FATAWA
*❣️کیا اعلیٰ حضرت کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ سکتے ہیں ؟❣️*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسلہ کے بارے میں کہ اعلیحضرت کو
اعلیحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ سکتے ہیں؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
*🔸سائل محمد مستقیم رضا🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ*
*اللّٰھم ہدایة الحق والصواب*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ ودیگر اکابر ومشاہیر علماء و مشائخ وغیرہ کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ یارحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھنا کہنا جائز ہے
📑جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہےکہ اولیائے کرام مشائخ عظام اورعلمائے ذوی الاحترام کے انتقال کے بعد ان نام کے آگے
" رضی اللہ تعالیٰ عنہ " ورحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ " لکھنا کہنا جائز ہے
خدائے تعالیٰ کاارشاد ہے *" رضی اللّٰه عنھم ورضوا عنه ذالک لمن خشی ربه "*
*(📗پارہ 30سورہ بینہ آیت 8)*
یعنی رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ان لوگوں کے لئے ہیں جواللہ سے ڈرے
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے
*" انمایخشی اللّٰه من عبادہ العلمآء "*
*(📘پارہ 22سورہ فاطر آیت 28)*
یعنی اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں
*(📕درمختار مع شامی جلد دہم 485 میں ہے )*
*" یستحب الترضی للصحابۃ والترحم للتابعین ومن بعدھم من العلماء و العباد وسائرالاخیار وکذا یجوز عکسہ والترحم للصحابۃ والترضی للتابعین ومن بعدھم علی الراجح اھ ملخصا "*
یعنی صحابہ کے لئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنامستحب ہے اور تابعین وغیرہ کے لئے رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مستحب ہے اوراس کاالٹا یعنی صحابہ کے لئے رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اور تابعین وغیرہ علماء و مشائخ کے لئے راجح پر رضی اللہ عنہ بھی جائز ہے اور حضرت علامہ احمد شہاب الدین خفاجی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ
*" ویذکر من سواھم ای من سوی الانبیاء من الائمۃ وغیرہم بالغفران والرضی فیقال غفراللہ تعالیٰ لھم ورضی عنہم اھ "*
*(📙نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض جلد سوم صفحہ 509)*
یعنی انبیائے کرام علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ ائمہ وغیرہ علماء و مشائخ کوغفران ورضا سے یادکیاجائے
تو غفراللہ تعالیٰ لہم ورضی اللہ عنہم کہا جائے
*(📒فتاویٰ فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر 298)*
👌🏻اس سے بخوبی واضح ہوگیا کہ بلاشبہ اعلی حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ العزیز ودیگر اکابر ومشاہیر علماء و مشائخ وغیرہ کے نام کے آگے رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ دعائیہ جملہ لکھنا کہنا جائز ودرست ہے
*🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر*
*🗓 ۲۱ ذی القعدہ ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۳ جولائی ٠٢٠٢ء بروز ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
*🌹میت کا دیدار مرد و عورت میں سے کون کون کرسکتے ہیں🌹*
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میت کا دیدار مرد و عورت میں سے کون کون کرسکتے ہیں تفصیل کے ساتھ بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں*
*🌹سایٔل🌹عبدالسلام نوری🌹*
◆ــــــــــــــــــ✦🛸✦ــــــــــــــــــ◆
*📝الجواب بعون الملک الوہاب :*
*اصل یہ ہے کہ جس طرح مرد کا اجنبیہ عورتوں کو دیکھنا جائز نہیں ایسے ہی عورت کا اجنبی مردوں کو دیکھنا بھی جائز نہیں مردہ عورت کے لیے اس کا شوہر اور مردہ مرد کے لئے اس کی بیوی بھی اجنبی ہے لانقطاع النکاح بالموت بایں ہمہ شوہر اپنی مردہ بیوی کو دیکھ سکتا ہے اور بیوی اپنے مردہ شوہر کو دیکھ یا چھو سکتی ہے بلکہ غسل بھی دے سکتی ہے :*
*کما فی الدرالمختار والمعتمدات الاسفار یمنع زوجھامن غسلھا ومسھالا من النظر الیھا علےالاصح وھی لاتمنع من ذالک۔۔ الخ۔۔*
*اور موت سے جس طرح نکاح منقطع ہوتا ہے اسی طرح رشتہ و نسب بھی ہاں وہ لوگ دیدار کر سکتے ہیں جن سے زندگی میں پردہ کرنا درست نہیں تھا مثلا باپ دادا نانا بھائی بھتیجا بھانجا چچا ماموں بیٹا پوتا اور نواسہ وغیرہ اور جن لوگوں سے پردہ کرنا حیات میں واجب تھا انہیں چاہیے کہ میت کا دیدار کر کے اسے اذیت نہ پہنچائیں کہ جن باتوں سے زندگی میں اذیت پہنچتی ہے اس سے بعد موت بھی اذیت پہنچتی ہے اور وہ لوگ یہ ہیں جنہیں دیدار میت کی اجازت نہیں ملنی چاہیے کفارومشرکین بد مذہب مرتدین چچا ماموں خالہ اور پھوپھی کے بیٹے بہنوئی دیور جیٹھ اور جوان داماد خسر وغیرہم محرمات کی تفصیل کتب الفقہ سے حاصل کریں یہاں نقل کرنا طوالت کا سبب ہےاور وہ اجنبیہ عورتیں جو مرد سے اس کی زندگی میں پردہ کرتی تھیں یا پردہ کرنا ان پر واجب تھا ایسے مردہ مرد کا دیدار اجنبیہ عورتیں نہ کریں اور اس سے مردہ کو اذیت ہوتی ہے*
*کما فی رد المحتار ان المیت یتاذی بنا یتاذی بہ الحی*
*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
◆ــــــــــــــــــ✦🛸✦ــــــــــــــــــ◆
*✍🏻شـرف قـلـم حضرت علامہ ومولانا محمد عمر رضا خان قادری مسعودی صاحب قبلہ مدّظلہ العالی والنورانی (نیپالی)*
*۸ جنوری بروز مـنـگل ۲۰۱۹ عیسوی*
◆‐‐‐-‐•✦•✿ ✿•✦•‐-‐‐‐◆
*🌹
◆‐‐‐-‐•✦•✿ ✿•✦•‐-‐‐‐◆
*🖥المـرتـــب گدائے اولیائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
◆‐‐‐-‐•✦•✿ ✿•✦•‐-‐‐‐◆
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
*🌹 مزارات اولیاء اللہ پر چادر ڈالنا جائز ہے 🌹*
*ســــــــوال*
*مزارات پر چادر چڑھانا کیسا ؟؟؟؟*
*کیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے*
*💚 ســـــائـــــل / داؤد سلیمان💚*
🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰
*✍الجواب*
*📝اولیاء اللہ کی قبروں پر چادریں ڈالنا جائز ہے کیونکہ اس کی وجہ سے عام زائرین کی نگاہ میں صاحب قبر کی عظمت ظاہر ہوتی ہے*
*شامی جلد پنجم کتاب الکراہیت باب اللبس میں ہیکہ فتاوی حجہ میں ہے کہ*
*قبروں پر غلاف پردے مکروہ ہیں لیکن ھم کہتے ہیں کہ آجکل اگر اس سے عوام کی نگاہ میں تعظیم مقصود ہوتا ہےکہ وہ صاحب قبر کی حقارت نہ کریں بلکہ غافلوں کو اس سے ادب وخشوع حاصل ہو تو جائز ہے* *کیونکہ عمل نیت سے ہیں*
*شامی کی اس عبارت نے فیصلہ کردیا کہ جو جائز کام ہے اولیاء اللہ کی عظمت ظاہر کرنے کے لیۓ ہو وہ جائز ہے*
*چادر کی اصل یہ ہیکہ حضور کے زمانہ پاک میں بھی کعبہ معظمہ پر غلاف تھا کہ اس کو منع نہ فرمایا صدیوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پاک پر غلاف سبز ریشمی چڑھا ہوا ہے*
*مقام ابراہیم پر غلاف ہے*
*معلوم ہوا ان چیزوں کے لئے اور اولیاء اللہ کے لئے ان کی قبور پر غلاف وغیرہ ڈالنا مستحب ہے*
*📚 تفسیر روح البیان پارہ ۱۰ سورہ توبہ زیر آیت انما یعمر مسجد اللہ الخ*
*علماء اولیاء اور صالحین کی قبروں پر عمارت بنانا غلاف ڈالنا جائز کام ہیں جبکہ اس سے مقصود ہو کہ عوام کی نگاہ میں تعظیم ہو اور لوگ ان کو حقیر نہ جانیں*
*📚جاء الحق*
*مزارات پر چادر چڑھانا*
*امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب دیا جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں ﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے محتاج کو دیں )*
*📚 احکام شریعت حصہ اول ص 42*
*🌹واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب🌹*
🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰🍰
*کتبہ*
*حضرت علامہ مفتی محمد مظہر علی رضوی صاحب قبلہ؛ مدظلہ العالی و النورانی*
*خادم؛ مدرسہ غوثیہ حبیبہ؛ بریل؛ دربھنگہ؛ بہار مورخہ ١٨ جنوری بروز سنیچر ٢٠٢٠ )(٢٢ جمادی الاولی ١۴۴١ ہجری*
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*📠 المشتہـــــــــــر*
*محـــــــمد امتیـــــــاز القــــــادری*
الجوا ب صحیح مفتی محمد احمد
Comments
Post a Comment