے نیک کام، وہ اچھے کام ہیں بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول الله ﷺ نے ایسے کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: [من سن فی الاسلام... الخ] اور یہ اس وقت ہے جب وہ کام الله تعالى اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو۔ اور اِسی قسم یعنی بدعتِ حسنہ میں سے سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کا یہ قول ’’نعمت البدعة ھذہ‘‘ ہے پس جب کوئی کام افعالِ خیر میں سے ہو اور مقام مدح میں داخل ہو تو اسے لغوی اعتبار سے تو بدعت کہاجائے گا مگر اس کی تحسین کی جائے گی. 

🌷 اِمام شہاب الدین احمد بن ادریس القرافی بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے میں رقم طراز ہیں: البدعة خمسة أقسام: واجب و محرم و مندوب ومکروهة والمباحة. (انوار البروق فی انوار الفروق، 202/5)
یعنی بدعت کی پانچ اقسام ہیں: وہ بدعت واجبہ، بدعت محرمہ، بدعت مستحبہ، بدعت مکروہہ اور بدعت مباحہ ہیں۔

🌷غیر مقلد عالم شوکانی، فتح الباری کے حوالے سے بدعت کی پانچ اَقسام بیان کرتے ہیں: البدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق و تطلق فی الشرع علی مقابلة السنة فتکون مذمومة والتحقيق إنها إن کانت مما يندرج تحت مستحسن فی الشرع فهی حسنة وإن کانت مما يندرج تحت مستقبح فی الشرع فهی مستقبحة و إلَّا فهی من قسم المباح و قد تنقسم إلی الأحکام الخمسة. (نيل الاوطار شرح منتقی الأخبار، 63/3)
یعنی لغت میں بدعت اس کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو اور اصطلاح شرع میں سنت کے مقابلہ میں بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے یہ مذموم ہے اور تحقیق یہ ہے کہ بدعت اگر کسی ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں مستحسن ہے تو یہ بدعت حسنہ ہے اور اگر ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیئہ ہے ورنہ بدعت مباحہ ہے اور بلا شبہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں. 

🌷امام الوہابیہ مولوی وحیدالزماں لکھتے ہیں: اما البدعة اللغویة فھی تنقسم الی مباحة ومکروھة وحسنة و سیئه. (هدية المهدی، ص: 117)
یعنی با اعتبار لغت بدعت کی درج ذیل اقسام ہیں، بدعت مباحہ، بدعت مکروہہ،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ.

⚡⚡⚡⚡⚡

🌷کیا جو صحابہ نے نہ کیا! 🌷
⚡️⚡️⚡️  وہ بدعت ہے؟ ⚡️⚡️⚡️
🌷 امام غزالی فرماتے ہیں، 
القائل ان ذالك بدعة لم یکن فی صحابة فلیس کل ما یحکم باباحة منقولا عن اصحابه رضی الله تعالى عنه انما المحذور بدعة تراغم سنة مامور الیھا  (احیاء علوم دین ، 223/2)
یہ کہنا کہ یہ بات بدعت ہے کیونکہ صحابہ کے زمانے میں نہیں تھی، یہ بات صحیح نہیں کیونکہ کل مباحات صحابہ سے منقول نہیں. بدعت وہ ہے جو سنت کے خلاف ہو جس کو شریعت میں منع نہیں کیا گیا اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں.

🌷 ابن ہمام لکھتے ہیں، 
ثم الثابت بعد ھذا نفی المندوبیة اما ثبوت الکراھة فلا الا ان يدل دليل آخر. (فتح القدیر، 466/1)
یعنی (نبی ﷺ اور صحابہ کے) نہ کرنے سے اس قدر ثابت ہوا کہ مندوب نہیں، رہا کراہت کا ثبوت تو جب تک دلیل نہ دی متحقق نہیں ہوتا.

🌷 علامہ آلوسی فرماتے ہیں، 
جمیع ما ابتدعه العلماء والعارفون ممالم تصرح الشریعة بالا مربه لا یکون بدعة الا ان خالف صریح السنة فان لم یخالفھا فھوا محمود (تفسیر روح البیان، 257/4)
یعنی وہ سب کام جن کو علماء و عارفین نے نکالا ہے اور جن کے امر کی شرع میں تصریح نہیں وہ بدعت نہیں البتہ بدعت وہ کام ہیں جو صریح سنت کے خلاف ہو اور اگر خلاف نہ ہوں تو وہ اچھے ہیں.

عجیب بات ہے وہابی خود ہی جلوس صحابہ نکالتے ہیں، جشن صحابہ، جشن صد سالہ، جلوس اہلحدیث، اہلحدیث کانفرس جیسی نئی چیزیں پیدا کرتے ہیں جو صحابہ کی دور میں بالکل ہی نہ تھیں لیکن اسے بدعت قرار نہیں دیتا. ظالموں کو نفرت صرف ذکر رسول ﷺ سے. 
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

🌷 فقط دو سوال خارجی وہابیوں سے:
اول: یہ اصول کس کتاب سے نکالا ہے کہ جو صحابہ کے دور میں نہیں وہ بدعت ہے؟ برائے مہربانی دلیل سے بات کرنا سیکھیں.
دوم: تمہیں کس نے خبر دی کہ فلاں کام صحابہ نے نہیں کیا تم منقول اور غیر منقول تمام احادیث کے حافظ ہو؟ کتنی احادیث حفظ ہے خارجی صاحب کو؟ 

⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

🌷 نجدیو!! منع کرنے کی دلیل لاؤ 🌷
اہلحدیثی اور دیوبندی شریعت کے ایک اصول کا رد
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

یہ نجدی اصول جو ایجاد کیا گیا ہے کہ جو امر قرآن و حدیث میں نہیں وہ حرام، ناجائز وغیرہ وغیرہ یہ کوئی شرعی اصول نہیں. کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں، اس پوسٹ میں ان کے اسج اصول کا جنازہ نکالا گیا ہے. 
اصح اصول یہ ہے کہ جو شخص جس فعل کو ناجائز وحرام یا مکروہ کہے اس پر واجب کہ اپنے دعوے پر دلیل قائم کرے اور جائز ومباح کہنے والوں کو ہرگز دلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پر کوئی دلیل شرعی نہ ہونا یہی جواز کی دلیل کافی ہے۔

🌷 قد فصلا لکم ما حرم علیکم (القرآن، 119/6)
وہ (الله) تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا.
اب جب الله نے تمام حرام چیزوں کو واضح پہلے ہی کر دیا تو یہ نجدی چینخ چینخ کر میلاد کو کس دلیل سے حرام کہتے ہیں؟ 

🌷 حدیث شریف میں ہے :
الحلال مااحل الله فی کتابہ والحرام ماحرّم ﷲ فی کتابه وماسکت عنه فھو مما عفاعنه. (جامع الترمذی، ابواب اللباس، باب ماجاء فی لبس، 206/1)
الله تعالی نے جواپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جوحرام فرمادیا وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیار کیا وہ معاف ہے

یعنی جس چیز پر کتاب میں خاموشی اختیار کی گئی وہ معاف ہے، نجدیوں سے سوال ہے کہ میلاد کا حرام ہونا قرآن سے ثابت کر دیں ورنہ چور بن کر کوتوال کو نہ ڈانٹیں. 

🌷 فرمایا نبی کریم ﷺ نے: من سن سنة حسنة فله اجرھا واجر من عمل بھا. (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنة حسنة، 341/2)
جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔

🌷روی ابن مسعود رضی الله تعالی عنه مرفوعا وموقوفا ماراٰہ المسلمون حسنًا فهو عند الله حسن. (المستدرک للحاکم, کتاب معرفة الصحابة، 78/3)
حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنه نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ: اہل اسلام جس چیز کو نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے ۔

🌷 ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:  
الفعل یدل علی الجواز و عدم الفعل لایدل علی المنع. (فتح الباری، 155/10)
فعل تو جواز کے لئے دلیل ہوتا ہے اور نہ کرنے سے منع نہیں سمجھا جاتا. 

🌷 ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالی باثبات الحرمة والکراھة الذین لابدلھما من دلیل بل فی الاباحة التی ھی الاصل. (الصلح بین الاخوان) 
حرام اور مکروہ قرار دینے میں الله تعالی پر افتراء باندھنے میں احتیاط نہیں ہے ان دونوں حکموں کے لئے دلیل چاہئے بلکہ احتیاط اباحت میں ہے جو اصل حکم ہے۔

🌷علامہ علی مکی رسالہ اقتدا بالمخالف میں فرماتے ہیں: من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلة ھو الصحۃ واما القول بالفساد والکراہة فیحتاج الی حجة. (الاقتداء بالمخالف) 
مسلمہ بات ہے کہ ہر مسئلہ میں اصل صرف اباحت ہے فساد اور کراہت کے حکم کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ 

🌷 کل ماعدم فیہ المدرک الشرعی للحرج فی فعلہ وترکہ فذلک مدرک شرعی لحکم الشارع بالتخییر. (مسلم الثبوت المقالة الثانیه، الباب الثانی، ص: 26)
کسی کام کے کرنے میں اور نہ کرنے میں حرج کے مسئلہ میں کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو یہ خود شرعی دلیل ہے کہ شرعا اختیار ہے۔

🌷 ابن ہمام لکھتے ہیں، 
ثم الثابت بعد ھذا نفی المندوبیة اما ثبوت الکراھة فلا الا ان يدل دليل آخر (فتح القدیر 466/1)
یعنی (نبی ﷺ اور صحابہ کے) نہ کرنے سے اس قدر ثابت ہوا کہ مندوب نہیں، رہا کراہت کا ثبوت تو جب تک دلیل نہ دی متحقق نہیں ہوتا. 

🌷 لا یلزم منه ان یکون مکروھا الا بنھی خاص لان الکراھة حکم شرعی فلا بدله من دلیل. (ردالمحتار، مطلب بیان السنۃ والمستحب الخ، 483/1)
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکروہ ہوگا مگر کسی نہی خاص کے ساتھ کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔

🌷عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: وایں دلیل ست برآنکہ اصل در اشیاء اباحت است. (اشعۃ اللمعات، تحت حدیث: 4228، 506/3)
یہ دلیل ہے اس بات پر ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت (جائز ہونا) اباحت (جائز ہونا) ہے.

🌷امام ابن نجیم فرماتے ہیں: لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھا من دلیل خاص. (البحرالرائق، باب العیدین، 163/2)
ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیلئے خاص دلیل کی ضرورت ہے. 

🌷 شاہ عبد العزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں، 
نہ کردن چیزے دیگر است ومنع فرمودن چیزے دیگر. (تحفہ اثنا عشریہ، باب دھم درمطا عن  الخ، ص: 269)
نہ کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز۔
پھر کیسی جہالت ہے کہ نہ کرنے کو منع کرنا ٹھہرا رکھاہے۔

🌷 نذیر حسین لکھتا ہے: او مدہوش بے عقل، خدا اور رسول کا جائز نہ کہنا اور بات ہے اور ناجائز کہنا اور بات، یہ بتاؤ کہ تم جو ناجائز کہتے ہو خدا اور رسول نے ناجائز کہاں کہا ہے۔ (فتاوی نذیر حسین؛ بحوالہ فتاوی رضویہ)
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

*وہابیہ کے لیے ایک اور نا ممکن چیلنج*

کسی فعل کے متعلق عنوان اور فضائل کتب حدیث میں نہ ہوں تو وہ فعل حرام و بدعت ہے!!
جو فعل الله کے رسول ﷺ اور صحابہ، تابعین سے ثابت نہیں وہ حرام وبدعت ہے!! 
وہابی شریعت کا یہ قاعدہ کس دلیل سے ثابت ہے؟ وہابی ودیوبندی دھرم کے ٹھیکے داروں سے التجا ہے کہ ثبوت میں ایک ضعیف حدیث یہ بھی نہ ہو سکے تو قدیم من گھڑت دلیل ہی پیش کر دیں. جن دھرموں کے پاس اپنے بنیادی اور اساسی قاعدوں کی بھی دلیل نہیں وہ ذکر رسول ﷺ کے جواز کی دلیل مانگتے ہیں، یہ دلیلِ حماقتِ وہابیہ ہے.

🌹ASSALATU WAS SALAMU ALAIKA YAA RASOOL ALLAH! SALLALLAHU ALAIHI WA SALLAM🌹

💥KYA MASJID MEIN MEHRAB WO MIMBAR BID'AT HAI?📚
(IMAM BUKHARI V/S GAIROUN KE MUQALLID-AHLE HADEES)💥

⏩IMAM BUKHARI RAHMATULLAH ALAIH NE HAZRAT SALMA BIN AKWA RAZIALLAH ANHU KI HADEES RIVAYAT KI HAI:
"FARMATE HAIN: MASJID NABVI KI (QIBLEY KI) DEEWAR AUR MIMBAR KE DARMIYAAN ITNA FAASLA NA THA KE EK BAKRI GUZAR SAKEY."
sahi bukhari, 71:1📚

⏩ISKI SHARAH MEIN MOULVI (gair muqallid) VAHEEDUZ ZAMAN LIKHTE HAIN: "HADEES SE YE BHI NIKLA KE MASJID MEIN MEHRAB WO MIMBAR BANAANA SUNNAT NAHI HAI, MEHRAB TO BILKUL NA HONI CHAHIYE AUR MIMBAR LAKDI KA ALHAIDAH RAKHNA CHAHIYE, HAMARE ZAMANE MEIN YE BILA UMOOMAN PHAILL GAI HAI HAR MASJID MEIN MEHRAB AUR MIMBAR CHUNEY AUR EINTH SE BANATE HAIN."
tayassirul baari, 342:1📚

⏩AUR ISITARAH MOULVI (gair muqallid) ABDUL SATTAR LIKHTE HAIN: " BESHAK MASAJID MEIN MEHRAB E MURAWAJJA KA BANAANA NAJAYAZ AUR BID'AT HAI."
fatawa sattariya, 63:1📚

⏩BUKHARI SHAREEF KI HADEES SE MALUM HORAHA HAI KE NABI AKRAM KE DAUR MEIN MASJID NABAVI MEIN MEHRAB NAHI THI,
LAIKIN BUKHARI SHAREEF KI HADEES AUR APNE HI GAIR MUQALLID AKABIR KE KHILAAF MOUJOODAH DAUR KE TAMAAM GAIROUN KE MUQALLID-AHLE HADEES KI MASAJID MEIN YE BID'AT JAARI HAI,
AUR UNKI HAR MASJID MEIN MIMBAR KE SAATH MEHRAB MOUJOOD HAI.

⏩GAIROUN KE MUQALLID ITNA BATADEIN KE YE BID'AT HAI YA NAHI?
AGAR HAI TO AAP LOG BID'AT PAR KIS JAWAAZ PAR AMAL KAR RAHE HAIN JAB KE AAP KE NAZDEEK 'HAR BID'AT GUMRAHI HAIN AUR JAHANNUM MEIN LEJAATI HAIN' AUR
AGAR BID'AT NAHI HAI TO QUR'AAN WO HADEES SE SAABIT KARE KAISE BID'AT NAHI HAI?

⏩MASJID ALLAH KE GHAR MEIN MEHRAB WO MIMBAR BANAANA ZAHIR HAI DEEN SAMAJH KAR HI KIYA HOGA, TO BATAYE YE KAISE JAYAZ HUWA?

⏩QAYAMAT TAK ISEY SABIT NAHI KAR SAKTE SIWAYE ISKE KE YE BID'AT ZAROOR HAI LAIKIN BID'AT E HASANA HAI,
YEHI MOUQIF AHLE SUNNAT WAL JAMA'AT BARELVI SAWAAD E A'AZAM KA HAIN AUR ISITARAH DEEGAR MOUZU'AAT PAR BHI YEHI JAWAAZ SAABIT HAIN JISEY YE LOG LA ILMI KE SABAB BID'AT KAHETE NAHI THHAKTE📚

NOTE: MASJID NABAVI AAJ JIS SHAKAL WO SURAT MEIN MOUJOOD HAIN AISI SHAKAL WO SURAT NA RASOOLULLAH NE BANAAI THI AUR NA HI SAHABA KIRAAM NE TO YE KIS JAWAAZ PAR HAI SAABIT KARE?
⏩JAB KE MASAJID KU AARAISH WO ZEBAAISH (DECORATE) KARNE SE HADEES MEIN MANAA AAI HAI AUR VAEED MOUJOOD HAIN. mishkath:378📚

⏩ISPAR GAIROUN KE MUQALLID-AHLE HADEES KA JO JAWAB HOGA WOHI HAMARA JAWAB HOGA MEELAAD, GYAARVEEH... WAGAIRAH MAS'ALOUN PAR, SAHI DEEN KU SAMAJHNE KI ALLAH TAUFEEQ WO HIDAYAT ATAA FARMAYEIN, AAMEEN💥

👉ALLAH MAHEFOOZ RAKHE HAR BALA SE,
BIL KHUSOOS WAHHABIYAT KI WABAA SE💥

✍️ABD E MUSTAFA:
KHADIMUL ILM WAL ULAMA:
MUHAMMAD HASNAIN RAZA KHAN QADRI, RAZAVI✍️





Comments

Popular posts from this blog

DUA MEIN HAATH UTHAANA KAISA?

IKHTELAAF RAHEMAT HAIN

DEEDAAR E ILAAHIﷻ