School ki Prayer Mein Bachpan Mein Kufr Sarzad Hojaye to Baligh Hone Par Kya Hukm-e Shar'a Hoga?
Kya farmate hain ulma e kiram is mas'ale me ki zaid jab school me ibtidai taleem hasil kar raha tha to usko ye kufriya prayer padhaya gaya tha
"Tu hi ram hai,tu raheem hai, tu kareem krishna khuda hua"(معاذاللّٰه)
zaid us waqt nabalig tha use kuchh samajh nhi thi,kufr o shirk kya hota hai,iman-aqida kya hota hai use kuchh pata nhi tha sab padh rahe the usne bhi padh liya
phir isi tarah wo balig hua aur bagair tajdide iman karaye sirf astagfar aur kalma shareef padhakar uska nikah bhi ho gaya sawal ye hai ki:-
01...zaid ne jo nabalig umr me kufriya prayer padha tha usse wo kafir hoga ya nhi?
02...Astagfar aur kalma shareef padhakar jo nikah karaya gaya,shar'an wo nikah hua ya nhi?
Ek maulana sahab se jab puchha gaya to unhone bataya jiska mafhoom ye hai ki bachche bina samjhe padhte hain isliye un par koi hukm nhi hoga shadi ke waqt jo tauba karai jati hai(astagfar padhaya jata hai)usse tauba ho jati hai.
Baraye meharbani rahnumayi farmaye.
Allah Ta'ala aapko behtareen jaza aata farmaye...
آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين .
Saail: Mujahid Raza Qadri .
From-Garhwa (Jharkhand).
💫الجواب:
✨بیان کردہ صورت مسٸولہ میں اور تفصیل کی حاجت تھی مثلا زید نے جب یہ جملے کہے اسکول میں اس وقت اسکی عمر کیا تھی؟ اور کونسی عمر تک وہ یہ کہتا رہا، اور جب وہ یہ جملے کہتا تھا اس وقت اس کو اس کی سمجھ تھی یا نہیں۔۔۔؟؟؟ وغیرہ۔۔۔۔۔ ویسے بہت سے حضرات کے ساتھ یہ مسٸلہ پیش آتا ہے اسکول میں۔۔۔ ۔۔۔لیکن اسمیں انہیں اسکی سمجھ یا شعور اور معنی و مطالب معلوم نہیں ہوتے۔۔۔ خیر پہلے مختصر تفصیل جانتے ہیں۔۔۔۔،
وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِىۡۤ اَسۡمَآئِهٖ ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞
*اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو ان ہی ناموں سے اس کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں غلط راہ اختیار کرتے ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں عنقریب ان کو اس کی سزا دی جائے گی*. . . (الاعراف:180/صحیح بخاری #7392/سنن ترمذی #3518/تفسیر کبیر، ج:5) ۔👇
💫اللہ تعالی کو ایشور۔۔۔ کہنا (یا رام و کرشنا کہنا) ہندوٶں کا طریقہ ہے۔۔۔ عرف ہے۔۔۔ شعار ہے۔۔۔ لھذا ان الفاظ سے ضرور احتراز کریں۔۔۔
(فتاوی شارح بخاری، ج:1/فتاوی رضویہ، ج:15) ۔
*بھگوان، پربھو، رام* از روۓ شرع سخت منع ہے۔۔۔۔ کفر ہے۔۔۔ *رام* کا۔معنی رما ہوا کسی چیز میں گھسا ہوا ہے۔۔۔ ہلول کیا ہوا یعنی ہر شۓ میں شامل۔۔۔ اور *بھگوان* کے معنی ہے عورت کی شرم گاہ والا۔۔۔ یہ سب معنی اللہ پاک کیلۓ عیب ہیں۔۔۔ بیشک ہمارا رب عزوجل ان سب سے پاک ہے۔۔۔ (تفسیر نعیمی، اعراف:180/نور العرفان:286/فتاوی شارح بخاری، ج:1/فتاوی امجدیہ، ج:6)۔
👈*کرشنا* کے معنی ہیں کالا، سیاہ گہرا نیلا۔۔۔ جو کہ اللہ پاک کیلۓ استعمال کرنا گویا اللہ پاک پر عیب لگانا ہے، اور اللہ پاک ہر عیب سے پاک ہے،
✨ﷲ تعالیٰ جہت ومکان و زمان و حرکت و سکون و *شکل و صورت* و جمیع حوادث *سے پاک ہے*۔ (بیہقی شعب الایمان، ج:1/بہار شریعت:21) ۔
*وہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر اُس چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے، یعنی عیب ونقصان کا اُس میں ہونا مُحال ہے*، بلکہ جس بات میں نہ کمال ہو، نہ نقصان، وہ بھی اُس کے لیے مُحال، مثلاً جھوٹ، دغا، خیانت، ظلم، جہل، بے حیائی وغیرہا عیوب اُس پرقطعاً محال ہیں اور یہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے بایں معنی کہ وہ خود جھوٹ بول سکتا ہے، *مُحال کو ممکن ٹھہرانا اور خدا کو عیبی بتانا بلکہ خدا سے انکار کرنا ہے* اور یہ سمجھنا کہ مُحالات پر قادر نہ ہو گا تو قدرت ناقص ہو جائے گی باطل محض ہے، کہ اس میں قدرت کا کیا نقصان! نقصان تو اُس مُحال کا ہے کہ تعلّقِ قدرت کی اُس میں صلاحیت نہیں۔
(فتاوی رضویہ، ج:15/بہار شریعت:8) ۔
اسیطرح:
👈بھارت ماتا کی جے کہنا کفر ہے !‼️ 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 598 ]،
👈جے ہند کہنا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ ہندوؤں کا شعار ہے ! 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 463 ]،👈وندے ماترم گانے والا کافر ہے ! 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 590 ]، 👈غیر مسلموں کو شہید ۔کہنا کفر ہے ! 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 588 ] ،
👈کسی کافر کو مہاتما کہنا کفر ہے ! 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 589 ]،
👈مسلمان اگر جے شری رام، جے ہنومان، ہر ہر مہادیو، جے شری گنیش، جے بھیم، ہرے راما ہرے کرشنا، میری کرسمس، یا اس طرح کا کوئی بھی مذہبی نعرہ جو کافروں میں مشہور ہے لگائے گا تو کافر ہے ! 📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 550 ]
👈 ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی، جو یہ نعرہ لگائے کافر ہے !
📕 [ فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص: 552 ]👇
(الاسرا:110/النحل:115/مریم:65/طہ:8/الحج:28/34/36/النور:36/النمل:30/الرحمن:78/الحشر:24/الحاقہ:52/المزمل:8/الانسان:25/الاعلی:1/15/العلق:1) ۔
💥یوں ہی نمستے، نمسکار، پرنام، وغیرہ کہنا بھی ناجائز و حرام ہے ! 🚫
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇
👈اللہ تعالی کو صرف اسکے ذاتی و صفاتی نام سے ہی یاد کیا جاٸیگا، اسکے علاوہ کوٸی بھی نام کتنے ہی اچھے ہو اس سے اللہﷻ کو یاد کرنا جاٸز نہیں۔۔۔،
*اللہ کے معنی خدا کے لۓ اسم ذات ہے*، جو واجب الوجود ہے اور ہر کمال و خوبی کا جامع اور ہر ہر اس چیز سے جسمیں عیب و نقص ہے، پاک ہے، تمام صفات کمالیہ اس میں موجود ہیں۔۔۔۔ (ہمارا اسلام، حصہ:3) ۔ 👇
اسلۓ ہمیں صرف اللہ کو اسکے ذاتی و صفاتی ناموں سے ہی یاد کرنا چاہیۓ۔۔۔،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(بقرہ:114/173/ماٸدہ:3/انعام:118/119/121/138//145/
کیونکہ اللہ پاک کی ۔۔۔ذات و صفات اور اسما۔۔۔ میں بھی کوٸی اسکا شریک نہیں۔۔۔
(الإخلاص : ۱/منح الروض الأزہر‘‘ في ’’ شرح الفقہ الأکبر ‘‘ للقارئ، ص۱۴/حاشیۃ الصاوي، ج:٦/ مریم: ۶۵، في التفسیر الکبیر📚
👈اُس کے افعال کے ذریعہ سے اِجمالاً اُس کی صفات، پھر اُن صفات کے ذریعہ سے معرفتِ ذات حاصل ہوتی ہے۔
اُس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر، یعنی صفات اُسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اُس سے کسی طرح کسی نحوِ وجود میں جدا ہوسکیں کہ نفسِ ذات کی مقتضٰی ہیں اور عینِ ذات کو لازم۔
جس طرح اُس کی ذات قدیم اَزلی اَبدی ہے، صفات بھی قدیم اَزلی اَبَدی ہیں ۔
اُس کی صفات نہ مخلوق ہیں نہ زیرِ قدرت داخل۔
ذات و صفات کے سِوا سب چیزیں حادث ہیں، یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں ۔👈*صفاتِ الہٰی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتائے، گمراہ بد دین ہے*۔ (المعتقد المنتقد:49/بہار شریعت:6) ۔
👈*رحیم، کریم* یہ اللہ پاک کی صفات ہیں ۔۔۔ کسی غیر مذہب کے جھوٹھے خدا کیلے استعمال نہیں کرسکتے۔۔۔، جیسا کے اوپر بیان ہوا ہے۔۔۔👇
👈*نابالغ سمجھدار کا کفر و اسلام معتبر ہے،*
اعلحضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سمجھدار بچہ اگر اسلام کے بعد کفر کرے تو ہمارے نزدیک وہ مرتد ہوگا۔ (فتاوی افریقہ:16) ۔
یعنی 1. بالغ یا 2. سمجھدار نابالغ کفر کرے تو مرتد ہوجاٸیگا۔
اگر بالغ ہونے کے بعد احساس ہوا اور اگر کفریہ قول یاد ہے تو خاص اس سے توبہ کرے،
اور اگر شک ہے یا یاد نہیں تو اس مشکوک کفریہ جملہ/ کفریہ کلمہ سمیت ہر قسم کے کفر سے توبہ کرے ۔
یعنی اسطرح کہے: مٸیں تمام کفریات سے توبہ کرتا ہوں اور پھر کلمہ شریف پڑھلیں۔
👈سات برس یا زیادہ عمر کا بچہ جو اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو وہ اگر کفر کریگا تو کافر ہوجاٸیگا کیونکہ اسکا کفر و اسلام معتبر ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج:14) . 👇
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈مولانا صاحب نے جو فرمایا اسی کی تائید *فتاویٰ مرکزِ تربیتِ افتاء بریلی شریف* اور *دارالافتاء اہلسنت* کے متعدد فتاوی سے بھی ہوتی ہے کہ نابالغ کا کفریہ جملہ دہرانا "حکایۃ الکفر" ہے، کفر نہیں۔
✨*اہم نصیحت:*
1. بچوں کو اسکول میں ایسے اشعار پڑھانے سے بچایا جائے۔
2. بالغ ہونے کے بعد اگر کسی کو ایسا واقعہ یاد آئے تو دل سے توبہ کر لے اور کلمہ پڑھ لے۔ یہی افضل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇
👈*نابالغ عبادات کا مکلف نہیں* ، ۔۔۔۔۔۔۔
یعنی بچے پر زکٰوۃ اس لیے واجب نہیں کہ وہ ادائے عبادت کا مخاطب نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس پر عبادتِ بدنیہ جیسے نماز ، روزہ اور جہاد واجب نہیں اور نہ ہی وہ عبادتِ بدنیہ واجب ہوتی ہیں جن میں مال شامل ہو، جیسے حج،۔۔۔۔۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج:1،ص: 285) ۔
👈الاشباہ والنظائر میں ہے: بچے پر اگرچہ عبادات واجب نہیں، لیکن (اگر وہ عبادات کرتا ہے، تو) اس کی عبادات درست ہیں اور اسے عبادات کا ثواب ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں اختلاف ہے اور معتمد قول یہ ہے کہ اسے ثواب ملتا ہے اور معلم کو بھی تعلیم کا ثواب ملے گا، یہی حکم بچے کی تمام نیکیوں کا ہے۔ (الاشباہ والنظائر، ص:264) ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرائض و واجبات مکلَّف پر لازم ہوتے ہیں جبکہ نابالغ اَحکامِ شَرعیّہ کا مکلَّف نہیں ہے۔
👈*نابالغ بچے دو طرح کے ہوتے ہیں* : 1. سمجھدار وعاقل جو پاکی و ناپاکی اور دینِ اسلام کے بارے میں معرِفت رکھتا ہو۔
2. ناسمجھ وغیر عاقل جس میں مذکورہ باتوں کی سمجھ بوجھ نہ ہو ۔
۔۔۔ بہت سی باتوں میں دونو کے احکام جدا ہوتے ہیں۔۔۔
اسلۓ یہاں مختصر تفصیل میں دونو طرح کے حکم بیان کۓ گۓ ہیں۔۔۔، چونکہ ساٸل نے مکمل تفصیل نہیں لکھی سو ہم نے آسانی کیلۓ دونو پہلو بیان فرمادیۓ۔
👈فتاوی رضویہ میں ہے: نابالغ پر تو قلمِ شرع جاری ہی نہیں . . . . کیونکہ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیا ہے۔ ان میں آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچّے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا") ۔ (فتاوی رضویہ، ج:10)۔
👈”*سات برس یا زیادہ عمر کا بچہ جو کہ اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو وہ اگر کفر کرے گا تو کافر ہو جائے گا کیونکہ اُس کا کفر و اسلام معتبر ہے*۔ “(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص:58) ۔
👈کفر کے لیے قصداً، سمجھ کر اور ارادے سے کفریہ کلمہ کہنا شرط ہے۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کفر کے لیے اختیار و قصد اور علم ضروری ہے۔ (نا سمجھ) بچہ یا مجبور یا بے سمجھ (شخص) پر حکمِ کفر نہیں۔"
(فتاوی رضویہ ج: 14) ۔
چونکہ زید نابالغ تھا، ناسمجھ تھا اسے کفر و شرک کا مطلب نہیں معلوم تھا، علمی گھرانے سے بھی تعلق نہیں رکھتا تھا اور ۔۔۔ سب کے ساتھ دہرا دیا۔ ۔۔۔ تو اس پر حکمِ کفر نہیں لگے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زید کا نکاح شرعاً صحیح ہو گیا۔*
احتیاطاً استغفار و تجدید ایمان کافی ہے جو نکاح میں کروایا گیا۔۔۔*
اگر کسی کو شبہ ہو کہ اس سے کفر سرزد ہوا ہو، تو احتیاطاً تجدید ایمان و تجدید نکاح کر لینا مستحب ہے۔ اس سے نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا بلکہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔
(فتاوی رضویہ جلد 13/بہار شریعت حصہ: 2) ۔
*👉 وضاحت:*
*↪️ کفر کی 2 اقسام ہیں:*
*1. کفرِ التزامی / اتفاقی*
جس کفر پر ائمہ متکلمین اور فقہاء دونوں متفق ہوتے ہیں۔
*ضروریاتِ دین کا انکار یہ صریح کفر ہے۔*
اس سے بندہ _مرتد / کافر_ ہو جاتا ہے۔
اس پر توبہ و استغفار، کلمہ، تجدیدِ ایمان، تجدیدِ نکاح و بیعت لازم ہے۔
اور اس کی سزا قاضی / حاکم دے گا۔
*2. کفرِ لزومی*
اس میں بندے سے کفر اس کے فعل سے یا کلام سے سرزد ہوتا ہے۔
اس پر ائمہ متکلمین اس کے ظاہر پر / اس بندے پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے۔
کیونکہ ضروریاتِ دین کا انکار نہیں ہے۔
لیکن فقہاء اس کے اس فعل / کلمہ پر آگے کا نتیجہ دیکھ کر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔
یعنی "یہ کلمۂ کفر ہے" یا "یہ فعل کفریہ ہے"۔
لیکن بندے پر کفر کا فتویٰ نہیں لگتا۔
لیکن _احتیاطاً_ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کر لینا بہتر ہوتا ہے۔👇
لھذا زید اب بھی احتیاطا تجدید ایمان و تجدید نکاح کرسکتا ہے کوٸی حرج نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ علما فرماتے ہیں تجدید ایمان و تجدید نکاح اور تجدید بیعت ۔۔۔کرتے رہنا چاہیۓ۔۔۔ واللہ اعلم ۔
👈*تجدید ایمان کیا ہے توبہ و استغفار اور کلمہ توحید پڑھنے کا نام ہے*، گویا کے جو نکاح میں انہیں یعنی دلہا دلہن کو پڑھایا گیا ہے اس سے زید کا تجدید ایمان ہوگیا اور نکاح بھی ہوگیا۔۔۔،
قابل افسوس ہے کہ بہت سے مقامات پر تجدید ایمان (توبہ و استغفار، کلمہ شھادت یا 6 کلمہ). . . نہیں پڑھاٸیں جاتے ہیں۔۔۔، اہلسنت کا یہ طریقہ کار بہت سے مساٸل کو حل کرتا ہے، لھذا کاش کے اسکو عام کیا جاۓ اور ہر نکاح کی تقریب میں دلہا و دلہن دونو کو تجدید ایمان کروایا جاۓ۔۔۔ ان شاء اللہ🌹
🕋*اللہ تعالیٰ ہم سب کو کفریہ کلمات سے محفوظ فرمائے۔ آمین*🌹
🕋واللہ اعلم و رسولہ العالم عزوجلہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم🕋
🕋اللہ پاک اس تحریر میں موجود مجھ فقیر کی غلطیاں اپنی رحمت اور اپنے پیارے حبیب نبیﷺ کے صدقے میں عفو و در گزر فرماٸیں، آمین🌹
الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر،
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه،
لا الہ اﻻ اللہ محمد الرسول اللہﷺ
✍️*فقیر و حقیر: مولانا محمد یوسف عطا قادری رضوی الھندی، کرناٹک*🇮🇳
Comments
Post a Comment