JASHN E EID E MEELADUN NABI ﷺ MANAANA KAISA?

🌹ASSALATU WAS SALAMU ALAIKA YAA RASOOL ALLAH SALLALLAHU ALAIHI WA SALLAM🌹

🕋JASHN E EID E MEELADUN NABI ﷺ MANAANA KAISA?📚👇

✍KHADIMUL ILM WAL ULAMA: MUHAMMAD HASNAIN RAZA KHAN QADRI, RAZAVI, AL HINDI 🇮🇳

📚سورۃ يونس آیت نمبر 58📚

ترجمہ:
آپ کہئے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، سو اس کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں یہ اس (مال) سے کہیں بہتر ہے جس کو وہ جمع کرتے ہیں. 
   
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہئے کہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کے سبب سے ہے سو اسی کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں۔ ہلال بن یساف، حسن بصری اور مجاہد وغیرہ نے کہا : اللہ کے فضل سے مراد اسلام ہے اور اس کی رحمت سے مراد قرآن ہے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٦٣۔ ١٦٢) اس آیت میں فبذلک سے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ خوشی منانے کا محرک اور باعث صرف اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہونا چاہیے یعنی انسان صرف اللہ کی رحمت اور اسکے فضل کی وجہ سے مسرور ہو نہ کہ اور کسی مادی سبب کی وجہ سے، کیونکہ مادی لذتین فانی ہیں ان کے زوال کا خطرہ انسان کو لاحق رہتا ہے اور روحانی لذتین جب انسان کو حاصل ہوں تو وہ ان پر اس حیثیت سے خوش نہ ہو کہ یہ روحانی لذتیں ہیں بلکہ اس حیثیت سے خوش ہو کہ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں اور اس حیثیت سے اس کا خوش ہونا بہت بڑ کمال اور بہت بڑی سعادت ہے۔ اس کے بعد فرمایا : اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے اس لیے خوش ہونا کہ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اس دنیاوی مال و دولت سے بہت بہتر ہے جس کو کفار جمع کرتے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی، آپ کی آمد اور آپ کی بعثت پر فرحت اور مسرت کا اظہار اس آیت میں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی مراد لیا گیا ہے۔ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : خطیب اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ قل بفضل اللہ من فضل اللہ سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٣٦٨، دارالفکر بیروت، روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٥، دارالفکر، ١٤١٧ ھ) اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ وبرحمتہ میں رحمت سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : و ما ارسلنک الا رحمۃ العلمین۔ (الانبیاء : ١٠٧) (الدرالمنثور ج ٤ ص ٣٦٧، روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٥) علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے کہ ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رحمت سے مر اد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (زارد المسیر ج ٤ ص ٤٠، المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ) اس تفسیر کے مطابق اس آیت کا معنی یہ ہوا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اور آپ کی ولادت اور بعثت پر مسلمانوں کو خوشی منانا چاہیے اور اس کی اصل اس آیت میں ہے : والذین اتینھم الکتب یفرحون بم آ انزل الیک ممن الاحزاب من ینکر بعضہ۔ (الرعد : ٣٦) اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان گروہوں میں بعض وہ ہیں جو اس کے بعض کا انکار کرتے ہیں۔ 
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : وہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو اللہ کی کتاب اور اسکے رسول سے خوش ہوئے اور انہوں نے اس کی تصدیق کی اور یہود اور نصاری اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ قتادہ کا قول ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥٥١٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤٢١ ھ) ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : یہ وہ اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور اس پر خوش ہوتے تھے، اور الاحزاب سے مراد یہود، نصاری اور مجوس کے گروہ ہیں، ان میں سے بعض آپ پر ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٥٥٢١) اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اور آپ کی ولادت اور آپ کی بعثت پر فرحت اور مسرت کا اظہار کرنا مطلوب اور محمود ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : الذین بد لو نعمۃ اللہ کفرًا۔ (ابراہیم : ٢٨) جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے تبدیل کردیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ کی قسم یہ لوگ کفار قریش ہیں اور عمرو نے کہا وہ قریش ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعمت ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩٧٧، مطبوعہ دارارقم بیروت) اس صحیح حدیث کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ کی نعمت ہیں اور اللہ کی نعمت پر خوش ہونا اور فرحت اور مشرت کا اظہار کرنا مطلوب ہے۔ یستبشرون بنعمۃٍمن اللہ و فضلٍ ۔ (آل عمران : ١٧١) وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر خوشیاں مناتے ہیں۔ ان آیات، احادیث اور آثار سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے فضل اور رحمت ہیں اور اللہ کے فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اور مومنین اہل کتاب آپ کی وجہ سے فرحت اور مسرت کا اظہار کرتے تھے، اور آپ اللہ کی نعمت ہیں اور مومنین کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر خوشی مناتے ہیں، سو جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی، اس دن آپ کی ولادت پر خوشی کرنا اور عید میلاد منانا اور جشن آمد رسول کا اظہار کرنا یہ ان آیات، احادیث کے مطابق ہے.




Comments

Post a Comment