Namaz mein Haalat-e Tashahudd mein Ungli ku Na Hilaana Sunnat Hai
🕋 *نماز میں حالتِ تشہد میں شہادت کی انگلی سے صرف اشارہ کرنا اور اسے حرکت نہ دینا صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور متقدمین و متأخرین فقہاء کا بھی یہی قول اور عمل رہا ہے*۔
(رفعِ سبابہ / مسبحہ / تشہد میں شہادت کی انگلی)👇
📖 *مراجع*:
صحیح مسلم مع شرح (1307-1312)، فتح الباری از ابن حجر عسقلانی، عمدۃ القاری از عینی، مرقاۃ المفاتیح از ملا علی قاری، مؤطا امام مالک (کتاب الصلاۃ)، جامع ترمذی (3557)، سنن ابن ماجہ (912، 913)، سنن ابی داؤد (989، 991)، سنن کبریٰ للبیہقی (کتاب الصلاۃ، باب: تشہد میں اشارہ کرنے والے کی نیت)، مصنف عبدالرزاق (جلد 2)، مصنف ابن ابی شیبہ (8437)، شرح السنہ للبغوی (جلد 3)، مسند ابو عوانہ (1592، 1594)، مجمع الزوائد للہیثمی (2843)، سنن دارمی (1357)، المعجم الکبیر للطبرانی (4176)، مکتوباتِ امام ربانی (دفتر اول، مکتوب نمبر 312)، فتاویٰ شامی (جلد 1)، نیز غیر مقلد عالم رحمت اللہ ربانی کی کتاب راہِ ہدایت (صفحہ 44-45)۔📚
💥*نوٹ*:
اس مسئلے میں وارد ہونے والی احادیث میں مختلف طریقے منقول ہیں، جن کی تعداد سات بیان کی گئی ہے۔
حضرت عاصم بن کلیب کے بارہ ثقہ شاگردوں نے تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کی روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے گیارہ راویوں نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا، اسے حرکت نہیں دی۔ جبکہ صرف ایک راوی زائدہ بن قدامہ نے انگلی کو حرکت دینے کی روایت بیان کی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ روایت شاذ (ضعیف روایت کی ایک قسم) شمار کی گئی ہے۔👇
💥 *“یحَرِّکُھَا” کے الفاظ شاذ (ضعیف) ہونے پر وہابی اکابرین کی تائید درج ذیل ہیں* 👇
💥 *شیخ البانی:* _“اصولِ حدیث کے اعتبار سے یہ قول (ابن زبیر والا) قوی ہے”_ (سلسلہ الصحیحۃ، جلد:1 / تمام المنۃ: 223)
💥 _“‘یحَرِّکُھَا’ کے لفظ میں زائدہ عاصم سے منفرد ہے...”_ (شرح الممتع، جلد:3)📚
💥 _“زائدہ کا ‘یحَرِّکُھَا’ کا اضافہ شاذ ہے کیونکہ اس نے ان لوگوں کی مخالفت کی جو تعداد میں زیادہ ہیں... اور اس سے زیادہ حافظ تھے... صحیح یہ ہے کہنبیﷺ انگلی سے اشارہ کرے بغیر حرکت کیے...”_ (شیخ مقبل بن ہادی الوادعی – الجامع الصحیح مما لیس فی الصحیحین، جلد:2)📚
💥 _“سنت یہ ہے کہ دعا کے وقت انگلی سے اشارہ کرے، ہلائے نہیں... حرکت ترک کرنا افضل ہے، کیونکہ نبی ﷺ سے ابن زبیر والی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ حرکت نہیں کرتے تھے، اور وائل کی حدیث میں ‘یحَرِّکُھَا’ کے لفظ میں اضطراب ہے...”_ (شیخ عبد العزیز بن باز – مجموع فتاویٰ ابن باز، جلد:11)📚
💥 _“سند صحیح ہے مگر ‘یحَرِّکُھَا’ کے لفظ میں زائدہ بن قدامہ منفرد ہے اور عاصم کے جمہور شاگردوں نے اس کی مخالفت کی... بیہقی نے کہا: ‘حرکت نہیں دیتے تھے’... والے کا قول زیادہ صحیح ہے...”_ (شیخ شعیب الارنؤوط – تحقیق مسند احمد #18870 – حاشیہ) 📚👇
✍️ *یعنی وہابی اکابرین / مفتیان خود احناف / اصولِ احناف کی تائید کرتے ہیں* اور وائل والی حدیث کو *شاذ / مضطرب* بتاتے ہیں اور ابن زبیر والی حدیث کو *صحیح / راجح اور قابلِ عمل* تسلیم کرتے ہیں... *الحمد للہ* 📚
💥 *دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے!*
*اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے* 🔥
💥 اس تحریر میں بڑی ابلیسانہ ہوشیاری سے کام لیا گیا ہے۔۔۔ دونوں طرح کی احادیث پیش کی گئیں۔۔۔ دونوں کو صحیح کہا گیا ہے۔۔۔ لیکن ان گوگل کے مقلدوں سے سوال یہ ہے کہ احادیث کے صحیح ہو جانے سے کیا اصولِ حدیث/اصولِ فقہ کے مطابق وہ احادیث قابلِ عمل ہو جاتی ہیں؟
💥 ہر حدیث (عمل بالحدیث) نہیں ہوتی۔۔۔ اگر ایسا مان لیا جائے کہ ہر حدیث عمل بالحدیث ہے تو پھر صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضور ﷺ نے چاند کے دو ٹکڑے فرمائے۔۔۔ اے وہابیو اب اس حدیث پر عمل کر کے بتاؤ؟
💥 اسی طرح بخاری ہی میں وضو کے تعلق سے 3 طرح کی مختلف احادیث آئی ہیں۔۔۔ پہلی حدیث میں اعضائے وضو کو ایک مرتبہ دھونا ہے، دوسری والی حدیث میں دو مرتبہ دھونا ہے اور تیسری والی حدیث میں 3 مرتبہ دھونا منقول ہے۔۔۔ اب بتاؤ کس پر عمل کیا جائے گا اور کیسے کیا جائے گا اور کیوں کیا جائے گا؟
💥 خیر اب موضوع کی طرف آئیے رفعِ سبابہ کی دونوں طرح کی احادیث موجود ہونے کے باوجود احناف کا ایک ہی پر عمل اسی لیے ہے کہ (یُحَرِّکُھَا) کا مطلب ہلاتے رہنا یا حرکت دیتے رہنا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ حرکت/اشارہ کرنا ہے بس۔۔۔ یعنی بغیر انگلی کو ہلائے انگلی کو اٹھا ہی نہیں سکتے۔۔۔ بس اتنا سا مطلب ہے۔۔۔ یہ تشریح ائمۂ شارحین نے کی ہے بلکہ خود وہابی اکابرین نے کی ہے۔۔۔ جیسا کہ کل ہم اس کے دلائل دے چکے۔۔۔
💥 اس کے علاوہ (یُحَرِّکُھَا) والی (وائل بن حجر) کی حدیث منفرد ہے، مضطرب ہے، منسوخ/مردود ہے اور شاذ (ضعیف) ہے۔۔۔ (لَا یُحَرِّکُھَا)۔۔۔ (ابن زبیر/عبداللہ ابن مسعود) والی حدیث سے۔۔۔ اس کی بھی صراحت و وضاحت کل وہابی اکابرین ہی سے ہم نے کر دی تھی۔۔۔
💥 اب گوگل کے مقلد ایک کام کریں گوگل پر جا کر یہ ثابت کریں کہ وائل کی حدیث مضطرب/شاذ نہیں ہیں۔۔۔ اور ان کے اکابرین نے جو یہ ثابت کیا ہے وہ جھوٹے تھے۔۔۔ ان کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے ورنہ یہ سنت سے انحراف ہوگا۔۔۔ 📚
💥اب آخر میں یہ ہے کہ جب احناف کے طریقہ کو بھی صحیح مان ہی چکے تو آج ہی سے اسپر عمل شروع کردو۔۔۔💁
💥 _*ہر سنت حدیث ہے لیکن ہر حدیث سنت نہیں*_ 💥
📚 *"یُحَرِّکُھَا" کی تفسیر*👇
1. *لغوی معنی*
*یُحَرِّکُ* باب تفعیل سے مضارع کا صیغہ ہے۔ مادہ *"ح ر ک"* ہے۔
*لسان العرب* اور *قاموس* کے مطابق:
> *الحَرَكَةُ:* ضِدُّ السُّكُونِ، حَرَّكَهُ تَحْرِيكًا فَتَحَرَّكَ
*ترجمہ:* حرکت سکون کی ضد ہے۔ حَرَّکَ تَحْرِیکًا کے معنی ہیں: اس کو حرکت دی تو وہ حرکت کر گیا۔
یعنی *"یُحَرِّکُھَا"* کا لغوی معنی ہے: *"وہ اسے حرکت دیتا ہے / اسے ہلاتا ہے"*۔ یہ "مسلسل ہلانے" کے معنی میں ہے کیونکہ باب تفعیل تکثیر کے لیے بھی آتا ہے۔
2. *حدیث میں استعمال اور شرعی تشریح*
حدیثِ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ میں ہے:
> ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ *يُحَرِّكُهَا* يَدْعُو بِهَا
لیکن اس کے مقابلے میں صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
> وَكَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا، *وَلَا يُحَرِّكُهَا*
*امام نووی رحمہ اللہ* اس تعارض پر فرماتے ہیں:
> وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَجْلَانَ صَدُوقٌ، ثُمَّ قَوْلُهُ: «لَا يُحَرِّكُهَا» هُوَ تَفْسِيرٌ لِقَوْلِهِ: «يُشِيرُ بِهَا». وَلِذَا لَا مُنَافَاةَ بَيْنَ اللَّفْظَيْنِ
*ترجمہ:* اس کی سند حسن ہے کیونکہ محمد بن عجلان صدوق ہیں۔ پھر "لَا يُحَرِّكُهَا" کا قول "يُشِيرُ بِهَا" کی تفسیر ہے۔ اس لیے دونوں الفاظ میں کوئی منافات نہیں۔
3. *خلاصہ*
1. *لغت:* "یُحَرِّکُھَا" = *اسے حرکت دینا، ہلانا*۔ سکون کی ضد۔
2. *حدیث کی رو سے:* صحیح مسلم کی روایت "لَا يُحَرِّكُهَا" نے واضح کر دیا کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا ہے، مسلسل ہلانا مراد نہیں۔
3. *ائمہ کی تشریح:* امام نووی کے مطابق "لَا يُحَرِّكُهَا"، "يُشِيرُ بِهَا" کی تفسیر ہے۔ یعنی اشارہ کرنا مقصود ہے، مسلسل حرکت دینا نہیں۔
اس لیے احناف اور جمہور کے نزدیک تشہد میں انگلی اٹھا کر اشارہ کیا جائے گا، مسلسل حرکت نہیں دی جائے گی۔
📚 *"یُحَرِّکُھَا" کی تفسیر/شرح*👇
*1. امام بیہقی رحمہ اللہ - شافعی*
> *يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُرَادُهُ بِالتَّحْرِيكِ الْإِشَارَةَ بِهَا لَا تَكْرِيرَ تَحْرِيكِهَا، حَتَّى لَا يُعَارِضَ حَدِيثَ ابْنِ الزُّبَيْرِ: "كَانَ يُشِيرُ بِالسَّبَّابَةِ وَلَا يُحَرِّكُهَا"*
*ترجمہ:* احتمال ہے کہ تحریک سے مراد اشارہ کرنا ہے، بار بار ہلانا نہیں، تاکہ ابن زبیر کی حدیث "اشارہ کرتے تھے اور ہلاتے نہیں تھے" کے خلاف نہ ہو۔
*2. حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ - شافعی*
حافظ ابن حجر نے "تلخیص الحبیر" میں ابن زبیر کی روایت "لَا يُحَرِّكُهَا" کو اصل قرار دیا اور کہا مسلم میں یہی ہے۔
*3.وھابی شوکانی*
> *وَمِمَّا يُرْشِدُ إِلَى مَا ذَكَرَهُ الْبَيْهَقِيُّ، رِوَايَةُ أَبِي دَاوُدَ لِحَدِيثِ وَائِلٍ فَإِنَّهَا بِلَفْظِ: وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ*
*ترجمہ:* بیہقی کی بات کی تائید ابو داود کی وائل بن حجر والی روایت سے ہوتی ہے جس میں صرف "اشارہ کیا" ہے، تحریک کا ذکر نہیں۔
*4. فقہاء کے مذاہب*
**احناف** اشارہ "لا إله" پر انگلی اٹھانا، "إلا الله" پر رکھ دینا۔ تحریک نہیں ابن عابدین: المتاخرین نے اسی کو اختیار کیا
**شافعیہ** "إلا الله" پر انگلی اٹھانا، **تحریک نہیں کرنا**، تھوڑی جھکانا نووی: ولا يحركها، شربینی: ولا يحركها
**حنابلہ** اللہ کے ذکر پر اشارہ، **تحریک نہیں** ابن قدامہ: ولا يحركها، بہوتی: من غير تحريك۔
*جمہور علماء کی رائے*
> *الَّذِي عَلَيْهِ جُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ: أَنَّهُ لَا يُسَنُّ لِلْمُصَلِّي تَحْرِيكُ إِصْبَعِهِ فِي التَّشَهُّدِ، بَلْ يُشِيرُ بِهَا مِنْ غَيْرِ تَحْرِيكٍ*
*ترجمہ:* جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ نمازی کے لیے تشہد میں انگلی کو حرکت دینا سنت نہیں، بلکہ بغیر حرکت کے صرف اشارہ کرنا ہے۔
*"یُحَرِّکُھَا" والی روایت کا درجہ*
محققین کے نزدیک وائل بن حجر کی روایت میں "یُحَرِّکُھَا" کا لفظ *شاذ* ہے، کیونکہ 13 ثقہ راویوں نے اسے نقل نہیں کیا، *صرف زائدہ بن قدامہ منفرد ہیں*۔ امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں: "کسی خبر میں 'يحركها' نہیں سوائے اس خبر کے"۔
*خلاصہ:* امام نووی کے علاوہ بیہقی، ابن حجر، شوکانی اور جمہور احناف، شوافع، حنابلہ سب "لَا يُحَرِّكُهَا" والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور *"یُحَرِّکُھَا" کا مطلب "اشارہ" لیتے ہیں، مسلسل ہلانا نہیں۔*
💥 راجح قول یہ ہے کہ *"یُحَرِّکُھَا" شاذ ہے*۔ تفصیل:
*امام بیہقی رحمہ اللہ:*
> *يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُرَادُهُ بِالتَّحْرِيكِ الْإِشَارَةَ بِهَا لَا تَكْرِيرَ تَحْرِيكِهَا، حَتَّى لَا يُعَارِضَ حَدِيثَ ابْنِ الزُّبَيْرِ: "كَانَ يُشِيرُ بِالسَّبَّابَةِ وَلَا يُحَرِّكُهَا"*
*ترجمہ:* ممکن ہے تحریک سے مراد اشارہ ہو، بار بار ہلانا نہیں، تاکہ ابن زبیر کی حدیث "اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے" کے خلاف نہ ہو۔
یعنی بیہقی کے نزدیک *تعارض ہی نہیں*، تو نسخ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
*حافظ ابن حجر رحمہ اللہ "تلخیص الحبیر":*
"لَا يُحَرِّكُهَا" والی روایت کو اصل قرار دیا اور "یُحَرِّکُھَا" کو *شاذ* کہا۔ شاذ حدیث ضعیف ہوتی ہے، ناسخ نہیں بن سکتی۔
*امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ:*
> *لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْأَخْبَارِ "يُحَرِّكُهَا" إِلَّا فِي هَذَا الْخَبَرِ، ذَكَرَهُ زَائِدَةُ*
> *ترجمہ:* کسی خبر میں "یُحَرِّکُھَا" نہیں سوائے اس خبر کے، جسے زائدہ نے ذکر کیا ہے۔
یعنی 13 ثقہ راویوں نے وائل بن حجر سے یہ حدیث روایت کی، کسی نے "یُحَرِّکُھَا" نہیں کہا، صرف زائدہ بن قدامہ منفرد ہیں۔
*3. جمہور محدثین کی تحقیق*
**نکتہ** **تفصیل**
**"یُحَرِّکُھَا" کا درجہ** **شاذ** - کیونکہ زائدہ 13 ثقہ راویوں کے خلاف منفرد ہیں
**"لَا یُحَرِّکُھَا" کا درجہ** **محفوظ** - صحیح مسلم میں ہے، ابن زبیر کی روایت. . .
**جمہور کا عمل** اشارہ کرنا، تحریک نہیں - احناف، شوافع، حنابلہ
* خلاصہ جواب*
* "یُحَرِّکُھَا" سرے سے ثابت ہی نہیں۔*
*اصل علت* - "یُحَرِّکُھَا" والی روایت *شاذ* ہے، یعنی ثقہ راوی کی غلطی۔ شاذ حدیث سے استدلال نہیں ہوتا، نسخ تو دور کی بات۔
3. *جمہور کا فیصلہ* - "لَا یُحَرِّکُھَا" محفوظ ہے، "یُشِیرُ" پر سب کا اتفاق ہے۔ "یُحَرِّکُھَا" کا مطلب بھی بیہقی وغیرہ نے "اشارہ" کیا ہے، مسلسل ہلانا نہیں۔
*اس لیے* صحیح بات یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کیا جائے گا، مسلسل حرکت نہیں دی جائے گی۔ "یُحَرِّکُھَا" والی روایت *غیر محفوظ/شاذ* ہے۔
💥*مضطرب حدیث* اصولِ حدیث کی ایک قسم ہے جو "ضعیف" میں شمار ہوتی ہے۔
*1. لغوی معنی*
*مضطرب:* اضطراب سے ہے، یعنی *بے ترتیب ہونا، ہلنا، بے قراری*۔ عرب کہتے ہیں: *اِضْطَرَبَ الْأَمْرُ* جب کوئی معاملہ بے ترتیب ہو جائے۔
*2. اصطلاحی تعریف*
*حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ* "نزھۃ النظر" میں فرماتے ہیں:
> *الْمُضْطَرِبُ: مَا رُوِيَ عَلَى أَوْجُهٍ مُخْتَلِفَةٍ مُتَسَاوِيَةٍ فِي الْقُوَّةِ*
> *ترجمہ:* مضطرب وہ حدیث ہے جو مختلف ایسی صورتوں میں مروی ہو جو قوت میں برابر ہوں۔
*یعنی 3 شرطیں:*
1. *اختلاف واقع ہو* - ایک ہی حدیث کئی طرح سے مروی ہو۔
2. *وجوہ مختلف ہوں* - متن میں یا سند میں تبدیلی ہو۔
3. *مساوی القوۃ ہوں* - کوئی روایت دوسری پر راجح نہ ہو سکے، سب برابر درجے کی ہوں۔
*3. اضطراب کی صورتیں*
اضطراب *سند میں* بھی ہوتا ہے اور *متن میں* بھی:
*سند میں اضطراب کی مثالیں:*
1. کبھی ایک راوی متصل بیان کرے، کبھی مرسل۔
2. کبھی ایک شیخ سے روایت کرے، کبھی دوسرے سے۔
3. کبھی صحابی کا نام بدلے، کبھی تابعی کا۔
*متن میں اضطراب کی مثال:*
حدیث: *"مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا"*
یہ مختلف الفاظ سے مروی ہے: کبھی "عَشْرًا"، کبھی "سَبْعِينَ"، کبھی "مِائَةً"، اور سب روایات قوت میں برابر ہوں تو اضطراب ہے۔
*4. ائمہ کی تصریحات*
*امام نووی رحمہ اللہ "تقریب" میں:*
> *الْمُضْطَرِبُ: مَا اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِيهِ، فَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَلَى وَجْهٍ، وَبَعْضُهُمْ عَلَى وَجْهٍ آخَرَ مُخَالِفٍ لَهُ، وَلَمْ يَتَرَجَّحْ*
> *ترجمہ:* مضطرب وہ ہے جس میں راوی اختلاف کریں، بعض ایک طرح روایت کریں اور بعض دوسری مخالف طرح، اور کوئی ترجیح نہ ہو سکے۔
*خطیب بغدادی رحمہ اللہ:*
> *إِذَا تَسَاوَتِ الرِّوَايَاتُ فِي الْحِفْظِ وَالْعَدَدِ، وَلَمْ يُمْكِنِ الْجَمْعُ وَلَا التَّرْجِيحُ، فَهُوَ الْمُضْطَرِبُ*
*5. مضطرب حدیث کا حکم*
*مضطرب حدیث ضعیف ہے اور مردود ہے*۔ اس پر عمل نہیں کیا جاتا، کیونکہ راویوں کا ضبط ثابت نہیں ہوتا۔ اضطراب ضبط کی کمی کی علامت ہے۔
*لیکن اگر ترجیح ممکن ہو جائے تو اضطراب ختم ہو جاتا ہے:*
1. اگر ایک روایت محفوظ ہو اور دوسری شاذ ہو → محفوظ کو لیا جائے گا
2. اگر جمع ممکن ہو → جمع کر لیا جائے گا، پھر اضطراب نہیں رہے گا
*6. شاذ اور مضطرب میں فرق*
**شاذ** **مضطرب**
ثقہ راوی اوثق کی **مخالفت** کرے کئی روایتیں **آپس میں ٹکرائیں** اور سب برابر ہوں
مخالفت ایک طرف سے ہو اختلاف کئی طرف سے ہو
ترجیح ممکن ہوتی ہے ترجیح ممکن نہیں ہوتی
*خلاصہ*
*مضطرب حدیث:* وہ ہے جس کی سند یا متن میں ایسا اختلاف ہو کہ سب صورتیں قوت میں برابر ہوں، اور نہ جمع ممکن ہو نہ ترجیح۔ یہ ضبط کی کمی کی دلیل ہے اس لیے ضعیف ہے۔۔
💥*شاذ حدیث* اصولِ حدیث کی اہم اصطلاح ہے۔ ائمہ حدیث و اصول کی روشنی میں تفصیل:
*1. لغوی معنی*
*شاذ:* لغت میں "المنفرد" یعنی اکیلا، جماعت سے الگ ہونے والا۔ عرب کہتے ہیں: *شَذَّ الرَّجُلُ عَنِ الْجَمَاعَةِ* یعنی آدمی جماعت سے الگ ہو گیا۔
*2. اصطلاحی تعریف - جمہور محدثین کے نزدیک*
*حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ* نے "نزھۃ النظر" میں سب سے جامع تعریف کی:
> *الشَّاذُّ: مَا رَوَاهُ الثِّقَةُ مُخَالِفًا لِمَنْ هُوَ أَوْثَقُ مِنْهُ*
> *ترجمہ:* شاذ وہ روایت ہے جسے کوئی ثقہ راوی بیان کرے اور وہ اس سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کرے۔
*شرائط 2 ہیں:*
1. *راوی ثقہ ہو* - یعنی ضعیف راوی کی مخالفت شاذ نہیں بلکہ "منکر" کہلائے گی۔
2. *اوثق کی مخالفت ہو* - یعنی عدد میں زیادہ، یا حفظ میں مضبوط، یا ملازمت میں زیادہ راویوں کی مخالفت کرے۔
*3. امام حاکم اور امام خلیلی کی تعریف*
*امام حاکم* "معرفۃ علوم الحدیث" میں فرماتے ہیں:
> *الشَّاذُّ: الْحَدِيثُ الَّذِي يَنْفَرِدُ بِهِ ثِقَةٌ مِنْ الثِّقَاتِ، وَلَيْسَ لَهُ أَصْلٌ مُتَابِعٌ لِذَلِكَ الثِّقَةِ*
> *ترجمہ:* شاذ وہ حدیث ہے جسے ثقہ راوی منفرد طور پر بیان کرے اور اس ثقہ کی متابعت میں کوئی اصل نہ ہو۔
یعنی حاکم کے نزدیک صرف انفراد ہی شاذ ہونے کے لیے کافی ہے، مخالفت شرط نہیں۔ لیکن *جمہور نے اسے رد کیا* ہے۔
*4. امام شافعی رحمہ اللہ کی تعریف*
امام شافعی کے نزدیک: *شاذ وہ ہے جسے ثقہ راوی روایت کرے اور دوسرے ثقہ اس کی مخالفت کریں*۔ یہی تعریف بعد میں جمہور نے اختیار کی۔
*5. شاذ اور منکر میں فرق*
**شاذ** **منکر**
راوی **ثقہ** ہو راوی **ضعیف** ہو
اوثق کی مخالفت کرے ثقہ کی مخالفت کرے
ضعیف قسم ہے، مردود اس سے بھی زیادہ ضعیف، مردود
*مثال:*
حدیثِ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ نبی ﷺ وتر میں قنوت پڑھتے تھے۔ اسے *عبید اللہ بن عمر* نے ثقہ ہو کر روایت کیا، لیکن *جماعت* نے ابن عمر سے نقل کیا کہ نبی ﷺ وتر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔ یہاں عبید اللہ ثقہ ہیں مگر جماعتِ ثقات کی مخالفت کی، اس لیے شاذ ہے۔
*6. شاذ حدیث کا حکم*
*شاذ حدیث ضعیف اور مردود ہے*، اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ راوی اگرچہ ثقہ ہے لیکن غلطی کا احتمال غالب ہے جب اوثق یا اکثر اس کی مخالفت کریں۔
*خطیب بغدادی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں:
> *إِذَا خَالَفَ رِوَايَةَ الثِّقَةِ مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ وَأَضْبَطُ، كَانَتْ رِوَايَةُ الْأَحْفَظِ أَوْلَى*
*خلاصہ*
*شاذ حدیث:* وہ روایت جسے ثقہ راوی بیان کرے لیکن وہ تعداد میں زیادہ، یا حفظ و اتقان میں بڑھے ہوئے راویوں کی مخالفت کرے۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہوتی بلکہ ضعیف کی قسم ہے۔
*اہم نکتہ:* صرف "منفرد ہونا" شاذ ہونے کے لیے کافی نہیں، *مخالفت شرط ہے*۔ یہی جمہور محدثین، امام شافعی، ابن حجر، نووی وغیرہ کا مذہب ہے۔
💥*یحرکھا* منسوخ اور مردود ہیں (شاذ یعنی ضعیف اور اضطراب/منفرد راوی کی وجہ سے)۔۔۔🚫 . . . اس حدیث *ﻻ یحرکھا* سے اور *یشیر/اشارا* سے جو صحیح بھی ہیں اور قابل عمل و استدلال بھی ہیں ۔۔۔✅
اب آپ کے ذمہ دو باتیں ہیں۔۔۔
۱۔اس منسوخیت / مردودیت کو حدیث ہی سے ختم کرکے بتاٸیں،
تمہاری پیش کردہ حدیث یحرکھا کو شاذ اور مضطرب/منفرد حکم یا حالت سے نکال کر بتاٸیں۔۔۔ جو 13 میں سے 12 ثقہ راویوں کی مخالفت کرتی ہیں۔۔۔ اس باب میں ہیں ہی 13 راویان جس میں سے 12 تو ﻻ یحرکھا صحیح سند و متن سے بیان کرتے ہیں۔۔۔ اک منفرد ہیں جو شاذ و اضطراب کے حکم میں ہیں۔۔۔ اب آپ ثابت کریں ایسا کچھ بھی نہیں ہیں کرکے۔۔۔
۲۔ اور یہ بھی بتاٸیں کے کیا شاذ واضطراب والی حدیث پر عمل کرنا اور کیا اس سے استدلال کرنا جاٸز ہیں۔۔۔؟؟؟
پھر ہم بھی اسپر عمل کرنے کا سوچینگے۔۔۔
یہ 24 گھنٹے کے اندر آپ کے فرقہ کی پوری ذریت کو چالینج ہیں کے بغیر کسی امتی کے قول کے ثابت کریں۔۔۔ تو ہم بھی مان لینگے۔۔۔ اسکے علاوہ اور کوٸی بحث نہیں۔۔۔ کل مغرب تک وقت ہیں۔۔۔ اسکے بعد تماہری ہار تسلیم کرلی جاٸیگی اور تمہارا فرقہ نقلی اہل حدیث باطل ثابت ہوگا۔۔۔ 💥
آخر میں توبہ کرکے صحیح العقیدہ سنی - حنفی بن جاٶ۔۔۔📚
💥 ہمارے کتب خانے کی زیارت فرمائیں:
اہلِ حق سنی اسلامک لائبریری، کوپل📚👇
Comments
Post a Comment