Peer Sahab ke Liye Rozah/Mannat Karna Kaisa ?
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰـهِ وَبَرَكاتُهُ
Kya farmate hain ulma e kiram is mas'ale me ki ek aurat ne roza rakhi aur zaban se niyat karte hue ye boli ki
"main peer sahab ke liye roza rakhne ki niyat karti hun"(peer sahab jo ki jail me qaid the unki rihai ke liye)"
Is par uske shauhar ne kaha ki Allahﷻke siwa kisi aur ke liye roza rakhna shirk hai phir usne in kalimaat ke sath apni biwi se tauba karai ki
"Ya Allahﷻmain jo apne peer sahab ke liye roza rakhi hun us shirk se tauba karti hun"
iske baad kalma shareef padhaya
In dono ke bare me kya hukm hai rahnumayi farmayen
Mujahid Raza Qadri
From-Garhwa(Jharkhand).
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ،
صورت مسٸولہ میں اور بھی وضاحت کی ضرورت تھی جیسے روزہ نفل یا نذر و منت کا ہے۔۔۔؟ اور نیت کی وضاحت یعنی پیر صاحب قید سے رہا ہونگے تو۔۔۔ یا رہا ہوجاۓ اسلۓ روزہ رکھتی ہوں۔۔۔ یا انکی طرف سے مٸیں روزہ رکھتی ہوں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ؟؟؟ ہر قول کا حکم الگ۔۔۔،
خیر مختصر انداذ میں پوچھی گٸی صورت کے مطابق جو سمجھ آتا ہے اسکا جواب یہاں دیا جاتا ہے لیکن *آپ اس واقعہ کی تفصیل کے ساتھ کسی مستند و تجربہ کار مفتی صاحب یا دارالافتا میں اس کا مکمل تحریری جواب طلب فرمالیجۓ*،
ان شاء اللہ، جزاك اللهُ🌹👇
"مٸیں فلاں پیر صاحب کے لیے روزہ رکھتی ہوں" کہنا۔
فقہ کی کتابوں میں روزے کی نیت "قربت الی اللہ" یعنی اللہ کی رضا کے لیے شرط ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھے لیکن نیت میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کرے تو یہ روزہ شرعاً روزہ نہیں ہوگا۔
*اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہیں*👇
*لیکن اس سے وہ کافر/مشرک نہیں ہو جائے گی* جب تک اس کا عقیدہ یہ نہ ہو کہ پیر صاحب روزہ قبول کرنے والے، رزق دینے والے، نفع نقصان کے مالک ہیں۔ اگر مقصد صرف "ایصال ثواب" یا "وسیلہ" تھا تو اس میں حرج نہیں۔۔۔ لیکن یہ شرک نہیں۔
شوہر نے "شِرک سے توبہ کرو" کہکر اور کلمہ پڑھوا کر تجدید ایمان کرایا۔
فقہاء لکھتے ہیں کہ اگر کسی قول یا فعل سے کفر کا احتمال ہو تو احتیاطاً تجدید ایمان و توبہ کرا دینا مستحب ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔
💫*کچھ اہم نکات ذہن نشین کرلیں*:
👈🏻روزہ کی مختلف صورتیں ہیں : روزہ نذر کا سبب منت ماننا۔۔۔ جیسے روزہ رمضان کا سبب رمضان کا مہینہ آنا۔۔۔ (عالمگیری)،
👈🏻روزہ میں توڑنے کی نیت سے روزہ نہیں ٹوٹیگا جب تک روزہ توڑنے والی بات نا پاٸی جاۓ۔۔۔،
👈🏻منت کے روزہ کی قضا ہوتی ہے۔۔۔ (عالمگیری)،
👈🏻نذر معیّن اور نفل کے علاوہ باقی روزے، مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معیّن اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معیّن کی قضا اور کفّارہ کا روزہ۔۔۔۔۔ خاص اس معیّن کی نیّت کرے اور اُن روزوں کی نیّت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے پھر بھی ان کا پورا کرنا ضرور ہے توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ اگرچہ یہ اس کے علم میں ہو کہ جو روزہ رکھنا چاہتا ہے یہ وہ نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوگا۔۔۔(درمختار وغیرہ)۔۔۔،
👈🏻 *ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص روزہ نہیں رکھ سکتا*۔۔۔ فتح القدیر، ج:2. . . ،
👈🏻نفل روزہ قصداً شروع کرنے سے لازم ہو جاتا ہے کہ توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔۔۔(درمختار)۔۔۔،
👈🏻*نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے*۔۔۔ (در مختار مع رد المحتار، عالمگیری). . . ،
👈🏻*عورت بغیر شوہر کی اجازت کے 1. نفل اور 2. منّت و 3. قسم کے روزے نہ رکھے اور رکھ لیے تو شوہر توڑوا سکتا ہے مگر توڑے گی تو قضا واجب ہوگی، مگر اس کی قضا میں بھی شوہر کی اجازت درکار ہے* یا شوہر اور اُس کے درمیان جدائی ہو جائے یعنی طلاق بائن دیدے یا مر جائے ہاں اگر روزہ رکھنے میں شوہر کا کچھ حرج نہ ہو مثلاً وہ سفر میں ہے یا بیمار ہے یا احرام میں ہے تو ان حالتوں میں بغیر اجازت کے بھی قضا رکھ سکتی ہے، بلکہ اگر وہ منع کرے جب بھی اور ان دنوں میں بھی بے اس کی اجازت کے نفل نہیں رکھ سکتی۔ رمضان اور قضائے رمضان کے لیے شوہر کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانعت پر بھی رکھے۔۔۔(درمختار، ردالمحتار)۔۔۔،
💥 منت دو قسم کی ہیں👇
*ایک معلّق کہ 1. میرا فلاں کام ہو جائے گا یا 2. فلاں شخص سفر سے آجائے تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے اتنے روزے یا نماز یا صدقہ وغیرہا ہے*۔. . . . 👇
*معلّق میں شرط پائی جانے سے پہلے منت پوری نہیں کر سکتا، اگر پہلے ہی روزے رکھ لیے بعد میں شرط پائی گئی تو اب پھر رکھنا واجب ہوگا، پہلے کے روزے اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے*۔۔۔(درمختار)۔۔۔،
دوسری غیر معلّق جو کسی چیز کے ہونے، نہ ہونے پر موقوف نہیں بلکہ یہ کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے ہیں۔۔۔۔۔۔(درمختار)۔۔۔،
👈🏻یہ منّت مانی کہ جس دن فلاں شخص آئے گا، اس دن اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے تو اگر ضحوۂ کبریٰ سے پیشتر آیا اور اُس نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو روزہ رکھ لے اور اگر رات میں آیا تو کچھ نہیں ۔ یوہیں اگر زوال کے بعد آیا یا کھانے کے بعد آیا یا منت ماننے والی عورت تھی اور اُس دن اُسے حیض تھا تو ان صورتوں میں بھی کچھ نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس دن کا ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھے ہمیشہ روزہ رکھنا ہے اورکھانا کھانے کے بعد آیا تو اُس دن کا روزہ تو نہیں ، مگر آئندہ ہر ہفتہ میں اُس دن کاروزہ اُس پر واجب ہوگیا، مثلاً پیر کے دن آیا تو ہر پیر کو روزہ رکھے۔۔۔(عالمگیری وغیرہ)۔۔۔،👇
یہ منت مانی کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس روز کا روزہ مجھ پر ہمیشہ ہے اور دوسری منت یہ مانی کہ جس دن فلاں کو صحت ہو جائے اس دن کاروزہ مجھ پرہمیشہ ہے۔ اتفاقاً جس دن وہ آیا، اُسی دن وہ اچھا بھی ہوگیا تو ہر ہفتہ میں صرف اُسی ایک دن کا روزہ رکھنا اس پر ہمیشہ واجب ہوا۔۔۔(عالمگیری)۔۔۔📚👇
👈 عورت کا روزہ اس نیت کی وجہ سے باطل ہو گیا۔ اسے اس دن کی قضا کرنی ہوگی۔ اور شوہر نے جو توبہ و کلمہ پڑھوایا وہ بہتر ہے، لیکن جو شرک کہا تو وہ قول باطل محض ہے، ﻻ علمی ہے، شوہر کو چاہیۓ کی وہ اس بات پر توبہ کرے اور بیوی سے محبت سے پیش آۓ اور احسن طریقہ سے اسکی اصلاح کرے اور علما کی رہنماٸی میں بیوی کو نفل۔یا منت والے روزہ رکھنے کی اجازت دے کہ ایسی بیوی نعمت ہے جو آج کے دور میں نفل یا منت کے روزہ رکھتی ہیں جہاں اکثر عورتیں اﻻ ماشاءاللہ فرض روزوں سے بھی اجتناب و بہانے کرتی ہوٸی نظر آتی ہیں۔ اللہ پاک رحمت کی نظر فرماۓ۔۔۔آمین📚
👇
📖*حوالہ جات/ماخذ و مراجع*: بہار شریعت، ص: 973-1025 / الدر المختار + رد المحتار، فتاوی رضویہ، جلد 10/14 / فتاوی عالمگیری / ہندیہ / فتاوی امجدیہ، ج:1۔۔۔وغیرہم۔۔۔📚
👈🏻اصول یہ ہے: "الاعمال بالنیات"۔ نیت اللہ کے لیے نہ ہو تو عبادت باطل۔ اور "*من قال قولا یحتمل الکفر*" یعنی جس بات میں کفر کا احتمال ہو اس سے توبہ کرنا بہتر ہے۔
💥*نوٹ: اگر شوہر بد مذہب ہے اور بیوی سنی ہے تو پھر اسکا حکم علحیدہ ہوگا۔۔۔* 📚
🕋اللہ پاک اپنی رحمت سے ہماری غلطیوں کو معاف فرماٸیں، آمین۔۔۔🌹
🌹واللہ اعلم و رسولہ الاعلم عزوجلہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم🌹
✍️موﻻنا محمد یوسف عطا قادری رضوی، کرناٹک📚
🌹🌹جزاك اللهُ🌹🌹
Comments
Post a Comment