🩸*Blood Donate Karna Kaisa? Iske Camps Lagaana Kaisa? (Rudd-e Jama'ate Gair Islami)*🔥

 🩸*Blood Donate Karna Kaisa? Iske Camps Lagaana Kaisa? (Rudd-e Jama'ate Gair Islami)*🔥👇


💥*اسمیں اٸمہ متقدمین اور متاخرین کے درمیان اختلاف ہے، متقدمین حرام اشیا سے علاج کو ناجاٸز ہی کہتے ہیں، لیکن متاخرین اسے جاٸز قرار دیتے ہیں چند شراٸط کے پیش نظر۔۔۔۔۔۔۔ بلڈ ڈونیٹ کرنا جائز ہے* بلکہ *ثواب اور نیکی* ہے اگر جان بچانے کے لیے ہو. . .  تفصیل جواز و عدم جواز پر درج ذیل دلاٸل ملاحظہ فرماٸیں👇  

👈🏻*وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا* - 📖سورہ مائدہ: 32📚

 👈🏻 اللہ نے دین کے احکام میں تم ہر تنگی نہیں رکھی۔۔۔📖حج:78/صحیح بخاری📚

👈🏻بیشک خون نجس اور حرام ہے۔۔۔📖بقرہ:173📚۔۔۔۔ لیکن آپریشن، خون کا سرطان/کینسر۔۔۔ وغیرہ کے مواقع پر خون چڑھانا پڑتا ہے ۔۔۔ یہاں شرعا اجازت ہے۔۔۔👇

*ترجمہ:* "جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا"۔

  

👈🏻*الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ : یعنی *ضرورت حرام کو جائز کر دیتی ہے*  ۔ یہ فقہ کا اصول ہے۔

👈🏻امام عینی اور ملا علی قاری ۔۔۔۔۔ لکھتے ہیں: جب شفا کے حصول کا یقین ہو تو حرام چیزوں سے شفا حاصل کرنا جاٸز ہے، جیسے شدید بھوک کے وقت مردار کھانا۔۔۔ اور جس کو شفا کے حصول کا یقین نا ہو تو اس کے لیۓ حرام چیزوں سے شفا حاصل کرنا جاٸز نہیں۔۔۔۔۔ جیسے احادیث میں آتا ہے کے رسول اللہﷺ نے علاج کے لۓ بعض اشخاص کو اونٹنیوں کے پیشاب پینے کی اجازت دی تھی۔۔۔ خارش سے شفا کےلۓ ریشم کا کپڑا پہن نے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔۔ اور اک صاحب کو سونے کا دانت لگانے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔ 📖عمدة القاری، ج:3/مرقاة، ج:8📚👇

👈🏻لیکن دوسری طرف یہ ہے کہ *حرام چیزوں میں شفا نہیں* اس حدیث کا کیا مطلب؟۔۔۔ مطلب یہی ہے کہ بلا وجہ شرعی/بلا عذر شرعی جاٸز نہیں ہاں وقت ضرورت یا امیرجنسی میں جاٸز ہے۔۔۔ یعنی نجس اشیا حالت اضطرار میں جاٸز ہیں۔۔۔📖فتاوی قاضی خان، ج:3/عینی/فتاوی بزازیہ، ج:6📚👇

📖عسقلانی-فتح الباری، ج:1/نووی-شرح صحیح مسلم، ج:2/شرح المہذب، ج:9/شعرانی/حصکفی/شامی-ردالمحتار، ج:1/4/عالمگیری، ج:5📚👇

  

👈🏻اعلحضرت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا: کیا انسان کا خون بیچنا جائز ہے؟  

جوابا فرمایا: "انسان کے بدن کا کوئی جز بیچنا اصل میں مکروہ ہے، لیکن *ضرورت کے وقت جائز ہے*۔ جیسے مریض کی جان بچانے کے لیے خون دینا۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔"  

اعلیٰ حضرت نے فرمایا: *"جان بچانا سب سے بڑا صدقہ ہے"*

📖فتاویٰ رضویہ📚

  

💥*مسئلہ:* "اگر کسی مریض کو خون کی ضرورت ہو اور ڈاکٹر کہے کہ بغیر خون کے مریض مرے گا، تو *خون دینا جائز اور ثواب ہے*۔ شرط یہ ہے کہ دینے والے کو اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔"

📖بہارِ شریعت - صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی📚

  

💥"بلڈ ڈونیٹ کرنا *جائز ہے* اور اجر کا کام ہے۔ یہ انسانیت کی خدمت ہے۔"

📖فتاویٰ فیض الرسول، جلد: 1📚


💥دارالافتاء اہلسنت - مرکزی دارالافتاء بریل، فتویٰ نمبر: 1204👇  

"خون ڈونیٹ کرنا شرعاً جائز ہے۔ اس سے مریض کی جان بچتی ہے جو قرآن کے مطابق سب سے افضل کام ہے۔"


---

💥 *چار شرطیں ہو تو جاٸز*👇


1. ضرورت ہو: ڈاکٹر کہے کہ مریض کو خون چاہیے اس کے بغیر چارا نہیں۔

2. جان کا خطرہ نہ ہو: ڈونر بالکل صحت مند ہو، مریض کی جان پر بن آٸی ہو. 

3. پیسے کا لالچ نہ ہو: بہتر یہ ہے کہ مفت میں دیا جائے۔ ضرورت پر ہدیہ لے سکتے ہیں۔ کاروبار نا بناٸیں۔

4. نیت صاف ہو: اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت ہو، دکھاوا یا پیسوں کے لالچ میں نا ہو۔

---

💥*شرعی حکم: جائز اور مستحب/رخصت ہے* 👇


💥*حضور تاج الشریعہ* کے نزدیک جسم۔کا ہر اعضا، خون بھی اللہ پاک کی امانت ہے ہم اسکو ڈونیٹ کرنے کا حق نہیں رکھتے ایسا کرنا جاٸز نہیں، شدید ضرورت کے تحت کر سکتے ہیں۔۔۔۔ مثال آپنے خنزیر اور مردار کی دی ہے کہ جبکے وہ حرام ہے لیکن جان پر بن آۓ اور جان بچانے کیلۓ اسکے علاوہ کچھ بھی میسر نہ ہو تو جان بچ جاۓ اس حد تک اسے کھایا جا سکتا ہے۔۔۔ 📖گلزار ملت📚


💥نوٹ: خون بیچنا اصل میں مکروہ ہے، لیکن *ہسپتال میں مریض کو دینے کے لیے بالکل جائز* ہے۔ ضرورتا خریدنا، عطیہ کرنا بھی جاٸز ہیں۔۔۔ 👈🏻ہاں کاروبار بنالینا، بلا وجہ شرعی خون ڈونیٹ کرنا، پیسوں کیلۓ/کماٸی کا ذریعہ بنانے کیلۓ ڈونیٹ کرنا یا کیامپ لگاکر یا بے وجہ خون دینا یا لینا اور بلیڈ بیانکوں میں جمع کروانا ۔۔۔یعنی مروجہ یہ سب جاٸز نہیں۔۔۔ *جیسے آج کل بد عقیدہ جماعت اسلامی والے کرتے رہتے ہیں*۔۔۔💥


💥*حدیث شریف: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو۔۔۔ اور  دین خیر خواہی کا نام ہے*۔۔۔ *اور فرمایا: نیکی اور تقوی کے کام میں اک دوسرے کی مدد کرو*۔۔۔ الحدیث والقرآن📚👇

📖*اس پر مفتی ساجد علی مصباحی صاحب قبلہ، مفتی صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب قبلہ اور مفتی عطیو الرحمن صدیقی رضوی صاحب قبلہ/مفتی ناظر اشرف صاحب-فتاوی دارلعلم اعلحضرت/دارلافتا اہلسنت کا بھی یہی موقف اور حکم شرع ہیں*📚👇

💥خون کی خرید و فروخت ناجاٸز و گناہ و باطل ہیں، ہاں اگر مریض کو حاجت و ضرورت کی حالت میں بغیر پیسوں کے نہیں ملتا تو اس کو یا اسکے لواحقین کو خریدنا جاٸز ہے، لیکن بیچنے والے کیلۓ یہ پیسے حلال وطیب نہیں۔

💥*نوٹ: یہی حکم جسم کے مختلف آرگنس کا ہیں، مرنے کے بع بھی ایسا کرنا جاٸز نہیں۔۔۔*۔

💥ذہن نشین رہے کہ بلا وجہ شرعی کوٸی بھی چیز دونیٹ کرنا ہرگز جاٸز نہیں۔۔۔ اور وجہ شرعی یہ ہے کہ کسی کی جان بچانی ہو تو جاٸز ہے اس کے علاوہ سب عام حالات میں ناجاٸز و حرام ہے۔📖صحیح بخاری #6011/سنن ابی داٶد #3874/عسقلانی-فتح الباری/عون المعبود شرح ابی داٶد/مرآة المناجیح، ج:5/مسلم #2589📚

💥قاعدہ: دو نقصانوں میں سے ہلکے نقصان کو اختیار کیا جاٸیگا۔


واللہ و رسولہ الاعلم۔

🌹اللہ پاک اسمیں موجود غلطیاں اور ہمارے گناہ معاف فرماٸیں۔۔۔۔آمین🌹

✍️موﻻنا محمد یوسف عطا قادری رضوی، کوپل-کرناٹک🇮🇳

جزاك اللهُ🌹

Comments

Popular posts from this blog

Huzoorﷺ ke Walidain Majidain (Maa-Baap) Muahid/Momin-Musalmaan Aur Jannati Hain