Bad-Maz'hab ka Bayan Sunna Kaisa?
💥*بد مذہب کا بیان یا تحریر سننا یا پڑھنا حرام ہیں، گمراہی ہے اور بعض صورتوں میں کفر*💥
👈حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں: *جب تک لوگ خیر پر رہینگے جب تک اچھے اور نیک لوگوں سے علم حاصل کرینگے اور پھر جب برے لوگوں/گمراہوں سے علم حاصل کرنے لگینگے تو ہلاک ہوجاٸینگے*۔
👈*بد مذہب سے مراد جسکے عقائد اسلام کے اصولوں کے مطابق نہیں،* عقاٸد حقہ کا منکر، ضروریات دین اور ضروریات اہلسنت کا منکر و مخالف۔۔۔۔ جیسے کوئی ختم نبوت کا منکر ہو یا غلط تشریح بیان کرے تو اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اسکے پیچھے کوئی مسلمان نماز نہیں پڑھے گا۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات انکے علم غیب ، انکے صفات جیسے نور ھونے کا انکار، اسکے علاؤہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے والوں کو اپنا امام ماننا، یا بناناصحابہ کے گستاخ وغیرہ الغرض کہ 72 جہنمی فرقے یہ سب بد مذھب ھیں.. . (ترمذی/مشکاة/غنیتہ الطالبین). . . جیسا کہ بدعتی فرقے وھابی دیابنہ/خارجی/نام۔نہاد اہل حدیث، دیوبندی، رافضی-شیعہ، قایانی، جماعت اسلامی-مودودی، انجینیٸر مرزا۔۔۔ وغیرہ کی بد مذہبیت انکی کتب/بیانات۔۔۔ سے ثابت ہے اور جس کے رد میں علماۓ عرب و عجم نے فتاوی و دلاٸل اور براھین پیش فرماٸیں ہیں جیسے (حسام الحرمین، تمہید ایمان، المعتمد المستند. . . وغیرہ۔۔۔)👇
*من شک کفرہ و عزابہ فھو کفر*
"*جو انکے کفر و عزاب میں شک کرے وہ بھی کافر*"
👈” وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ” ۔
*اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ*۔
(سورہ انعام:68) ۔
تفسیر احمدی، صفحہ 387 پر ہے: ” ان القوم الظٰلمین یعم المبتدع و الفاسق و الکافر و القعود مع کلھم ممتنع “. یعنی *ظالم لوگ بد مذھب، فاسق اور کافر ہیں، اور ان سب کے پاس بیٹھنا منع ہے*۔
👈” وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ “.
*اور ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی*۔
(سورہ ھود:113)👇
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ” *اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافروں، بے دینوں، گمراہوں اور ظالموں کے ساتھ بلاضرورت میل جول ،رسم و راہ، قلبی میلان اور محبت، ان کی ہاں میں ہاں ملانا اور ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے*۔
👈اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی بد مذہبوں سے سلام کرنے، ان سے گفتگو کرنے، ان کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، نکاح کرنے سے بچنے اور ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بدمذہبوں کو سب آدمیوں اور سب جانوروں سے بدتر بلکہ دوزخ کے کتے تک کہا گیا ہے اور ان کی تعظیم کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔۔۔(انظر: بد مذہبوں سے میل جول/بد مذہبوں سے رشتے/بد مذہبوں سے نکاح) ۔
👈اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلّم نے فرمایا : ’’ *جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اُس سے بَکُشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں اُس کا دل خوش ہو، اس نے اس چیز کی تحقیر کی جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اُتاری*‘‘۔ (تاریخ بغداد، ج:10، ص:262) ۔
👈حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” لا تجالسوھم، ولا تشاربوھم، ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم “.
یعنی *بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، نہ کھانا کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو*۔
(الضعفاء الکبیر للعقیلی حدیث: 153) ۔
👈امام ابو نعیم حلیہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ “۔
*بدمذہب لوگ سب آدمیوں سے بدتر اور سب جانوروں سے بدتر ہیں*۔
(حلیۃ الاولیا ج:08، صفحہ 291)👇
👈علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا: ” الخلق الناس والخلیقۃ البھائم “.
ہعنی *خلق سے مراد لوگ اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں*۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر ج:01، صفحہ 383) ۔
👈ابو حازم خزاعی اپنے جزءِ حدیث میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اصحاب البدع کلاب اھل النار “۔
" اھل البدع کلاب اھل النار"۔ *بدمذہب والے/اہل بدعت جہنمیوں کے کتّے ہیں*۔
( کنز العمال، حدیث: 1094/فیض القدیر شرح جامع الصغیر، ج:01) ۔
👈🏻*میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن* ان احادیث کے پیشِ نظر فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: "جو عورت کسی بدمذہب کی جورو ( یعنی بیوی ) بنی وہ ایسی ہی ہے جیسے کسی کتے کے تصرف میں آئی“.
الله أكبر۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 11)۔
👈کنز العمال میں ہے: ” عن أنس رضی ﷲ عنہ قال:
"قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم صاحب بدعة فاكفهروا في وجهه، فإن الله يبغض كل مبتدع… الخ “. . .
حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” *جب کسی بدعتی ( بد مذھب ) کو دیکھو تو اس کے ساتھ سختی کرو، اس لئے کہ اللہ پاک ہر بدعتی کو دشمن رکھتا ہے*۔
(کنز العمال ج:01، صفحہ 388) ۔
👈عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ ۔
حضرت ابراھیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: *جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد کی* “۔ (بیہقی شعب الایمان، ج:12، صفحہ 57/اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرانِیّ، ج:07، صفحہ 37)👇
👈قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ کی كتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ میں ہے: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ الله صلّى الله عليه وسلم قال: « لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَ وَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ » . ( الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ، ج:02، صفحہ 44/56👇
” فَالصَّادِقُ فِي حُبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَظْهَرُ عَلَامَةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ “. صفحہ 62 پر ہے: ” وَمُجَانَبَةُ مَنْ خَالَفَ سُنَّتَهُ وَابْتَدَعَ فِي دِينِه “.
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” *تم میں سے کوئی مسلمان نہ ہو گا جب تک میں اس کی اولاد اور ماں باپ اور سب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سچا وہ ہے، جس پر محبت کی علامتیں ظاہر ہوں۔ ان علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفوں اور بدعتیوں ( بد مذھبوں ) سے دوری اختیار کرے*۔👇
👈*قرآن سے اک بنیادی اصول ذہن نشین کرلیں*👇
*اور ظالموں کی طرف جھکاؤ بھی نہ کرنا ورنہ تمہیں آگ پکڑ لیگی* (سورہ ہود:113) ۔
*اور اللہ نے کتاب میں تم پر نازل فرما دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو* (سورہ نسا:140) ۔
↪️*Imam Ibne Sireen رضی اللہ عنہ* Farmate Hain: (Sahih Muslim-Al Muqadma) Mein: Shuroo Mein Hum Rivayat Lete to Kisi Se Uska Ustaaz Na Poochte/Tafteesh Na Karte. . . Laikin Jab Fitna Shuroo Huwa. . . Jhooth Bolne Wale Hogaye. . . Phir to Hum Rivayat Lene se Pahele Uske Ustaaz ka Naam Poochte/Tafteesh Karte. . . Aur Faqat *Ahle Sunnat* hi se Hadees Lete. . . 📚
👈مَنْ سَمِعَ بالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ"
*جو دجال کی بات سنے وہ اس سے دور بھاگے*۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الملاحم، حدیث #4319 - صحیح) ۔
👈يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ"۔
*میری امت کے آخر زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہونگے جو ایسی باتیں/احادیث بیان کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اس سے پہلے نہ سنی ہوگی، تو ان سے اور ان کی باتوں سے بچو اور انسے دور رہو* ۔(صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث:15 مع شرح) ۔
↪️*Imam Anas bin Malik رضی اللہ عنہ* Farmate Hain: Jo Ilm Tum Kisi se Hasil Karte Ho To Woh Tumhara Gosht Aur Khoon Banjaata Hai. . . Yaane Jissey Seekha Uska Gosht/Khoon Tumhara Gosht Aur Khoon Banjaata Hai. . . So Qiyamat ke Din Tumse Sawaal Hoga ke Tumne Apne Gosht/Khoon Mein Kiska Gosht/Khoon Shamil Kiya. . . الله أكبر. . . (Imam Ram Hurmazi-Al Muhaddisul Fasil). . . 👇
Abb Zara Gaur Kijiye ke Kisi Bad-Aqeedah Se Seekhne Par Qiyamat ke Din Kya Jawab Desakoge. . . ?
Issey to Behtar Anpadh Rahena Hai. . .💥
👈*اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:*
"*بد مذہب کی کتاب پڑھنا، اس کا وعظ سننا، اس کے پاس بیٹھنا حرام ہے۔ کیونکہ اس سے دل میں شبہ پڑتا ہے اور ایمان خطرے میں پڑتا ہے"*۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 14) ۔
👉*Peer Mehr Ali Shah Rahmatullah Alaih* (Sufi Buzurg)-Malfoozaat-e Mehriya Mein Farmate Hain: Topoun Ka Hamla Itna Muzir (Khatarnaak) Nahi Jitna ke Kisi Bad-Aqeedah ki Taqreer Wa Tahreer Sunna/Padhna Khatarnaak Hai. . .🔥 Topoun se Insaan/Musalmaan ke Sirf Jism ku Nuksaan Hota Hai Laikin Bad-Aqeedah ke Bayan/Tahreer se Eimaan ka Nuksaan Hota Hai. . . 💥👇
"*بد مذہبوں کی کتابیں پڑھنا، ان کے وعظ سننا ناجائز ہے۔ اگرچہ وہ قرآن و حدیث ہی کیوں نہ پڑھیں"*. ( بہارِ شریعت) ۔
👈💥أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ فَقَالَا يَا أَبَا بَكْرٍ نُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ قَالَ لَا قَالَا فَنَقْرَأُ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ قَالَ لَا لِتَقُومَانِ عَنِّي أَوْ لَأَقُومَنَّ قَالَ فَخَرَجَا فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا أَبَا بَكْرٍ وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ يَقْرَأَا عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْرَأَا عَلَيَّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيُحَرِّفَانِهَا فَيَقِرُّ ذَلِكَ فِي قَلْبِي
ترجمہ:
اسماء بن عبید بیان کرتے ہیں: *دو بدمذہب شخص ابن سیرین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے اے ابوبکر (یہ ابن سیرین کا لقب ہے) ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں ابن سیرین نے جواب دیا: نہیں وہ دونوں بولے پھر ہم آپ کے سامنے اللہ کی کتاب کی کوئی آیت تلاوت کردیتے ہیں۔ ابن سیرین نے کہا نہیں تم دونوں اٹھ کر چلے جاؤ ورنہ میں اٹھ کر چلاجاؤں گا*۔ راوی بیان کرتے ہیں وہ دونوں اٹھ کر چلے گئے تو حاضرین میں سے کسی شخص نے کہا اے ابوبکر اگر وہ آپ کے سامنے قرآن کی کوئی آیت پڑھ دیتے تو اس میں کیا حرج تھا تو ابن سیرین نے جواب دیا: *مجھے یہ اندیشہ تھا کہ یہ لوگ میرے سامنے کوئی آیت پڑھیں گے اور اس کی اپنی طرف سے کوئی تفسیر بیان کریں گے اور وہ میرے دل میں پختہ ہوجائے گی*۔
(سنن دارمی #399) ۔
👈یعنی انسے تلاوت سننا بھی گوارہ نا کیا تشریح تو دور کی بات ہے ، یہ ہے ہمارے اسلاف جو ایمان کی اس قدر فکر کرتے تھے کی بد مذہب کی تلاوت بھی نا سنتے اور ہمارے کچھ نوجوان ہیں کی پورے کا پورا بیان سنتے ہیں۔۔۔ ایمان و عقیدہ خراب نا ہوگا تو اور کیا ہوگا۔۔۔؟
👈*امام غزالی رحمہ اللہ* - جسے اعلیٰ حضرت نے حجت مانا: اھل البدعۃ لا یجالس ولا یسمع منھم ۔
*بدعتیوں/بد مذہبوں کے ساتھ نشست نہ کی جائے اور نہ ان سے سنا جائے*"۔ (احیاء علوم الدین، کتاب العلم، باب آفت العلم) ۔
👈أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمَا قَالَا لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ وَلَا تُجَادِلُوهُمْ وَلَا تَسْمَعُوا مِنْهُمْ ۔
*حضرت حسن بصری اور ابن سیرین ارشاد فرماتے ہیں: بدمذہب لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ بحث نہ کرو اور ان کی باتیں نہ سنو*۔
(سنن دارمی #403) ۔
👈*امام نووی رحمہ اللہ* "ولا یتعلم من مبتدع ولا یقرأ کتابہ"۔
*بدعتی سے علم نہ سیکھا جائے اور نہ اس کی کتاب پڑھی جائے*" ۔
(المجموع شرح المہذب، ج:1، صفحہ 40) ۔
👈🏻أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ ابْنُ سِيرِينَ رَجُلًا بِحَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ فُلَانٌ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا۔
قتادہ بیان کرتے ہیں *ابن سیرین نے ایک شخص کے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی وہ شخص بولا فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ ابن سیرین نے کہا میں تمہیں نبی اکرم ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ آئندہ میں کبھی تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کروں گا*۔
(سنن دارمی #442) ۔
👈یعنی بد مذہب سے نا پڑھیں اور نا پڑھاٸیں۔۔۔بہتر۔۔۔
👈*خدشہِ گمراہی:* زہر میں شہد ملا کر بھی دیا جائے تو زہر ہی رہے گا.
👈*تائیدِ باطل:* ان کا بیان سننا ان کی تائید ہے - (سورہ النساء: 140) ۔
👈*دل کا فتنہ:* *"القلوب ضعیفۃ والشُبہ خطافۃ"* - دل کمزور ہیں اور شبہات اچک لیتے ہیں ۔ (شرح السنہ للبغوی) ۔
👈*استثناء کب ہے؟*
صرف *رد کے لیے اک عالم بھی بد مذہب کا بیان یا کتاب اس شرط کے ساتھ سن یا پڑھ سکتا ہے کہ*:
1. *اس کا عقیدہ پکا ہو، دﻻٸل و براھین کی سمجھ رکھتا ہو*،
2. *انکے رد کی نیت ہو، صحیح اور غلط عبارت کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، قرآن و حدیث، اجماع امت پیش نظر ہو*،
3. *فتنے کا ڈر نہ ہو، بد مذہب کے خد ساختہ دﻻٸل دیکھکر محو ہونے کا اندیشہ نا ہو کہ شیطان خون میں دوڑتا ہے*۔
الامان والحفیظ۔
عوام کے لیے اسکی بلکل ہی اجازت نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 14) .
💥*ضروری*۔۔۔۔۔۔۔👈(سنن دارمی #657). . . ابو عتبہ عباد بن عباد خواص شامی تحریر کرتے ہیں امابعد۔ یہ بات *جان لو کہ عقل بڑی نعمت ہے کچھ عقل مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں میں غور کرتے ہیں جو ان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے* جس کی وجہ سے ان کا ذہن غافل ہوجاتا ہے اور جس چیز کی انھیں ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے غافل ہوجاتے ہیں آدمی کی عقل کی فضیلت یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بارے میں غور و فکر نہ کرے تاکہ اس کی عقل کی فضیلت اس کے لیے وبال کا باعث نہ بن جائے۔ کہ اس نے ان لوگوں پر گرفت نہیں کی جو اعمال میں ان سے کم تھے یا *وہ شخص جس کا دل بدعت میں مبتلا ہوجائے اور وہ اپنے گلے میں اس دین کا ہار پہنا لے جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کا نہیں تھا یا وہ اپنی رائے پر اکتفا کرتے ہوئے یہی سمجھے کہ صرف وہی ہدایت ہے اور اس کے اپنے نظریے کو ترک کرنا ہی گمراہی ہے وہ یہ سمجھے کہ اس نے یہ نظریہ قرآن سے حاصل کیا ہے حالانکہ وہ قرآن سے الگ کرنے والا ہوگیا اس شخص سے اور اس کے ساتھیوں سے پہلے قرآن کے ماہر نہیں تھے۔ جو قرآن کے محکم پر عمل کرتے تھے اور اس کے متشابہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ لوگ اس واضح طریقے پر گامزن تھے قرآن نبی اکرم ﷺ کا پیشوا تھا اور نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھیوں کے پیشوا تھے اور ان کے ساتھی بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے پیشوا تھے جن سے ہر شخص واقف تھا اور وہ ہر شہر میں موجود تھے۔ یہ لوگ آپس میں فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن بدمذہب لوگوں کی تردید کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا ان بدمذہب لوگوں کو ان کی رائے نے مختلف راستوں پر ڈال دیا ہے جو میانہ روی سے دور ہے اور صراط مستقیم سے الگ ہے ان کے پیشواؤں نے ان لوگوں کو گمراہی کے میدان میں تھکا دیا ہے یہ لوگ انھیں میدانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں جب بھی ان کی گمراہی کے لیے شیطان کوئی نئی بدعت ایجاد کرتا ہے یہ ایک سے دوسری طرف منتقل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ سابقہ زمانے کے لوگوں کے نشانات کی تلاش نہیں کرتے اور ہجرت کرنے والے صحابہ کی پیروی نہیں کرتے*۔ حضرت عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے زیاد سے یہ کہا کہ *کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے عالم شخص کی پھسلن، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا اور گمراہ کرنے والے پیشوا، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اس چیز کے بارے میں جو تمہارے علماء اور تمہارے مساجد والوں کے درمیان غیبت اور چغل خوری اور لوگوں کے ساتھ دوغلے چہرے اور دوغلی زبانوں کے ساتھ ملنا آچکا ہے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا وہ جہنم میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا*۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اے اللہ کے بندو! کیا تمہارے درمیان کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو سمجھ دار ہو اور ان لوگوں کی اصلاح یعنی رد کرے اور ان کے فریب کو ختم کرے اور اسے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی خلاف ورزی کرنے سے باز رکھے بلکہ وہ یہ جان لے کہ ان کی خواہش کیا ہے اس چیز کے بارے میں جسے وہ ساتھ لے کر ان کی طرف گیا ہے پھر اس نے ان لوگوں سے اپنی ضرورت نکالی تو انھوں نے اس کی ضرورت پوری کردی یوں اس شخص نے ان لوگوں کے دین کے ہمراہ اپنے دین کو بھی خراب کرلیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو*۔ اپنے غیر موجود لوگوں کے احترام کے حوالے سے بچو اور ان کے بارے میں اپنی زبان سے صرف اچھی بات استعمال کرو اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں اللہ کی خیرخواہی اختیار کرو اگر تم کتاب وسنت کے عالم ہو بیشک کتاب خود بات نہیں کرتی جب تک اس کی بات بیان نہ کی جائے اور سنت خود عمل نہیں کرتی جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے *جب عالم خاموش رہے گا تو ناواقف شخص کیسے علم حاصل کرے گا* اگر وہ ظاہر ہونے والی چیز کا انکار نہ کرے اور جس چیز کو ترک کیا گیا ہے اس کا حکم نہ دے تو پھر کیا ہوگا جبکہ *اللہ نے ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اسے واضح طور پر بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ اللہ سے ڈرو*۔ کیونکہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں پرہیزگاری کمزور ہوگئی ہے اور عاجزی کم ہوگئی ہے *علم کے حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اس میں فساد پیدا کرتے ہیں اور یہ بات پسند کرتے ہیں کہ عالم کے طور پر ان کی پہچان ہو اور وہ یہ بات ناپسند کرتے ہیں علم کے ضائع کرنے کے حوالے سے ان کی شناخت ہوجائے وہ علم کے بارے میں اپنی خواہش نفس کے مطابق وہ بات بیان کرتے ہیں جو اس میں انھوں نے غلط شامل کردی ہے اور وہ کلمات میں تحریف کر کے حق کو چھوڑ کر اس باطل کی طرف لے جاتے ہیں جس پر وہ عمل کرتے ہیں ان کے گناہ ایسے ہیں کہ ان کی مغفرت نہیں کی جاسکتی اور ان کی غلطیاں ایسی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جاسکتا*۔
*دلیل حاصل کرنے والا اور ہدایت حاصل کرنے والا کیسے ہدایت حاصل کرسکتا ہے جبکہ دلیل ہی بھٹکانے والی ہو*۔۔۔۔۔۔(*یعنی ٹوڑ مڑور کر غلط مطالب و تشریح بیان کرنا اور اسے بطور دلیل پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنا یہ بد مذہبوں کا وطیرہ ہیں۔۔۔ اس لۓ انسے کچھ بھی سیکھنا دین کے چہرے کو مس کرنا ہے*) ۔
👈آج ہم کسی جماعتی/تبلیغی کو اپنا استاذ بناٸینگے، کل فرقہ اہل حدیث کو بناٸینگے اور پرسوں رافضی-شیعہ و قادیانی کو بناٸینگے۔۔۔ شیطان ایسے ہی چلتا ہے کہکر وسوسہ ڈالتا ہے اور گمراہ کرتا ہے، *گوگل/اے آٸی/یوٹیوب وغیرہ پر بھی ان بد مذہبوں کے بیانوں سے بچے ۔۔۔یاد رکھیں *کربلا میں اگر ہمارے امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدیوں کی امامت قبول کی ہوتی تو شاید آج ہم بھی کرلیتے لیکن میرے امام نے سر کٹایا، گھر لٹایا، شہید ہوۓ لیکن انکی امامت قبول نا کی۔۔۔ سو ہم۔بریلوی بھی انہی کے ہیروکار ہیں، غلام۔ہیں۔۔۔ یاد رکھیں رسولﷺ کا جو غلام ہے وہ ہمارا امام ہے۔۔۔استاذ ہے۔۔۔ ورنہ نہیں۔۔۔ سواۓ اہلسنت/سنی حنفی رضوی بریلوی علما کے کسی کے بیان نا سنے، نا کتب پڑھیں۔۔۔نا کسی کو استاذ بناٸیں۔۔*💥
👈قرآن سب سے بڑا معلم۔ہے لیکن خد قرآن کے بارے میں قرآن میں آتا ہے:
*یہ قرآن بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے اور بہت سوں کو گمراہ کرتا ہے۔۔۔۔(سورہ بقرہ:26). . . *اس کا مطلب یہ ہے کی قرآن گمراہ نہیں کرتا بلکہ جو اسکو پڑھکر اپنی راۓ سے سمجھتا ہے اور غلط تشریح کرتا ہے دراصل وہ گمراہ ہوتا ہے اور کرتا ہے۔۔۔ جیسے قادیانی دلیل میں قرآن ہی پیش کرتے ہیں لیکن اسے توڑ مڑورکر تشریح کرتے ہیں خد بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ کفر کے دلدل میں پھانستے ہیں، اسیطرح فرقہ نقلی اہل حدیث یہ حدیثوں کی تشریح من مانی کرتے ہیں اور کفر اور گمراہی کے مرتکب ہوتے ہیں*۔
👈امام اہلسنت نے فرمایا تھا:
"*۔۔۔مٸیں گدا ہوں اپنے کریم۔کا میرا دین پاراۓ نان نہیں۔۔۔*👇
"*سُونا جنگل رات اندھیری چھاٸی بدلی کالی ہے*،
*سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے*"👇
"*انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام، للہ الحمد مٸیں دنیا سے مسلمان گیا*"👇
"*تجھ سے اور جنت سے کیا وھابی دور ہو، ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہ کی*"
✍️*فقیر و حقیر: مولانا محمد یوسف عطا قادری رضوی، کرناٹک الھند*🇮🇳
🕋اللہ پاک اپنی رحمت اور رسول کریمﷺ کے صدقے اس تحریر کی لگزش وخطاٶں کو معاف فرماٸیں اور اسکو قبول فرماٸیں کے علما وطلبہ اور عوام الناس اس سے مستفید و مستفیض ہووے اور مجھ فقیر کے لۓ ثواب جاریہ کا ذریہ بن جاۓ۔۔۔آمین، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه - ﻻ الہ الا اللہ محمد الرسول اللہﷺ🕋
🌹📚واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم🌹📚
🌹🌹جزاك اللهُ🌹🌹
Comments
Post a Comment