USTAAD SUNNI HAI LAIKIN UNKE PAAS PADHNE WALOUN MEIN BAAZ BAD-MAZ'HAB SHAGIRD BHI SHAMILHAIN, AISI CLASS MEIN PADHNA KAISA?

 📖صورت مسٶلہ کی مثال یوں ہیں:

1. اک بس ہے جس میں ہر طرح کے پیاسنجر موجود ہیں، لیکن ڈراٸیور اپنا ہے، بس بھی اپنی ہے، راستہ و منزل بھی اپنی ہے۔

2. دوسری مثال پانی کا جھرنا ہے جس کے نیچے ہر طرح کے افراد کھڑے ہیں، لیکن پانی اپنا ہے، جھرنا اپنا ہے۔

ان مثالوں کو سمجھ گۓ ہو تو اب آٸیۓ شرعی حکم کی طرف۔۔۔👇

بد مذہب (ایسا شخص جو کفریہ عقائد رکھتا ہو یا ضروریاتِ دین کا انکار کرتا ہو)، حسام الحرمین کے تحت وھابی، دیوبندی وغیرھم کافر مرتد ہیں۔۔۔  انکے ساتھ کچھ بھی پڑھنا یا سیکھنا جاٸز نہیں۔ دینی علوم تو حرام در حرام بلکہ دنیاوی علوم میں بھی احتیاط برتنی چاہیۓ۔۔۔ 

ہاں ان کے ساتھ ایک ہی مقام یا پلاٹ فارم پر دنیاوی علوم جیسے طب وغیرہ پڑھنا یا سیکھنا کب جائز ہے؟ اس میں کچھ *اہم شرائط اور احتیاطیں ہیں چند یہاں درج ذیل ہیں*۔👇

*طرزِ تعلیم پر اثر*: اگر پڑھنے یا سیکھنے کا ماحول اور پڑھانے اور سکھانے کا طریقہ کار ایسا ہے کہ آپ کے اپنے عقائد محفوظ رہیں اور آپ پر غلط اثر نہ پڑے، تو وہاں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

*بگاڑ کا خطرہ*: اگر آپ کو ڈر ہو کہ اس کے ساتھ رہنے سے آپ کے نظریات خراب ہو جائیں گے، یا وہ آپ کو گمراہ کر دے گا، تو اس کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔

*گستاخِ رسولﷺ*: اگر وہ شخص نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا یا توہینِ مذہب کا مرتکب ہے، تو ایسے شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ایک جگہ پڑھنا یا سیکھنا شرعاً بالکل ناجائز اور حرام ہے۔

*خلاصہ* :اگر فتنہ (گمراہی) کا ڈر نہ ہو اور آپ اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہ سکیں تو ایک ہی پلاٹ فارم میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ، بہتر یہی ہے کہ بچاؤ کے لیے ایسے لوگوں سے دور رہا جائے. 

بد مذہب کی صحبت سے بچنا اس سے تعلقات یا دوستی سے بچنا واجب ہے،

دل میں انکی عزت یا تعظیم نہ ہو، انکے باطل عقاٸد سے اور انسے الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کےتحت نفرت ہی رکھیں، انکے جھوٹے اخلاق پر محو نا ہوجاٸیں۔۔۔ باٸکوٹ رکھیں۔۔۔

بلخصوص دینی امور میں ان سے کوٸی بات چیت نا رکھیں۔۔۔

اگر اس پلاٹ فارم پر کوٸی دینی گفتگو نکل پڑے بلخصوص عقاٸد پر مبنی ہو تو فورا کلاس چھوڑ دینا واجب ہے۔۔۔ یا انہے میوٹ کردے۔۔۔

یعنی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اک ہی پلاٹ فارم پر سیکھ سکتے ہیں لیکن تمام شراٸط پر بیک وقت عمل لازمی و ضروری ہیں۔۔۔

اگر کوٸی ایسے حکیم یا استاذ مل جاۓ جو ہم مسلک ہو اور کسی وھابی کے داخلہ پر پابندی لگاتے ہو (جیسے ہم نے اپنی ﻻٸبریری میں اصول وضوابط کے تحت لگا رکھی ہے) تو فورا پہلے کے استاذ یا پلاٹ فارم کو چھوڑ ایسے حکیم صاحب کے پاس ادمیشن کرلیں۔۔۔

اگر استاذ انکے وھابی شاگردوں کے عقاٸد غلیظہ سے واقف ہیں اور وہ اس کو نا پسند بھی نہیں کرتے ہیں تو ایسے استاذ سے دوری ہی میں بہتری ہے (کہ یہاں صلح کلیت کی بو آرہی ہے)،

یا اگر وہ بھی نفرت رکھتے ہیں لیکن بحیثیت معلم بس تعلیم دے رہے ہیں تو اوپر بیان کردہ شراٸط کے مطابق عمل کریں پلاٹ فارم چھوڑنے کی حاجت نہیں۔۔۔

*اعلحضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "کفر سے بچنا علم حاصل کرنے سے افضل ہے"*

آپ علم استاذ سے حاصل کر رہے ہیں جو بقول آپ کے سنی صحیح  العقیدہ ہے ، انکے شاگردوں سے تو نہیں، بس آپ کو ان وھابی شاگردوں سے بچنا ہے۔۔۔

 اعلحضرت فرماتے ہیں مفہوم: اگر اک مقام پر 100 کافر بھی پڑھتے ہو اور استاذ سنی ہو تو وہاں پڑھنا یا کچھ سیکھنا جاٸز ہے، شرط یہ ہے کے عقیدہ بگڑنے کا فتنہ نا ہو۔۔۔

بد مذہب کی تعظیم حرام۔۔۔ سنی علما کی صحبت اختیار کرتے رہیں۔۔۔ تاکہ دل کی  صفاٸی اور عقاٸد کی مضبوطی  ہوتی رہے۔۔۔ طب کا علم سنی شخص سے حاصل کرنا جاٸز ہے خواہ اس میں سیکھنے والے اسٹوڈینٹس وھابی بھی شامل کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ ہاں شراٸط پر عمل کریں اور کسی بھی معاملہ میں انہیں حاوی یا غالب ہونے نا دے۔۔۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں۔۔۔ 📚👇

واللہ و رسولہ الاعلم👇

یہاں فقیر نے آپ کی Situation اور آپ کے طرز عمل و زندگی کے لھذ سے جہاں تک مٸے آپ کو جانتا ہوں۔۔۔ اپنے ناقص علم سے ناقص راہ نکالنے کی کوشش کی ہے، اگر آپ مذکورہ شراٸط پر پابندی سے عمل کرسکتے ہیں تو اس پر چلے ورنہ۔۔۔👇

چونکہ آپ کے بیان کردہ سوال کا جواب میرے ناقص علم میں کسی کتاب یا فتوی میں یکجا موجود نہیں، فقیر نے یہاں الگ الگ تمام ہم مسلک فتاوی و کتب کو جمع کرکے نچوڑ بتانے کی کوشش کی ہے، اگر اسمیں مستند مفتیان کے نزدیک کوٸی اصلاحی پہلو ہو تو مجھے متوجہ کراٸیں۔۔۔ 

بہتر ہے کے بچے اور مشورہ یہ ہے کے ہمارے کسی مستند مفتی یا دارالافتا سے اسپر تحریری فتوی حاصل کریں۔📚👇

📖فتاوی رضویہ، الملفوظات، دارالافتا اہلسنت، بہار شریعت، فتاوی تاج الشریعہ، فتاوی امجدیہ وغیرہ۔۔۔📚

👈آپ کے استاذ کے لۓ اک نصیحت اک واقعہ سے: امام ابن سیرین کی مجلس میں انکے شاگردوں کے درماین دو بد مذہب آگۓ اور انکو قرآن سنانا چاہا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انسے قرآن سننے سے انکار کردیا، اور انہیں مجلس سے چلے جانے کو کہا اور وہ چلے گۓ، شاگردوں نے پوچھا حضرت وہ قرآن ہی سنا رہے تھے نہ سنلیتے؟ فرمایا: بد مذہب سے قرآن بھی سنلیتا تو وہ اسکو توڑ مڑور کر پیش کرتے اور مجھے اندیشہ ہوا کے یہ کہی میرا عقیدہ نا بگاڑدیں۔۔۔ الله أكبر۔۔۔📖سنن دارمی📚👇

یہ تھے ہمارے اسلاف۔۔۔ ہمیں چاہیۓ کی ہم ان سے بھی زیادہ احتیاط کرے ۔۔۔ ان شاء اللہ🌹👇

نوٹ: یہ بیان کردہ حکم صرف آپ یا آپ جیسے طلبا کے لۓ ہیں جو مسلک اعلحضرت کے سختی سے پابند ہیں، طالب علم بھی ہیں۔۔۔ لیکن بہ امر مجبوری سیکھنے اور امت کی خدمت کرنے کی نیت کے تحت۔۔۔ مذکورہ بالا Situation پر ہیں ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو سنی طبیب بناٸیں جس سے دین و سنیت کی خدمت اور عوام کی بھی خدمت ہووے آمین👇

باقی یہ حکم عوام اور دیگر جہلہ افراد کیلۓ نہیں۔

اس پر مکمل و مفصل دارلافتا سے تحریری فتوی حاصل کریں۔

اللہ پاک ہماری کوتاہیوں کو معاف فرماٸیں اور اس پر خوب اجر و ثواب اپنی رحمت سے عطا فرماٸیں آمین🕋

✍فقیر و حقیر موﻻنا محمد یوسف عطا قادری رضوی، کوپل - کرناٹک👇

📱Whatsapp: 6360134616📱

🌹جزاك اللهُ🌹

Comments

Popular posts from this blog

Huzoorﷺ ke Walidain Majidain (Maa-Baap) Muahid/Momin-Musalmaan Aur Jannati Hain